روحانیت اور استدراج

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45152

سوال: ٹیلی پیتھی کی مشقوں کے دوران جن لوگوں ک اوپر واردات و کیفیات مرتب ہوئی ہیں انہوں نے زیادہ تر ایسے حالات قلم بند کئے ہیں جن مین ان کی نیک ارواح سے ملاقات ہوئی اور مقامات مقدسہ ککی انہوں نے زیارت کی۔ یہ بھی ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے ماورائی مخلوق سے گفتگو کی ۔ کسی صاحب مشق نے یہ نہیں لکھا کہ اس کی ملاقات ذریت ابلیس سے ہوئی ہے جب کہ ماورائی مخلوق میں بد رُوحیں اور ذریت ابلیس بھی شامل ہیں۔ براہِ کرم اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
جواب: تام علوم سِری ، جن میں ٹیلی پیتھی یا انتقالِ خیال کا علم بھی شامل ہے، کو سمجھنے، سیکھنے اور ان علوم سے استفادہ کرنے کی دو طرزیں ہیں۔ ایک رحمانی طرز ہے اور دوسری کا نام استدراج رکھا گیا ہے۔
کُلیہ یہ ہے کہ اگر علم کی معنوی حیثیت تعمیر ے تو وہ حق ہے اور اگر علم کی معنوی حیثیت تخریب ہے تو وہ شیطنت ہے۔ حق اور شیطنت دونوں کا تعلق طرزِ فکر سے ہے ۔ احمانی اور شیطانی دونوں گروہوں کی طرزِ فکر اور کلمہ طریق جُدا جُدا ہیں۔ کلمہ طریق طرزِ فکر کو متحرک کرنے کے لئے استعمال کیا جا تا ہے۔
استدراجی طرز سے وابستہ لوگوں کے کلمہ طریق، دیواہ، کالی وار ہیں۔ یہ الفاظ سریانی زبان سے پہلے کے ہیں۔حضرت نوح کے زمانے تک اہلِ حق کا جو کلمہ طریق رہا وہ لفظ اللہ اور الا اللہ کے ہم معنی تھا۔ حضرت نوح کے بعد تمخاہ اور تمخیاہ حق پرست لوگوں کا کلمہ طریق ہو گیا۔ دیواہ اور کالی واہ، منسوخ کر دیا گیا۔ مگر کچھ لوگوں نے اس منسوخی کو تسلیم نہیں کیا۔ اور اپنی تخریبی طرزِ فکر کے لئے اس کو کلمہ طریق بنائے رکھا۔ اور ان لوگوں کے انکار کی وجہ سے یہ استدراج کا کلمہ طریق بن گیا۔ پھر حضرت ابراہیم سے کئی صدیاں پہلے اللہ اور الا اللہ کو کلمہ حق قرار دیا گیا۔ تمخاہ اور تمخیاہ منسوخ قرار دیا گیا۔ اس وقت سے اب تک حق پرست لوگوں کا کلمہ طریق اللہ اور الا اللہ ہے اور قیامت تک برقرار رہے گا۔ اس کے بر عکس ذریت ابلیس اور شیطنت نے پیروکاروں نے ابھی تک ‘ ویواہ اور کالی واہ’ کو اپنا کلمہ طریق بنایا ہوا ہے۔
علم اور اس کی طرزوں کی تشریح قرآن ِپاک میں حضرت موسیٰ کے واقعہ میں کی گئی ہے۔ جب حضرت موسیٰ کو حق کا نمائندہ بنا کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تو فرعون نے پیغبر ِ خدا کے معجزات کو استدراجی علوم پر قیاس کیا۔ چنانچہ اُس نے حضرت موسیٰ کو جادوگر قرار دے اپنے ملک کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کر لیا تا کہ وہ حضرت موسیٰ سے مقابلہ کر کے انہیں زیر کریں۔
مقابلے کے دن، میدان میں ایک طرف اللہ کے پیغمبر، حق کے نمائندے، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کھڑے تھے اور دوسری طرف ذریت ابلیس، استدراج کے نمائندے، جادوگر۔
جادوگروں نے اپنی رسیاں ، بان اور لاٹھیاں پھینکیں جو سانپوں اور اژدہوں کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس کے مقابلے میں وحی الہی کے مطابق حضرت موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا اور وہ اژدہا بن کر ، تمام طلسمی سنپوں اور اژ دہوں کو نگل گیا۔
توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ جادوگر اپنی رسیاں پھینکتے ہیں تو وہ سانپوں اور اژدہوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور حضرت موسیٰ اپنا عصا زمین پو ڈالتے ہیں تو وہ بھی اژدہا بن جاتے ہے۔ یہاں تک تو جادوگروں کے فن اور حضرت موسیٰ کے معجزے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن ایک دم آگر بڑھ کر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ موسیٰ کا معجزہ جادوگروں کے فن پر غالب آ جاتا ہے۔
جادوگروں اور حضرت موسیٰ کا یہ مقابلہ استدراجی اور رحمانی علوم کے درمیان فرق کی ایک واضح تشریح ہے۔ اس واقعہ سے یہ بات سامنے آ جاتی ہے کہ جادوگر حُبِ دنیا میں اپنے علم سے فرعون کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ اس کے بر عکس ، حضرت موسیٰ کا مشن مخلوق خدا کی خدمت اور رضائے الہٰی کا حصول ہے۔ ان کو جو علوم ملے ہیں وہ اللہ کے عرفان تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
اس کتاب میں ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ اس کلمہ طریق اور طرزِ فکر کے تحت ہے۔ جو انبیاء اور اولیا اللہ کی طرزِ فکر ہے کیوں کہ واردات و کیفیات سے پہلے ٹیلی پیتھی کے طالبِ علم کے ذہن میں تعمیری طرزَ فکر کا پیٹرن (PATTERN) بن گیا ہے اس لئے جو کچھ واردات و کیفیات میں سامنے آیا وہ اس پیٹرن کے مطابق ہے۔ یہی تعلیم اگر کوئی شخص زریت ابلیس کے کلمہ طریق کے مطابق حاصل کرے تو یہ سب علمِ روحانیت کی بجائے علمِ استدراج بن جاتا ہے۔ تمام پیغمبروں، حضرت ابراہیم سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سے سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام تک سب کی تعلیمات یہ رہی ہیں کہ انسان استدراجی قوتوں سے محفوظ رہے اور رحمانی قوتوؓ سے متعارف ہو کر اپنا عرفان حاصل کر لے، اس لئے کہ رحمانی قوت اور طرزِ فکر میں تعمیر ہے۔ اس کے بر عکس تخریب، توڑ پھوڑ، سفاکی، درندگی اور نوعِ انسانی تکلیف پہنچانے کا نام استدراج ہے۔

یہ دونوں حواس ایک ورق کی طرح ہیں۔ ورق کے دونوں صفحات پر ایک ہی تحریر لکھی ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ورق کے ایک صفحہ پر عبارت ہمیں روشن اور واضح نظر آتی ہے اور دوسرے صفحہ پر دھندلی اور غیر واضح نظر آتی ہے ۔ دھندلی اور غیر واضح تحریر لا شعور ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 180 تا 182

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)