خیال کی قوت

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=36620

یہی روحانیت ہے اور یہی ٹیلی پیتھی ( TELEPATHY) ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ روحانیت اپنے اندر ایک وسعت رکھتی ہے اور ٹیلی پیتھی صرف خیالات کے تبادلے کا نام ہے۔ حضرت غوث شاہؒ کی کتاب ” تذکرہ غوثیہ ” میں مولانا گل حسن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک روز راقم نے عرض کیا ” حضرت کبھی آپ کو عشق بھی ہوا ہے؟ ”
حضرتؒ نے فرمایا:
جب ہم گھر سے چل کر بنارس پہنچے تو وہاں ہمارے بھائی فیض الحسن تھا نیدار تھے ان سے مل کر طبیعت بہت خوش ہوئی۔ بھائی نے بہت اسرار کیا کہ گھر پر ٹھہرو۔ مگر ہم کو سوائے مسجد کے آرام کہاں تھا۔ گنگا کے کنارے ایک مسجد تھی۔ اس میں ٹھہر گئے۔ مسجد کے ایک طرف گھاٹ تھا اور دوسری طرف شارعِ عام تھی۔ بھائی صاحب بھی روزمرہ وہاں تشریف لاتے تھے۔ کھانا بھی وہی بھیجتے تھے۔ ایک روز عصر کی نماز کے بعد مسجد کی دیوار پر بیٹھے ہوئے ہم سیر کر رہے تھے کہ یکایک ایک نازنیں، مہ جبیں، غارتِ گرا ایمان و دیں، چودہ پندرہ کا سن سال ، قیامت کی چال ڈھال ، قوم سے کشمیر برہمن اپنی ہمجولیوں کے جلو میں آفتاب علمتاب کی طرح نظر کو خبرہ کرتی ہوئی ہمارے سامنے آ گئی۔ نظر چار ہوتے ہی ہوش و حواس کھو بیٹھے۔ مگر اتنی عقل ابھی باقی تھی کہ ہم نے مسجد کے ملا سے کہہ دیا کہ ہمارے بھائی آئیں یا کھانا بھجوائیں تو تم ان سے کہہ دینا کہ ہم چلے میں بیٹھے ہیں اور سب سامان مجھ کو دے دیا کریں جس وقت ضرورت ہو گی میں کھانا تیار کر کے دے دوں گا۔ ملا کو یہ بات سمجھا کر ہم نے حجرہ کا دروازہ بند کر لیا۔ اور اس پر ی رُو کا تصور قائم کر کے عالمِ خیال میں گم ہو گئے۔ اس عرصہ میں کھانا پینا، نماز روزہ سب بالائےطاق رکھ دیا۔ آٹھویں دن وہ تصور مجسم ہو کر سامنے آکھڑی ہوئی۔ اسی دن سے وہ نازنین ِ دل رُبا اپنے شوہر کے ساتھ، تھالی میں شیر ینی رکھے مسجد کے اندر آ موجود ہوئی۔ اس نے حجرہ کی زنجیر کھڑکائی۔ کان میں آواز پڑی تو دل نے کہا مطلوب آ پہنچا۔ ہم نےکنڈی کھول دی۔ وہ دونوں حجرے کے اندر آگئے۔ دیکھا تو اس کا شوہر بھی حسن و جمال میں یکتا و بے مثال تھا۔
ہم نے پوچھا۔” تم دونوں کس لئے آئے ہو؟”
بولے۔ ” ہم کو اولاد کی تمنا ہے۔”
ہم سمجھ گئے کہ یہ سب فساد حضرت ِ عشق کا ہے ورنہ ابھی تو ان کے دن کھیلنے کودنے اور سیر تماشے کے ہیں۔ کیسی اولاد اور کیسی تمنا ! اس حسین قتالہ نے ہماری طرف ٹکٹکی باندھ لی۔ اس کے شوہر سے ہم نے کہا۔” ذرا باہر جا کر زنجیر لگا دو۔ ہم کو تمہاری بیوی سے ایک پردے کی بات پوچھنی ہے”
وہ غریب دروازہ بند کر کے باہر ہو گیا۔ اس زمانے میں ہماری عمر پنتالیس سال کی تھی۔ ہم نے اپنے دل سے کہا۔ ” بولو حضرت ! کیا ارادہ ہے۔اگر جورو بنانا چاہتے ہو تو میاں بیوی دونوں راضی ہیں اور اگر بہن بنانا چاہتے ہو تو پھر ماں بہن کو کیوں چھوڑا؟ جس کے لئے آٹھ دن سے بے تابی اور بے قراری تھی، موجود ہے۔ کہہ کیا کہتا ہے؟”
دل نے جواب دیا ۔ یہ ابھی ایک کھیل کھیلنا تھا سو کھیل چکے بس اب کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔
اس کے بعد ہم نے اس سے ایک دو باتیں پوچھ کر اس کے خاوند کو بلا لیا اور ایک تعویذ لکھ کر ان کے حوالے کیا اور کہا ” جاؤ، خدا حافظ ”
ان کے جانے کے بعد خیال آیا کہ یہ عشق ضرور کچھ رنگ لائے گا اور طرفِ ثانی کو بھی ستائے گا۔ یہاں سے چل دینا ہی بہتر ہے۔ یہ سوچ کر ہم آدھی رات گزرنے پر وہاں سے چل دیئے اور بیس کوس دور جا کر دم لیا۔
دوسرے د ن وہ نیک بخت بھی شوہر کے ہمراہ یکہ میں بیٹھی عصر کے وقت اسی مقام پر آ پہنچی۔ بال پریشان ، طبیعت ادس، چہرہ پژمردہ، دل افسردہ اور باس زدہ۔ میرے قریب آکر زارو قطار روتے ہوئے التجا کی آپ بنارس تشریف لے چلیں۔ جب دونوں نے بہت اصرار کیا تو ہمیں مجبوراً کہنا پڑا کہ ہم یہاں ضروری کام سے آئے ہیں، وہ ہو جائے گا تو ہم دو چار دن میں خود ہی بنارس چلے آئیں گے۔ غرض تسلی و تشفی دے کر ان کو بنارس کی طرف روانہ کیا اور ہم نے لکھنؤ کی راہ لی۔ نہیں معلوم بعد میں اس پر کیا گزری۔
حضرت غوث علی شاہ ؒکے اس واقعہ میں یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ خیالات مسلسل ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائیں یا کر دئیے جائیں تو معمول خواہ ان خیالات سے متفق نہ ہو لیکن وہ عامل کے خیال کی قوت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 27 تا 30

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)