مٹھاس اور نمک

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=36973

سوال ہے کہ مٹھاس کے ترک یا کمی سے انسان کے اندر کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے؟
ہم بتا چکے ہیں کہ انسان کے اندر ہمہ وقت دو دماغ کام کرتے ہیں۔ ایک دماغ شعوری حواس بناتا ہے۔ ایسے حواس جو TIME SPACE میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دوسرا دماغ انسان کا لا شعور ہے اور ایسے حواس بناتا ہے جو ٹائم اور اسپیس سے آزاد ہیں ۔ مٹھاس کے اندر کام کرنے والی مقداریں کشش ثقل پیدا کرتی ہیں اور نمک جن مقداروں سے مرکب ہے وہ مقدایں لا شعوری حواس کو متحرک کرتی ہیں۔ تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ جو لوگ مٹھاس کی نسبت نمک زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے اندر لا شعوری تحریکات زیادہ سرگرمِ عمل رہتی ہیں۔
مجھے جب یہ قانون معلوم ہوا تو ذہن میں یہ بات آئی کہ اس قانون پر عمل کر کے تجربہ کرنا چاہئیے۔ چنانچہ میں نے میٹھی چیزیں کھانا بالکل چھوڑ دیں۔ دو تین ہفتے طبیعت کے اندر سخت اضمحلال واقع ہوتا رہا۔ چند ہفتوں کے بعد طبیعت عادی ہو گئی۔ اضمحلال تو کم ہو گیا لیکن طبیعت بے کیف رہنے لگی اور مزاج میں چڑا چڑا پن آگیا۔ دو مہینے کے بعد پہلی بار یہ محسوس ہوا کہ جسم لطیف اور ہلکا ہے۔ یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کی میں مٹھا س کے ترک کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر یکسُو ہونے کی مشق بھی کرتا رہا۔
مٹھاس کے ترک سے جب خون میں نمک کی مقدار کا اضافہ ہوا تو پہلی مرتبہ دیواریں کاغذ کی بنی ہوئی نظر آئیں۔ اور زیادہ گہرائی پیدا ہوئی تو مکانیت (SPACE) ٹوٹنے لگی۔ بے خیالی کے عالم میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن نے کروٹ بدلی اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ فرش اور چھت کا فاصلہ فی الواقع کوئی فاصلہ نہیں ہے۔میں نے جب چھت کو چھونا چاہا تو چھت مجھ سے اتنا قریب آگئی کہ میں نے اُسے آسانی سے چُھو لیا۔ یعنی چھت اور فرش کا درمیانی فاصلہ ختم ہو گیا۔ مٹھاس چھوڑے ہوئے جب تین ماہ گزرے تو خوابوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا، ایسے خواب جن کی تعبیر صبح بیدار ہونے کے بعد سامنے آ جاتی تھی۔
میں نے دیکھا کہ میری بہن بیمار ہے اور سخت کرب کے عالم میں بے چین ہے۔ صبح بیدار ہونے کے بعد مجھے اس بات پر اس لئے تعجب ہوا کہ میں رات کو بہن کے پاس آ یا تھا ار کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں تھی۔ کطھ دیر کزرنے کے بعد اطلاع ملی کہ بہن کی طبیعت رات اچانک اس قدر خراب ہو گئی کہ ڈاکٹر نے اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
کچھ عرصہ بعد خواب میں نظر آیا کہ میرے ایک عزیز دوست ک خط آیا ہے ابھی خط میں کھولنے بھی نہیں پایا تھا کہ میری نظر کسی ریلوے اسٹیشن پر پڑی جہاں لوگ اپنے عزیز و اقربا کو خوش آمدید کہنے کے لئے جمع ہیں۔ ریل پلیٹ فارم پر آئی تو مین بھی دوسرے لوگوں کی طرح ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے میں کسی کو تلاش کرتا پھر رہا ہوں اور اسی عالم مین میری آنکھ کھل گئی۔ اگلے روز صبح گیارہ بجے مجھے ایک تار ملا کہ میرے دوست کراچی آ رہے ہیں۔ جب کہ بیس سال کے عرصے میں، اس عزیز دوست سے نہ کبھی ملاقات ہوئی اور نہ خط و کتابت کا سلسلہ قائم رہا تھا۔
پھر یہ خواب عام تصورات اور عام خیالات سے ہٹ کر اس طرح جلوہ افروز ہوئے کہ میں کود کو ہواؤں میں محوِ پرواز دیکھنے لگا۔ اڑنے کی صورت یہ ہوتی تھی جیسے ہوا مین پرندے اڑتے ہیں۔ لیکن پرندے پروں کو اوپ نیچے کرتے ہیں اور میں پرواز کے دوران ہاتھوں کو اونچا نیچا کرتا تھا۔ بعض اوقات اُڑ ان اتنی اونچی ہو جاتی تھی کہ اوپر سے نیچے دیکھنے سے دہشت اور خوف مسلط ہو جاتا تھا ۔ پھر ان خوابوں نے ایک نیا رُوپ دھارا وہ یہ کہ دور دراز کی چیزیں خواب میں نظر آتیں اور خواب میں قسم قسم کے لذیذ اور شیریں پھل کھانے کو ملتے اور جب نیند سے بیدار ہوتا تو زبان پر ان پھلوں کا ذائقہ اور شیرینی کا احساس موجود ہوتا۔ چھ مہینے تک مٹھاس استعمال نہیں کی گئی تو یہ کیفیت وارد ہوئی کہ کھلی آنکھوں سے دوردراز کی چیزیں سامنے آنے لگیں مثلاً یہ کہ میرے ایک دوست سوئٹزر لینڈ میں مقیم تھی۔ بیٹھے بیٹھے مجھے ان کا خیال آ گیا اور میں نے دیکھا کہ میں سوئٹزر لینڈ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود ہوں۔ اس کے گھر کو صحن ، کمرے اور کمرے کے اندر آرائش کا سامان میں نے اس طرح دیکھا جیسے ایک آدمی اپنے گھر کاڈرائنگ روم دیکھتا ہے۔ دوست کے ساتھ گفتگو بھی ہوئی ۔ میرے لئے یہ تجربہ بالکل نیا اور انوکھا تھا۔ میں نے اپنے دوست کو خط لکھا اور خیالی دنیا میں دیکھے ہوئے گھر کا ایک نقشہ بنایا۔ سمتیں متعین کیں۔ نقشے میں کمروں کی تعداد ، صحن کی پیمائش اور FRONT ELEVATION کی سمت لکھ کر یہ خط انہیں پوسٹ کر دیا۔ میرے دوست نے جواباً اس بات پر بہت حیرت کا اظہار کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چل گیا کہ میرے گھر کا نقشہ یہ ہے اور وہ EASTOPEN ہے اور اس میں کتنے کمرے ہین اور ان کمروں میں کس قسم کا فرنیچر ہے۔ انہوں نے لکا کہ میں نے خط میں لکھی ہوئی ایک ایک بات کو گھر اور گھر میں آرائش کے سامان سے موازنہ کیا جو حرف بہ حرف صحیح نکلا۔ انہوں نے لکھا کہ واقعہ یہ ہے کہ اتنی زیادہ تفصیل میں بھی بیان نہیں کر سکتا تھا۔
مٹھا چھوڑے ہوئے جب نو مہینے گزرے تو دماغ میں مخاطب کے خیالات منتقل ہونے لگے۔ جو کطھ اس کے دماغ میں ہوتا تھا وہ میں من و عن بیان کر دیتا تھا۔
میرے ابا جی مسجد سے ظہر کی نماز پڑھ کر تشریف لائے۔ میں چونکہ نماز ادا کرنے کے لئےمسجد نہیں جا سکا تھا، اس لئے انہوں نے مجھے بہت سخت سُست کہا میں نے عرض کیا انا جی معاف کر دیں، آئندہ یہ کوتاہی سرزد نہیں ہو گی۔ لیکن جب وہ مسلسل سرزنش کرتے رہے تو یکایک خیال کی ایک لہر آئی اور میں نے دیکھا کہ ابا جی مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور بحالتِ نماز گھر کی چھت کا حساب لگا رہے ہیں کہ اتنے پیسے شٹرنگ میں خرچ ہوں گے، اتنے لوہے میں لگیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے ان سے مؤ دبانہ عرض کیا ابا جی ایسی نماز کا کیا فائدہ جس میں آدمی گھر کی چھت کا حساب لگاتا رہے۔ اس وقت مجھے بہت زیادہ ندامت ہوئی جب ابا جی نے فرمایا کہ واقعتاً میں نماز میں حساب لگاتا رہا ہوں۔
یہ چند مثالیں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ مٹھاس کا ترک ٹائم اسپیس کی حد بندیوں کو توڑ دیتا ہے۔ ہم نے مشقوں کے دوران میٹھی چیزوں کے کم سے کم استعمال کا مشورہ اس ل۴ے دیا ہے کہ خیالات کے اوپر ٹائم اسپیس کی گرفت کم سے کم ہو جائے۔
ٹیلی پیتھی کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے خیالات دوسرے آدمی کو بغیر وسیلے کے منتقل کر دے۔ وسیلے سے ہماری مراد یہ ہے کہ دو آدمیوں کہ درمیان جو طبعاً فاصلہ اور وقت یعنی مکانیت اور زمانیت واقع ہے وہ ختم ہو جائے۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں خیالات روشنی ہیں، ایسی روشنی جو ٹائم اسپیس سے آزاد ہے کیوں کہ ہمٰن اس کی عادت نہیں ہے کہ ہم اپنی بات بغیر وسیلے کے دوسرے تک پہنچائیں۔ اس لئے ہمیں یہ چیز حاصل کرنے کے لئے پہلے ذہنی یکسوئی کے ساتھ مشق کرنی پڑتی ہے۔ مشقیں بہت سی ہیں۔ مثلاً شمع بینی، دائری بینی، اندھیرا بینی، نگیٹو بینی،سورج بینی، چاند بینی، آب بینی، آئینہ بینی وغیرہ وغیرہ۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 47 تا 51

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)