پاگل جھونپڑی

کتاب : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

مصنف : سہیل احمد عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=14614

فوج کی ملازمت کو خیرباد کہنے کے بعد بابا تاج الدینؒ کامٹی میں رہنے لگے تھے۔ اس زمانے میں جذب وبیخودی عروج پر تھی۔ لوگ آپ کے استغراق کو پاگل پن سے تعبیر کرتے لیکن کچھ ایسے واقعات رونماہوئے جن کی بنا پر لوگوں میں آپ کی شخصیت ایک صاحبِ کرامت اور صاحبِ فیض کی حیثیت سے ابھرنے لگی۔ اوردیکھتے ہی دیکھتے پریشان حالوں اور عقیدت مندوں کا ہجوم آپ کے گرد رہنے لگا۔ لوگ ہر وقت آپ کو گھیرے رہتے اوراپنی مشکلات بیان کرتے۔ یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ رات دن ایک ہوگیا۔ ایک روز بابا تاج الدینؒ نے فرمایا:

’’لوگ ہمیں بہت ستاتے ہیں۔ اب ہم پاگل جھونپڑی چلے جائیں گے۔‘‘

چنانچہ خودبخود ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ آپ کو ناگپورکے پاگل خانے میں بھرتی کردیا گیا۔ تاریخ داخلہ۲۶؍اگست ۱۸۹۲ء تھی۔

بابا صاحبؒ نے اس پاگل خانے کو ولی خانے میں تبدیل کردیا اور جلد ہی پاگل خانے کے منتظمین اورڈاکٹر سمجھ گئے کہ پاگل خانے میں وارد ہونے والی یہ ہستی مقبولِ بارگاہ الہٰی ہے۔ پاگل خانے کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرعبدالمجید اورڈاکٹر کاشی ناتھ راؤ آپ کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کے بستر کی صفائی اورخوردونوش کا انتظام بذاتِ خود کرتے تھے۔

پاگل خانے کے قیام کے زمانے میں بابا تاج الدینؒ پرجذب واستغراق کا غلبہ کم ہوگیا۔ اورآپ اکثر شعوری حالت میں رہنے لگے۔ شعوری حالت میں بھی ان سے اس تواتر اورتسلسل سے کرامات کا ظہور ہوتا تھا کہ گویا وہ ان کے نزدیک خرقِ عادت نہیں بلکہ معمول ہے۔

ایک شام مقررہ وقت پربابا تاج الدینؒ کو ان کے کمرے میں پہنچا کر کمرہ مقفل کر دیا گیا۔ اورپاگل خانے کا صدر دروازہ بھی بند کردیاگیا۔ اگلی صبح محافظ نے  صدر دروازہ کھولا تو بابا تاج الدینؒ کو باہر سے اندرآنے کے منتظر کھڑے تھے۔ محافظ  بابا صاحبؒ کو باہر دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ فوراًمنتظمین اورڈاکٹر کو اطلاع دی۔ وہ لوگ فوراً آئے اور بابا تاج الدینؒ کو ساتھ لے کر ان کے کمرے کے پاس پہنچے۔ کمرے کا دروازہ ہنوز مقفل تھا۔ وہ لوگ پہلے ہی سمجھ چکے تھے کہ بابا تاج الدینؒ ایک عام آدمی نہ تھے۔ اس لئے انہوں نے اس وقت کچھ نہیں کہا۔ لیکن ان کی عقیدت میں مزید اضافہ ہوگیا اوراس غیر معمولی واقعے کا چرچا پورے ناگپور میں عام ہوگیا۔ پھرتو لوگ جوق درجوق زیارت کے لئے حاضر ہونے لگے۔

اس کے بعد بابا صاحبؒ اکثر صبح کے وقت باہر سے تشریف لاتے اور اپنے کمرے کے پیچھے لان پر پڑی ہوئی کرسیوں اور بینچوں میں سے کسی ایک پر بیٹھ جاتے۔ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اپنے مسائل کا حل چاہتے۔ باباصاحبؒ ان کے مسائل کا حل بتاتے۔

پاگل خانے میں بابا صاحبؒ کی خدمت میں عوام وخواص کی آمد ورفت اتنی روز افزوں تھی کہ حکومت نے ملاقاتی فیس مقررکردی۔ کچھ دنوں بعد یہ ملاقاتی فیس ختم کردی گئی۔ باباصاحبؒ کے دربار میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، حاکم محکوم سب حاضری دیتے تھے۔ ان میں سرانتونی میکڈونلڈ چیف کمشنر سی پی وبرار، سول سرجن کرنل رو، ایس پی پولیس موتی، ایڈیشنل اسٹنٹ کمشنر خان بہادر ولایت اللہ خاں وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

اس زمانے میں شکردرہ، واکی اور بہت سے علاقے مرہٹہ راجا رگھو جی راؤ کی ملکیت تھے۔ اس کا عالی شان محل اور اس سے متصل کئی میل لمبا باغ شکردرہ میں تھا۔ راجا رگھو راؤ کے بیٹے ونایک راؤ کی رانی حاملہ تھی۔ وضعِ حمل کا وقت قریب آیا لیکن پیدائش عمل میں نہیں آئی۔ موقع پرموجود سرجن اورلیڈی ڈاکٹروں کی ہر ممکن کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی۔ رانی تکلیف سے بے ہوش ہوگئی اور شام تک اس کی حالت میں کوئی امید افزا تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی۔ شام کو ڈاکٹروں نے مشورہ کیا اور متفقہ فیصلہ دے دیا کہ بچے کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اور اگر آپریشن کے ذریعے بچے کو باہر نہ نکالا گیا تو رانی کو موت واقع ہوجائے گی۔

راجہ رگھوراؤ ڈاکٹروں کے اس فیصلے سے تذبذب میں پڑگئے۔ اور ان کے ذہن نے اس بات کو قبول نہیں کیا۔ صبح چھ بجے راجا رگھوجی پوجا سے فارغ ہوئے تھے کہ ان کا موٹر ڈرائیور حاضرِ خدمت ہوا اور اس نے کہا۔

’’حضور! میں جو کچھ کہتاہوں، اس پر عمل کیجئے۔ آپ میرے ساتھ پاگل خانے چلیئے، وہاں ایک بہت بڑے ولی االلہ تشریف فرماہیں۔ سب لوگ ان سے فیض اٹھارہے ہیں۔ آپ بھی چھوٹی رانی کے سلسلے میں ان کی خدمت میں عرض کیجئے۔‘‘

راجا رگھوجی راؤ اسی وقت اٹھے اور ننگے پیرموٹر میں سوار ہوگئے۔ اورڈرائیور ممکنہ تیزرفتاری سے گاڑی چلاتا ہوا پاگل خانے کے صدر دروازے سے پرجا رکا۔ پاگل خانے کے منتظمین اورسپرنٹنڈنٹ کو راجہ صاحب کی آمد کا علم ہوا تو وہ فوراً بھاگے ہوئے استقبال کو آئے۔ ڈرائیور نے راجہ صاحب کو وہیں موٹر کے پاس رکنے کوکہا اور خودلان میں حضرت بابا صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا۔

’’حضور!شکردرہ اسٹیٹ کے راج رگھوجی راؤ حاضرِخدمت ہونے کی اجازت اورقدم بوسی کی سعادت حاصل کرناچاہتے ہیں۔‘‘

بابا صاحبؒ نے فرمایا: ’’ہم فقیرجی حضرت، ہمارے سے راجہ کا کیا کام جی حضرت۔‘‘

ڈرائیور نے بہت منت سماجت کی تو بابا صاحبؒ خاموش ہوگئے۔ خاموش کو اجازت سمجھ کر وہ دوڑا ہوا راجہ رگھوجی راؤ کے پاس پہنچا اورکہا۔

’’فوراًچلیئے اور حضور باباصاحبؒ کے قدم پکڑ لیجئے۔‘‘

راجہ جلدی سے اندر پہنچا اورباباصاحبؒ کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔ بابا صاحبؒ نے اس کو ایک نظر دیکھ کر فرمایا۔

’’اِدھر کیا کرتے جی حضرت!اُدھر جانا، لڑکاپیدا ہوا توخوشیاں منانا۔‘‘

ڈرائیور حضوربابا صاحبؒ کا بہت معتقد تھا۔ اوراکثر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ وہ بابا صاحبؒ کے مخصوص لب ولہجہ سے بخوبی واقف تھا۔ اس نے راجہ سے کہا۔

’’راجہ صاحب بس کا کام ہوگیا۔ واپس چلئے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی اس نے گھڑی دیکھ کروہ وقت نوٹ کر لیا جس وقت بابا صاحبؒ نے متذکرہ بابا جملے ادا کئے تھے۔

واپسی میں راجہ رگھوجی راؤ کی موٹر محل کے صدر دروازے کے قریب پہنچی تو انہیں شہنائیوں اور نفیریوں کی آواز سنائی دی۔ آنے جانے والے ملازمین کے چہروں پر خوشی کے آثار نظر آرہے تھے اور وہ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ موٹر کے رکتے ہی سب لوگوں نے راجہ کی موٹر کو گھیر لیا اور کنور صاحب کی پیدائش کی خوش خبری سنائی۔

راجہ یہ خبر سن کر خوشی سے بے خود ہوگیا۔ اورحکم دیا کہ خزانے کا منہ کھول دیا جائے۔ ڈرائیور نے راجہ سے کہا۔

’’سرکار! پنڈتوں سے جو کنور صاحب کی جنم پتری اور جنم کنڈلی بنائیں گے اور ڈاکٹروں سے پیدائش کا صحیح وقت معلوم کرا دیجئے۔‘‘

پنڈتوں اورڈاکٹروں نے جو وقت بتایا وہ بالکل وہی تھاجس وقت حضور بابا صاحب نے فرمایا تھا۔ اِدھر کیا کرتے جی حضرت! اُدھر جانا، لڑکا پیدا ہوا تو خوشیاں منانا۔‘‘

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 30 تا 34

سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ اقتباس  ِ 1 - روحانی انسان  ِ 2 - نام اور القاب  ِ 3 - خاندان  ِ 4 - پیدائش  ِ 5 - بچپن اورجوانی  ِ 6 - فوج میں شمولیت  ِ 7 - دو نوکریاں نہیں کرتے  ِ 8 - نسبت فیضان  ِ 9 - پاگل جھونپڑی  ِ 10 - شکردرہ میں قیام  ِ 11 - واکی میں قیام  ِ 12 - شکردرہ کو واپسی  ِ 13 - معمولات  ِ 14 - اندازِ گفتگو  ِ 15 - رحمت و شفقت  ِ 16 - تعلیم و تلقین  ِ 17 - کشف و کرامات  ِ 18 - آگ  ِ 19 - مقدمہ  ِ 20 - طمانچے  ِ 21 - پتّہ اور انجن  ِ 22 - سول سرجن  ِ 23 - قریب المرگ لڑکی  ِ 24 - اجنبی بیرسٹر  ِ 25 - دنیا سے رخصتی  ِ 26 - جبلِ عرفات  ِ 27 - بحالی کا حکم  ِ 28 - دیکھنے کی چیز  ِ 29 - لمبی نکو کرورے  ِ 30 - غیبی ہاتھ  ِ 31 - میڈیکل سرٹیفکیٹ  ِ 32 - مشک کی خوشبو  ِ 33 - شیرو  ِ 34 - سرکشن پرشاد کی حاضری  ِ 35 - لڈو اور اولاد  ِ 36 - سزائے موت  ِ 37 - دست گیر  ِ 38 - دوتھال میں سارا ہے  ِ 39 - بدکردار لڑکا  ِ 40 - اجمیر یہیں ہے  ِ 41 - یہ اچھا پڑھے گا  ِ 42 - بارش میں آگ  ِ 43 - چھوت چھات  ِ 45 - ایک آدمی دوجسم۔۔۔؟  ِ 46 - بڑے کھلاتے اچھے ہو جاتے  ِ 47 - معذور لڑکی  ِ 48 - کالے اور لال منہ کے بندر  ِ 49 - سونا بنانے کا نسخہ  ِ 50 - درشن دیوتا  ِ 51 - تحصیلدار  ِ 52 - محبوب کا دیدار  ِ 53 - پانچ جوتے  ِ 54 - بیگم صاحبہ بھوپال  ِ 55 - فاتحہ پڑھو  ِ 56 - ABDUS SAMAD SUSPENDED  ِ 57 - بدیسی مال  ِ 58 - آدھا دیوان  ِ 59 - کیوں دوڑتے ہو حضرت  ِ 60 - دال بھات  ِ 61 - اٹیک، فائر  ِ 62 - علی بردران اورگاندھی جی  ِ 63 - بے تیغ سپاہی  ِ 64 - ہندو مسلم فساد  ِ 65 - بھوت بنگلہ  ِ 66 - اللہ اللہ کر کے بیٹھ جاؤ  ِ 67 - شاعری  ِ 68 - وصال  ِ 69 - فیض اور فیض یافتگان  ِ 70 - حضرت انسان علی شاہ  ِ 71 - مریم بی اماں  ِ 72 - بابا قادر اولیاء  ِ 73 - حضرت مولانا محمد یوسف شاہ  ِ 74 - خواجہ علی امیرالدین  ِ 75 - حضرت قادر محی الدین  ِ 76 - مہاراجہ رگھو جی راؤ  ِ 77 - حضرت فتح محمد شاہ  ِ 78 - حضرت کملی والے شاہ  ِ 79 - حضرت رسول بابا  ِ 80 - حضرت مسکین شاہ  ِ 81 - حضرت اللہ کریم  ِ 82 - حضرت بابا عبدالرحمٰن  ِ 83 - حضرت بابا عبدالکریم  ِ 84 - حضرت حکیم نعیم الدین  ِ 85 - حضرت محمد عبدالعزیز عرف نانامیاں  ِ 86 - نیتا آنند بابا نیل کنٹھ راؤ  ِ 87 - سکّوبائی  ِ 88 - بی اماں صاحبہ  ِ 89 - حضرت دوّا بابا  ِ 90 - نانی صاحبہ  ِ 91 - حضرت محمد غوث بابا  ِ 92 - قاضی امجد علی  ِ 93 - حضرت فرید الدین کریم بابا  ِ 94 - قلندر بابا اولیاء  ِ 94.1 - سلسلۂ عظیمیہ  ِ 94.2 - لوح و قلم  ِ 94.3 - نقشے اور گراف  ِ 94.4 - رباعیات
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)