ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45087

شاہد محمود، لاہور مین نے پُر اسرار علوم کے موضوع پر مشرقی اور مغربی تقریباً تمام مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان تمام مصنفین نے شمع بینی، آئینہ بینی اور دائرہ بینی کے متعلق لکھا ہے۔ اور ان مشقوں سے جو نتائج مرتب ہوئے ہیں ان نتائج کے بارے میں بہت سے لوگوں کے حالات قلم بند کئے ہیں۔ طبعیات اور نفسیات کی روشنی میں ان دانشوروں نے علم بحث بھی کی ہے۔ ٹیلی پیتھی کے بارے میں جو تھیوری آپ نے پیش کی ہے وہ بالک منفرد اور الگ ہے۔ میری دانست میں کسی بھی مصنف نے ٹیلی پیتھی کے ضمن میں سانس کی مشقوں اور نور کے سمندر کا تذکرہ نہیں کیا۔ ھہاں تک ذہنی سکون کا تعلق ہے وہ اس علم کو سیکھنے میں مسلمہ امر ہے جو شمع بینی اور دائرہ بینی وے حاصل ہو جاتی ہے۔ کیا آپ اپنے قارئین کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ ٹیلی پیتھی میں سانس کی مشق اور مراقبہ نور کی اہمیت کیا ہے؟
کائنات بہ شمول انسان ہر لمحہ اور ہر آن متحرک ہے۔ کائنات کی حرکت سے قطع نظر انسان اور اس مخلوق کی زندگی کا جوزی روح سمجھی جاتی ہےمطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ زندگی کا قیام سانس کے اوپر ہے۔ جب تک سانس کی آمد شُد جاری ہے، زندگی رواں دواں ہے۔ اور جب سانس میں تعطل واقع ہو جاتا ہے تو مظاہراتی اعتبار سے زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ سانس کے رُخ متعین ہیں۔ سانس اندر جاتا ہے اور باہر آتا ہے۔
روحانی نقطئہ نظر سے سانس کا اندر جانا انسان کو اس کی رُوح یا INNER سے قریب کر دیتا ہے اور سانس کا باہر آنا انسان کو اس کی رُوح یا INNER سے عارضی طور پر دور کر دیتا ہے۔
ہم یہ بتا چکے ہیں کہ انسان روشنیوں سے مرکب ہے اور اس روشنی کی بنیاد ( BASE) اللہ کا نور ہے۔ جس طرح سانس کی آمدورفت انسان کی زندگی ہے اسی طرح خیالات کو بھی ہم زندگی کہتے ہیں۔ یہ الفاظِ دیگر سانس خیالات کی زندگی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اب اگر ہم زندگی کا تجزیہ کریں تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جس طرح سانس دو رُخ پر قائم ہیں، بالک اسی طرح خیالات بھی دو رُخ پر سفر کرتے ہیں۔ خیالات کا ایک رُخ وہ ہے جس کا نام اسفل رکھا گیا ہے اور دوسرا رُخ وہ ہے جو ہمیں اسفل سے دُور کر کے اعلیٰ مقام میں لے جاتا ہے ۔ عرفَ عام میں اس کو خیالات کی پاکیزگی یا خیالات میں پیچیدگی اور تاریکی کہا جاتا ہے۔ خیالات میں پاکیزگی دراصل ایک طرزِفکر ہے۔ طرزِ فکر اگر پاکیزہ ہے تو انسان سکون اور راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ سکون اور راحت انسان کے اندر ذہنی یکسوئی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس تاریک طرز ِ فکر انسان کو حزن و وملال اور رنج و آلام سے آشنا کرتی ہے۔ حزن و ملال ذہنی یکسوئی ختم کر کے انسان کو دماغی انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
اسی بات کو ہم دوسری طرح بیان کرتے ہیں۔ تمام آسمانی صحائف میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کی اصل تخلیق ازل میں ہوئی ہے۔ اور پھر انسان ( آدمی) نا فرمانی کا مرتکب ہو کر اس دنیا میں آیا ہے، ایسی دنیا میں جہاں ازل غیب ہے لیکن غیب سے اس کا ایک مخفی رشتہ قائم ہے۔ ازل میں موجودگی کا تعلق انسان کی رُوح سے ہے اور دنیاوی وجودایسے حواس ہیں جو انسان کو روح سے دور کر دیتے ہیں۔ جب ہم سانس اندر لیتے ہیں تو ازل سے قریب ہو جاتے ہیں۔ اور جب سانس باہر نکالتے ہیں تو خود کو ازل سے دور محسوس کرتے ہیں۔ یعنی سانس کا باہر آنا اس زندگی اور ازل کی زندگی کے درمیان ایک پردہ ہے۔ جب ہم سانس کو اندر روکتے ہیں تو ہمارا ازل سے قائم ہو جاتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کے اسباق میں سانس کی مشق کو اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ انسان اپنی رُوح سے قریب ہو جائے۔ ماورائی علوم میں اس وقت تک صحیح معنوں میں کامیابی ممکن نہیں ہے جب تک انسان اپنی روح سے قریب نہ ہو۔
عام طور پر ٹیلی پیتھی سیکھنے والوں کی طرز یہ ہوتی ہے کہ وہ اس علم سے دنیاوی فائدے اٹھائیں۔ اور اپنے معمول کو متاثر کر کے اس سے فائدہ حاصل کریں۔ چند حضرات اس علم کو اس لئےبھی سیکھتے ہیں کہ وہ اس سے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے صحت مند خیالات کسی مریض کے دماغ میں منتقل کر کے اس مریض کو بیماریوں سے نجات دلا دیں۔ اس علم کے سیکھنے والوں کی جو بھی طرزِ فکر ہوتی ہے اُن کا ذہن اسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔
ذہنی یکسوئی کے لئے مراقبہ نور کی مشق ہم نے اس لئے تجویز کی ہے کہ ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ انسان کے اند طرزِ فکر بھی پاکیزہ ہو جائے۔ پاکیزہ طرزِ فکر میں انسان اپنی رُوح سے قریب تر ہو جاتا ہے۔ اور اس کے اندر ایسی فراست پیدا ہوتی ہے جس کو تصوف نے فکرِ سلیم کہا ہے۔
ہم نے ٹیلی پیتھی کی پہلی مشق کے دوران چند طلبہ کی کیفیات قلم بند کی ہیں۔ آپ نے پڑھاہے کہ ان حضرات کی طرزِ فکر خود بخود انوارکی طرف منتقل ہو گئی ہے اور جب کوئی بندہ فی الاقع انوار سے آشنا ہو جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کی اپنی زندگی سنور جاتی ہے بلکہ وہ اللہ کی مخلوق کے لئے بھی تکلیفوں سے نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ ہمارے قارئین انشاء اللہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ فکرِ سلیم حاصل کر لیں گے اور اس فکرِ سلیم کے ساتھ ٹیلی پیتھی سیکھ کت دماغی کش مکش ، ذہنی انتشار اور مصائب و آلام کی زندگی سے نجات حاصل کر کے اللی کی مخلوق کی خدمت کا ذریعہ بنیں گے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 76 تا 79

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)