126 عناصر

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45124

سوال: آپ نے بتایا ہے کہ اب تک جتنے اسباق لکھے گئے ہیں ان سب کا مقصد یہ ہے کہ طالبِ علم کو ذہنی یکسوئی اور خیالات کی پاکیزگی حاصل ہو جائے۔ کیا آپ براہِ راست ٹیلی پیتھی کی مشقیں تجویز کر کے، کورس کی مدت مختصر نہیں کر سکتے؟ ٹیلی پیتھی کی مشقیں کرنے سے از خود ذہنی یک سوئی ہو جاتی ہے تو پھر آپ کیوں خواہ مخواہ مضمون کو طول دے رہے ہیں؟
جواب: انسان ان ہی حقیقتوں کو سمجھنے اور پا لینے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی بنیاد ہوتی ہے۔ ان میں زیادہ حیقیتیں ایسی ہیں موجود ہونے کے باوجود ہمارے دائرہ احساس یا شعور میں نہیں آتیں۔شعور کے دائرہ کار میں رہ کر ہم لاکھ کوشش کریں یکن ہم ان حقیقتوں کو اپنے اعصابی نظام اور گوشت پوست کے دماغ سے نہیں پہچان سکتے۔ جب ہم ان اٹل حقیقتوں کی چھان بین کرتے ہیں تو اس کی بنیاد وہ علم نہیں ہوتا جس مین شعور حواس اور اعساب کا دخل ہوتا ہے۔ اور ہماری عقل ان گتھیوں کو سلجھانے سے قاصر نظر آتی ہے۔ عقل عمل تجربہ کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے جب کہ غیب میں آباد دنیا کے رموزو نکات کا تعلق لا شعوری حواس سے ہے۔ جدید سائنس کی رُو سے ؤدمی سو چھبیس عناصر سے مرکب ہے۔ آگ، پانی ، ہوا، مٹی، ہائیڈروجن، ریڈیم، کاربن، نائیٹروجن ۔۔۔۔۔ وغیرہ۔ غرضیکہ جتنے بھی عناصر مل کر کسی مادہ کی تشکیل و تخلیق کرتے ہین وہ سب آدمی کے اجزائے ترکیبی میں بھی شامل ہیں۔ جب ہم مادی اعتبار سے آدمی ، حیوانات، چرندے، پرندے، درندے، ذی رُوح اور غیر زی رُوح مخلوق کا تجزیہ کرتے ہیں تو سب ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ آدمی جہاں افضل ہو کر انسان بنتا ہے اور اس میں جو چیز تمام مخلوق سے افضل و اعلیٰ ہے وہ اس کی قوتِ ارادی ہے۔ انسان اپنی قوتِ ارادی سے نہ صرف یہ کہ عرفان حاصل کر لیتا ہے بلکہ اس کے سامنے کائنات سر نگوں ہو جاتی ہے۔
زمین پر خس و خاشاک دور کرنے کے بعد کوئی پودا لگا دیا جائے تو وہ جلد نشوونما پاتا ہے اور جوان ہو کے اچھا پھل دیتا ہے۔ اسی طرح جب ذہن کو پوری طرح ساف کر کے کسی نئے علم کا پودا اس مین لگایا جائے تو وہ بہت جلد برگ و بار لاتا ہے اور سر سبز و شاداب ہو جاتا ہے۔ جس طرح آپ اپنے جسم کا فاسد مادہ خود ہی خارج ک دیتے ہیں یا وہ قدرتی نظام کے تحت خارج ہو جاتا ہے اسی طرح ہیجان، جذبات اور خیالات کی کثافت کا اخراج ہونا بھی ضروری ہے۔ جب تک دماغ جذبات و ہیجان کی کثافت سے ساف نہیں ہوتا آدمی روحانی ترقی نہیں کر سکتا۔ اس صفائی کو حاصل کرنے کے لئے براہِ راست ٹیلی پیتھی شروع کرنے سے پہلے ہم نے زہنی یکسوئی حاصل کرنے کے اسباق تجویز کئے ہیں۔
پیرا سائیکالوجی ( PARAPSYCHOLOGY) کی رُو سے ماورائی طاقت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دماغ کی کارکردگی اور دماغ کے کمپیوٹر کو سمجھ کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جب تک ہم عملاً اس مادی نظام سے الگ ہو کر دماغ کی طرف متوجہ نہیں ہوں گ۔ دماغ کی کارکردگی اور دماغ میں موجود مخفی سالحیتیں ہمارے سامنے نہیں آئیں گی۔ ان مخفی اور لا محدود صلاحیتوں سے ؤشنا ہونے کے لئے یہ امر لازم ہے کہ ہم اس بات سے واقف ہوں کہ مفروضہ حواس کی گرفت سے آزاد ہونا کس طرح ممکن ہے۔
جہاں تک طویل انتظار کا تعلق ہے ، کائنات کے تخلیقی فارمولوں پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات اظہر سن الشمس ہے کہ ہر گزرنے والا لمحہ آنے والے لمحات کے انتظار کا پیشِ خیمہ ہے۔ انتظار بجائے خود زندگی ہے۔ بچپن سے لڑکپن ، لڑکپن سے جوانی اور جوانی بڑھاپے کے انتظار میں گزرتی ہے۔ اگر آج پیدا ہونے والے جچے کی زندگی میں آنے والے ساٹھ سالوں پر محیط بڑھاپا چپکا ہوا اور چھپا ہوا نہ ہو تو پیدا ہونے والا بچہ پنگوڑے ساے باہر نہیں آئے گا، نشوونا رک جائے گی، کائنات ٹھہر جائے گی، چاند سورج اپنی روشنی سے محروم ہو جائیں گے۔
جب ہم زمیں میں کوئی بیج ڈالتے ہیں تو یہ راصل اس انتظار کے عمل کی شروعات ہے کہ یہ بیج پھول بن کرکھلے گا۔
انٹینا(ANTENNA)
سوال: یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زندگی کا قیام سانس کے اوپر ہے سانس جاری ہے تو زندگی برقرار ہے اور جب سانس کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے تو زندگی بھی راہِ عدم اختیار کرتی ہے۔ درخواست ہے کہ آپ ہم طلبا و طالبات کو یہ بتائیں کہ ماورائی علوم حاصل کرنے میں سانس کی مشقیں کیوں ضروری ہیں اور سائنس کی روحانی حیثیت کیا ہے؟
جواب: تخلیقی فارمولوں پر غور کیا جائے اور اللہ کے بیان کردہ قوانین میں تفکر کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کائنات اور کائنات کے اندر تمام مظاہرات کی تخلیق دو۲ رُخ پر کی گئی ہے۔ اس حیقیقت کی روچنی میں سانس کے بھی دو۲ رُک متعین ہیں ۔ ایک رُخ یہ ہے کہ آدمی سانس اندر لیتا ہے اور دوسرا رُخ یہ ہے کہ سانس باہر نکالا جاتا ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں گہرائی میں سانس لینا صعودی حرکت ہے اور سانس کا باہر آنا نزولی حرکت ہے۔ صعو داس حرکت کا نام ہے جس حرکت میں تخیلق کا ربطہ براہِ راست خالقِ کائنات کے ساتھ قائم ہے اور نزول اس حرکت کا نام ہے جس میں بندہ ٹائم اسپیس ( TIME SPACE)کا پابند ہے۔
جب کچھ نہ تھا، اللہ تھا۔ جب اللہ نے چاھا بشمول کائنات ہمیں تخلیق کر دیا تخلیق کی بنیاد (BASE) اللہ کا چاہنا اللہ کا ذہن ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہمارا اصل وجود اللہ کے ذہن میں ہے۔ قانون یہ ہے کہ جب تک شئے کی وابستگی اصل سے برقرار نہ رہے کوئی شئے قائم نہیں رہ سکتی۔ اس وابستگی کا قیام مظاہراتی خدوخال میں صعودی حرکت سے قائم ہے۔ اس کے برعکس ہمارا ایک جسمانی تشخص بھی ہے، اس جسمانی اور مادی تشخص کی بنا نزولی حرکت ہے۔
پوری کائنات اور اس کے اندر تمام مظاہرات ہر لمحہ اور ہر آن ایک سرکل (CIRCLE) میں سفر کر رہے ہیں اور کائنات میں ہر مظہر ایک دوسرے سے آشنا اور متعارف ہے۔ تعارف کا یہ سلسلہ خیالات پر مبنی ہے۔ سائنس نے آپس مین اس تبادلہ خیال اور رشتہ کو توانائی کا نام دیا ہے۔ سائنس کی رُو سے کائنات کی کسی شئے کو خواہ وہ مرئی ہو یا غیر مرئی کلیتہً فنا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مادہ مکتلف ڈائیوں میں نقل مکانی کر کے تونائی بن جاتا ہے اور توانائی روپ بدل بدل کر سامنے آتی رہتی ہے۔ مکمل موت کسی پرواز نہیں ہوتی۔ تصوت میں اسی توانائی کو رُوح کا نام دیا گیا ہے۔ رُوح کو جو علم و دیعت لہروں اور شعاعوں کے دوش پر ہمہ وقت، ہر لحہ اور ہر آن مصروف ِ عمل رہتے ہیں۔ اگر ہمارا ذہن ان لہروں کو پڑھنے اور حرکت دینے پر قدرت حاصل کر لے تو ہم کائنات کے تصویر خانوں میں خیالات کے ردو بدل سے وقوف حاصل کر کے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس سانس کے اوپر کنٹرول حاصل کر لیں جو صعودی حرکت ہے۔
سانس کا گہرائی میں جانا لا شعور ہے سانس کا گہرائی سے مظاہراتی سطح پر آنا شعور ہے۔ شعوری زندگی حرکت میں ہوتی ہے تو لا شعوری زندگی پردے میں چلی جاتی ہے اور لا شعوری زندگی میں شعوری تحریکات سے باخبر ہونا ضروری ہے اور یہ اُس وقت ممکن ہے جب گہرائی میں سانس لینے پر اختیار حاصل ہو جائے اور ہمارے اندر مرکزیت اور توجہ کی صلاحیتیں بروئے کار آ جائیں۔ یاد رکھئے ہمارے اِنرINNER)) میں نصب انٹینا (ANTENNA) اسی وقت کچھ نشر کرنے یا قبول کرنے کا قابل ہوتا ہے جب ذہن میں توجہ اور مرکزیت کی صلاحیتیں وافر مقدار میں موجود ہوں۔ ان صلاحیتوں کا ذخیرہ اس وقت فعال اور متحرک ہوتا ہے جب ہم اپنی تمام تر توجہ یکسوئی اور صلاحیتوں کے ساتھ صعودی حرکت میں دوب جائیں۔
ماورائی علوم سیکھنے کے لئے مضبوط اعصاب اور طاقتور دماغ کی ضرورت ہے اعصاب میں لچک پیدا کرنے، دماغ کو متحرک رکھنے اور قوتِ کاکردگی بڑھانے کے لئے سانس کی مشقیں بے حد مفید اور کار آمد ہیں۔ جب کوئی مُبتدی سانس کی مشقوں پر کنڑول حا صل کر لیتا ہے تو اس کے دماغ کے اندر باریک ترین ریشوں اور خلیوں (CELLS) کی حرکات اور عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ اِنر (INNER)میں سانس روکنے سے دماغ کے خلیات (CELLS) چارج ہو جاتے ہیں جو انسان کی خفینہ صلاحیتوں کو بیدار ہونے، اُبھرنے اور پھلنے پھولنے کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 139 تا 141

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)