شیر کی عقیدت

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45098

ایک دن واکی شریف کے جنگل پہاڑی بٹے پر چند لوگوں کے ہمراہ چڑھتے چلے گئے۔ نانا رحمتہ اللہ علیہ مسکرا کر کہنے لگے ” میں جس کو شیر کا ڈر ہے۔ وہ چلا جائے میں تو یہاں ذرا سی دیر آرام کروں گا۔ خیال ہے کہ شیر ضرور آئے گا۔ جتنی دیر قیام کرے اس کی مرضی۔ تم لوگ خواہ مخواہ انتظار میں مبتلا نہ رہو۔ جاؤ۔ کھاؤ پیو اور مزہ کرو۔”
بعض لوگ ادھر اُدھر چھپ گئے اور زیادہ چلے گئے۔ میں نے حیات خان سے کہا کیا ارادہ ہے؟ پہلے تو حیات خان سوچتا رہا۔ پھر زیرِ لب مسکرا کر خاموش ہو گیا۔ تھوڑی دہر بعد میں نے پھر سوال کیا ” چلنا ہے یا تماشہ دیکھنا ہے؟”
” بھلا بابا صاحب کو چھوڑ کے میں کہاں جاؤں گا۔” حیات خان بولا۔
کرمی کا موسم تھا۔ درختوں کا سایہ اور ٹھنڈی ہوا خما کے طوفان اٹھا رہی تھی تھوڑی دور ہٹ کر میں ایک گھنی جھاڑی کے نیچے لیٹ گیا۔ چند قدم کے فاصلے پر حیات خان اس طرح بیٹھ گیا کہ نانا تاج الدین کو کُن آنکھیوں سے دیکھتا رہے۔
اب وہ دبیز گھاس پر لیٹ چکے تھے۔ آنکھیں بند تھیں۔ فضا میں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ جنگل بھیانک محسوس ہونے لگا۔ آدھ گھنٹہ ، پھر ایک گھنٹہ۔ اس کے بعد بھی کچھ وقفہ ایسے گزر گیا جیسے شدید انتظار ہو۔ یہ انتظار کسی سادھو، کسی جوگی، کسی ولی، کسی انسان کا نہیں تھا بلکہ ایک درندہ کا تھا جو کم از کم میرے ذہن میں قدم بقدم حرکت کر رہا تھا۔ یکایک نانا رحمتہ اللہ علیہ کی طرف نگاہیں متوجہ ہو گئیں۔ ان کے پیروں کی طرف ایک طویل القامت شیر ڈھلان سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ بڑی آہستہ خرامی سے، بڑے ادب سے۔
شیر نیم وا آنکھوں سے نانا تاج الدین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ذرا دیر میں وہ پیروں کے بالکل قریب آگیا۔
نانا گہری میں بے خبر تھے۔ شیر زبان سے تلوے چھو رہا تھا۔ چند منٹ بعد اُس کی آنکھیں مستانہ داری سے بند ہو گئیں ۔ سَر زمین پر رکھ دیا۔
نانا تاج الدین ابھی تک سو رہے تھے۔
شیر نے اب زیادہ جرات کر کے تلوے چاٹنا شروع کر دیئے اس حرکت سے نانا کی آنکھ کھل گئی۔ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ شیر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
کہنے لگے ” تو آ گیا۔ اب تیری صحت بالکل ٹھیک ہے ۔ میں تجھے تندرست دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اچھا اب جاؤ۔”
شیر نے بڑی ممنونیت سے دُم ہلائی اور چلا گیا۔ میں نے ان واقعات پر بہت غور کیا۔ یہ بات کسی کو معلوم نہیںکہ شیر پہلے کبھی ان کے پاس آیا تھا۔ مجبوراً اس امر کا یقین کرنا پڑتا ہے کہ نانا اور شیر پہلے ذہنی طور پر ایک دوسرےسے روشناس تھے۔ اور روشناسی کا ایک ہی طریقہ ہو سکتا ہے۔ اَنا کی لہریں جو نانا اور شیر کے درمیان ردو بدل ہوتی تھیں وہ آپس کی اطلاعات کا باعث بنتی تھیں۔ عارفین میں کشف کی عام روش یہی ہوتی ہے۔ لیکن اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جانوروں میں بھی کشف اسی طرح ہوتا ہے کشف کے معاملے میں انسان اور دوسری مخلوق یکساں ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 93 تا 95

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)