کیفیات و واردات سبق 3

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45114

افتخار احمد نجمی، سوہدرہ
۱۸۔ اکتوبر: جب میں نے پارہ کے تالاب کا تصور کیا تو شروع شروع میں مجھے مسلسل نور کی بارش نظر آتی رہی کیوں کہ ذہن نور کی بارش کا عادی ہو چکا تھا۔ پھر تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ یہ نور کی بارش مرکری ( پارہ) سے بھرے ہوئے تالاب میں گر رہی ہے۔ پھر یہ بارش گرنا بند ہو گئی اور میرے سامنے پارہ سے بھرا ہوا تالاب ہی رہ گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں پارہ کے تالاب کو دیکھتے دیکھتے خود پارہ میں تبدیل ہو رہا ہوں۔
مشق کے دوران دیکھا کہ پارہ کے چھوٹے چھوٹے تالاب ہی تالاب پھیلے ہوئے ہیں اور میں ان کے اوپر اڑتا ہوا جا رہا ہوں۔ پھر میں ان میں سے ایک تالاب کو اپنے لئے چن لیتا ہوں اور اُس دیکھنا شروع کر دیتا ہوں۔
۲۰۔اکتوبر: مرکری(پارہ) کی ایک بہت بڑی لہر زمین پر نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری زمین پر پھیل گئی۔ لہر کے گزرنے کے بعد زمین پر جا بجا چھوٹے چھوٹے گڑھےپڑ گئے جن میں مرکری بھر ا ہوا تھا۔ اس کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے میں اس میں ڈوبتا چلا جا رہا ہوں۔
۲۱۔اکتوبر: میں نے خود کو پارے کے حوض میں ڈوبتے دیکھا ۔ مجھے احساس ہوا کہ پارے کے حوض میں نیچے سے نیچھ چلا جا رہا ہوں لیکن حوض کی گہرائی ختم نہیں ہوتی۔ پھر مین نے حوض کے اندر گہرائی میں اِدھر اُدھر اڑنا شروع کر دیا۔ اڑتے اڑتے حضورِ اکرم ﷺ کا روضہ اقدس میرے سامنے آ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے پیارے نبیﷺ کا روضہ نور سے بھرا ہوا ہے اور درو دیوار سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ جب یہ کیفیت ٹوٹی تو دیکھا کہ آنکھیں آنسوؤ ں سے تر ہیں۔ پھر میں مراقبے میں چلا گیا۔ دیکھتا ہوں کہ پارہ کے حوض کے اندر ایک بہت بڑا محل ہے جس کی ہر دیوار اور ہر چیز سے نود کی شعاعیں پھوٹ رہی ہیں۔ حتیٰ کہ محل کے اندر جو بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کی پیشانی اور داڑھی بلکہ سارے جسم سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں میری آنکھیں اتنی زیادہ روشنی کی تاب نہ لا کر خیرہ ہو گیئں اور مراقبہ ختم ہو گیا۔
۲۳۔ اکتوبر: مرقبہ میں حوض کا تصور قائم کیا تو حوض کی بجائے میرے سامنے پارہ کا وسیع سمندر آ گیا۔ اس شعاعیں بہت چمک دار تھیں اور ان کا رنگ مرکری جیسا تھا۔ اس دوران کسی نے زور سے دستک دی اور مراقبہ ٹوٹ گیا۔
پھر میں نے دوبارہ مراقبہ شروع کیا تو بہت آسانی سے میری آنکھوں کے سامنے پارہ کا حوض آ گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس حوض میں پارہ کا ایک نالہ آ کر گر رہا ہے۔ میں نے اس نالہ کے اوپر اوپر شمال کی طرف اڑنا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر بعد میں پارہ سے بھرے ہوئے ایک سمندر میں پہنچ گیا۔ اس کی شعاعوں کا رنگ حوض کی شعاعوں سے زیادہ چمک دار تھا۔
۵۔ نومبر: ٹیلی پیتھی کے تیسرے سبق کی مشق کر رہا تھا کہ میں نے خود کو پارہ (مرکری) کے وسیع اور لا محدود سمندر میں ڈوبے ہوئے محسوس کیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے ذہن کو بہت ہلکا محسوس کیا اور دیکھا کہ مین زمین کے اوپر پرواز کر رہا ہوں اور میرے نیچے کھیت ہیں جن میں لوگ کام کر رہے ہیں۔ اڑتے اڑتے نظروں کے سامنے پارہ سے بھری ہوئی ایک نہر آگئی جس میں سے مرکری لائٹ کی لہریں نکل رہی تھیں۔
۹۔ نومبر: خود کو مختلف علاقوں میں سیر کرتے ہوئے پایا۔ نظر آنے والی دو چیزوں میں قدرت کے دل فریب مناظر، بارونق اور جگمگاتے شہر ، خوبصورت عبادت گاہیں، ندیاں اور کئی کئی منزلہ خوبصورت عمارتیں شامل تھیں۔ یہ سب چیزیں ذہن میں خود بخود ہی منتقل ہو گیئں۔ مجھے آج پتہ چلا کہ ذہنی سکون کیا ہے۔

دروازہ کُھلا
سید اصغر علی ظفر، گوجرانوالہ
۶۔ نومبر: ٹیلی پیتھی کی مشق کے دوران خود کو ایک صحرا مین کھڑے دیکھا اتنے میں سفید لباس میں ملبوس دو نہایت حسین عورتوں پر نظرپڑی جو کچھ فاصلے پر کام میں مصروف تھیں۔ مین ان کے قریب پہنچا تو انہون نے مجھ پر ایک اچپٹتی نظر ڈالی اور دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ زمین پر سے موتی چن رہی ہیں میں نے پوچھا کہ آ پ لوگوں نے مجھے کیوں دیکھا؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی یسری ساتھی کا انتظار تھا، وہ ابھی تک نہیں آئی ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کی وہ ساتھی بھی آ گئی۔ اور وہ تینوں اوپر کی طرف پرواز کے گئیں۔ میں نے بھی ان کے تعاقب میں اڑنا شروع کر دیا اور ان کے پیچھے پیچھے ایک بہت خوبصورت دروازے تک جا پہنچا۔ عورتوں نے دستک دی، دو سپاہیوں نے دروازہ کھوالا اور وہ اندر داخل ہو گئیں۔ سپاہیوں نے مجھے روک دیا لیکن ان عورتوں نے سپاہیوں سے کہہ کر مجھے اندر آنے دیا۔
دروازے کے اندر ایک سڑک تھی جس کے دونوں طرف پودے اور فوارے لگے ہوئے تھے۔ فواروں سے پانی اُبل کر سڑک پر گر رہا تھا۔ ہم اس سرک پر آگے بڑھتے گئے۔لیکن فوراے کے پانی سے بھیگے نہیں۔

آخری تالاب
منور اعوان، راولپنڈی
۳ ۔مئی: تصور قائم نہیں ہو رہا تھا۔ اگر کبھی ہوتا تو جلدی ٹوٹ جاتا۔ سوچا کہ قلندر باباؒ سے مدد لینی چاہئے۔ یہ سواچا ہی تھا کہ قلندر باباؒ تشریف لائے۔ آپ نے آتے ہی مجھے ایک زور دار تھپڑ مارا جس کی چوٹ سے میں گر گیا۔ دیکھا وہ پارے سے بھرا تالاب تھا جس میں میں گرا تھا۔ اور یوں تصور قائم ہو گیا۔
۶۔مئی: تصور قائم ہوا تو دیکھا کہ قلندر بابا اولیاؒ مسکراتے ہوئے تشریف لائے۔ سامنے ایک تالاب ہے۔ فرمایا اس مین کود جاؤ۔ جب میں اس میں داخل ہوتا ہوں تو تالاب کے اندر سے ایک مگر مچھ باہے نکلتا ہے۔ میں اس تالاب سے باہر نکلتا ہوں تو آپ مسکراتے ہوئے مجھے ایک دوسرے تالاب میں لے جاتے ہیں۔ یہاں سنہری رنگ کی مچھلیاں تیر رہی ہوتی ہیں۔ میں بھی وہاں پر تیرتا ہوں۔ آج ہر طرف پارہ ہی پارہ دیکھا لیکن پارے کے سمندر میں مچھلیاں ، مگر مچھ اور کچھوئے وغیرہ نظر آئے۔
۲۔ جون: شومیِ قسمت اے آج چھت پر مراقبہ شروع کیا۔ دس منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ تیز آندھی چلنے لگی۔ پھر نیچے آ کر مراقبہ شروع کیا۔ پہلے جیسی یکسوئی قائم نہ ہو سکی تا ہم محدود کیفیت کے اندر ایک تالاب پارے سے بھرا ہو انظر آتا رہا۔ بے دلی کے ساتھ مراقبہ ختم کر دیا۔
۵۔ جون: سانس والی مشق کے دوران خیالات آتے رہے۔ حوض کا تصور کیا تو ایک چھوڑ سات کے قریب تالاب نظر آئے۔ آخری تالاب سب سے چھوٹا تھا اور پہلا تالاب سب سے بڑا تھا۔ میں اس میں غوطہ لگا کر نیچے بیٹھ گیا۔
۶۔ جون: حوض کا تصور کیا تو لفظ اللہ نظر آا۔ جس کے اندر پارے سے بھرے ہوئے سو۱۰۰ کے قریب حوض ہوں گے۔ پھر اچانک لفظ اللہ محمد میں تبدیل ہو گیا۔پھر یہ بھی تبدیل ہو کر (ا) بن گیا۔ میں اس کے اندر جذب ہو کر باہر آیا تو دیکھتا ہوں الف پھیل کر لمبائی مین افق تک پہنچ گیا ہے۔ پھر اس میں سے لاوے کی طرح پارہ اُبلنے لگا۔ پھیلتے ہوئے اس پارے میں درخت بھی ڈوب گئے۔

داتا گنج بخشؒ کا مزار
ایک طالبہ
پارے کے حوض میں ڈوب جانے کی مشق کی تو دماغ پر بوجھ ہو گیا۔ پارے کے حوض کا تصور بن بن کر بگڑجاتا ہے اور کبھی کافی اچھا تسور ہو جاتا ہے اور کبھی مشکل سے بنتا ہے اور پار ہ کا حوض کبھی کبھی اتنا اچھا لگتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ اس میں دوبی رہوں لیکن دماغ پر پارے کا وزن کافی محسوس ہوتا ہے۔ اور طبیعت مکدر سی ہو جاتی ہے، نیز اس تصور میں نیند بھی آ جاتی ہے۔
مرقبہ میں دیکھا کہ حضرت گنج بخشؒ کے مزار کی جالیوں مین نور کی کرنیں جمع ہو رہی ہیں۔ دیواریں بہت خوب صورت اور دیدہ زیب ہیں اور ان پر کوئی آیت لکھی ہوئی ہے اور میں اس کو سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر شدت جذبات سے اور رونے کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ یہ کیا ہے۔
۳۰ ۔ اپریل: ایسا محسوس ہوا جیسے گردن سر کا بوجھ نہیں سنبھال سکے گی۔ بہر حال مشق جاری رکھی اور پارے کے حوض کا تصور قائم ہو گیا۔ اور دیکھا کہ میں رسولِ خداؑ کے پائے مبارک سے لپٹ کر خوب رو رہی ہوں اور حضورﷺ میرے سر پر اپنا دستِپاک ق مطہر پھیر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ” خدا تمہیں کامیابی دے گا۔”

آگ کی لپیٹ
محمد عمران کلیم
رات کو مراقبہ کیا تو مزاحمت اس حد تک بڑھ گئی کہ اس ایک بھاری پتھر محسوس ہونے لگا۔ اس کے بعد مطلع صاف ہواتو دیکھا کہ پارے کہ ایک بڑی لہر اٹھی اور پوری دنیا اس کے اندر ڈوب گئی۔ جب وہ لہر گزر گئی تو پارے کے کئی حوض دیکھے۔ پھر دیکھا کہ ایک بڑی لہر آئی جس کے اوپر نور تھا اور نیچے پارہ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ مین لے لیا اور وہ کئی بار دنیا کے گرد گھومی۔
۱۰ جنوری: آج مراقبہ شروع کیا تو دیکھا کہ پوری دنیا ایک چھوٹے سے گولے کی شکل مین تبدیل ہو کر پارہ کے حوض میں ڈوبی ہوئی نظر آئی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرا پلنگ پارہ پر سوار اِدھر اُدھر ڈول رہا ہے اور پارہ کی لہریں مجھ سے ٹکرا رہی ہیں
۱۹۔ فروری: مجھے کھلی آنکھوں سے اپنا دل نظر آیا۔ اس کے اندر دیکھا تو پوری دنیا پارہ کے حوض میں ڈوبی ہوئی نظر آئی۔ ساری دنیا میں پارہ کا طوفان اٹھا ہوا ہے اور ہر طرف طغیانی آئی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ اس تصور میں گہرائی بڑھتی گئی اور ساتھ ساتھ سر پر ایک بوجھ محسوس ہوا ۔ کنپٹیوں پر ایسا لگا کہ ان پر درد کی ٹیسیں اٹھ رہی ہیں۔ پھر یہ ٹیسیں ختم ہو گئیں اور میں سو گیا۔
۲۰۔ فروری: آج مراقبہ شروع کرنے سے پہلے سانس کی مشق کی تھوڑی سی کرمی شروع ہوئی جو ہر سانس کے ساتھ بڑھتی ہی گئی۔ آخر سانس نکالتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ میری سانس کے ساتھ آگ کی لپیٹ نکل رہی ہے اور ریڑھ کی ہڈی میں کوئی چیز ہل رہی ہے۔ پھر مراقبہ کیا تو حسبِ معمول فوراً ہی تصور بندھ گیا اور طبیعت پر سکون ہو گئی۔

ہرایت:
مراقبہ کرنے سے پہلے ایک گلاس پانی میں شہد گھول کر پی لیا کریں ۔ پانی آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ کر کے پئیں کھانوں میں نمک کی مقدار کم کر دیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 123 تا 129

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)