ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق
مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے
مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی
مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45089
پہلے سبق میں یہ بات پوری طرح واضح کر دی گئی ہے کہ ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ منتشر خیالات سے نجات حاصل کر کے صرف ایک خیال کو اپنا ہرف بنا لیا جائے۔ ذہنی یکسوئی اور مرکزیت حاصل کرنے والے دوسرا سبق یہ ہے۔
داہنے ہاتھ کے انگوٹھے سے سیدھے نتھنے کو بند کر لیں اور بائیں نتھنے سے پانچ سیکنڈ تک سانس کھینچ کر سیدھا نتھنا چھنگلیا سے بند کر لیں۔ اور دس سیکنڈ تک سانس روک لیں۔ دس سیکنڈ کے بعد الٹے نتھنے سے پانچ سیکنڈ تک سانس باہر نکالیں۔ یہ ایک چکر ہو گیا۔ یعنی پانچ سیکنڈ سانس لینا، دس سیکنڈ روکنا اور پانچ سیکنڈ باہر نکالنا ہے۔ اسی طرح دس مرتبہ اس عمل کو دہرائیں۔ سانس کی یہ مشق صبح سورج نکلنے سے پہلے خلوئے معدہ اور رات کو سونے سے پہلے خالی پیٹ کرنی چاہئیے۔
سانس کی اس مشق کے بعد آنکھیں بند کر لیں اور یہ تصور کریں کہ آسمان پر نیلے رنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور آپ کے اوپر نور کی بارش ہو رہی ہے۔ شروع شروع میں اس مراقبہ کے دورانشعور کی مزاحمت اتنی بڑھ جاتی ہے کہدماغ بوجھل اور ماؤف ہونے لگتا ہے۔ دماغ کا ماؤف ہونا دراصل مشق کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے۔ ابتدائی چند دنوں میں تو تصور باکل قائم نہیں ہوتا یا صرف آسمان اور بادل کا تصور دماغ کی سطح پر نمودار ہوتا ہے ۔ جب اس تصور مین گہرائی واقع ہو جاتی ہے تو پہلے سے کے اوپر بارش گرنے کا احساس ہوتا ہے۔ تصور اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے تو فی الواقع بارش ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور جسم پر اس نورانی بارش کی بڑی بڑی بوندوں کا وہی اثر مرتب ہوتا ہے جو پانی کی بارش سے ہوتا ہے۔ یعنی نورانی بارش کی بوندیں گرنے سے جسم پر چوٹ پڑتی ہے اور پھر پورے ماحول پر بکھا رُت کا سما پیدا ہو جاتا ہے۔ جب بند آنکھوں سے بارش کا تصور قائم ہو جائے اور جسم پر بوندوں کی چوٹ محسوس ہونے لگے تو اس مشق کو کھلی آنکھوں سے کیا جائے۔ اور تیسری آنکھ سے یہ دیکھا جائے کہ ہر طرف نور کی بارش ہو رہی ہے اور پورا ماحول اس نورانی بارش میں ڈوبا ہوا ہے۔ جب یہ تصور پورا ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ اس مشق کی تکمیل ہو گئی ہے۔
یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 80 تا 81
ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔