یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

حکمت

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ کائنات میں تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے فرستادہ بندے کس طرز فکر کے حامل ہوتے ہیں اور اس طرز فکر کے تحت ان سے کس قسم کے اعمال صادر ہوتے ہیں اور

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

ماورائی لہر

نظریۂ رنگ و نور کا شارح کرتا ہے کہ کائنات اور کائنات کے اندر موجود رنگینیاں اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ آدم زاد ان سے استفادہ کرے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ دنیا کی لذتوں سے فرار اختیار کر کے کسی بیان یا کسی گوشہ میں بیٹھ جائے ۔ ماورائی علوم کے بارے میں ایسے

⁠⁠⁠حوالہ : نظریٗہ رنگ و نُور

روح کے زون

ہمارا مشاہد ہ ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اندر کوئی مدافعت باقی نہیں رہتی۔مرنے کا مطلب یہ ہے کہ روح نے جسمانی لباس کو اتار کر اس طرح الگ کردیا ہے کہ اب روح کے لئے اس میں کوئی کشش باقی نہیں رہی۔لباس کا یہ معاملہ عالم ِ ناسوت یا عالم تخلیط تک ہی مح

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

کیفیات و واردات سبق 4

سید اصغر علی ظفر ۲۴ ۔نومبر: آج سے چو تھے سبق کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تصور قائم ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ روشنیوں کا آبشار میرے اوپر گر رہا ہے اور یہ روشنیاں سر میں سے جذب ہو کر پیروں کے ذریعے EARTH ہو رہی ہیں۔ جس وقت روشنیاں سر میں جذب ہو

⁠⁠⁠حوالہ : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔

ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے لئے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھنا شرط اول ہے۔ ’’نہیں کوئی معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے محمد(ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘‘ کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالیٰ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں معب

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

حضرت بابا عبدالکریم

آپ کے والد حسن احمدصاحب ضلع مچھلی بندر کے انعام دار تھے۔ آپ کے پانچ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ آپ پلٹن نمبر ۶۳؍ میں ملازم ہوگئے اور آپ کی تعیناتی ناگپور ہوئی۔ آپ جمناسٹک میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ کسی وجہ سے آپ نے اپنے والد کو خط میں سخت الفاظ لکھ دیئے جس

⁠⁠⁠حوالہ : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

حضرت سفیان ثوریؒ

حضرت سفیان ثوریؒ کہتے ہیں کہ میں طواف کر رہا تھا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ہر قدم پر درود پڑھتا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے؟ کہ تم صرف درود پڑھ رہے ہو۔ اس نے پوچھا تو کون ہے؟ میں نے کہا، میں سفیان ثوریؒ ہوں۔ اس نے کہا اگر تو اپنے زمانے کا

⁠⁠⁠حوالہ : رُوحانی حج و عُمرہ

اڑن کھٹولے

زندگی اور زندگی سے متعلق جذبات و احساسات، واردات و کیفیات، تصوّرات و خیالات اور زندگی سے متعلق تمام دل چسپیاں اس وقت تک قائم ہیں جب تک سانس کی آمد و رفت جاری ہے۔ زندگی کا دار و مدار سانس کے اوپر قائم ہے۔ سانس کی طرزوں پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا

⁠⁠⁠حوالہ : آوازِ دوست

روشنی

روشنی جس روشنی میں ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں وہ یک ذات اور کل ذات کے درمیان بردہ ہے۔   قانون  خداوندی جب کوئی قوم قانون خداوندی سے انحراف و گریز کرتی ہے اور خیر و شر کی تفریق کو نظر انداز کر کے قانون شکنی کا ارتکاب کرنے لگتی ہے تو یقین کی قوتوں میں

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

اعمال نامہ

آدمی جب مر جا تا ہے تو جو کچھ اِس نے دنیا میں کیا ہے وہ ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ چاہے وہ ذرہ برابر نیکی ہو۔ چاہے ذرہ برابر برائی ہو۔ ہر عمل اور ہرقول کی کراماً کاتبین ویڈیو فلم بناتے رہتے ہیں۔ انسان مرنے کے بعد یہی فلم دیکھتا رہتا ہے۔ مثلا ایک آدمی نے چوری کا

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

علمِ حضوری

علم ِ حضوری وہ علم ہے جو ہمیں غیب کی دنیا میں داخل کرکے غیب سے متعارف کراتا ہے۔ علمِ حضوری سیکھنے والے بندے کے اندر لاشعوری تحریکات عمل میں آجاتی ہیں۔لاشعوری تحریکات عمل میں آجانے سے مراد یہ ہے کہ حافظہ کے اوپر ان باتوں کا جو بیان کی جارہی ہیں ایک نقش

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

حق الیقین

’’وہ جس کا گزر ایک بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی،اس نے کہا بھلااﷲ اس کو اس کے فنا ہو چکنے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا؟ اﷲ نے اس کو سو سال کی موت دے دی،پھر اس کو اٹھایا،پوچھا کتنی مدت اس حال میں رہے؟بولا ایک دن یا اس دن کا کچھ حصہ․․․․․فرمایاتم

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

علم و عمل

یہ دور علم کا دور ہے اور نئی نئی ایجادات کی وجہ سے سائنس کا زمانہ ہے۔ آنکھ کا اندھا بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ موجودہ زمانے کی ساری ترقی، تحقیق ریسرچ کے اوپر قائم ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ واضح طور پر انکشاف کرتی ہے کہ جن قوموں نے جد

⁠⁠⁠حوالہ : صدائے جرس

ٹوپی غائب اور جنات حاضر

اکثر یہ ہوتا تھا کہ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی ٹوپی غائب ہوجاتی تھی۔ کبھی کبھی انہیں اس بات پر ناراض ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک دن میں نے پوچھا یہ کیا مسئلہ ہے ، دیکھتے ہی دیکھتے ٹوپی غائب ہوجاتی ہے۔ آخر یہ کو ن لے جاتا ہے؟ فرمایا۔ ’’ جنات لے جاتے ہیں۔

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

کبرو نخوت

گرجا گھر، آتش کدہ اور مسجد کا وجود یا ان کے ماننے والوں میں اختلاف اور واعظ کے وعظ میں دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کا عمل آخر کب تک جاری رہے گا ۔اے کا ش! ان لوگوں پر قدرت کے وہ راز کھل جائیں جو خالق نے اپنے خاص بندوں کو بتا دئیے ہیں۔ جن لوگوں کی پیشانی روشن

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

نیابت اور خلافت

قلندر شعور کی تعلیمات کے مطابق انسان کی فضیلت اور کائنات میں دوسری مخلوقات کی نسبت اس کا ممتاز ہونا اور اللہ کے دئیے ہُوئے اِختیارات سے انسان کا متّصف ہونا اور انسان کیلئے ملا ئکہ کا مسجود ہونا اور انسا ن کیلئے کائنات کا مُسخّر ہونا اس بات پر دلالت کرت

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

ٹیوشن

سوال: میں ایک مجبور اور بے کس عورت ہوں۔ 1953ء سے 1980ء ہو گیا مگر میری پریشانی دور نہیں ہوئی۔ بارہ سال سے والدین سے جدا ہوں۔ پھوپھی نے اپنے پاس رکھا۔ کچھ دن تو پھوپھی میرے ساتھ ٹھیک رہیں۔ پھر پھوپھا اور پھوپھی نے ظلم کرنے میں کمی نہ کی۔ پھوپھی نے میری

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

درخت بھی باتیں کرتے ہیں

جس کمرے میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ قیام فرما تھے اس کے سامنے احاطہ کی دیوار سے باہر بادام کا ایک درخت تھا۔ ایک روز باتوں باتوں میں حضور بابا صاحب ؒ نے فرمایا۔’’ یہ درخت مجھ سے اس قدر باتیں کرتا ہے کہ میں عاجز آگیا ہوں۔ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا ہے کہ

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

مادی دنیا اور ماورائی دنیا

جب ہم مادہ (Matter) کے اوپر تفکر کرتے ہیں تو مادہ (Matter) صرف عارضی اور فکشن (Fiction) نظر آتا ہے۔ ساڑھے پانچ فٹ لحیم و شحیم پہلوان چل رہا ہے۔ کُشتی لڑ رہا ہے جس طاقت نے اس لحیم و شحیم پہلوان کو اٹھایا ہوا ہے وہ مادہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ جب اصل حرکت (رو

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

عقل وشعور

سوال: تصوف میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ پیر و مرشد کے حکم پر بلا چون و چرا سر تسلیم خم کر دینا چاہئے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل ہر حال میں مرید پر ضروری ہے۔ یہاں یہ اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ شیخ اگر کوئی ایسا حکم دے جو عقل و شعور کے منافی

⁠⁠⁠حوالہ : توجیہات

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)