شاہد اور مشہود

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45106

دیکھنے اور سمجھنے کی طرزیں دو رُخ پر قائم ہیں۔ ایک براہِ راست اور دوسری بالواسطہ۔ بالواسطہ دیکھنے کی طرز یہ ہے کہ ہم علم اعتبار سے دو وجود کا تعین کرتے ہیں۔ ایک وجود شاہد یعنی دیکھنے والا،دوسرا وجود مشہود جو دیکھا جا رہا ہے۔ ایک آدمی جب بکری کو دیکھتا ہے تو الفاظ ِ دیگر وہ یہ کہہ رہ اہے کہ میں بکری کو دیکھ رہا ہوں، یہ بالواسطہ دیکھنا ہے۔ دوسری طرز یہ ہے کہ بکری ہمیں دیکھ رہی ہے اور ہم بکری کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں۔ یعنی بکری کی زندگی کو قائم کرنے والی لہریں ہمارے دماغ کی اسکرین پر بصورتِ اطلاع وارد ہوئیں ۔ دماغ نے ان لہروں کو نقش و نگار میں تبدیل کیا اور جب نقش و نگار شعور کی شطح پر نمودار ہوئے تو بکری کی صورت میں مظہر بن گئے۔ قانونِ رُوحانیت کی رُو سے فی الواقع براہِ راست دیکھنا صحیح ہے اور بالواسطہ دیکھنا محض مفروضہ (FICTION)ہے ۔ قاآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بہت زیادہ توجہ طلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ؑ سے ارشاد فرماتے ہیں:
” اور تو دیکھ رہا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں، تیری طرف، وہ کچھ نہیں دیکھ رہے۔”
آیتِ مقدسہ کے مفہوم پر غور کیجئے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن باوجود دیکھنے کے وہ کچھ نہیں دیکھ رہے۔ حاصلِ کائنات، فخرِ موجودات سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدسی نفس تشخص میں اللہ تعالیٰ کی جو تجلیات اور انوار کام کررہے ہیں وہ لوگوں کی آنکھوں سے مخفی ہیں اور ان تجلیات اور انوار کو نہ دیکھنا اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد کے بموجب کچھ نہ دیکھنا ہے۔
اپنی حدود میں رہتے ہوئےبراہِ راست دیکھنے والے جن بندوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اندر موجود انوارو تجلیات کا مشاہدہ کا وہ حضور ؑ کے ہم خیال بن گئے۔ یہ بات الگ ہے کہ براہِ راست دیکھنا کسی بندے میں قلیل تھا اور کسی بندے میں زیادہ۔
ٹیلی پیتھی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جدوجہد اور کوشش کر کے براہِ راست دیکھنے کی طرز سے قریب ہو جائے۔ جن حدود میں وہ براہ ِ راست طرزِ نظر سے وقوف حاصل کر لیتا ہے اسی مناسبت سے وہ لہریں جو خیال بنتی ہیں اس کے سامنے آجاتی ہیں۔ یہ عجیب سر بستہ راز ہے کہ پوری کائنات کے افراد اطلاعات اور خیالات مین ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ البتہ اطلاعات میں معانی پہنانا الگ الگ وصف ہے۔ بھوک کی اطلاع شیر اور بکری دونوں میں موجود ہے لیکن بکری اس اطلاع کی تکمیل میں گھاس کھاتی ہے اور شیر بھوک کی اس اطلاع کو پورا کرنے کے لئے گوشت کھاتا ہے۔ بھوک کے معاملے میں دونوں کے اندر قدر مشترک ہے۔ بھوک کے اطلاع الگ الگ معانی پہنانا دونوں کا جداگانہ وصف ہے۔
آپ کا یہ سوال کہ ٹیلی پیتھی کو جاسوسی میں کیوں استعمال نہیں کیا جاتا اور یہ کہ ٹیلی پیتھی کے ذریعے سر بستہ راز کیوں نہیں معلوم کئے جاتے ، اس کے بارے میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ ہپناٹزم کے ذریعے یورپ میں بڑے بڑے آپریشن کر دئیے جاتے ہیں اور مریض کو تکلیف کا احساس بالکل نہیں ہوتا ، وغیرہ وغیرہ ۔ ہپناٹزم اور ٹیلی ایک ہی قبیل کے دو علم ہیں۔ ان کا منبع اور مخزن ایک ہے یعنی خیالات کے اوپر گرفت کا مضبوط ہونا۔
ایسے صاحبِ روحانیت جو ٹیلی پیتھی کے قانون سے واقف ہیں اہ آزاد ذہن ہوتے ہیں۔ انہیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ جاسوسوں کو پکڑتے پھریں اور پولیس کا کردار انجام دیں۔ البتہ یہ بات عام طور پر مشوہدے میں آئی ہے کہ کوئی بندہ کسی صاحب روحانیت کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بندے کے دماغ میں جو کچھ تھا وہ انہوں نے دانستہ طور پر بیان کر دیا۔
اہرامِ مصر کب اور کیوں قائم ہوئے اور ان کو تیس۳۰ لاکھ تراشے ہوئے پتھروں سے کس طرح بنایا گیا جب کہ ہر چٹان کا وزن ستر ٹن ہے۔ اور یہ زمین سے تیس چالیس فٹ کی بلندی پر نصب ہیں۔ اور ان اہرام کا فاصلہ کم سے کم پندرہ میل اور زیادہ سے زیادہ پانچ سو میل ہے یعنی جن پتھروں سے اہرامِ مصر کی تعمیر ہوئی وہ پانچ سو میل دور سے لائے گئے تھے۔
میرے بھائی! کسی صاحب ِ مراقبہ کو یہ بات معلوم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن ان کے سامنے اس سے بہت زیادہ ارفع و اعلیٰ رموز ہوتے ہیں اور وہ ان رموز کی تجلیات میں محوِ استفراق رہتے ہیں۔
ایک بزرگ رمپا(RAMPA) خیالات کی لہروں کے علم سے وقوف رکھتے ہیں۔ انہوں نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے اصرار پر یہ انکشاف کیا ہے کہ بیس ہزار سال پہلے کے وہ لوگ جنہون نے اہرامِ مصر بتائے ہیں آج کے سائنس دانوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھے اور وہ ایسی ایجادات میں کامیاب ہو گئے تھے جن کے ذریعے پتھروں میں سے کششِ ثقل ختم کر دی جاتی تھی۔ کششِ ثقل ختم ہو جانے کے بعد پچاس ۵۰ یا سو۱۰۰ ٹن وزنی چٹان ایک آدمی اس طرح اٹھا سکتا ہے جیسے پروں سے بھرا ہوا ایک تکیہ۔
اسی طرح سائنس کی دنیا میں ایک بزرگ جناب ایڈگرکسیی کے مطابق ان پتھروں کو ہوا میں تیرا کر (FLOAT) موجودہ جگہ بھیجا گیا ہے۔
اہرامِ مصر کے سلسلے میں ان دانشور بزرگوں نے جو کچھ فرمایا ہے وہ لہروں کی منتقلی کے اس قا نون کے مطابق ہے جس کو ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 108 تا 111

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)