حضرت حکیم نعیم الدین

کتاب : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

مصنف : سہیل احمد عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=14731

آپ کا تعلق مدراس سے تھا اور آباؤاجداد فوجی تھے۔ حکیم صاحب کے چچا حیدرآباد دکن کے شاہی طبیب تھے۔ چچانے بے اولاد ہونے کی وجہ سے ان کو لے کر پالاتھا۔ چچا نے آپ کو اچھی تعلیم دلوائی اور طب بھی پڑھائی۔ بابا تاج الدینؒ کا ذکر سنا تو شوقِ دیدار میں واکی حاضر ہوئے۔ باباصاحبؒ نے فرمایا۔’’دنیا کا چند روزہ تماشہ دیکھ کر آؤ۔‘‘ حکیم صاحب حیدرآباد واپس چلے گئے۔

کلیانی کے نواب حکیم صاحب کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور ان کو اپنا معتمد بنالیا۔ اعتماد یہاں تک بڑھا کہ حکیم صاحب نواب صاحب کی جائداد کے مختار ہوگئے۔ کچھ دنوں بعد نواب صاحب کا انتقال ہوگیا۔ حکیم نعیم الدین کو بہت صدمہ ہوا اور بابا تاج الدینؒ کے الفاظ یادآئے کہ دنیا کا چند روزہ تماشہ دیکھ کر آؤ۔

حکیم نعیم الدین کلیانی سے حیدرآباد دکن چلے آئے اور ارادہ کیاکہ باباصاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوں لیکن والدہ کی رکاوٹ کے خیال سے فی الوقت ارادہ ملتوی کردیا۔ جب والدہ  بھی اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئیں تو اپنی جائداد اورسرمایہ رشتہ داروں اورغریبوں میں تقسیم کرکے فقیرانہ لباس میں دربارتاج الاولیاءؒ روانہ ہوئے۔ چلتے ہوئے آپ نے جھولے میں چچا کی مجرب ادویات بھی رکھ لیں۔ ان کے ساتھ ایک بوڑھا بھی شریکِ سفر ہولیا۔

شکردرہ پہنچ کر آم کے درختوں کے نیچے قیام کیا۔ شریکِ سفر بوڑھے کے پاس جو روپیہ پیسہ تھا وہ راستے کے اخراجات میں ختم ہوگیا۔ دوسرے روز بھوک نے ستایا توحکیم صاحب مٹی کا ایک ٹھیکرا لے کر قریبی لنگر پرگئے۔ لنگر تقسیم کرنے والا لوگوں سے درشتی سے پیش آرہا تھا۔ ان سے برداشت نہ ہوسکا اور خالی ہاتھ واپس چلے آئے۔ وہ دن بھوکے رہ کر گزارا۔ اگلے دن ہمراہی بوڑھے نے بھوک کی شکایت کی۔ حکیم صاحبؒ کے پاس کسی فقیر کی دی ہوئی اکسیر تھی اس سے ایک تولہ سونا تیار کیا اوربوڑھے کو دیا کہ بازار میں فروخت کر آؤ۔ ادھر بوڑھا بازار گیا، بابا تاج الدینؒ اپنی قیام گاہ سے نکل کر درخت کے نیچے آئے اور حکیم صاحب سے کہا۔’’عقبیٰ کا متلاشی دنیا لے کر آیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اکسیر بنانے کے سامان کو اوندھا کر دیا اور چلے گئے۔

کچھ دیر بعد بوڑھا بازار سے کھانے کا سامان لے کر آگیا۔ حکیم صاحب نے باباصاحبؒ کی آمد کا حال کہہ کر بوڑھے کو واپس حیدرآباد بھیج دیا اور وہ جھولا جس میں اکسیر وغیرہ رکھا ہوا تھا زمین میں دفن کر دیا۔ دودن حکیم صاحب نے درخت کی پتیاں کھاکر گزارے۔ تیسرے روز وزیر نامی صاحب جو بعد میں وزیر بابا جھنڈے والے کی نام سے مشہور ہوئے وہاں آئے اورحکیم صاحب کو اپنی جھونپڑی میں لے گئے۔ اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے لگے۔

رفتہ رفتہ لوگوں میں حکیم نعیم الدین صاحب کی شہرت ہونے لگی اور لوگ آپ کی عزت کرنے لگے۔ آپ کے لئے جھونپڑی بھی بنادی گئی جس میں جس میں آپ معتکف رہتے ۔ بہت کم باہر نکلتے تھے۔ آپ کو باباتاج الدینؒ سے ایسی ذہنی نسبت ہوگئی تھی کہ جب لوگوں کو باباصاحبؒ کی کہی ہوئی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی تو آپ سے رجوع کرتے۔ آپ فوراً اس کا مطلب بتادیتے تھے۔

وصال کے دن آپ نے کہہ دیا تھا کہ آج ہماری روانگی ہے۔ آپ کا حال یہ تھا کہ گھنٹے، آدھا گھنٹے بعد آنکھیں کھول کر پوچھتے، ’’کتنا بجاہے؟‘‘ شام کو پانچ بجے کے قریب پھر یہی سوال کیا تو بتایا گیا کہ پانچ بجے ہیں۔ یہ سن کر حکیم صاحب نے بلندآواز سے کہا۔

’’ لااِلٰہ الّاااللہ ، پیر نبی جی صلی اللہ ۔‘‘تیسری دفعہ یہ کہنے کے ساتھ ہی آپ کی روح پرواز کرگئی۔ حکیم نعیم الدین صاحب کا مزار ناندورا میں گیان ندی کے کنارے واقع ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 178 تا 180

سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ اقتباس  ِ 1 - روحانی انسان  ِ 2 - نام اور القاب  ِ 3 - خاندان  ِ 4 - پیدائش  ِ 5 - بچپن اورجوانی  ِ 6 - فوج میں شمولیت  ِ 7 - دو نوکریاں نہیں کرتے  ِ 8 - نسبت فیضان  ِ 9 - پاگل جھونپڑی  ِ 10 - شکردرہ میں قیام  ِ 11 - واکی میں قیام  ِ 12 - شکردرہ کو واپسی  ِ 13 - معمولات  ِ 14 - اندازِ گفتگو  ِ 15 - رحمت و شفقت  ِ 16 - تعلیم و تلقین  ِ 17 - کشف و کرامات  ِ 18 - آگ  ِ 19 - مقدمہ  ِ 20 - طمانچے  ِ 21 - پتّہ اور انجن  ِ 22 - سول سرجن  ِ 23 - قریب المرگ لڑکی  ِ 24 - اجنبی بیرسٹر  ِ 25 - دنیا سے رخصتی  ِ 26 - جبلِ عرفات  ِ 27 - بحالی کا حکم  ِ 28 - دیکھنے کی چیز  ِ 29 - لمبی نکو کرورے  ِ 30 - غیبی ہاتھ  ِ 31 - میڈیکل سرٹیفکیٹ  ِ 32 - مشک کی خوشبو  ِ 33 - شیرو  ِ 34 - سرکشن پرشاد کی حاضری  ِ 35 - لڈو اور اولاد  ِ 36 - سزائے موت  ِ 37 - دست گیر  ِ 38 - دوتھال میں سارا ہے  ِ 39 - بدکردار لڑکا  ِ 40 - اجمیر یہیں ہے  ِ 41 - یہ اچھا پڑھے گا  ِ 42 - بارش میں آگ  ِ 43 - چھوت چھات  ِ 45 - ایک آدمی دوجسم۔۔۔؟  ِ 46 - بڑے کھلاتے اچھے ہو جاتے  ِ 47 - معذور لڑکی  ِ 48 - کالے اور لال منہ کے بندر  ِ 49 - سونا بنانے کا نسخہ  ِ 50 - درشن دیوتا  ِ 51 - تحصیلدار  ِ 52 - محبوب کا دیدار  ِ 53 - پانچ جوتے  ِ 54 - بیگم صاحبہ بھوپال  ِ 55 - فاتحہ پڑھو  ِ 56 - ABDUS SAMAD SUSPENDED  ِ 57 - بدیسی مال  ِ 58 - آدھا دیوان  ِ 59 - کیوں دوڑتے ہو حضرت  ِ 60 - دال بھات  ِ 61 - اٹیک، فائر  ِ 62 - علی بردران اورگاندھی جی  ِ 63 - بے تیغ سپاہی  ِ 64 - ہندو مسلم فساد  ِ 65 - بھوت بنگلہ  ِ 66 - اللہ اللہ کر کے بیٹھ جاؤ  ِ 67 - شاعری  ِ 68 - وصال  ِ 69 - فیض اور فیض یافتگان  ِ 70 - حضرت انسان علی شاہ  ِ 71 - مریم بی اماں  ِ 72 - بابا قادر اولیاء  ِ 73 - حضرت مولانا محمد یوسف شاہ  ِ 74 - خواجہ علی امیرالدین  ِ 75 - حضرت قادر محی الدین  ِ 76 - مہاراجہ رگھو جی راؤ  ِ 77 - حضرت فتح محمد شاہ  ِ 78 - حضرت کملی والے شاہ  ِ 79 - حضرت رسول بابا  ِ 80 - حضرت مسکین شاہ  ِ 81 - حضرت اللہ کریم  ِ 82 - حضرت بابا عبدالرحمٰن  ِ 83 - حضرت بابا عبدالکریم  ِ 84 - حضرت حکیم نعیم الدین  ِ 85 - حضرت محمد عبدالعزیز عرف نانامیاں  ِ 86 - نیتا آنند بابا نیل کنٹھ راؤ  ِ 87 - سکّوبائی  ِ 88 - بی اماں صاحبہ  ِ 89 - حضرت دوّا بابا  ِ 90 - نانی صاحبہ  ِ 91 - حضرت محمد غوث بابا  ِ 92 - قاضی امجد علی  ِ 93 - حضرت فرید الدین کریم بابا  ِ 94 - قلندر بابا اولیاء  ِ 94.1 - سلسلۂ عظیمیہ  ِ 94.2 - لوح و قلم  ِ 94.3 - نقشے اور گراف  ِ 94.4 - رباعیات
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)