یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔
مراقبہ
ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے
سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف کفّار مکہ کی کارستانیاں اپنے عروج پر تھیں باوجود اس کے کے اۤپؐ کے اعلیٰ کردار اور کریمانہ اخلاق کے مشرکین معترف تھے اور اۤپؐ کے معزز چچا ابو طالب کی حمایت اور حفاظت اۤپؐ کو حاصل تھی۔ دیگر مسلمانوں خصوصاً کمزور افراد
حیض کا کم آنا ،تکلیف سے آنا، یاحیض کے وقت درد ہونا، خون کے لوتھڑے آنااور اس قبیل کے تمام امراض میں صبح شام ایک ایک اونس جامنی رنگ کاپانی پینا چاہئے۔ کم آنے کی صورت میں علاج کم از کم پندرہ روز کرنا چاہئے۔ تکلیف سے آنے کی صورت میں ایام حیض سے ایک ہفتہ قب
حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج
تمام مذاہب کی یہ تعلیم عام ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ امتحان میں کا میابی فرد اور قوم کے لیئے سکون و راحت کا ذریعہ ہے۔ جو فرد یا قوم امتحان میں فیل ہو جاتی ہے، نار جہنم اس کا ٹھکانا ہے۔ دنیا عالمِ نسوت ہو، دنیا عالم نور(جنت) ہو۔ دونوں میں انسان کے ل
حوالہ : آوازِ دوست
روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو بیاسی (۱۸۶۲۸۲) میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور زمین کے گرد ایک سیکنڈ میں آٹھ دفعہ گھوم جاتی ہے۔ جب نمازی سجدہ کی حالت میں زمین پر سر رکھتا ہے تو اس کے دماغ کے اندر کی روشنیوں کا تعلق زمین سے مل جاتا ہے اور ذہن
حوالہ : روحانی نماز
دین کو پھیلانے کے لئے ہمیشہ دو طریقے رائج رہے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کی ذہنی صلاحیت کو سامنے رکھ کر اس سے گفتگو کی جائے اور حسن اخلاق سے اس کو اپنی طرف مائل کیا جائے۔ اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ اس کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھ کر تدارک ک
حوالہ : تجلیات
ملتزم کے معنی ہیں ’’جہاں چمٹا جائے‘‘ بیت اللہ کے دروازے سے حجر اسود تک دیوار ملتزم کہلاتی ہے۔ طواف سے فارغ ہونے کے بعد بیت اللہ کے اس حصے سے چمٹ کر دعا مانگی جاتی ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ملتزم پر دونوں ہاتھ سر سے اوپر اٹھا کر سینہ اطہر ا
حوالہ : رُوحانی حج و عُمرہ
غنود مراقبہ کا ابتدائی درجہ ہے۔ جب کوئی شخص مراقبہ شروع کرتا ہے تو اکثر اس پر غنودگی یا نیند طاری ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد ذہن پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسے نہ نیند کا نام دیا جا سکتا ہے نہ بیداری کا، یہ خواب اور بیداری کی درمیانی حالت ہوتی ہے لیکن ش
حوالہ : مراقبہ
’’لا‘‘ کے معنی نہیں یا نفی کے ہیں۔ ’’لا‘‘ اللہ کی ایک صفت کے انوار کا نام ہے۔ ایسی صفت جس کا تجزیہ ہم ذات انسانی میں کر سکتے ہیں۔ یہی صفت انسان کا لاشعور ہے۔ عمومی طرزوں میں لا شعور اعمال کی ایسی بنیادوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ جن کا علم عقل انسانی کو نہی
حوالہ : مراقبہ
جب اسکولوں میں لڑکوں کو ڈرائنگ سکھائی جاتی ہے تو ایک کاغذ جس کو گراف کہتے ہیں۔ ڈرائنگ کی اصل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کاغذ میں گراف یعنی چھوٹے چھوٹے چوکور خانے ہوتے ہیں۔ ان چوکور خانوں کو بنیاد قرار دے کر ڈرائنگ سکھانے والے استاد چیزوں، جانوروں اور آدمی
حوالہ : لوح و قلم
ہر مذہب میں اپنے پیروکاروں کو متوجہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہے، کہیں گھنٹہ اورگھڑیاں بجا کر لوگوں کو پرستش اور عبادت کے لئے جمع کیا جاتا ہے تو کہیں سنکھ بجا کر پجاریوں کو پوجا پاٹ کی دعوت دی جاتی ہے۔ اور لوگوں کو ایک مرکز پر جمع کیا جاتا ہے
حوالہ : کشکول
یہ دعا وتر کی تیسری رکعت میں قرأت پڑھ لینے کے بعد کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے تکبیر کہہ کر رکوع میں جانے سے پہلے پڑھی جاتی ہے: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْ مِنُ بِکَ اے اللہ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے مغفرت چاہتے ہی
حوالہ : روحانی نماز
انسانی مشین ۔ کئی کھرب کل پرزے
مختصر طور پر زندگی کا تذکرہ کیا جائے تو یہ کہنا مناسب ہے کہ زندگی جذبات سے تعبیر ہے یعنی زندگی بے شمار جذبات پر رواں دواں ہے اور حواس کے دوش پر سفر کر رہی ہے۔ ان جذبات کو کنٹرول کرنا بھی حواس کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ مثال۔ ایک آدمی کو پیاس لگی۔ پیاس ایک تق
حوالہ : قوس و قزح
اختیارات اختیارات کا استعمال اس وقت ممکن ہے جب اختیارات سے متعلق قوانین سے واقفیت حاصل ہو۔ فکشن حواس عالم ناسوت میں رہتے ہوئے ہمارا علم اور ہمارے جاننے پہچاننے اور شناخت کرنے کی طرزیں مفروضہ اور فکشن حواس پر قائم ہیں۔ تجلی کا علم کوئی آدم
حوالہ : بڑے بچوں کے لئے
اللہ تعالےٰ ایک وجود ہے ایک ہستی ہے—– جزو لا تجزیٰ وجود، ماوراء ہستی۔ اس جزو لا تجزیٰ وجود اور ماوراء ہستی کو خیال آیا کہ میں پہچا نآجاؤں پہچاننے کے لیئے ضروری ہے کہ جزو لا تجزیٰ وجود کے علاوہ اور بے شمار وجود موجود ہوں۔ جزو لاتجزیٰ وجود، ماورا ہستی
حوالہ : آوازِ دوست
سوال: کوشش اور جدّ و جہد کے باوجود حسب دلخواہ نتائج حاصل نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ جواب: قانون قدرت یہ ہے کہ جب کوئی بندہ جدّ و جہد اور کوشش کرتا ہے اور اس جدّ و جہد اور کوشش کا ثمر کسی نہ کسی طرح اللہ کی مخلوق کے کام آتا ہے تو وسائل میں اضافہ ہوتا رہ
حوالہ : روح کی پکار
قرآن حکیم میں جہاں انسان کی تخلیق کا تذکرہ ہوا ہے وہاں یہ بات وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ انسان کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مٹی کو بجنی اور کھنکھناتی فرمایا ہے یعنی خلاء مٹی کے ہر ذرے کی فطرت (Nature) ہے۔ سوال: انسان کیا ہے؟ جواب: عا
حوالہ : آگہی
*ایک جگہ بیعت ہونے کے بعد مرشد کی اجازت کے بغیر مرید کسی دوسری جگہ بیعت نہیں ہوسکتا۔ مرشد کے وصال کے بعد بھی بیعت ختم نہیں کی جاسکتی ۔ البتہ کسی صاحبِ روحانیت کی شاگردی اختیار کی جاسکتی ہے ۔ وصال کے بعد بیعت کو اس لئے ختم نہیں کیا جاسکتا کہ وصال کے بعد
حوالہ : احسان و تصوف
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ابھی شعور کی اس منزل پر نہیں پہنچا تھآجہاں عقل کی بھٹی میں تپ کر آدمی انسان بن جا تا ہے۔ لیکن یہ سوچ میرے اعصاب کو ہلکان کر رہی تھی کہ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔ تفکر کے ڈانڈے زندگی، بندگی سے ہم آغوش ہو تے تھے تو یہ حقیقت سامنے
حوالہ : آوازِ دوست
علم و فضل کے اداروں کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں صوفیاء کے مراکز کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیٔے۔ ان مراکز کو زاویہ یا خانقاہ کہا جاتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں یہ مراکز توقع کے مطابق صوفیوں کے اجتماعات کے مقام تھے جہاں وہ جمع ہوکر مراقبہ اور دیگر روحانی ر
حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ
☆ انسان پابہ گل ہے، جنّات پابہ ہیولیٰ ہیں، فرشتے پابہ نور۔ یہ تفکر تین قسم کے ہیں اور تینوں کائنات ہیں۔ ☆ تفکر کے ذریعے ستاروں، ذرّوں اورتمام مخلوق سے ہمارا تبادلۂ خیال ہوتارہتاہے۔ ان کی انا یعنی تفکّر کی لہریں ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں اور ہ
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔
