نظر کا قانون

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=36736

مشقوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے نظر کا قانون سمجھ لینا ضروری ہے آدمی دراصل نگاہ ہے۔
نگاہ یا بصارت جب کسی شئے پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اس شئے کو اپنے اندر جذب کرکے دماغ کے اسکرین پر لے آتی ہے اور دماغ اس چیز کو دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے اور اس میں معنی پہناتا ہے۔
نظر کا قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کو اپنا ہدف بناتی ہے تو دماغ کی سکرین پر اس شئے کا عکس پندرہ سیکنڈ تک قائم رہتا ہےاور پلک جھپکنے کے عمل سے یہ آہستہ آہستہ مدہم ہو کر حافظہ میں چلا جاتا ہے اور دوسرا عکس دماغ کی اسکرین پر آ جاتا ہے۔
اگر نگاہ کو کسی ہدف پر پندرہ سیکنڈ سے زیادہ مرکوز کر دیا جائے تو ایک ہی ہدف بار بار دماغ کی اسکرین پر وارِد ہوتا ہے اور حافظہ پر نقش ہوتا رہتا ہے۔
مثلاًہم کسی چیز کو پلک جھپکائے بغیر مسلسل ایک گھنٹہ تک دیکھتے ہیں تو اس عمل سے نگاہ قائم ہونے کا وصف دماغ میں پیوست ہو جاتا ہے اور دماغ میں یہ پیوستگی ذہنی انتشار کو ختم کر دیتی ہے۔ ہوتے ہوتے اتنی مشق ہو جاتی ہے کہ شئے کی حرکت صاحبِ مشق کے اختیار اور تصرّف میں آ جاتی ہے۔ اب وہ شئے کو جس طرح چاہے حرکت دے سکتا ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ…. نگاہ کی مرکزیت کسی آدمی کے اندر قوتِ اِرادی کو جنم دیتی ہے اور قوت ِ اِرادی سے انسان جس طرح چاہے کام لے سکتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کا اصل اصول بھی یہ ہی ہے کہ انسان کسی ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائے۔ نگاہ کی مرکزیت حاصل کرنے میں کوئی نہ کوئی اِرادہ شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے نگاہ کی مرکزیت پر عبور حاصل ہوتا ہے اسی مناسبت سے اِرادہ مستحکم اور طاقتور ہو جاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی جاننے والا کوئی شخص جب یہ اِرادہ کرتا ہے کہ اپنے خیال کو دوسرے آدمی کے دماغ کی اسکرین پر منعکس کر دے تو اس شخص کے دماغ میں یہ اِرادہ منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ شخص اس اِرادے کو خیال کی طرح محسوس کرتا ہے۔ اگروہ شخص ذہنی طور پر یسوک ہے تو یہ خیال تصّور اور احساسات کے مراحل سے گزر کر اس خیال کو قبول کر لیتا ہے اور اِرتکاز توجہ سے خیال عملی جامہ پہن کر منظرِ عام پر آ جاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی، محض خیالات کو دوسرے تک منتقل کرنے کا علم ہی نہیں ہے بلکہ اس علم کے ذریعے ہم اپنی زندگی کا مطالعہ کر کے زندگی کو خوش آئند تصّورات سے لبریز کر سکتے ہیں۔ زندگی خواہشات، تمناؤں اورآرزوؤں کے تانے بانے پر قائم ہے۔
زندگی بنیادی طور پر خواہشات کے خمیر سے مرکب ہے۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اندر پہلی خواہش بھوک کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے اور ماں بچہ کو سینے سے لگاتی ہے تو بچہ اپنی اس خواہش کی تکمیل اس طرح کرتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے ہی سیکھ کر آیا ہے۔

خواہشات کی تکمیل کے مراحل طے کرنے کا دوسرا نام نشوونما ہے۔ خواہشات کی تکمیل دو طرح ہوتی ہے۔
1. ایک شعوری طور پر…. اور
2. دوسرے لا شعوری طور پر…
شعور اور لا شعور دراصل ایک ورق کے دو صفحے ہیں۔
ایک صفحہ پر خیالات اور تصوارات کے نقوش زیادہ روشن ہوتے ہیں۔ دوسرے صفحہ پردھندلے اور کم روشن۔
• جس صفحہ پر نقوش زیادہ روشن اور واضح ہیں اس صفحہ کا نام لا شعور ہے…. اور
• جس صفحہ پر نقوش دھندلے اور کم روشن ہیں اس صفحہ کا نام شعور ہے۔
روحانیت میں یہ بات مشاہدہ کرائی جاتی ہے کہ روشن اور واضح خیالات میں ٹائم اسپیس نہیں ہوتا….
غیر واضح خیالات اور تصّورات کا ہر قدم ٹائم اسپیس کے ساتھ بندھا ہوتا ہے….
ہم جب کسی ایک خواہش اور اس کی تکمیل کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ خواہش کو جب الگ معنی پہنا دئیے جاتے ہیں تو اس کی الگ ایک حقیقت بن جاتی ہے۔
مثلاً بھوک ایک خواہش ہے اور اس کی تکمیل کا ذریعہ کچھ کھا لینا ہے۔ ایک آدمی بھوک کی تکمیل روٹی اور گوشت کھا کر کرتا ہے۔ دوسرا گوشت کی بجائے کسی اور غذا سے پیٹ بھر لیتا ہے۔ شیر گھاس اور پتے نہیں کھاتا ، بکری گوشت نہیں کھاتی۔ ایک آدمی کو انتہائی درجہ مٹھائی پسند ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرا شخص نمکین چیزیں زیادہ پسند کرتا ہے۔ اس حقیقت سے ایک فردِ واحد بھی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی زندگی میں خوشی اور غم کا تعلق براہِ راست خیالات اور تصّورات سے وابستہ ہے۔ کوئی خیال ہمارے لئے مسرت آگیں ہوتا ہے اور کوئی خیال انتہائی کربناک۔ ڈر، خوف، شک، حسد، طمع، نفرت و حقارت ، غرور و تکبر، خودنمائی وغیرہ وغیرہ سب خیالات کی پیداور ہیں اور اس کر برعکس محبت، ایثار، انکساری اور حزن و ملال کا ہونا بھی خیالات کی کا ر فرمائی ہے۔ بیٹھے بیٹھے یہ خیال بجلی کی طرح کوند جاتا ہے کہ ہمارے یا ہماری اولاد کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے گا، حالاں کہ حادثہ پیش نہیں آیا۔لیکن یہ خیال آتے ہی حادثات سے متعلق پوری پریشانیاں کڑی در کڑی ہم اپنے اندر محسوس کرتے ہیں اور اس سےمتأثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہی حال خوشی اور خوشحالی کا ہے۔ جب کوئی خیال تصّور بن کر ایسے نقطہ پر مرکوز ہو جاتا ہے جس میں شادمانی اور خوشحالی کی تصویریں موجود ہوں ، ہمارے اندر خوشی کے فوارے اُبلنے لگتے ہیں۔
غم اور خوشی دونوں تصّورات سے وابستہ ہیں اور تصّورات خیالات سے جنم لیتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 12 تا 15

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)