یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

خدمتِ خلق

سورۃ فاتحہ قرآن کی پہلی سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف بیان کی ہے۔ ’’الحمد اللہ ربّ العالمین‘‘ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے ، بے حد مہربان ، نہایت رحم والاہے، بلندسے بلند تر، اوّل سے آخر، آخر سے اوّل ، ظاہر و باطن ، ماضی و حال ،

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

جامنی روشنی

مردوں کے جنسی امراض اور خواتین کے اندر رحم سے متعلق امراض کا علاج ہے۔ کیس: ایک صاحب ڈیرہ اسماعیل خان سے لکھتے ہیں۔جنسی کمزوری کی بناء پر میں شادی کے قابل نہ تھا۔ اس کی وجہ سے شدید احساس کمتری کا شکار تھا۔ جامنی روشنیوں کے مراقبہ اور جامنی تیل کی مالش ن

⁠⁠⁠حوالہ : مراقبہ

شوہر کی چتا

قدیم چین، ہندوستان اور یورپ میں یہ رسم عام تھی کہ عورتیں اپنے شوہر کی چتا پر جل کر رکھ ہو جاتی تھیں۔ مذہبی دانشورکہتے تھے کہ جو عورت شوہر کے ساتھ جل کر مر جائے وہ پاکباز ہے۔ مرد کے ساتھ اس کی بیویوں، گھوڑوں اور دوسری محبوب اشیاء کو لاش کے ساتھ جلا دیا

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

بیعت

۱۹۵۲؁؁ء میں قطب ارشاد حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردیؒ سے بیعت ہوئے۔ حضرت ابوالفیض قلندرعلی سہروردیؒ نے رات کو تین بجے سامنے بٹھاکر قلندر باباؒ کی پیشانی پرتین پھونکیں ماریں۔ پہلی پھونک میں عالم ارواح منکشف ہوا،دوسری پھونک میں عالم ملکوت وجبروت اور تیس

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

بی بی یمامہ بتولؒ

حضرت بی بی بتولؒ حافظ قرآن تھیں گھر میں بچیوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی تھیں۔ معنی و مفہوم پر خود بھی تفکر کرتیں اور بچیوں کو بھی قرآن کا مفہوم سمجھاتی تھیں۔ بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں۔ ایک رات خواب میں بی بی بتولؒ کو رسولﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، دی

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

حضرت مریمؑ

قرآن کا نزول چھٹی صدی عیسوی میں ہوا۔ قرآن پاک میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا بڑا حصہ تورات اور انجیل میں بیان ہو چکا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں مجھ سے پہلے میرے بھائی پیغمبرانؑ نے جو کچھ فرمایا ہے وہی میں بھی تم

⁠⁠⁠حوالہ : صدائے جرس

اسلام کی ابتداء

پیارے بچو! خانہ کعبہ مکہ شہر میں واقع ہے۔خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔جب کوئی بندہ خانہ کعبہ کو دیکھتا ہے تو اس کا ذہن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی روح میں اللہ تعالیٰ کا نور بھر جاتا ہے۔اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھ جاتی ہے۔

⁠⁠⁠حوالہ : بچوں کے محمد ﷺ (جلد دوئم)

بی بی اُم علیؒ

بی بی ام علیؒ تیسری صدی ہجری میں بہت بڑی عارفہ گزری ہیں، مشہورو الی اللہ شیخ احمد خضرویہؒ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ ان کے والدین بہت مالدار تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کے لئے بے شمار دولت چھوڑی لیکن متوکل بیٹی نے اپنے عابد و زاہد شوہر کے ساتھ قناعت کی زندگی

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

حاسد یا دشمن کے شر سے محفوظ رہنے کیلئے

فجر کی ادا نماز کے بعد یا رات کو سونے سے پہلے اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درودِ شریف کے ساتھ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ سو۱۰۰ مرتبہ پڑھ کر سینہ پرپھونک ماریں۔ انشاء اللہ حاسد اور دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

لاٹھی قندیل بن گئی

حضرت طفیل بن عمرو معروف شاعر تھے۔ جب وہ مکہ آئے تو سردارانِ قریش نے بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور کہا، اے طفیل ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ہماری قوم کے ایک نوجوان محمد بن عبداللہ بن عبدالطلب نے ہمارے مذہب میں دراڑی

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

خواب میں مستقبل کا انکشاف ہوتا ہے

سوال: انسان اپنی زندگی کا بہت سا حصہ سو کر گزارتا ہے۔ سونے کے دوران وہ خواب بھی دیکھتا ہے۔ یہ خواب کیا ہیں؟ کیا ان کی انسانی زندگی میں کوئی حقیقت ہے۔ انسان کے لئے یہ کیا معنی رکھتے ہیں؟ جواب: خواب ہماری زندگی کا حصہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کے ا

⁠⁠⁠حوالہ : ذات کا عرفان

بارہ کھرب کَل پرزے

مختصر طور پر زندگی کا تذکرہ کیا جائے تو یہ کہنا مناسب ہے کہ زندگی جذبات سے عبارت ہے اور زندگی کے بے شمار جذبات حواس کے دوش پر سفر کر رہے ہیں۔ ان جذبات کو کنٹرول کرنا حواس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مثال: ایک آدمی کو پیاس لگی۔ پیاس ایک تقاضا ہے، پیاس کے تقاضے

⁠⁠⁠حوالہ : پیرا سائیکالوجی

تین سو تیرہ بمقابلہ ایک ہزار

دشمن کو دشمن کے ہتھیار سے ہلاک کرنے کی جنگی حکمتِ عملی کے تحت مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح قبیلہ قریش نے مدینہ کو معاشی محاصرے میں لے رکھا ہے اسی طرح وہ بھی مکہ کے تجارتی قافلوں کو مدینہ کی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دیں۔ اس حکمتِ عملی پر عمل دراۤمد

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

چھٹا آسمان

یہ وادیِ جبرائیل ہے۔ جنت بھی اسی وادی میں ہے اور جنت کے سات حصّے یا درجے ہیں۔ پہلے درجے میں سبزہ ہے، ٹھنڈک ہے، میوؤں کے درخت ہیں یا حوروں اور غلمان ہیں جو خدمت پر مامور ہیں یہ جنت کا سب سے کمتر درجہ ہے مگر پھر بھی  اس کی تعریف ناقابلِ بیان ہیں۔  یہاں د

⁠⁠⁠حوالہ : جنت کی سیر

چار نکاح

ام المومنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں۔ جاہلیت کے دور میں نکاح کی چار صورتیں تھیں۔ * ایک طریقہ تو یہی تھا جو آج کل رائج ہے۔. * دوسرا طریقہ نکاح “استبضاع” تھا۔ یہ نکاح اس لئے کرتے تھے کہ “نجیب لڑکا” پیدا ہو۔ اس میں شوہر اپنی منکوحہ سے کہتا تھا کہ حیض کے

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

اللہ کی مُہر

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ٪﴿۷﴾ ترجمہ: اللہ نے ان کے دلوں اور ان کی سماعتوں پر مُہر لگا دی ہے۔اور ان کی آنکھوں پر پردہ )پڑ گیا

⁠⁠⁠حوالہ : نُورِ ہدایت

روزگار

شادی کے بعد حضور بابا صاحب ؒ دہلی میں قیام پذیر ہوگئے۔ سلسلۂ معاش قائم رکھنے کے لئے مختلف رسائل و جرائد کی صحافت اور شعراء کے دیوانوں کی اصلاح اور ترتیب کاکام اپنے لئے منتخب کیا۔ شب میں شہر کے شعراء، ادباء کی محفلیں جمتیں اور دن کے وقت ان کے پاس صوفی م

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

ٹیوشن

سوال: میں ایک مجبور اور بے کس عورت ہوں۔ 1953ء سے 1980ء ہو گیا مگر میری پریشانی دور نہیں ہوئی۔ بارہ سال سے والدین سے جدا ہوں۔ پھوپھی نے اپنے پاس رکھا۔ کچھ دن تو پھوپھی میرے ساتھ ٹھیک رہیں۔ پھر پھوپھا اور پھوپھی نے ظلم کرنے میں کمی نہ کی۔ پھوپھی نے میری

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

حضرت حکیم نعیم الدین

آپ کا تعلق مدراس سے تھا اور آباؤاجداد فوجی تھے۔ حکیم صاحب کے چچا حیدرآباد دکن کے شاہی طبیب تھے۔ چچانے بے اولاد ہونے کی وجہ سے ان کو لے کر پالاتھا۔ چچا نے آپ کو اچھی تعلیم دلوائی اور طب بھی پڑھائی۔ بابا تاج الدینؒ کا ذکر سنا تو شوقِ دیدار میں واکی حاضر

⁠⁠⁠حوالہ : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

پرواز

آدم زاد اور بلی کی ماں میں ایک نمایاں فرق ہے وہ یہ کہ آدم زاد کی ماں اپنے بچوں سے کچھ نہ کچھ توقعات وابستہ رکھتی ہے جبکہ بلی اولاد کی پرورش کے تمام تقاضے پورے کر کے ان کو پروان چڑھاتی ہے اور ان سے کوئی توقع نہیں رکھتی۔ اس طرح آدم زاد اور بلی میں ممتاز

⁠⁠⁠حوالہ : پیرا سائیکالوجی

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)