کہکشانی نظام

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=36614

بڑی مشکل یہ پیش آ گئی کہ ہم رگ پٹھوں کہ بناوٹ اور ہڈیوں کے ڈھانچے کو انسان کہتے ہیں حالانکہ یہ انسان وہ انسان نہیں ہے جس کو قدرت انسان کہتی ہے ۔ ہم اس رگ پٹھوں سے مرکب انسان کو اصل انسان کا لباس کہہ سکتے ہیں۔
مثال:
جب ہم مر جاتے ہیں تو ہمارے جسم میں کسی قسم کی اپنی کوئی حرکت نہیں رہتی۔اس جسم کے ایک ایک عضو کو کاٹ ڈالئے ۔ پورے جسم کو گھسیٹئے، مفروب کیجئیے، اس مردہ جسم کو ایک طرف ڈال دیجئے، کچھ بھی کیجئے جسم کی طرف سے اپنی کوئی مدافعت، کوئی حرکت عمل میں نہیں آئے گی۔ اس میں زندگی کا کوئی شائبہ کسی لمحہ بھی پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔

اب ہم اسی مثال کو دوسری مثال کو دوسری طرح بیان کرتے ہیں:
آپ نے قمیص پہنی ہوئی ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ قمیص بذاتِ خود جسم سے الگ رہ کر بھی حرکت کرے تو یہ بات ممکنات میں سے نہیں ہے۔ جب تک قمیص جسم کے اوپر ہے جسم کی حرکت کے ساتھ اس کے اندر بھی حرکت موجود ہے۔ اگر آستین ہاتھ کے اوپر ہے تو ہاتھ ہلانے سے آستین کا ہلنا بھی ضروری ہے۔ آپ یہ چاہیں کہ ہاتھ تو حرکت کرے لیکن آستین میں حرکت پیدا نہ ہو، ایسا ہونا بعید از قیاس ہے۔ جب تک ہاتھ کے اوپر آستین ہے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ آستین کا ہلنا ضروری ہے۔ بالکل یہی حال جسم کا بھی ہے۔
جسم کو جب ہم لباس کہتے ہیں تو اس سے ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ رگ پٹھوں اور ہڈیوں کے پنجر سے مرکب خاکی جسم، رُوح کا لباس ہے۔ جب تک رُوح موجود ہے جسم بھی متحرک ہے اور اگر رُوح موجود نہیں ہے تو رُوح کے لباس ( جسم ) کی حیثیت قمیص کی طرح ہے۔

انسان دو تقاضوں سے مرکب اور محرک ہے۔ ایک تقاضہ جبلی ہے اور دوسرا فطری۔ جبلی تقاضہ پر ہم با اختیار ہیں اور فطرہ تقاضہ پر ہمیں کسی حد تک تو اختیار ہے مگر اس ارادہ کو کلیناً رد کرنے پر اختیار نہیں رکھتے۔ ایک ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے ۔ بچہ مر جاتا ہے، ماں رودھو کر بالآ خر صبر کر لیتی ہے۔ عرفِ عام میں ماں کی محبت کو فطری تقاضہ کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ تقاضہ فطری نہیں، جبلی ہے۔ ماں کی محبت کو اگر فطری جذبہ قرار دیا جائے تو بچہ کی جدائی کے غم میں اپنے بچہ کے ساتھ مر ہی نہ جائے گی بچہ کی یاد اس کے حواس کا شیرازہ بکھیر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس فطری طور پر تقاضے بھوک اور نیند کے سلسلے میں غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کوئی آدمی بھوک رفع کرنے کے لئے خوراک میں کمی بیشی تو کر سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ کھائے یا پیاس کا تقاضہ پورا کرنے کے لئے بالکل پانی نہ پیئے۔ یا ساری عمر جاگتا رہے یا پوری زندگی سوتا رہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جذبات فطری ہوں یا جبلی، بہر کیف ان کا تعلق خیالات سے ہے۔ جب تک کوئی تقاضہ خیال کی صورت میں جلوہ گر نہیں ہو گا ہم اس سے بے خبر رہیں گے۔ ہمارے اوپر حواس (بصارت، سماعت، گویائی، لمس) کا انکشاف نہیں ہو گا۔

انسان کے اندر یہ خواہش فطری ہے کہ وہ معلوم کرے کہ خیالات کیوں آتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں اور خیالات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مل کر کس طرح زندگی بنتے ہیں ۔ عام زبان میں تفکر کو اَ نَا کا نام دیا جاتا ہے۔ اور اَ نَا یا تفکر ایسی کیفیات کا مجموعہ ہے جن کو مجموعی طور پر فرد کہتے ہیں۔اس طرح کی تخلیق ستارے بھی ہیں اور ذرے بھی۔ ہمارے شعور میں یہ بات تو بالکل نہیں آتی یا بہت کم آتی ہے کہ تفکر کے ستاروں، ذروں اور تمام مخلوق سے ہمارا تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ان کی اَ نَا یعنی تفکر کی لہریں ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں۔ اور ہم سے بہت کچھ لیتی بھی ہیں۔ تمام کائنات اسی وضع کے تبادلہ خیال کا ایک خاندان ہے۔ مخلوق میں فرشتے اور جنات ہمارے لئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تفکر کے اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب ہیں اور تبادلہ خیال کے لحاظ سے ہم سے زیادہ مانوس ہیں۔

کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے جو خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں وصول ہوتے رہتے ہیں۔ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں خیالات کے بے شمار خانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی زبان میں تو تہم ، تخیل، تصور اور تفکر کا نام دیتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ ہماری اپنی اختراعات ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ بلکہ تمام مخلوق کے سوچنے کی طرزیں ایک نقطہ مشترک رکھتی ہیں۔ وہی نقطہ مشترک تصویر خانوں کو جمع کر کے ان کا علم دیتا ہے۔ یہ علم نوع اور فرد کے شعور پر منحصر ہے۔ شعور جو اسلوب اپنی اَنَا کی اقدار کے مطابق قائم کرتا ہے تصویر خانے اسی اسلوب کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس موقع پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ تین نوعوں کے طرزِ عمل میں زیادہ اشتراک ہے۔ ان ہی کا تذکرہ قرآن ِ پاک میں انسان ، فرشتہ اور جنات کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ نوعیں کائنات کے اندر سارے کہکشانی نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔ قدرت نےکچھ ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں یہ تین نوعیں نوعیں تخلیق کا رُکن بن گئی ہیں۔ان ہی کے ذہن سے تخلیق کی لہریں خارج ہو کر کائنات مظاہر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کائنات زمانی اور مکانی فاصلوں کا نام ہے۔ یہ فاصلے اَنَا کی چھوٹی بڑی مخلوط لہروں سے بنتے ہیں۔ ان لہروں کا چھوٹا بڑا ہونا تغیُر کہلاتا ہے۔
یہ قانون بہت زیادہ فکر سے ذہن نشین کرنا چاہئیے کہ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دور کرتے ہیں ان کا تعلق قریب اور دُور کی ایسی اطلاعات سے ہوتا ہے جو اس کا ئنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ یہ اطلاعات لہروں کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں۔

سائنس دان روشنی کو زیادہ سے زیادہ تیز رفتار قرار دیتے ہیں۔ لیکن وہ اتنی تیز رفتار نہیں ہے کہ زمانی اور مکانی فاصلوں کو منقطع کر دے۔ البتہ اَنَا کی لہریں لا متناہیت میں بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں۔ زمانی اور مکانی فاصلے ان کی گرفت میں رہتے ہیں۔یہ الفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان کی لہروں کے لئے زمانی اور مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں۔ روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں اَنَا کی لہریں ان ہی فاصلوں کی بجائے خود مو جود نہیں جانتیں۔ اس بات کی تصدیق قرآن حکیم میں حضرت سلیمانؑ کے سلسلے میں بیان کردہ واقعہ سے بھی ہوتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 20 تا 23

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)