قبر میں پیر

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45094

طفیل اے۔ شیخ، لاہور
سوال: میری عمر اس وقت ساٹھ برس ہے۔ ٹیلی پیتھی اور دیگر مخفی علوم پر میری گہری نظر ہے۔ اور ان علوم پر میں نے تمام ملکی اور غیر ملکی مصنفین کو کھنگال ڈالا ہے لیکن ٹیلی پیتھی کے عنوان کے تحت جو کچھ آپ نے تحریر کیا ہے اتنی مدلل، اتنی جامع اور ایسی روشن تحریر آج تک میری نظر سے نہیں گزری۔
اب جب کہ میں محاورۃً نہیں بلکہ حقیقتاً قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا ہوں میں آپ سے ایک مشورہطلب کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس عمر میں ٹیلی پیتھی کی مشقیں کیا کر سکتا ہوں؟ آپ جانتے ہیں کہ اس عمر کو پہنچتے پہنچتے کوئی شوق برقرار نہیں رہتا۔ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے لیکن اگر کوئی چیز نہیں ہے تو وہ ذہنی سکون ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ٹیلی پیتھی کی مشقوں سے دماغی خلیوں کی شکست و ریخت کم ہو جاتی ہے۔ خیالات خو بخود سُدھر جاتے ہیں۔ اور بے اطمینانی ختم ہو جاتی ہے۔ کیا یہ اثرات عمر کے ہر حصہ میں مرتب ہو سکتے ہیں؟ نیز یہ کہ ساٹھ برس کی عمر میں یہ مشقیں و دماغ کے لئے نقصان دہ تو نہیں ہوں گی؟ ِللہ آپ مجھے ان مشقوں کی اجازت مرحمت فرما دیں۔
ایک سوال اور پوچھنا چاہتا ہوں۔
کیا ہمارے خیالات کا تبادلہ انسانوں کی طرح جنات، فرشتوں اور حیوانات سے بھی ہوتا ہے، نیز کیا ہم اپنے تفکر سے عالمِ اسباب کے علاوہ دوسرے نظام ہائے شمس میں بھی تصرف کر سکتے ہیں اور کیا روشنیاں ( خیالات ) اپنی ایک الگ طبیعت، ماہیت اور رجحانات رکھتی ہے؟
جواب: بابا تاج الدین ناگپوری صرف خصوصی مسائل ہی میں نہیں بلکہ عام حالات میں گفتگو کے اندر ایسے مرکزی نقطے بیان کر جاتے تھےجو براہِ راست قانون ِ قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں۔بعض اوقات اشاروں اشاروں ہی میں وہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں جس میں کرامتوں کی علمہ توجہہ ہوتی اور سننے والوں کی آنکھوں کے سامنے یکبارگی کرامت کے اصولوں کا نقشہ آجاتا ۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے ذہن سے تسلسل کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں روشنی کی لہریں منتقل ہو رہی ہیں۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور حاضرین من و عن ہر وہ بات اپنے ذہن میں سمجھتے اور محسوس کرتے جا رہے ہیں جو نا تا رحمتہ اللہ علیہ کے ذہن میں اس وقت گشت کر رہی ہے۔ بغیر توجہ دئیے بھی ان کی غیر ارادی توجہ لوگوں کے اوپر عمل کرتی رہتی تھی۔ بعض لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے بابا صاحب کے اس طرزَ ذہن سے بہت زیادہ فیضان حاصل کیا ہے۔ یہ بات تو بالکل ہی عام تھی کہ چند آدمیوں کے ذہن میں کوئی بات آئی اور نانا رحمتہ اللہ علیہ نے اس کا جواب دے دیا۔
انسان، فرشتے اور جنات
مرہٹہ راجہ رگھورادُان سے غیر معمولی عقیدت رکھتا تھا ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کوئی درخواست کرتا تو اس طرح جیسے دیوتاؤں کے حضور میں۔ یہاں وہ چند باتیں پیش کی جاتی ہیں جو میری موجودگی راجہ اور نانا رحمتہ اللہ علیہ میں ہوا کرتی تھیں۔ ان اوقات میں کوئی اور صاحب بھی سوال کر لیا کرتے تھے اور پوری مجلس جواب سے مستفیض ہوتی۔ ایک مرتبہ مہا راجہ نے سوال کیا۔ ” بابا صاحب ایسی مخلوق جو نظر نہیں آتی مثلاً فرشتہ یا جنات، خیر متواتر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جتنی آسمانی کتابیں ہیں ان میں اس قسم کی مخلوق کے تذکرے ملتے ہیں۔ ہر مذہب میں بد روحوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہا گیا ہے لیکن عقلی اور علمی توجیہات نہ ہونے سے ذی فہم انسانوں کو سوچنا پڑتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے رُکتے ہیں کہ ہم سمجھ گئے۔ تجربات جو کچھ زبان زد ہیں وہ انفرادی ہیں، اجتماعی نہیں۔ آپ اس مسلہ پر ارشاد فرمائیں۔
نانا رحمتہ اللہ علیہ نے اس باب میں جو کچھ فرمایا وہ فقط تبصرہ نہیں بلکہ میرے اندازے میں ایسے الہامات کا مجموعہ ہے، قدرت نے ان کی ذات کو جن کا مرکز بنایا تھا۔ صاحب ِ فراست انسانوں کے لئے یہ ملفوظات حد درجہ محلِ تفکر ہیں۔ ان کے جواب سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ قدرت اور ان کے ذہن کی سطح قریب قریب ایک ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مسلہ کی وضاحت جن خیالات کے ذریعے کی گئی ہے وہ قدرت کے رازوں میں کس طرح سمائے ہوئے ہیں۔ جس وقت یہ سوال کیا گیا نانا تاج الدین لیٹے ہوئے تھے۔ ان کی نگاہ اوپر تھی۔ فرمانے لگے ” میاں رگھو راؤ! ہم سب جب پیدا ہوئے ہیں ستاروں کی مجلس کو دیکھتے رہتے ہیں۔ شاید ہی کوئی رات ایسی ہو کہ ہماری نگاہیں آسمان کہ طرف نہ اٹھتی ہوں ۔ بڑے مزے کی بات ہے، لہتے میں ہمیں یہی آتا ہے کہ ستارے ہمارے سامنے ہیں، ستاروں کو ہم دیکھ رہے ہیں، ہم آسمانی دنیا سے روشناس ہیں۔ لیکن ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور ماہِ نجم کی کون سی دنیا سے روشناس ہیں اس کی تشریح ہمارے بس کی بات نہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں قیاس آرائی سے زیادہ نہیں ہوتا پھر بھی سمجھتے یہی ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ جب ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان کا علم کس حد تک مفلوج ہے انسان کچھ نہ جاننے کے باوجود اس کا یقین رکھتا ہے کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ یہ چیزیں دور پرے کی ہیں۔ جو چیزیں ہر وقت انسان کے تجربے میں ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈالتے جاؤ۔ دن طلوع ہوتا ہے ۔ دن کا طلوع ہونا کیا شئے ہے ہمیں نہیں معلوم۔ طلوع ہونے کا مطلب کیا ہے ہم نہیں جانتے۔ دن رات کیا ہیں ان کے بارے میں اتنی بات کہہ دی جاتی ہے کہ یہ دن ہے اور اس کے بعد رات آتی ہے۔ نوع انسانی کا یہی تجربہ ہے۔
میں رگھوراؤ! ذرا سوچو کیا سنجیدہ طبیعت انسان اس جواب پر مطمئن ہو جائے گا؟ دن رات فرشتے نہیں ہیں، جنات نہیں ہیں۔ پھر بھی وہ مظاہر ہیں جن سے ایک فردِ واحد بھی انکار نہیں کر سکتا۔ تم اتنا کہہ سکتے ہو کہ دن رات کو نگاہ دیکھتی ہے۔ اس لئے قابلِ یقین ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نگاہ کے ساتھ فکر بھی کام کرتی ہے۔ اگر نگاہ کے ساتھ فکر کام نہ کرے تو زبان نگاہ کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتی۔ نگاہ اور فکر کا عمل ظاہر ہے دراصل سارے کا سارا عمل تفکر ہے۔ نگاہ محض ایک گونگا ہیولیٰ ہے۔ فکر ہی کے ذریعے تجربات عمل میں آتے ہیں۔ تم نگاہ کو تمام حواس پر قیاس کر لو۔ سب کے سب گونگے، بہرے اور اندھے ہیں ۔ تفکر ہی حواس کو سماعت ااور بصارت دیتا ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ حواس تفکر سے الگ کوئی چیز ہیں۔ جن محض تفکر ہے۔ علی ھذا لقیاس ہر ذی ہوش تفکر ہے۔ فرمایا کہ اس گفتگو میں ایک ایسا مقام آجاتا ہے جہاں کائنات کے کئی راز منکشف ہو جاتے ہیں۔ غور سے سنو۔ ہمارے تفکر مین بہت سی چیزیں اُبھرتی رہتی ہیں۔ دراصل وہ باہر سے آتی ہین۔ انسان کے علاوہ کائنات میں اور جتنے تفکر ہیں جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے، فرشتے اور جنات، ان سے انسان کا تفکر بالکل اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح انسان خود اپنے تفکر سے متاثر ہوتا ہے۔ قدرت کا چلن یہ ہے کہ وہ لامتناہی تفکر سے تناہی تفکر کو فیضان پہنچاتی رہتی ہے۔ پوری کائنات میں اگر قدرت کا یہ فیضان جاری نہ ہو تو کائناتکے افراد کا درمیانی رشتہ کٹ جائے۔ ایک تفکر کا دوسرے تفکر کو متاثر کرنا بھی قدرت کے اس طرزِ عمل کا ایک جزو ہے۔ انسان پابہ گُل ہے، جنات پابہ ہیولیٰ ہیں ، فرشتے پابہ نور۔ یہ تفکر تین قسم کے ہیں اور تینوں کائنات ہیں۔ اگر تینوں مربوط نہ رہیں اور ایک تفکر کی لہریں دوسرے تفکر کو نہ ملیں تو ربط ٹوٹ جائے گا اور کائنات منہدم ہو جائے گی۔
ثبوت یہ ہے کہ ہمارا تفکر ہیولیٰ اور ہیولیٰ قسم کے تمام جسموں سے فکری طور پر روشناس ہے۔ ساتھ ہی ہمارا تفکر نور اور نور کی ہر قسم سے بھی فکری طور پر روشناس ہے۔ حالاں کہ ہمارے اپنے تفکر کت تجربات کے پابہِ گل ہیں۔ اب یہ بات واضح ہو گئی کہ ہیولیٰ اور نور کے تجربات اجنبی تفکر سے ملے ہیں۔
عام زبان میں تفکر کو اَنا کا نام دیا جاتا ہے۔ اور اَنا یا تفکر ایسی کیفیات کا مجموعہ ہوتا ہے جن کو مجموعی طور پر فرد کہتے ہیں۔ اس طرح کی تخلیق ستارے بھی ہیں اور ذرے بھی ہمارے شعور میں یہ بات یا تو بالکل نہیں آتی یا بہت کم آتی ہے کہ تفکر کے ذریعے ستاروں، ذروں اور تمام مخلوق سے ہمارا تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ان کی اَنا یعنی تفکر کی لہریں ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں۔ اور ہم سے بہت کچھ لیتی ہیں۔ تموم کائنات اس وضع کے تبادلہ خیال کا ایک خاندان ہے۔ مخلوق اور جنات ہمارے لئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تفکر کے اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب ہیں اور تبادلہ خیال کے لحاظ سے ہم سے زیادہ مانوس ہیں ۔
نانا تاج الدین اس وقت ستاروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے کہکشانی نظانوں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے جو خیالات ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں وصول ہوتے رہتے ہیں ۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں خیالات کے لا شمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی زبان میں توہتم، تخیل، تصور اور تفکر وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ ہماری اپنی اختراعات ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ بلکہ تمام مخلوق کی سوچنے کی طرزیں ایک نقطہ مشترک رکھتی ہیں۔ وہی نقطہ مشترک تصویر خانوں کو جمع کر کے ان کا علم دیتا ہے۔ یہ علم نوع اور فرد کے شعور پر منحصر ہے۔ شعور جو اسلوب اپنی اَنا کی مقدار کے مطابق قائم کرتا ہے تصویر خانے اس ہی اسلوب کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس موقع پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ تین نوعوں کے طرزِعمل میں زیادہ اشتراک ہے۔ ان یہ کا تذکرہ قرآنِ پاک میں انسان، فرشتہ اور جنات کے نام سے کیا گیا ہے یہ نوعیں کائنات کے اندر سارے کہکشانی نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔ قدرت نے کچھ ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں تینوں نوعیں تخلیق کا رُکن بن گئی ہیں۔ ان ہی کے ذہن سے تخلیق کی لہریں معین مسافت طے کر کے معین نقطہ پر پہنچتی ہیں تو کائناتی مظاہر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 85 تا 90

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)