علم کی درجہ بندی

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45104

محمد ارشد، کراچی
سوال: میں آپ سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ان سوالات کے جوابات قرآن ِ کریم کی روشنی میں دیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان سوالات کے جوابات سے روحانیت کے بعض گوشوں پر روشنی پڑے گی اور ایسے لوگ جن کے ذہنوں میں اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مطمئن ہو جائیں گے۔
اگر ہم ٹیلی پیتھی کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں اور دوسرے کے خیالات معلوم کر سکتے ہیں تو ہم ٹیلی پیتھی کو پوچھ گچھ کے سلسلے میں کیوں استعمال نہیں کرتے اور جاسوسوں کے اہم منصوبوں سے کیوں واقف نہیں ہو جاتے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی روحانی استاد کی نگرانی میں مراقبہ کرنے سے دل کی آنکھ کھل جاتی ہے تو ہم یہ کیوں نہیں پتہ کر لیتے کہ اہرام مصر کب اور کیوں تعمیر ہوئے اور اِن میں استعمال ہونے والے اتنے وزنی پتھر کس طرح لائے گئے؟

جواب: دنیا میں رائج علوم کی درجہ بند ی کی جائے تو ہم انہیں تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، وہ یہ ہیں :۔
۱۔ طبیعیات
۲۔ نفسیات
۳۔ مابعد النفسیات
علمِ طبیعیات کے ضمن میں زندگی کے وہ اعمال و اشعال آتے ہیں جن سے کوئی آدمی محدود دائرے میں رہ کر مستفیض ہوتا ہے یعنی اس کی سوچ کا محور مادہ اور صرف مادہ ہوتا ہے۔ مادی دنیا کے اس خولسے وہ باہر نہیں نکلتا۔
نفسیات وہ علم ہے جو طبیعیات کے پسِ پردہ کام کرتا ہے۔ خیالات و رصورات اور احساسات کا تانا بانا اسی علم سے مرکب ہے۔ خیالات اگر تواتر کے ساتھ علم الطبیعیات کے دائرے میں منتقل ہوتے رہیں تو آدمی صحت مند خیالات کا پیکر ہوتا ہے اور اگر خیالات کے لا متناہی سلسلے میں کوئی خنہ در آئے اور علم ِ طبیعیات کا دائرہ اس خٰال میں مرکوز ہو جائے تو آدمی نفسیات مرییض بن جاتا ہے۔
علم ما بعد نفسیات ، علم کی اس بساط کا نام ہے جس کو روحانیت میں مصدر اطلاعات کہا جاتا ہے۔ علمی حیثیت میں یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جو لا شعور کے پسِ پردہ کام کرتی ہے۔
اس اجماع کی تفصیل یہ ہوئی کہ آدمی تین دائروں سے مرکب ہے۔ شعور، لا شعور اور درائے لا شعور۔ جب ہم کسی مظاہراتی خدوخال میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں ان تینوں دائروں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یعنی پہلے ہمیں کسی چیز کی اطلاع ملتی ہے، پھر اس اطلاع میں تصوراتی نقش و نگار بنتے ہیں اور پھریہ تصوراتی نقس و نگار مظہر کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ اسی بات کت ہم دوسری طرح بیان کرتے ہیں تا کہ بات پوری طرح واضح ہو جائے۔
کائنات میں پھیلے ہوئے مظاہر میں اگر تفکر کیا جائے تو یہ بات سامنے آ جاتی ہے کہ خیالات یعنی اطلاع تمام موجودات میں قدرِ مشترک رکھتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پانی کو ہر آدمی ،ہر حیوان اور نباتات و جمادات پانی سمجھتے ہیں اور اسی طرح اس سے استفادہ کرتے ہیں جس طرح ایک آدمی کرتا ہے۔ جس طرح پانی کو پانی کہا جاتا ہے اسے طرح آگ ہر مخلوق کے لئے آگ ہے۔ آدمی اگر آگ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے و بکری ، کبوتر، شیر اور حشراتُ الارض بھی آگ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک آدمی مٹھاس پسند کرتا ہے، دوسرا طبعاً میٹھی چیزوں کی طرف مائل نہیں لیکن یہ ہر دو اشخاص میٹھے کو میٹھا اور نمک کو نمک کہنے پر مجبور ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ جہاں آدمی خیالات اور تصورات میں قدرِ مشترک کھتے ہیں وہاں وہ خیالات میں اپنی مرضی اور منشار کے مطابق معانی پہنانے پر قدرت رکھتے ہیں۔ آپ کا یہ سوال کہ کیا ہم اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا دوسروں کے خیالات معلوم کر سکتے ہیں، کے جوا ب میں عرض ہے کہ آپس میں خیالات کی منتقلی کا نام ہی زندگی ہے۔ ہم اپنے علاوہ دوسرے فرد کو اس لئے پہچانتے ہیں کہ اسکے تشخص کے خیالات ہمیں منتقل ہو رہے ہیں۔ اگر زہد کے خیالات اور خیالات کا مجموعہ زندگی، بکر کے دماغ کی اسکرین پر نہ ہو تو بکر، زہد کو نہیں پہچان سکتا۔ درخت کی زندگی میں کام کرنے والی وہ لہریں جن کے اوپر درخت کا وجود قائم ہے، اگر آدمی کے اندر منتقل نہ ہوں تو آدمی درخت کو نہیں پہچان سکے گا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 106 تا 108

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)