اللہ اللہ کر کے بیٹھ جاؤ

مکمل کتاب : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

مصنف : سہیل احمد عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=14713

مدراس کے رہنے والے دیواجی راؤ پولیس میں ہیڈ کانسٹبل تھے، ان کا کہنا ہے: ایک دن میں سی آئی ڈی سب انسپکٹر عبدالکریم صاحب کے گھر گیا۔ ان کے ہاں کسی بزرگ کی دو تصویریں آویزاں تھیں۔ میں نے پوچھا’’جناب! کیا یہی حضرت باباتاج الدین ؒ ہیں۔ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے عبدالکریم سے ایک فوٹو اپنے لئے بھی مانگا۔ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ بعد میں بابا صاحب کے پاس جاؤں گا۔ اگر تم چاہو تو میرے ساتھ چلنا۔ میں نے ان سے ریل کا خرچ دریافت کیا تو انہوں نے بتایا، پچاس روپئے۔ میں نے مایوسی سے کہاکہ پچاس روپئے تو میری تنخواہ ہے۔ اگر میں پچاس روپئے سفر خرچ پر صرف کردوں تو گھروالوں کو کیا دوں گا۔ عبدالکریم صاحب نے کہا تو پھر باباصاحب کے پاس کیسے جاؤگے؟ میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے جواب دیا، میں پولیس میں ہوں۔ گورنمنٹ مجھے ڈیوٹی پر ناگپور بھیجے گی تو بابا صاحب کے درشن کا موقع مل جائے گا۔ عبدالکریم صاحب نے کہا۔’’تمہاری نوکری مدراس میں مستقل ہے، تمہیں ناگپور پورکس طرح بھیج دیا جائے گا؟ میں نے کہا۔’’کچھ بھی ہو۔ میرا دل چاہتا ہے میں بابا صاحب کے درشن کروں۔ اگر میرا جذبہ صادق ہے تو باباصاحب خود مجھے بلالیں گے۔

اس واقعہ کو چند روز گزرے تھے کہ ۱۹۲۰ ء میں کانگریس کے سالانہ جلسہ کے لئے ناگپور کا انتخاب کیا گیا۔ افسر بالا نے عبدالکریم صاحب کو حکم دیا کہ وہ مجھے ساتھ لے کر ناگپور جائیں۔ عبدالکریم صاحب نے مجھے اس سرکاری حکم سے لاعلم رکھ کر کمشنر کو رپورٹ دی کہ یہ ہیڈ کانسٹبل (یعنی میں) میرے ساتھ جانے کے قابل نہیں ہے۔ کیوں کہ اسے اختلاجِ قلب کی شکایت ہے۔ لمبے سفر اور محنت کی وجہ سے یہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ کمشنر صاحب اس درخواست پر بہت ناراض ہوئے اور سختی سے کہا کہ کچھ بھی ہو، یہی ہیڈ کانسٹبل تمہارے ساتھ جائے گا۔

ہم ناگپور پہنچ کر کانگریس کے جلسے میں شریک ہوئے اور ڈیوٹی انجام دینے لگے۔ ایک دن مجھے دل کی شدید تکلیف اٹھی۔ میں نے پریشانی اورگھبراہٹ کے عالم میں عبدالکریم صاحب سے کہا کہ آپ مجھے مدراس روانہ کردیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، کل چلے جانا۔ میں اگلی صبح اٹھا تو خیال آیا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ میں بابا صاحب کے درشن کا آرزو مند تھا اور اس کے لئے جان کی بازی لگاکر ناگپور بھی آگیا۔ لیکن اب حالت یہ ہے کہ میں بغیر ملے واپس جا رہا ہوں۔ پھر سوچا کہ ریل ۱۲؍بجے روانہ ہوگی اور سنا ہے کہ بابا صاحب تانگے پر بھی باہر نکلتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ راستے میں ان سے ملاقات ہوجائے۔ ابھی میں باہر کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ شوراٹھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک صاحب تانگے پر بیٹھے آرہے ہیں اور ساتھ میں لوگ دوڑ رہے تھے۔ میں باباتاج الدینؒ کو پہچان لیا۔ خوشی کے عالم میں ان کی قدم بوسی کے لئے دوڑا اور جونہی تانگے کے قریب پہنچا، دل میں شدید درد اٹھا اورقریب تھا کہ میں گرپڑوں باباصاحبؒ نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔’’ٹھہرجا! ‘‘ میں رک گیا۔ گاڑی آگے چلی گئی اور میں گھرلوٹ گیا۔ میں عبدالکریم صاحب کا انتظار کرتا رہا کہ وہ آئیں تو میں ان کے ساتھ اسٹیشن جاؤں لیکن وہ نہیں آئے اورمیری گاڑی چھوٹ گئی۔ تین بجے کے قریب میں دوبارہ باباصاحبؒ کے درشن کو نکلا۔ آپ دوبارہ تانگے میں سوار آئے۔ میں نے بابا صاحبؒ کے چہرے پر نظرڈالی تو ان کی آنکھیں بند تھیں۔ میں نے سوچا نہ جائے کیا وجہ ہے کہ باباصاحبؒ نے آنکھیں بندکر رکھی ہیں۔ باباصاحب نے آنکھیں کھول کر فرمایا۔’’ارے، ہورے، ہوجائے گا۔ اللہ اللہ کرکے بیٹھ جا، نوکری چھوڑ دے۔ ‘‘ میرے دل میں خیال آیا کہ اگر نوکری چھوڑدوں تو گزربسر کیسے ہوگی۔ باباصاحبؒ نے کہا۔’’ارے کیا پیٹ لگایا رے، تجھے پاؤ پیٹ گنجی دیا رکھ لے کر، اللہ اللہ بول کر گزاردے۔‘‘

میں نے سوچا، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ دل کی حالت خطرناک ہے۔ میں تو ایک مہینہ شاید ہی زندہ رہوں ۔ بس یہ آخری دن اللہ اللہ کرکے گزار دینے چاہئے۔

باباصاحبؒ نے ارشاد فرمایا: ’’ارے ان باتوں کا کیوں خیال کرتا رے، جا اللہ اللہ کر۔ ‘‘

میں مدراس واپس آکر چھ سال تک نوکری میں رہا اور پھر پنشن پاکر اللہ اللہ کررہاہوں۔ اب نہ میرے دل میں درد ہے اور نہ کوئی دوسری شکایت ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 133 تا 136

سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ اقتباس  ِ 1 - روحانی انسان  ِ 2 - نام اور القاب  ِ 3 - خاندان  ِ 4 - پیدائش  ِ 5 - بچپن اورجوانی  ِ 6 - فوج میں شمولیت  ِ 7 - دو نوکریاں نہیں کرتے  ِ 8 - نسبت فیضان  ِ 9 - پاگل جھونپڑی  ِ 10 - شکردرہ میں قیام  ِ 11 - واکی میں قیام  ِ 12 - شکردرہ کو واپسی  ِ 13 - معمولات  ِ 14 - اندازِ گفتگو  ِ 15 - رحمت و شفقت  ِ 16 - تعلیم و تلقین  ِ 17 - کشف و کرامات  ِ 18 - آگ  ِ 19 - مقدمہ  ِ 20 - طمانچے  ِ 21 - پتّہ اور انجن  ِ 22 - سول سرجن  ِ 23 - قریب المرگ لڑکی  ِ 24 - اجنبی بیرسٹر  ِ 25 - دنیا سے رخصتی  ِ 26 - جبلِ عرفات  ِ 27 - بحالی کا حکم  ِ 28 - دیکھنے کی چیز  ِ 29 - لمبی نکو کرورے  ِ 30 - غیبی ہاتھ  ِ 31 - میڈیکل سرٹیفکیٹ  ِ 32 - مشک کی خوشبو  ِ 33 - شیرو  ِ 34 - سرکشن پرشاد کی حاضری  ِ 35 - لڈو اور اولاد  ِ 36 - سزائے موت  ِ 37 - دست گیر  ِ 38 - دوتھال میں سارا ہے  ِ 39 - بدکردار لڑکا  ِ 40 - اجمیر یہیں ہے  ِ 41 - یہ اچھا پڑھے گا  ِ 42 - بارش میں آگ  ِ 43 - چھوت چھات  ِ 45 - ایک آدمی دوجسم۔۔۔؟  ِ 46 - بڑے کھلاتے اچھے ہو جاتے  ِ 47 - معذور لڑکی  ِ 48 - کالے اور لال منہ کے بندر  ِ 49 - سونا بنانے کا نسخہ  ِ 50 - درشن دیوتا  ِ 51 - تحصیلدار  ِ 52 - محبوب کا دیدار  ِ 53 - پانچ جوتے  ِ 54 - بیگم صاحبہ بھوپال  ِ 55 - فاتحہ پڑھو  ِ 56 - ABDUS SAMAD SUSPENDED  ِ 57 - بدیسی مال  ِ 58 - آدھا دیوان  ِ 59 - کیوں دوڑتے ہو حضرت  ِ 60 - دال بھات  ِ 61 - اٹیک، فائر  ِ 62 - علی بردران اورگاندھی جی  ِ 63 - بے تیغ سپاہی  ِ 64 - ہندو مسلم فساد  ِ 65 - بھوت بنگلہ  ِ 66 - اللہ اللہ کر کے بیٹھ جاؤ  ِ 67 - شاعری  ِ 68 - وصال  ِ 69 - فیض اور فیض یافتگان  ِ 70 - حضرت انسان علی شاہ  ِ 71 - مریم بی اماں  ِ 72 - بابا قادر اولیاء  ِ 73 - حضرت مولانا محمد یوسف شاہ  ِ 74 - خواجہ علی امیرالدین  ِ 75 - حضرت قادر محی الدین  ِ 76 - مہاراجہ رگھو جی راؤ  ِ 77 - حضرت فتح محمد شاہ  ِ 78 - حضرت کملی والے شاہ  ِ 79 - حضرت رسول بابا  ِ 80 - حضرت مسکین شاہ  ِ 81 - حضرت اللہ کریم  ِ 82 - حضرت بابا عبدالرحمٰن  ِ 83 - حضرت بابا عبدالکریم  ِ 84 - حضرت حکیم نعیم الدین  ِ 85 - حضرت محمد عبدالعزیز عرف نانامیاں  ِ 86 - نیتا آنند بابا نیل کنٹھ راؤ  ِ 87 - سکّوبائی  ِ 88 - بی اماں صاحبہ  ِ 89 - حضرت دوّا بابا  ِ 90 - نانی صاحبہ  ِ 91 - حضرت محمد غوث بابا  ِ 92 - قاضی امجد علی  ِ 93 - حضرت فرید الدین کریم بابا  ِ 94 - قلندر بابا اولیاء  ِ 94.1 - سلسلۂ عظیمیہ  ِ 94.2 - لوح و قلم  ِ 94.3 - نقشے اور گراف  ِ 94.4 - رباعیات
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)