ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45144

اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہر تخلیق دو رُخ پر قائم ہے ۔ ایک رُخ غالب رہتا ے اور دُوسرا مغلوب۔
مثال : آدمی دو رُخ سے مرکب ہے۔ ایک مذکر ایک مؤ نث۔ مذکر رُخ اگر غالب ہے تو مؤنث رُخ چھپا رہتا ہے۔ مؤنث رُخ اگر غالب ہے تو مذکر رُخ چھپا ہوا ہے۔ اس بات کو ہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ مرد دو رُکوں سے مرکب ہے۔ ایک مذکر ، ایک مؤنث۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک رُخ غالب ہو جاتا ہے تو اسی غالب رُخ کی بنیاد پر جنس کا تعین کیا جاتا ہے۔ جنسی کشش کے قانون میں بھی یہی فامولا متحرک ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ عورت کے اندر مغلوب رُخ ، مرد، چونکہ نا مکمل سمجھتا ہے اس لئے وہ غالب رخ مرد سے متصل ہو کر اپنی کمی پوری کرنا چاہتا ہے، اس لئے وہ غالب رُخ عورت کے اندر جذب ہو جانا چاہتا ہے۔ علیٰ ہذالقیاس تخلیق کا یہ فارمولا دوسرے عوامل میں بھی سرگرم عمل ہے۔ ایک آدمی بیمار ہے اور ایم آدمی صحت مند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیمار آدمی کے اندر بیماری کا رُخ غالب ہے۔ وہ صحت مند رُخ سے ہم رشتہ ہو کر صحت مند ہونا چاہتا ہے۔ صحت مند آدمی کے اندر غالب رُخ صحت ہے اور بیماری اس کا دوسرا رُخ ہے بیماری جو مغلوب رُخ ہے اس کے اندر بھی یہ تقاضہ موجود ہے کہ اس کی تکمیل ہو، اور جب بیمار رُخ صحت کے اوپر غلبہ حاصل کر لیتا ہے تو آدمی بیمار ہو جاتا ہے۔
ایک آدمی خوشحال ہے۔ اس کے برعکس دوسرا آدمی پریشان مفلوک المال ہے۔تخلیقی قانون کے تحت حالات بھی دو رُخ پر متعین ہیں۔ ایک رُخ کا نام سکون ہے اور دوسرے رُخ کا نام اضمحلال اور پریشانی ہے۔ حالات کا وہ رُخ جو اضمحلال اور پریشانی ہے اگر پر سکون حالات پر غالب آجائے تو حالات خراب ہو جاتے ہیں لیکن آدمی صحیح طرزِ فکر ااور اپنی روحانی طاقت کے ساتھ خراب حالات کو مغلوب کر دے تو حالات اچھے ہو جاتے ہیں اور آدمی کی زندگی میں سکون کا عمل دخل ہو جاتا ہے۔
فارمولا کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ دائرہ (CIRCLE) یا مثلث (TRIANGLE) میں قید ہے۔ دنیا کی کوئی چیز، زمین میں یا آسمان پر ایسی موجود نہیں ہے جو سرکل یا ٹرائی اینگل سے مستثنی قرار دی جا سکے۔ کسی مخلوق میں سرکل غالب ہوتا ہے اور کسی مخلوق کے اوپر مثلث غالب ہوتا ہے۔ ہماری دنیا میں، جس کو علمِ نا موت کا نام دیا جاتا ہے، موجودات پر مثلث غالب ہے۔
پچھلے اسباق میں ہم یہ بات پوری طرح واضح کر چکے ہیں کہ زمین پر موجود ہر شئے زندہ ہے، متحرک ہے، سانس لیتی ہے۔ یہ بالکل الگ بات ہے کہ ہم شعوری طور پر اُسے زندہ نہ سمجھیں یا منجمد خیال کریں جیسے پہاڑ۔
قانونِ قدرت اور تخلیقی فارمولوں کے مطابق پہاڑ بھی با شعور ہوتے ہیں، پہاڑ بھی سانس لیتے ہیں، پہاڑ بھی پیدا ہوتے ہیں اور جوان ہوتے ہیں۔ چوں کہ تخلیقی فارمولوں میں پہاڑ کی تخلیق اور نشوونما کا فارمولا الگ ہے، اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پہاڑ جمے ہوئے ہیں کھڑے ہیں۔ ایک انسان ایک منٹ میں بیس۲۰ سانس لیتا ہے۔ پہاڑ کی پوزیسن اس سے مختلف ہے۔ پہاڑ کے سانس کی رفتار یہ ہے کہ پہاڑ کا ایک سانس روٹین کی زندگی میں پندرہ منٹ میں ایک سانس لیتا ہے۔ ہر نوع میں سانس کی معین مقداریں الگ الگ ہیں۔ دوسرا قانون یہ ہے کہ کائنات میں موجود ہر شئے ایک شکل و صورت رکھتی ہے۔ انسان کبھی خوش ہوتا ہے کبھی رنجیدہ۔ کبھی بیمار ہوتا ہے کبھی صحت مند۔ باطنی نگاہ سے مشاہدہ کیا جائے تو خوشی اور رنج دونوں مشکل اور مجسم ہیں۔ اس طرح ہر بیماری کی بھی الگ الگ شئں ہوتی ہے مثلاً بخار کی ابھی ایک شکل و صورت ہوتی ہے۔ موتی جھرہ بھی اپنی ایک شکل رکھتا ہے اور کینسر (CANCER) کے بھی خدوخال ہوتے ہیں۔اس کو قانون کتاب، انگ اور روشنی سے علاج میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
جس طرح ایک آدمی دوسرے آدمی سے ذہنی رابطہ قائم کر کے اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اسی طرح بیماریوں سے بھی ذہنی رابطہ قائم کر کے انہیں پیغام دے دیتا ہے کہ وہ مریض کو آزاد کر دیں۔ یہ سب بیماریاں اس پیغام کو قبول کرتی ہیں اور مریض کی جاں بخشی ہو جاتی ہے۔
مثلاً ایک آدمی کے سر میں درد ہے۔ آپ اپنی پوری توجہ کے ساتھ سر میں درد کی بیماری کی صورت کو دیکھیں۔ دو صورتیں ہوتی ہیں۔یا تو سردرد کہ شکل و صورت سامنے آ جاتی ہے یا اس کا ایک ہیولا سا سامنے آجاتا ہے۔ آپ سر درد کو سجیشن دیں کہ وی بھاگ جائے۔ سر درد غائب ہو جائے گا، علیٰ ہذالقیاس آپ اس قانون کے مطوبق ہر بیماری کا علاج کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ بیماری یا اختیار نہ ہو۔
جی ہاں! بیماریاں بھی با اختیار ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑے اختیارات کی حامل بیماری کینسر ( CANCER) ہے۔

ٹیلی پیتھی سے کینسر کا علاج:
کینسر خون کو مضرت پہنچاتا ہے وہ اس طرح کہ خون میں برقی رَو جن جن حصوں سے بچ کر نکل جاتی ہے ان حصوں میں جان نہیں رہتی اور ساتھ ہی ساتھ ان ہی حصوں میں بہت باریک گول کیڑے بن جاتے ہیں۔ یہ کیڑا دراصل سوراخ ہوتا ہے۔ اس سوراخ کی خوراک برقی رَو ہوتی ہے۔ وہ برقی رَو جو زندگی کے مصرف میں آنی چاہئے تھی وہ ان سوراخوں کی کوراک بن جاتی ہے۔ نتیجہ میں خوراک کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بجائے فائدے کے خون کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کینسر ایک ایسا مرض ہے جو با اختیار ہے، سنتا ہے، حواس رکھتا ہے۔ اگر ٹیلی پیتھی کے طریقے کے مطابق کینسر سے ذہنی رابطہ قائم کیا جائے اور تنہائی میں بشرطیکہ مریض سوتا ہو، نہایت دوستانہ اور خوشامدانہ انداز میں اس طرح سنجیشن دی جائے کہ بھائی تم بہت اچھے ہو۔ بہت مہربان ہو، یہ آدمی بہت پریشان ہے، اس کو معاف کو دو ، تو کینسر دوستانہ جذبات کی قد کرتے ہوئے مریض کو چھوڑ دیتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 169 تا 172

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)