قیدو بند کی حالت

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45138

ہم دو لہروں ، دو روشنیوں یا دائروں میں زندہ ہیں۔ جس دائرہ یا جس لہر کو غلبہ ہوتا ہے وہی کیفیات ہمرے اوپر وارد ہو جاتی ہیں۔
قیدو بند کی حالت
یہ دو دائرے دو جنریٹر (GENRATOR) ہیں۔ تار برقی نظام کے تحت ان کے ساتھ بے شمار تار بندھے ہوئے ہیں۔ ان کے ذریعے ہمارے پورے اعصابی نظام میں روشنی سپلائی ہوتی رہتی ہے۔
جنریٹر نبر ۱ ناف کے مقام پر نصب ہے۔ یہ جنریٹر دراصل ایک قسم کا سب اسٹیشن ہے۔ اس سب اسٹیشن (SUB- STATION) کو جنریٹر نبر ۲ یعنی مفرد لہریں فیڈ (FEED) کرتی ہیں۔
ایک اور دو کے اصول پر جس طرح گنتی سیکھنے کےلئے عدد ایک سے واقفیت لازم ہے اسی طرح انتقالِ افکار کے لئے جنریٹر نمبر ایک یعنی مرکب لہروں کے علم سے اگاہ ہونا ضروری ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے:
سانس کی مشق: داہنے ہاتھ کے انگوٹھے سے سیدھے نتھنے کا بند کے لیں اور بائیں نتھنے سے پانچ سیکنڈ تک سانس کھینچ کر بایاں نتھنا چھنگلیا سے بند کر لیں اور پندرہ سیکنڈ تک سانس روک لیں۔ پندرہ سیکنڈ کے بعد سیدھے نتھنے سے دس سیکنڈ تک سانس خارج کریں ۔ اب دوبارہ دائیں نتھنے ہی سے پانچ سیکنڈ تک سانس اندر کھینچیں۔بائیں نتھنے پر سے چھنگلیا ہٹا کر دوبارہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سےد ایاں نتھنا بند کر لیں۔ سانس کو پندرہ سیکنڈ تک روکے رکھیں۔ پھر بائیں نتھنے سے دس سیکنڈ تک سانس باہر نکالیں۔ یہ ایک چکر ہو گیا۔
اوقات مشق : صبح سورج نکنلے سے قبل اور رات کو سونے سے پہلے ۔ لیکن یہ عمل آدھی رات گزرنے کے بعد نہ کیا جائے۔

سانس لینے کی تعداد: صبح کے وقت دس ۱۰ چکر، رات کے وقت پانچ چکر۔
سانس کی مشق کے بعد حسب ِ دستور مراقبہ کیا جائے۔ مراقبہ میں یہ تصور کریں کہ ناف کی جگہ ایک روشن نقطہ ہے۔ اس جگمگ کرتے روشن نقطہ میں سے شعاعیں پھوٹ رہی ہیں۔ ہمارا پورا ماحول، چرند پرند، کوہ و ومن، مشرق و مغرب، شمال و جنوب، حیوان و انسان، زمین و آسمان سب میں یہ شعاعیں اور لہریں جذب ہو رہی ہیں۔ مراقبہ پندرہ منٹ تک کیا جائے۔

خصوصی تاکید: شائقینِ ٹیلی پیتھی کو ایک بار پھر تاکید کی جاتی ہے کہ کوئی صاحب بیچ میں سے کسی سبق سے شروعات نہ کریں۔ ضرورت ہے کہ کسی ماھرِ روحانیت کی نگرانی میں اسباق پورے کئے جائیں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہدایات پر حرف بحرف عمل کیا جائے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 160 تا 161

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)