کیفیات و واردت سبق 2

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45102

محمد جہانگیر تبسم، ڈیرہ اسمٰعیل خاں۔
۲۰۔ نومبر: ٹیلی پیتھی کی دوسری مشق کے دوران آنکھوں میں سے نور کی لہریں نکلتی ہوئی محسوس کیں۔ نور کے ہالے نگاہوں کے سامنے آتے رہے۔ اور جاتے رہے۔ ایک بہت بڑی وسعت دکھائی دی۔ اور اس میں روشنی ہی روشنی پھیلی نظر آئی۔ مشق کے دوران آنکھوں کے ڈیلے بالکل ساکت اور جمے ہوئے محسوس کئے۔
۲۱ ۔ نومبر: آنکھوں کے سامنے نور کی لہروں کا ہجوم ہو گیا۔ اور غور سے دیکھنے پر لہروں میں سمتیں نظر آئیں۔ مشق کے دوران دماغ کو جھٹکا لگا۔ اور روشنی میں اضافہ ہو گیا۔ میں نے اپنے دماغ میں بہت زیادہ روشنی بھری ہوئی محسوس کی۔
۲۳۔ نومبر: آج خود کو فضا میں پرواز کرتے دیکھا اور دورانِ پرواز دیکھا کہ میرا دماغ روشنیوں سے بھرا ہوا ہے اور ماتھے پر نور کی بنی ہوئی ایک باطنی آنکھ بھی ہے۔ مشق کے بعد میں نے سونے کے لئے کمبل اوپر ڈالا تو کمبل کے اندر روشنی کا جھماکا ہوا جیسے کسی نے ٹیوب لائٹ جلا دی ہو۔
خالد پرویز ، کوئٹہ، بلوچستان۔
۱۰۔ فروری: سانس کی مشق کرنے کے بعد مراقبہ شروع کیا تو نور کی بارش کا تصور بندھ گیا۔ ہر طرف نور برس رہا تھا ار میں اس بارش میں بیٹھا ہوا مشق کر رہا تھا۔ نور کی برسات ایسے تھی جیسے دودھ کے چمک دار قطرے ہر طرف گر رہے ہوں۔ صبح سانس کی مشق کے بعد مراقبہ میں پھر نور کی بارش کا تصور بندھ گیا۔ اور نور کی موسلا دھار بارش مجھ پر گرتی رہی۔ اور ذہن مین خیالات بھی آتے رہے۔
رات خواب میں جو کچھ دیکھا دوسرے دن من و عن وہی واقعات رونما ہو گئے۔ حیران ہوں کہ ٹیلی پیتھی کی مشقوں کا خواب سے کیا تعلق ہے۔
جب بھی نور کی بارش کا تصور کرتا ہوں اسے پوری شدت سے برستا دیکھتا ہوں۔ نور کی چمک دار بوندیں جسم پر جہاں بھی گرتی ہیں وہ جگہ روشن اور شفاف (TRANSPARENT) بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ پورا جسم روشنیوں کا بنا ہوا نظر آتا ہے۔

نورانی بال
محمد فاروق مصطفےٰ، بہاول پور۔
۱۲۔ جنوری: آج دورانِ مشق سارا ماحول موسلا دھار بارش میں ڈوبا ہوا محسوس ہوا۔ خود اپنے اپور بھی تیز اور کبھی ہلکی بارش برستی ہوئی دیکھی۔ لیکن اِ رد گِرد کا ماحول بہت تیز اور لگاتار بارش میں ڈوبا ہوا نظر آتا رہا ۔ ایسے لگا جیسے جسم بھیگ رہا ہے اور سر کے بال نورانی بارش سے تر ہو گئے ہیں۔
۹۔ جنوری تا ۱۲۔ جنوری: ذہن پر عجیب و غریب قسم کی گرد چھائی رہی جیسے ذہن بالکل ہی خالی ہو اور کوئی بات بھی سمجھنے پر آمادہ نہ ہو۔

گُناہوں کی دلدل
محمد طارق۔ ڈی آئی خاں۔
۳۔ فروری : کھلی آنکھوں سے نور کی بارش کا تصور قائم ہوا لیکن پھر غنودگی طاری ہو گئی۔ کچھ دیر بعد مجھے اچانک جھٹکا لگا اور میں عالمِ ہوش میں آ گیا۔ دیکھا کہ کمرے میں بے شمار روشنیاں پھیلی ہوئی ہیں۔
۵۔ فروری: دیکھا کہ بہت بڑا گلاب کا پھول آسمان سے نور کے پانی میں اُترا۔ پھول ایک طرف سے دروازے کی طرح کُھلا اور ایک بزرگ جن کے اردگرد نور کا ایک ہالہ سا تھا اپنے ساتھیوں سمیت نکلے۔ پھول کا دروازہ بند ہو گیا۔ وہ بزرگ اپنے ساتھیوں سمیت نور کے پانی میں چلتے ہوئے ایک جگہ آ کر ٹھر گئے۔پھر آسمان سے ایک تاریک اور بڑا گلوب نیچے آیا، بزرگ نے جب کچھ پڑھ کر اُس گلوب پر پھونکا تو وہ چمکنے لگا اور اس پر طرح طرح کی صورت میں بیٹھ گئے۔ آواز آئی ” تمہاری یہ دنیا گناہوں کی دلدل میں گردن تک دھنسی ہوئی ہے۔ اس لئے بے اطمینانی کا شکار ہے۔ اگر تم صدقِ دل سے عبادت کرو اور متحد ہو تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں شکست نہیں دے سکتی۔ ” اس کے بعد وہ گلوب تاریک ہو گیا۔ بزرگ نے اُسے اٹھایا اور آسمان کی جانب پھینک دیا۔ اور وہ بادلوں کی اُوٹ میں غائب ہو گیا۔ اب پھول سے دو عورتیں نکلیں اور دروازے کے دونوں طرف کھڑی ہو گئیں۔ بزرگ مع اپنے ساتھیوں کے جیسے ہی دروازے کے قریب پہنچے، انہوں نے ادب سے دروازہ کھول دیا۔ ان کے اندر داخل ہونے کے بعد دروازہ پھر بند ہو گیا۔ پہلے تو وہ پھول پانی مین تیرتا رہا ۔ پھر آسمان کی جانب پرواز کر گیا۔ پھر وہی نور کی بارش تھی اور میں تھا۔
۶۔فروری: جب مشق کرنے بیٹھا تو کمرے میں باوجود سخت اندھیرا ہونے کے کمرے کی ہر چیز صاف نظر آنے لگی۔ دیکھا کہ آسمان نیلا ہے اور ایک نیلا بادل تیرتا ہوا میرے سر پر آیا اور ایک طرف سے چھٹ گیا۔ جس سے بے شمار روشنی نکلی اور قطروں کی صورت میں تبدیل ہر کر برسنےلگی۔ اور پھر موسلا دھار ہو گئی۔

نور کی بارش
روبی خان، کراچی
۷۔ جنوری: نور کی بارش کا تصور کیا تو دیکھا کہ سر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے اور نور کی بارش سر کے اندر ہو رہی ہے۔ نور اُبل اُبل کر باہر نکل رہا ہے۔ بلب کی طرح کبھی جَل جاتا ہے اور کبھی بجھ جاتا ہے۔
۱۶۔ جنوری: مشق کے دوران دیکھا کہ ایک بہت بڑی مسجد میں کچھ بزرگ بیٹھے مقدس آئیتں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے بھی دعوت دی کہ تم بھی پڑھو۔ میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیوں پڑھا جا رہا ہے۔ جواب ملا تمہاری کامیابی کے لئے۔
۸۔ فروری سے ۲۰۔ فروری تک: کھلی آنکھوں سے بارش کی مشق کی۔ کافی حد تک کامیابی ہوئی۔ کبھی کبھی آنکھوں کے سامنے تیز روشنی نمودار ہوتی تھی اور کبھی کی بارش کا تصور قائم ہو جاتا تھا۔ کل ۲۰ فروری کو سارے ماحول پر بارش کا خوش گورار اثر دیکھا۔
منیرہ فاطمہ، لاہور
۶۔ جولائی: نور کی بارش کا تصور بہت آسانی سے قائم ہو گیا مگر جیسے ہی چہرے پر بوندوں کے گرنے کا احساس اُجاگر ہوا نیند آگئی۔ میں نے سارے دن اس بات کو آزمانا ہے کہ جب چہرے پر نورانی بارش کی بوندیں گرتی ہیں مجھے نیند آ جاتی ہے۔
۱۲ ۔ جولائی: ایک عجیب سی روشنی دیکھتی ہوں۔اس سے سارا گھر یا کمرہ روشن ہو جاتا ہے۔ نور کی بارش کا جب تصور آتا ہے تو دو سیکنڈ کے اندر اندر اپنے آپ کو بارانَ رحمت میں بھیگا ہوا پاتی ہوں ۔ جسم میں ایک لطیف پھر پری سی آجاتی ہے۔ اور کتنے ہی گرم کمرے کیوں نہ ہوں مجھے ٹھنڈک سی محسوس ہونے لگتی ہے اور بہت ہی لطف آتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ رحمت کی بارش میں کھڑی رہوں۔ کبھی کبھی تو جیسے ہی نور کی بارش کی بوند جسم یا چہرے پر پڑتی ہے تو فوراً ہی ایک روشنی یا فلیش سی نظروں کے سامنے چمک جاتی ہے۔ جسم میرا تقریباً پورے ہفتے ہی گرم گرم سا رہا۔ تھرما میٹر لگایا تو بخار یا حرارت نہیں تھی۔

چراغ اور موم بتی
یادگار حسین،کراچی
۲۹۔ اکتوبر: مراقبہ میں کچھ دیر کے لئے نور کی بارش کا تصور بندھا اور پھر بدن کو جھٹکے لگنے لے۔ ایسا محسوس ہوا کہ دن نکلا ہوا ہے اور چاروں طرف روشنی پھیلی ہوئی ہے۔
۳۰۔ اکتوبر: ایک روشن دائرہ آیا۔ اس کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے نگاہوں کے سامنے سے پردہ ہٹتے جا رہے ہیں۔ روشن دائرے میں مختلف مناظر متحرک نظر آئے۔ مشق کے بعد لیٹا تو محسوس ہوا کہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں۔ کالے سیاہ بادل اور سفید رنگ بادل آکر ان میں شامل ہو کر سنہری ہو گیا۔اگلے دن نیو کراچی گیا تو مغرب سے پہلے وہی منظر دیکھا کہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں اور سورج ان کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور سورج کی کرنوں کی وجہ سے بادلوں میں سے سنہری شعاعیں نکل رہی ہیں۔
۴۔ نومبر: دیکھا ایک مزار ہے جس کا گنبد سفید ہے۔ اور نور اس پر دھارے کی صوررت میں برس رہا ہے۔ خانہ کعبہ کی جھلک بھی نظر آئی۔ اس کے بعد دیکھا کہ دُور ایک چراغ جل رہا ہے۔ یہ منظر آہستہ آہستہ قریب آتا گیا اور میں نے دیکھا کہ ایک موم بتی جل رہی ہے۔ ایک عمارت نظر آئی اور پھر ایک مینار دکھائی دیا۔ کچھ لوگ نظر آئے۔ ان میں سے ایک شخص نےایک عصا میری طرف بڑھایا۔ لیکن مجھے اسے لینے میں جھجک محسوس ہوئی اور پھرمیں نے وہ عصا لے لیا۔
۵۔ نومبر: سانس کی مشق کے دوران روشنی کیا یک پٹی قوس ِ قزح کی شکل میں نظر آئی۔ پھر کئی رنگ کی پٹیاں سامنے آتی رہیں۔ زرد، سرخ اور نیلگوں، پھر ایسا محسوس ہوا جیسے نور کا دھارا نگاہوں کے سامنے آنے والا ہے۔
۶۔ نومبر: مشق کے دوران جسم کو کئی جھٹکے لگے۔ اور اتنی تیز روشنی پیدا ہوئی جیسے دن نکل آیا ہو۔ میں نے اس روشنی کو دیکھا کہ ایک قطار مین کچھ بزرگ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر میں نے خود کو ایک نہایت خوبصورت باغ میں موجود پایا۔ باغ میں ہرے بھرےپودے ارو پھل دار درخت لگے ہوئے تھے۔کسی نا معلوم شخص نے موتیا کے ایک پودا جڑ سے اکھاڑ کر میری طرف بڑھایا اور کہا اسے سونگھو۔ممیں نے اسے سونگھا تو ایک عجیب قسم کی خوشبو محسوس کی۔ وہ خوشبو نہایت تیز تھی اور اس کا اثر حیرت انگیز تھا۔ چند لمحوں پہلے میرا دماغ جو بوجھل تھا وہ یکلخت ختم ہو گیا۔ اور میں نے خود کو پر سکون محسوس کیا۔
۱۲ ۔ نومبر: ٹیلی پیتھی کی مشق کے بعد لیٹا تو جسم کی حرکت ساکت ہو گئی۔ دوسرے لمحے مکیں نے خود کو خلا میں محسوس پایا۔ رنگ اور روشنی کی بارش ہو رہی تھی اور میں اس بارش کی زد میں تھا۔ میں نے رنگ و نور کی اس بارش کی چوٹ کو اپنے جسم پر محسوس کی۔ میں نے نیچے کی جانب دیکھا تو نظر آیا کہ بارش ایک نہر میں جمع ہو رہی ہے۔ اس وقت تیز ہوا چلنے
لگی اور کہیں دور سےگھنٹیوں کی آواز سنائی دی جو کانوں کو بہت بھلی لگ رہی تھی۔
بند آنکھوں کے سامنے روشنی کی لیکروں کا جال پھیل گیا اور دل کی طرح ایک بڑی ڈبیا نظر آئی جس میں کھڑکی کی طرح دروازہ بنا ہوا تھا یہ دروازہ بار بار کھلتا اور طرح طرح کے مناظر دکھائی دیتے۔ دیکھا ایک تالاب ہے اور اس میں ایک مچھلی تڑپ رہی ہے۔ مچھلی کو تڑپتے دیکھ کر ایک بات ذہن میں آئی کہ پانی کم ہے جس کی وجہ سے مچھلی غوطہ لگاتی ہے اور فرش سے ٹکرا جاتی ہے، تالاب کے اندر دیواروں پر بیل بوٹے بنےہوئے تھے۔
۱۵۔ نومبر: ایک روشن دائرے میں خانہ کعبہ نظر آیا۔ اس کے چاروں طرف لوگ کھڑے ہوئے تھے اور آسمان سے بارانَ رحمت کی طرح نور چاروں طرف پھیل رہا تھا۔
محمد صفدر تابانی، شیخوپورہ۔
مراقبہ میں دیکھا کہ واقعتاً میں بارش بھیگ رہا ہوں ۔ پھر یہ بوندیں اولوں کی طرح سفید موتی بن کر گرنے لگیں۔ جب موتی میرے جسم سے ٹکرانے لگے، محسوس ہوتا تھا جیسے ان کا مادی وجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ روشنیوں سے بنے ہوئے ہیں۔ لیکن میں نے نور کے ان قطروں کا لمس ضرور محسوس کیا ہے۔ ایک اور فرق تھا اور وہ یہ کہ پانی کے قطروں سے ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے لیکن ان بوندوں کے گرنے سے مستی و سُرور کا احساس جاگ جاگ جاتا تھا۔

جھاڑو اور کمزور شخص
محمد منصور، باغبان پورہ
۲۹۔ اپریل : بارش پانچ سیکنڈ تک نظر آتی رہی جو دودھیا رنگ کی تھی اور ذہن اسے نورانی صورت میں دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔
آج خلاف معمول صبح بیدار ہو کر دوبارہ سو گیا۔ دیکھا کہ میرے کمرے میں سیاہ اور کمزور رنگت والا شخص جھاڑو دے رہا ہے۔ دیکھتے ہی میں غصے میں باہر آ گیا کہ اُسے میرے کمرے میں داخل ہونے کی جرات کیسے ہوئی۔ دوبارہ کمرے میں شک کی بنا پر گیا۔ دیکھا کہ وہ میرے بوٹوں کے تسمے بڑی نفاست سے پرو رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا آپ غلط تسمے ڈال رہے ہیں۔ میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کام کرتا رہا۔
۳۰۔ مئی: آہستہ آہستہ نیلے بادل چھا گئے۔ آج بازو اور سر ایسے ٹھنڈے ہو گئے جیسے انہیں برف میں لگا دیا گیا ہو۔
لطیف آباد، حیدر آباد میں منیر احمد ۱۶۔ جولائی سے برابر نور کی بارش والی مشق کر رہے ہیں۔ لکھتے ہیں پہلے دو دن کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ البتہ ۱۸۔ جولائی کو مشق کے دوران سر میں شدید قسم کا درد ہوا۔ ۱۹۔ جولائی کو بھی مشق کے دوران یہ درد برابر ہوتا رہا۔ لیکن چونکہ اس بات کی وضاحت آپ نے کر دی تھی اس لئے میں نے کوئی خیال نہیں کیا۔
۲۰۔ جولائی کو جب مشق سے فارغ ہو کر میں بستر پر لیٹا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں دو بن گیا ہوں۔ میں نے تصور کی آنکھ سے دیکھا تو برابر میہں ایک اور منیر لیٹا ہوا تھا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 97 تا 105

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)