دماغی کشمکش

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45108

ہمارے اسلاف میں ایک بزرگ شاہ ولی اللہ گزرے ہیں۔ ان کے ہاتھ اس جرم میں توڑے دئیے گئے تھے کہ انہوں نے قرآنِ پاک کا ترجمہ کیا تھا۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ جسمِ انسانی کے اوپر ایک اور انسان جو روشنیوں کی لہروں سے مرکب ہے جس کا اصطلاحی نام انہوں نے نسمہ رکھا ہے۔
شاہ ولی اللہ نے یہ بات واضح دلیل کے ساتھ بتائی ہے کہ اصل انسان نسمہ یعنی Aura ہے۔ جتنی بیماریاں، الجھنیں اور پریشانیاں انسان کے اوپر آتی ہیں وہ نسمہ میں ہوتی ہیں۔ گوشت پوست سے مرکب خاکی جسم میں نہیں ہوتیں۔ البتہ نسمہ کے اندر موجود کسی بیماری یا پریشانی کا مظاہرہ جسم پر ہوتا ہے یعنی جسم دراصل ایک اسکرین ہے اور نسمہ فلم ہے۔ فلم میں سے اگر داغ دھبوں کو دور کر دیا جائے تو اسکرین پرتصویر واضح اور صاف نظر آتی ہے۔ با الفاظ دیگر اگر نسمہ کے اندر سے بیماری کو نکال دیا جائے تو جسم خودبخود صحتمند ہو جائے گا۔
شاہ ولی اللہ نے اس بات کی بھی تشریح کی ہے کہ آدمی اطلاعات ، انفارمیشن یا خیالات کا مجموعہ ہے۔ صحت مند خیالات پر سکون زندگی کا پیش خیمہ ہیں۔ اس کے بر عکس اضمحلال، پریشانی، اعصابی کشاکش، دماغی کش مکش اور نت نئی بیماریوں خیالات میں پیچیدگی پرا گندگی اور تخریب کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ ٹیلی پیتھی چوں کہ انفارمیشن، خیالات یا اطلاع کو جاننے کا علم ہے اس لئے یہ علم سیکھ کر کوئی بندہ خود بھی الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کی علمی توجیہ کے سلسلے میں ہم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کائنات میں موجود ہر شئے کا قیام لہروں پر ہے۔ باالفاظِ دیگر کائنات میں ہر موجود شئے کی زندگی لہروں پر رواں دواں ہے اور ان لہروں کی معین مقداروں کے ساتھ کہیں یہ لہریں لکڑی بن جاتی ہیں، کہیں لوہا، کہیں پانی۔
مثال: ہم پانی کو دیکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ پانی ہے جب کہ ہمارے دماغ پر یا جسم پر پانی کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا یعنی ہمارا دماغ بھیگتا نہیں ہے۔ اسی طرح ہم پتھر کو پتھر کہتے ہیں جب کہ پتھر کا وزن ہمارا دماغ محسوس نہیں کرتا۔ بات وہی ہے کہ پانی کے اندر کام کرنے والی لہریں ٹیلی پیتھی کے اصول پر جب ہمارے دماغ میں منتقل ہوتی ہیں تو ہم اس کو پانی کہہ دیتے ہیں۔
کسی چیز سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس چیز کے اندر کام کرنے والے اوصاف ، اس کی حقیقت اور اس کی ماہئیت سے وقوف حاصل ہو اور وقوف سے مراد یہ ہے کہ ہمیں نہ صرف لہروں کے علم سے واقفیت ہو بلکہ ہم یہ بھی جانتے ہوں کہ لہریں منجمد نہیں ہوتیں، متحرک ہوتی ہیں۔ اور ان کی ہر حرکت زندگی کے اندر کام کرنے والا ایک تقاضا ہے۔اور ان تقا ضوں سے زندگی کے اجزاء مرتب ہوتے ہیں۔ ہر لہر اپنے اندرایک وصف رکھتی ہے اور اس وصف کا نام ہم طاقت (FREQUENCY) رکھتے ہیں۔ کسی طاقت سے فائدہ اُٹھانا اس وقت ممکن ہے جب ہم اس کے استعمال سے واقف ہوں۔ اسی وقوف کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کا نام دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
” اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اسے استعمال کرے اور جو لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں فائدہ پہنچتا ہے اور جو لوگ اس کا کفر ان کرتے ہیں وہ خسارے میں رہتے ہیں۔”
قرآنِ پاک پوری نوعِ انسانی کے لئےمنبعِ ہدایت ہے۔ جو لوگ حکمت کے قانون میں تفکر کرتے ہیں اور اس کی ماہیئت میں اپنی تمام ذہنی صلاحیتیں مرکوز کر دیتے ہیں ان کے اوپر طاقت کے استعمال کا قانون منکشف ہو جاتا ہے۔ اور نئی سے نئی ایجادات مظہر بن کر سامنے آتی رہتی ہیں ۔ کبھی استعمال کا یہ قانون ایٹم بم بن جاتاہے اور کبھی ریڈیو اور ٹی وی کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اور ہم نے لوہانازل کیا اور اس کے اندر لوگوں کے لئے بے شمار فوائد رکھ دئیے ۔”
غور و فکر کا تقاضا ہے اور اپنی بے بضاعتی پر آنسو بہانے کا مقام ہے کہ موجودہ سائنس کی ترقی میں لوہے کا وجود زیرِ بحث آتا ہے۔ جن لوگوں نے لوہے کی خصوصیات اور اس کے اندر کام کرنے والی لہرواں کو تلاش کرلیا۔ ان کے اوپر یہ راز منکشف ہو گیا کہ بلا شبہ لوہے میں نوعِ انسانی کے لئے بے شمار فوائد مضمر ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآنِ مجید کو محض ایصالِ ثواب اور حصولِ برکت کا ذریعہ بنا لیا ہے اور قرآنَ پاک میں تسخیرِ کائنات سے متعلق جو فارمولے بیان ہوئے ہیں ان کوسمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے تسخیرِ کائنات سے متعلق فارمولوں کےرموز و نکات پر ریسرچ کی اور اس کوشش میں اپنی زندگی کے ماہ و سال صرف کر دئیے انہیں اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی ۔
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 112 تا 115

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)