یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

بوڑھا

زندگی کے تمام اجزائے ترکیبی ایک طاقت کے پابند ہیں۔ وہ طاقت جس طرح چاہے روک دیتی ہے اور جس طرح چاہے انہیں چلا دیتی ہے۔ قلندر شعور کے بانی قلندر بابااولیا ء ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ لوگ نا دان ہیں، کہتے ہیں کہ ہماری گرفت حالات کے اوپر ہے۔ انسان اپنی مرضی

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟

سوال: ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟ جواب: نماز کی فرضیت ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منتقل ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حضور پاکﷺ پر نماز کب فرض ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے

⁠⁠⁠حوالہ : اسم اعظم

قبرستان

تاجدار دو عالم نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قبر کے پاس بیٹھ کر فرمایا۔ قبر روزانہ انتہائی بھیانک آوازمیں پکارتی ہے، اے آدم کی اولاد! کیا تو مجھے بھول گئی؟ میں تنہائی کا گھر ہوں، میں اجنبیت اور وحشت کا مقام ہوں، میں کیڑے مکوڑوں کا مکان ہوں،

⁠⁠⁠حوالہ : تجلیات

مراقبہ کی چار کلاسیں

ہم نے مراقبہ کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ یہ چار قسمیں دراصل چار ابتدائی کلاسیں یا چار سیڑھیاں ہیں۔ اِن چار کلاسوں کو پڑھ کر یا اِن چار سیڑھیوں سے گزر کر قلندر شعور کا مسافر جب پانچویں درجے میں داخل ہوتا ہے تو وہ الہامی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

مراقبہ کے مدارج

غیب کی آزاد دنیا میں شعوری سطح پر یا لاشعوری سطح پر سفر کرنا مراقبہ ہے۔ قانون: سونے سے پہلے آدمی کے اوپر تین کیفیات وارِد ہوتی ہیں۔ پہلی کیفیّت پر سکون ہونا، دوسری کیفیّت خمار اور تیسری کیفیّت نیند ہے۔ جب کوئی آدمی بیدار رہتے ہوئے مراقبہ کی زندگی کو اپ

⁠⁠⁠حوالہ : پیرا سائیکالوجی

زندگی کے دو رُخ

تعریف اس رب کائنات کے لئے ہے جو اپنی ربوبیت کی صفت عالی سے ہمیں کھانا کھلاتا ہے اور جو ہمارے معاشی، معاشرتی اور زندگی کے سارے کاموں میں ہماری مدد فرماتا ہے جس نے ہمیں رہنے بسنے کے لئے آرام و استراحت کے وسائل کے ساتھ ٹھکانہ بخشا ہے۔ انسانی زندگی کے دو ر

⁠⁠⁠حوالہ : تجلیات

مرض کا علاج شادی

سوال: مجھے دورے پڑتے ہیں جس کا میرے ماں باپ نے بہت علاج کروایا ہے۔ میری دادی باباؤں کے پاس بھی لے جاتی تھیں۔ ڈاکٹری، ہومیو پیتھی کا بھی علاج کرا چکی ہوں۔ علاج چھ ماہ کا بتایا تھا لیکن ایک سال تک ہوتا رہا۔ اس بیماری کی وجہ سے میں نے تعلیم بھی چھوڑ دی۔ ع

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

نزلہ مُزمِن یا پُرانا نزلہ

ایسا پُرانا نزلہ جسکی بنا پر دماغ میں سے بو آتی ہو، ناک بند اور آنکھیں بھاری رہتی ہوں۔ کانوں میں آوازیں آتی ہوں۔ محسوس ہوتا ہو کہ دماغ میں کوئی چیز بھری ہوئی ہے۔ وغیرہ وغیرہ سے نجات حاصل کر نے کے لئے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ یَا مِیْکَائِیْل

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

تین پرت

ہر انسان تین جسم یا تین روحوں سے مرکب ہے۔ روح حیوانی، روح انسانی اور روح اعظم۔ ہر روح دو دائروں پر قائم ہے۔ روح حیوانی (دائرہ نمبر 1) نفس‘ (دائرہ نمبر2) قلب روح انسانی(دائرہ نمبر 1) روح‘ (دائرہ نمبر 2)سر روح اعظم(دائرہ نمبر 1) خفی‘ (دائرہ نمبر 2) اخفیٰ

⁠⁠⁠حوالہ : مراقبہ

تیس کروڑ لوح محفوظ

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین ، وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین. یہ لیکچر میلاد النبیﷺ کے سلسلے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھ عاجز بندے کو توفیق عطا فرمائے کہ میں رسول اللہﷺ کی سیرت پر معروضات پیش کر سکوں

⁠⁠⁠حوالہ : خطبات ملتان

ارغوانی اورنارنجی رنگ

ٍ ارغوانی رنگ گہرانیلا، قدرے سرخی مائل ہوتاہے۔ یہ بے خوابی کیلئے بہت مفید ہے۔ نمونیہ ، گلے کی بیماریوں اورکھانسی کیلئے نہایت تاثیر رکھتاہے۔ پھیپھڑوں اورحلق کی نالی کو آرام دیتاہے، بلغم کو خارج کرتاہے۔

⁠⁠⁠حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج

قدرِ مشترک

روزانہ کا مشاہدہ ہے کہ ہر نوع جذبات و احساسات میں نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے سے متعارف ہے بلکہ زندگی کو قائم رکھنے والے قاعدے بھی یکساں ہیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنے کا طریقہ بھی یکساں ہے مثلاً ایک عمل ہے پیاس لگنا۔ نوعی اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تقاض

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

ہر مخلوق دوسری مخلوق کے ساتھ بندھی ہوئی ہے

ہر مخلوق کا ہر فرد جس طرح زمین کو دیکھتا ہے اس طرح آسمان کو بھی دیکھتا ہے۔زمین پر دیکھتا ہے تو اسے پہاڑ نظر آتے ہیں۔زمین کے اندر دیکھتا ہے تو معدنیات کا سراغ ملتا ہے۔ذہن پانی میں اترجاتا ہے تو پانی کی مخلوق کاادراک ہوتاہے۔ کوئی صاحبِ فہم انسان پانی کی

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

مخلوقات کے چار گروہ

ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مخلوق چار ہیں ایک مخلوق پوری جنتی ہے اور ایک مخلوق پوری جہنمی ہے اور دو مخلوق جنتی و جہنمی ہیں۔پوری جنتی مخلوق ملائکہ ہیں اور پوری جہنمی مخلوق شیاطین ہیں اور جنتی و جہنمی مخلوق جن و انس ہیں۔ * جنات کے حالات و احکام حضرت عائشہ ؓ

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

ناشاد

رنگ و بو کی اس دنیا کی طرح ایک اور دنیا بھی ہے جو مرنے کے بعد ہمارے اوپر روشن ہوتی ہے۔ ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ ہم نے اس نادیدہ دنیا کی طرف سفرنہیں کیا۔ پیغمبراسلام ﷺکے ارشاد ’’مرجاؤ مرنے سے پہلے ‘‘پر عمل کر کے اگر ہم اس دنیا سے روشناسی حاصل کر لیں تو اس

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

ایام کی بے ترتیبی

ایام کی بے ترتیبی سے عورتوں میں بہت سے امراض پیدا ہو جاتے ہیں ۔ نلوں میں دکھن ہو جاتی ہے، پیٹ بڑا ہو جاتا ہے اور مقررہ ایّام سے پہلے شدید درد کی کیفیت سے دو چار ہونا پڑ تا ہے ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر ایام صحیح وقت اور پوری مدت تک نہ ہوں تو عورتوں ک

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

فریب کا مجسمہ

۵۹۲ء کے چین میں دستورتھا کہ نکاح کے بعد دلہن کا باپ ریشمی کوڑا پہلے دلہن کو مارتا تھا پھر وہ کوڑا اپنے داماد کو دے دیتا تھا اور کہتا تھا کہ تم اس تازیانہ ہدایت سے کام لیتے رہنا۔ چین میں یہ بھی دستور تھا کہ نکاح کی مجلس میں دلہن کا باپ کہتا تھا کہ میں ن

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

آدم کو بنایا ہے لکیروں میں بند

آدم کو بنایا ہے لکیروں میں بند آدم ہے اسی قید کے اندر خور سند واضح رہے جس دم یہ لکیریں ٹوٹیں روکے گی نہ اک دم اسے مٹی کی کمند یہاں ہر چیز لہروں کے دوش پر رواں دواں ہے۔ یہ لہریں (لکیریں ) جہاں زندگی کو خوش آرام بناتی ہیں، مصیبت و ابتلا میں بھی مبتلا کرد

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

بی بی میراں ماںؒ

حضرت میراں ماںؒ کی آخری آرام گاہ کراچی میں ہے۔ آپ کا آبائی وطن لاڑکانہ ہے۔ آپ نے سلسلہ قادریہ سے فیض پایا۔ بی بی میراں ماںؒ جب حج کے ارادے سے کراچی تشریف لائیں تو آپ کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: “دیکھو! میرے چلے جانے کے بعد تم لوگ الگ الگ نہ ہو

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

بے بضاعتی

یہ نہیں معلوم کہاں سے آیا ہوں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ منزل کہاں ہے۔ ایسا علم جس کو نہ تو کھو جانے کا علم ہو اور نہ ہی کچھ پا لینے کا علم ہو علم نہیں ہے ۔ بے بضاعتی اور کم مایگی کا یہ حال ہے تو ہم حقیقت کے سمندر میں کس طرح غوطہ زن ہو سکتے ہیں۔ حقیقی عل

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)