لیکچر 3 – لوحِ محفوظ

مکمل کتاب : شرحِ لوح و قلم

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=47448

لوحِ محفوظ

کائنات ایک ایسا پروگرام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھا اور موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب عمل درآمد کرنا چاہا…. اللہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میرے ذہن کے مطابق کائنات میں بے شمار مخلوقات وُجود میں آ کر اپنا مظاہرہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے ‘‘کُن’’ فرما دیا۔
کُن فرمانے کے بعد اُس کُن کا مظاہرہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جو کچھ اور جس طرح موجود تھا وہ شکل و صورت کے ساتھ ایک اسکرین پر نقش ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود پروگرام یا اس پروگرام کے کردار “کُن” کہنے کے بعد جس بِساط پر نقش ہوئے اس کو مذہب ‘‘لوحِ محفوظ’’ کہتا ہے۔

قانون:

آدمی دنیا میں جتنا ہوش سنبھالتا جاتا ہے اور ماحول میں موجود چیزوں کے اندر اس کا اِنہماک ہوتا ہے اسی مناسبت سے ان چیزوں کی ماہیت اور حقیقت کا انکشاف ہونے لگتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسانی تصوّر میں کائنات کا یکجائی پروگرام موجود ہے لیکن وہ اس یکجائی پروگرام کو اس لئے نہیں دیکھ سکتا کہ اسے اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وہ ماحول کے ہجوم سے خود کو خالی ُالذّہن کر سکے۔
قانون یہ بنا کہ…. ‘‘انسان جس حد تک شعوری اعتبار سے یکسو ہو کر کسی طرف متوجہ ہوتا ہے اسی مناسبت سے اس کے اوپر حقائق منکشف ہوتے رہتے ہیں’’۔

شعور کا جب نام لیا جاتا ہے تو لاشعور بھی زیرِ بحث آ جاتا ہے۔
ہم جن معنوں میں شعور سے واقف ہیں وہ یہ ہے کہ جو چیز ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور جس چیز کو ہم ٹھوس دیکھ رہے ہیں وہ چیز ہمارے ذہن کے لئے موجود ہے…. اور جو چیز ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں وہ چیز ہمارے لئے موجود نہیں ہے۔ حالانکہ غیر موجود شئے کا احساس ہمارے اندر موجود ہے۔ کسی چیز کا احساس ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ کہیں نہ کہیں وہ چیز موجود ہے۔ اس کیفیت یا اس احساس کا نام لاشعور ہے۔
لاشعور کی دنیا میں داخل ہونے کے لئے شعوری دنیا کی گرفت سے آزاد ہونا ضروری ہے۔
اس بات کو بطور (Summary) اس طرح کہیں گے کہ :
o ایک واحد اور یکتا ذات ہے ….
o اُس کے ذہن میں مکمل پروگرام ہے…. ایسا مکمل پروگرام…. جس میں زندگی کے تمام تقاضوں سے متعلق کردار موجود ہیں۔ مثلاً بھوک، پیاس، شکل و صورت ،آنکھ، ناک، دوستی، محبت، نفرت، حقارت، ظلم، عفو و درگزر….
o اُس ذات نے اس سارے پروگرام کو ایک ڈرامے کی صورت میں کاغذ پر لکھ دیا…. یا …. اُس ڈرامے کے اندر پورے کردار کی فلم بنا دی…. یہ فلم کیسے چل رہی ہے؟ یہ بات آئندہ بتائی جائے گی…. ابھی صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ کائنات کا یکجائی پروگرام ایک فلم کی شکل میں محفوظ ہے اور ہم میں سے ہر فرد…. خواہ وہ انسان ہو بکری ہو بھیڑ ہو…. کوئی بھی ہو…. اُس فلم کا کردار ہے۔
o ہم اپنے آپ کو بحیثیت کردار کے جانتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہ کردار کن روشنیوں کے اوپر یا کن قاعدوں اور ضابطوں کے مطابق متحرّک ہے؟ جاننے سے مراد تصوف میں یہ لی جاتی ہے کہ آدمی ذہنی طور پر محسوس کرتا ہو آنکھ سے دیکھتا ہو۔
o یہ دیکھنے کے لئے ہم بحیثیت کردار کے کہاں واقع ہوئے ہیں ہمیں غیر جانب دار طرز فکر اختیار کرنا ہو گی۔
o غیر جانبدار طرز فکر کے لئے شعور کی گرفت سے نکل کر لاشعور کے دائرے میں داخل ہونا ہو گا۔
o لاشعور میں داخل ہونے کے لئے غیر جانبدار طرز فکر اس وقت مستحکم ہوتی ہے جب آدمی کے اندر استغناء ہو۔
استغناء یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی، زندگی کے تمام تقاضوں، تمام خواہشات اور تمام ضروریات کا کفیل اس ذات کو سمجھے جس ذات نے کائنات بنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے استغناء حاصل کرنے کے لئے سورۃ اخلاص میں فرمایا ہے:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“… اے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ فرما دیجئے کہ اللہ ایک ہے۔
اللَّهُ الصَّمَدُ” اللہ ہر قسم کی احتیاج سے بے نیاز ہے۔
نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی خاندان ہے۔
خالق اور تخلیق کا جب موازنہ کیا جاتا ہے تو پانچ باتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ ہم جب خالق اور مخلوق کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے مخلوق اور خالق کی تعریفی حدیں کچھ اس طرح قائم ہوتی ہیں کہ:
① اللہ ایک ہے، واحد ہے، یکتا ہے، بے مثل ہے۔ لیکن مخلوق ایک نہیں ہے، کثرت ہے۔
② مخلوق کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی کی اولاد ہوتی ہے یا
③ کسی کی باپ ہوتی ہے۔
④ مخلوق کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی خاندان ہوتا ہے۔
⑤ مخلوق احتیاج اور ضرورت کے دائرے میں قید ہے۔ کوئی مخلوق احتیاج اور ضرورت سے باہر قدم نہیں نکال سکتی۔ اس کی زندگی کا ہر ہر قدم، ہر ہر جذبہ ایک احتیاج اور ضرورت ہے۔
ان پانچ باتوں میں مخلوق خالق سے براہِ راست رابطہ اگر رکھ سکتی ہے تو صرف یہ ہے کہ اپنی تمام ضروریات کا کفیل اللہ کو سمجھے۔
جب ہم شعوری زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہم جان لیتے ہیں کہ زندگی میں ہمارا ذہن الجھا ہوا ہے اور زندگی سے متعلق ہر چھوٹی بڑی خواہش یا ضرورت کے لئے ہم اس طرح پابند ہیں اور بندھے ہوئے ہیں کہ ہمیں اس سے چھٹکارہ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خالیُ الذّہن نہیں ہوتے….
• کبھی ہمارا ذہن اس بات میں لگا رہتا ہے کہ ہمیں معاش حاصل کرنی ہے….
• کبھی ہمارا ذہن مصروف رہتا ہے کہ ہمیں مکان بنانا ہے، شادی کرنی ہے…. وغیرہ
جب سالک شعور کے دائرے سے نکل کر تفکر کرتا ہے تو یہ بات اس کا یقین بن جاتی ہے کہ فی الواقع ہمارا کفیل اللہ ہے۔
اس کی مثالیں ایک نہیں ہزاروں ہیں….
o نو مہینے ماں کے پیٹ کی زندگی….
o پیدائش کے بعد بچپن اور لڑکپن کی زندگی…. اس زندگی کو گزارنے کے لئے کوئی بھی مخلوق یا فرد اپنا ذہن اپنا اختیار اپنی عقل استعمال نہیں کرتا۔
o انسان کے بعد جب ہم اربوں کھربوں دانہ چگنے والے پرندوں کی طرف نظر اٹھاتے ہیں تو وہاں یہ بات سورج کی طرح نظر آتی ہے کہ کفالت کا انتظام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کسان جب کھیتی کاٹتا ہے تو جھاڑو سے ایک ایک دانہ جمع کرلیتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ جو دانہ کِرم خوردہ ہے وہ بھی محفوظ کر کے اپنی گائے بیل اور کھیتی کے کام آنے والے جانوروں کو کھلا دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان نے ایک ایک دانہ زمین پر سے سمیٹ لیا تو یہ اربوں کھربوں پرندے کہاں سے دانہ چگتے ہیں؟
اللہ کے ساتھ بحیثیت خالق ربط قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ….
ہمارے اندر یہ طرز فکر راسخ ہو جائے کہ جس طرح اللہ ہمیں پیدا کرتا ہے اسی طرح اللہ ہماری زندگی کی کفالت بھی کرتا ہے۔
جب بندے کے اندر یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ کوئی ذات ہمیں سنبھالے ہوئے ہے اور ہماری ضروریات پوری کرتی ہے تو شعور سے ہٹ کر اُس ذات کی طرف قدم اٹھنے لگتا ہے۔
جب کوئی بندہ یہ بات سوچ لیتا ہے کہ میری اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں کسی کے ہاتھ میں کھلونا ہوں تو اس کا ذہن یکسو ہو جاتا ہے۔ روحانیت میں جتنے اسباق پڑھائے جاتے ہیں یا جتنی بھی مشقیں کرائی جاتی ہیں یا جتنی بھی ریاضتیں کرائی جاتی ہیں ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان غیر جانبدار ہو کر اپنی نفی کر دے اور اپنی نفی کر کے خالیُ الذّہن ہو جائے۔ جیسے جیسے آدمی کے اندر فنا کا پروگرام متحرّک ہوتا رہتا ہے اسی مناسبت سے اس کے اوپر لاشعوری زندگی کے خدوخال ظاہر ہوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ غیب کے نقوش معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
لاشعوری زندگی میں داخل ہونے کے لئے خالیُ الذّہن ہونے کا مراقبہ کرنا ضروری ہے۔
مراقبہ کی قسمیں بہت ہیں۔ براہِ راست مراقبہ یہ ہے کہ…. آدمی آنکھیں بند کر کے یہ تصوّر کرے کہ میں روشنی کا ایک نقطہ ہوں۔
یہ مراقبہ آدھی رات گزرنے کے بعد یا صبح صادق کے وقت شمال رخ منہ کر کے آرام دہ نشست میں بیٹھ کر اس طرح کیا جاتا ہے کہ سالک اپنے دل کا تصوّر کرے اور دیکھے کہ دل کے اندر چھوٹا سا سیاہ رنگ نقطہ گردش کر رہا ہے۔ مراقبہ کی کامیابی اس بات کا مظہر بن جاتی ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے تمام آثار فنا ہوتے دیکھتا ہے اور خود کو صرف روشنی کا ایک نقطہ دیکھتا ہے۔ یہ نقطہ جب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے تو نقطہ کی سیاہی چمک دمک میں منتقل ہو جاتی ہے۔ پھر اس نقطہ میں پھیلاؤ پیدا ہوتا ہے اور یہ پھیلاؤ اسکرین بن جاتی ہے۔ ایسی اسکرین جس کے اوپر کائنات کا پورا پروگرام نشر ہو رہا ہے یہ وہی اسکرین ہے جس کو قرآنِ پاک نے لوحِ محفوظ کہا ہے۔

عالمِ جُو

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بنانے کا ارادہ اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بھی ایسی صورتیں ہوں جو اللہ تعالیٰ کو پہچانیں یعنی خالق کائنات نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں جیسے ہی یہ تقاضہ پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن نے حرکت کی اور کائنات وُجود میں آ گئی۔ پہچاننے کے لئے ضروری تھا کہ خالق کے علاوہ بھی کوئی ہو اور مخلوق کے اندر پہچاننے کی قدریں بھی موجود ہوں۔ پہچاننے کی قدروں کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق پہچاننے، جاننے، سمجھنے، سننے، دیکھنے اور محسوس کرنے کا اِدراک رکھتی ہو۔ اللہ تعالیٰ چونکہ مجموعۂِ اوصاف ہیں، جب اللہ تعالیٰ کے ارادے نے حرکت کی تو جس ترتیب جن قاعدوں اور جن ضابطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات کی تشکیل کا پروگرام تھا وُجود میں آ گیا۔
کائنات کی تشکیل کے پروگرام کا پہلا مظاہرہ لوحِ محفوظ پر ہوا۔ تصوف میں لوحِ محفوظ کو لوحِ اوّل کہا جاتا ہے۔
کائنات کی تخلیق کا پہلا مرحلہ لوحِ محفوظ ہے۔ کائنات میں جو بھی حرکت

واقع ہونے والی ہے یا کائنات میں جس قسم کا تغیّر و تبدل ہونے والا ہے یا ہو چکا ہے یا ہو رہا ہے اس کے تمام نقوش لوحِ اوّل پر محفوظ ہیں۔ یہ ایک اجتماعی پروگرام ہے یعنی کائنات کا ہر فرد اجتماعی حیثیت میں تصویری خدوخال کے ساتھ موجود ہے۔

مثال:

o ایک فلم ہے جس میں ایک ساتھ مختلفُ النّوع شکلیں اور صورتیں ہیں لیکن ابھی فلم کے اندر ہی ہیں۔ وہ تصویریں حرکت میں نہیں آئیں۔
o فلم کو اگر ہم اسکرین مان لیں تو فلم کا مظاہرہ جس جگہ ہو گا یعنی متحرّک تصویریں ہمیں نظر آئیں گی اس کا نام بھی ہم (Screen) اسکرین ہی رکھ سکتے ہیں۔
o اب ہم یوں کہیں گے کہ دو اسکرینیں ہیں یا دو پردے ہیں۔ ایک پردے پر تصویریں بنی ہوئی ہیں لیکن متحرّک نہیں ہیں اور دوسرے پردے پر تصویریں متحرّک ہیں۔ یہ تصویریں بولتی ہیں ناچتی ہیں، ہنستی کھیلتی ہیں
o جس اسکرین پر تصویریں موجود ہیں مگر متحرّک نہیں ہیں، لوحِ اوّل ہے اور جس اسکرین پر تصویریں متحرّک ہیں وہ “عالمِ جُو” ہے۔ یعنی تمثال کا دوسرا عالم بھی ایک فلم کی صورت میں متحرّک ہے۔ لیکن حرکت کا تعلق اجتماعی ہے۔ حرکت میں ارادہ بھی شامل ہے
o چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بااختیار قرار دیا ہے اس لئے لوحِ محفوظ کا جو نقش عالمِ جُو یا لوحِ دوئم پر نازل ہوتا ہے اس کے اندر انفرادی نَوعی اختیارات شامل ہو کر دوبارہ لوحِ محفوظ پر منتقل ہوتے ہیں۔
o اس تعریف کی روشنی میں لوحِ محفوظ پہلا عالمِ تمثال ہے اور لوحِ دوئم دوسرا عالمِ تمثال ہے جس میں انسانی ارادے بھی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف میں پانچ بنیادی باتوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان باتوں سے خالق اور مخلوق کے رشتے کی وضاحت فرمائی ہے جس پر غور و فکر کر کے مخلوق خالق کے ساتھ اپنا تعلق تلاش کر سکتی ہے۔
عالمِ تمثال اوّل یعنی لوحِ محفوظ بھی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھی اور موجود ہے….
لوحِ دوئم (دوسرا عالمِ تمثال) لوحِ اوّل کا عکس ہے۔ اس لئے اس کا تعلق بھی براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔
سوال یہ ہے کہ لوحِ دوئم یا لوحِ اوّل تک رسائی کا ذریعہ کیا ہے؟
لوحِ دوئم یا لوحِ اوّل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد براہِ راست اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس رشتہ کو قائم کرنے کا واحد ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا ہے…. یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے اور بندے کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلے پر اللہ کا محتاج ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃِ اخلاص میں پانچ ایجنسیوں (Agencies) کا تذکرہ کیا ہے۔
① پہلی صفت…. وَحدت ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرح کثرت نہیں ہے۔
② دوسری صفت…. بے نیازی ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرح کسی کا محتاج نہیں ہے۔
③ تیسری صفَت یہ ہے کہ…. اللہ تعالیٰ کسی کا باپ نہیں ہے۔
④ چوتھی صفَت یہ ہے کہ…. اللہ تعالیٰ کسی کا بیٹا نہیں ہے۔
⑤ اللہ تعالیٰ کی پانچویں تعریف یہ ہے کہ…. اس کا کوئی خاندان نہیں۔
یہ بات ہر ذی فہم آدمی سمجھ سکتا ہے کہ خالق اور مخلوق کی تعریفی حدیں ایک دوسرے کے برعکس ہوں گی۔ یعنی جو تعریف اللہ کی ہو گی۔ وہ مخلوق کی نہیں ہو گی۔ اور جو تعریف مخلوق کی ہو گی وہ تعریف اللہ کی نہیں ہو گی۔ اب ان پانچ ایجنسیوں پر غور کرنے سے مشاہدہ ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ایک صفَت ایسی ہے جس صفَت سے بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ اور تعلق قائم کر سکتا ہے اور وہ رشتہ “بے نیازی” ہے۔ جب کوئی بندہ مخلوق سے اپنی احتیاج منقطع کر لیتا ہے تو لاشعوری طور پر اس کی آنکھ اس بات کا مشاہدہ کر لیتی ہے کہ تمام ضروریات کا واحد کفیل اللہ ہے۔
خالق…. وحدت ہے۔ لیکن مخلوق وحدت نہیں ہو سکتی۔ مخلوق کا کثرت میں ہونا ضروری ہے۔
خالق مخلوق سے بے نیاز ہے اور مخلوق خالق کی محتاج ہے۔
خالق باپ نہیں رکھتا تو مخلوق باپ رکھتی ہے۔
خالق کا کوئی بیٹا نہیں مخلوق کا بیٹا ہوتا ہے۔
خالق کا کوئی خاندان نہیں۔ مخلوق کا خاندان ہوتا ہے۔
ان پانچ صفات میں سے چار صفات میں مخلوق خالق کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کر سکتی۔ صرف ایک صفَت ایسی ہے جس میں مخلوق اپنی تمام احتیاج کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ کر کے اپنا رشتہ مستحکم کر سکتی ہے۔ اس طرز فکر کو استغناء کہا جاتا ہے۔
یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ذہن نے حرکت کی تو صفات الٰہیہ کائنات کی شکل و صورت میں موجود ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے اجزاء…. یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی …. مختلفُ النّوع صورتیں بن گئیں۔
یہ صورتیں وہ صورتیں ہیں جو مخلوق کی شکل و صورت میں روح کی حیثیت سے لوحِ محفوظ پر موجود ہیں۔ انہی روحوں کو یا مَوجودات کو قرآن نے ‘‘اَمرِ رَبّي’’ کہا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ:
o کائنات کا ہر فرد اللہ تعالیٰ کے حکم کی ایک تصویر ہے
o یہی حکم…. زندگی موت اور …. نُزول و صَعود میں …. ہر جگہ متحرّک ہے

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 29 تا 37

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)