ایک انسان ہزار جسم

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45096

میں یہ کہہ چکا ہوں کہ تفکر اَنا اور شخص ایک ہی چیز ہے۔ الفاظ کی وجہ سے ان میں معانینکا فرق نہیں کر سکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ اَنا ، تفکر اور شخص ہیں کیا؟ یہ وہ ہستی ہیں جو لا شمار کیفیات کی شکلوں اور سراپا سے ہی ہیں۔ مثلاً بصارت، سماعت، تکلم، محبت، رحم، ایثار، رفتار، پرواز وغیرہ۔ ان میں ہر ایک کیفیت ایک شکل اور ایک سراپا رکھتی ہے۔ قدرت نے ایسے بے حساب سراپا لے کر ایک جگہ اس طرح جمع کر دئیے ہیں کہ الگ الگ پرت ہونے کے باوجود ایک جان ہو گئے ہیں۔ ایک انسان کے ہزاروں جسم ہوتے ہیں۔ علیٰ ھذالقیاس جنات اور فرشتوں کی بھی یہی ساخت ہے۔ یہ تینوں ساخت اس لئے مخصوص ہیں کہ ان میں کیفیات کے پرت دوسری انواع سے زیادہ ہیں۔
انسان لا شمار سیاروں میں آباد ہیں۔ اور ان کی قسمیں کتنی ہیں اس کا اندازہ قیاس سے باہر ہے۔ یہی بات جنات اور فرشتے کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔ انسان ہوں۔ جنات یا فرشتے، ان کے سراپا کا ہر فرد ایک پائندہ کیفیت ہے۔ کسی پرت کی زندگی جلی ہوتی یا خفی۔ جب پرت کی حرکت جلی ہوتی ہے تو شعور میں آ جاتی ہے خفی ہوتی ہے تو لا شعور میں نہیں آتے۔ حالانکہ وہ زیادہ عظیم الشان اور مسلسل ہوتے ہیں۔ یہاں یہ راز غور طلب ہے کہ ساری کائنات خفی حرکت کے نتیجے میں رونما ہونے والے مظاہر سے بھری مڑی ہے۔ البتہ یہ مظاہر محض انسانی لا شعور کی پیداوار نہیں ہیں۔ انسان کا خفی کائنات کے دور دراز گوشوں سے مسلسل ربط قائم نہیں رکھ سکا۔ اس کی کمزوری کی وجہ سے انسان کے اپنے خصائل ہیں اس نے اپنے کس مقصد کے لئے پابہ گل کیا ہے ، یہ بات اب تک نوعِ انسانی کے شعور سے ماورا ہے۔ کائنات میں جو تفکر کام کر رہا ہے اس کا تقاضا کوئی مخلوق پورا نہیں کر سکی جو زمانی ، مکانی فاصلوں کی گرفت میں بے دست و پا ہو۔
کائنات زمانی مکانی فاصلوں کانام ہے۔ یہ فاصلے اَنا کی چھوٹی بڑی مخلوط لہروں سے بنتے ہیں۔ ان لہروں کا چھوٹا بڑا ہونا ہی تگیر کہلاتا ہے۔ دراصل زمان اور مکان دونوں اسی قہر کی صورتیں ہیں۔ دخان جس کے بارے میں دنیا کم جانتی ہے اس مخلوط کا نتیجہ اور مظاہر کی اصل ہے۔ یہاں دخان سے مراد دھواں نہیں ہے۔ دھواں نظر آتا۔ انسان مثبت دخان کی جنات منفی دخان کی پیداوار ہیں۔ رہا فرشتہ، ان دونوں کے مخلص سے بنا ہے۔ عالمین کے یہ تین اجزائے ترکیبی غیب و شہود کے بانی ہیں۔ ان کے بغیر کائنات کے گوشے امکانی تموج سے خالی رہتے ہیں۔ نتیجہ میں ہمارا شعور اور لا شعور حیات سے دور نابود میں گم ہو جاتا ہے۔ ان تین نوعوں کے درمیان عجیب و غریب کرشمہ برسرِ عمل ہے۔ مثبت دخان کی ایک کیفیت کا نام مٹھاس ہے۔ اس کیفیت کی کثیر مقدار جنات میں پائی جاتی ہے۔ ان ہی دونوں کیفیتوں سے فرشتے بنے ہیں۔ اگر ایک انسان میں مثبت کیفیت کم ہو جائے اور منفی بڑھ جائے تو انسان میں جنات کی تمام صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ اور وہ جنات کی طرح عمل کرنے لگتا ہے۔ اگر کسی جن میں مثبت کیفیت بڑھ جائے تو اس میں ثقلِ وزن پیدا ہو جاتا ہے۔ فرشتوں پر بھی یہ ہی قانون نافذ ہے۔ اگر مثبت اور منفی کیفیات معین سطح سے اوپر آ جائیں تو مثبت کے طور پر وہ انسانی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے اور منفی کے زور پر جنات کی۔ بالکل اسی طرح اگر انسان میں مثبت اور منفی کیفیات معین سطح سے کم ہو جائیں تو اس سے فرشتوں کے اعمال صادر ہونت لگیں گے۔
طریقِ کار بہر آسان ہے۔ مٹھاس اور نمک کی مقدار معین کم کر کے فرشتوں کی طرح زمانی مکانی فاصلوں سے وقتی طور پر آزاد ہو سکتے ہیں۔ محض مٹھاس کی مقدار کم کر کے جنات کی طرح زمانی مکانی فاصلے کم کر سکتے ہیں۔ لیکن ان تدبیروں پر عمل پیرا ہونے کے لئے کسی روحانی انسان کی رہنمائی اشد ضروری ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 91 تا 93

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)