آئینہ بینی

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45080

آئینہ بینی سے متعلق ایک واقعہ مثال کے طور پر پیش ِ خدمت ہے جو جمعہ ۱۴۔ اگست ۱۸۹۶ کو انگلینڈ کے اخبار مارننگ لیڈر میں چھپا گزشتہ ماہ ڈیوڈ تھامس نامی ایک شخص کی لاش جو کہ لارڈ ونڈ سر کی جاگیر میں بحیثیتِ کارپنٹر کام کرتا تھا، کارڈف کے قریب ، فبرد وائر نامی موضع کے پاس پائی گئی۔ کسی نے اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ تلاش کے باوجود نہ تو قاتل کا کوئی سُراغ مل سکا اور نہ ہی سببِ قتل کا علم ہوا۔ تمام شہادتوں کی رُو سے ڈیوڈ ایک خاموش طبع آدمی تھا ۔ اُسے سب ہی پسند کرتے تھے۔اس کت گھریلو تعلقات بھی خوش گوار تھے۔ وہ کارڈنگ شائر کے ایک چھوٹے سے قصبے امیزان کا باشندہ تھا لیکن گزشتہ کئی سال سے گلمورگن شائر میں رہ رہا تھا۔ اس نے اسی جگہ ایک معزز خاتون سے شادی کی تھی۔
چند ماہ قبل اسے لارڈ ونڈ سر کی جاگیر میں بڑھئی کی حیثیت سے ملازمت ملی تھی۔ اس لئے وہ کارڈف سے تھوڑی ہی دور ایک گاؤں سینٹ فاگان میں مقیم تھا۔ اُسے اس گاؤں میں آئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ ہفتہ کی رات کو یہ المیہ پیش آ گیا۔
حادثے کی رات اس نے اپنا کام وقت سے کچھ دیر پہلے ہی ختم کر دیا تھا تا کہ وہ اپنے کیبن کے آگے اُگی ہوئی گھاس اور جھاڑ جھنکاڑ کاٹ سکے۔
سہہ پہر کے وقت جب وہ کام سے بیزار ہو کر کیبن میں گیا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ وہ بچوں کو باہر تفریح کے لئے لے جائے۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اس کی بیوی نے بھی جو کیبن کے دوسرے حصے میں کام کر رہی تھی، اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ تاہم اسے اتنا یاد رہا کہ اس کے شوہر نے اوپر جانے کے بعد ہاتھ منہ دھویا اور کپڑے بدلنے کے بعد بچوں کو ساتھ لئے بغیر ہی چلا گیا تھا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہے اس کی کسی دوست سے ملاقات ہو گئی اور دونوں ٹہلتے ہوئے شراب خانے میں چلے گئے جہاں انہوں نے کچھ بئیر پی اور پھر دس بجے شبایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ اس وقت تھامس بہت خوش تھا اور وہ تیزی سے چلتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سڑک کے سنسان مقام پر پہنچا۔ اسی لمحے ایک دوسرے راہ گیر نے پستول چلنے کیآواز اور ایک درد ناک چیخ سُنی۔ اس راہ گیر کو گولی چلنے کے فوراً بعد ایک ایسا آدمی تیز تیز چلتا ہوا دکھائی دیا جس کے انداز سے پریشانی متر شح تھی۔
اس مقام سے دو سو گز آگے راہ گیر کو سڑک کنارے لاش پڑی دکھائی دی۔ جب اس نے لوگوں کو مدد کے لئے پکارا تو معلوم ہوا کہ لاش ڈیوڈ تھامس کی ہے۔اسے تقریباً سو گز کے فاصلے سے گولی ماری گئی تھی۔ مگر وہ فوراً ہی نہیں مر گیا۔ بلکہ دہشت کے عالم میں کچھ دور تک دوڑتا چلا گیا تھا۔ سڑک پر اتنی دور تک خون کی لکیر صاف دکھائی دے رہی تھی۔
ا قتل اور تاتل کی شناخت کے سلسلے میں ” کارڈف سائیکولوجیکل سو سائٹی ” کی جانب سے آئینہ بینی کرنے والی ایک ۱۹ سالہ لڑکی نے آئینہ بینی کے ذریعے عجیب و غریب انکشافات کئے۔ کچھ دنوں بعد اس لڑکی کو فئیر دائر لے جایا گیا۔ وہ اس سے قبل وہاں کبھی نہیں گئی تھی۔ وہاں جا کر اس نے سابقہ طریقے کے ذریعے قتل سے متعلق تمام تفصیلات بیان کر دیں ۔
اس عجیب و غریب واقعہ کی اطلاع اخبار ” ویسٹرن میل ” والوں کو بھی ہوئی لڑکی کے بیان کو مشکوک سمجھتے ہوئے انہیوں نے کہاکہ وہ اخبر کے دو نمائندوں کی موجودگی میں اس تجربہ کودُہرائے۔ لڑکی نے اس پیش کش کو قبول کر لیا۔ چنانچہ ایک رات اس تجربے میں حصہ لینے والے تمام افراد اس شراب خانے کے باہر جمع ہو گئے جہاں مقتول ڈیوڈ تھامس نے اپنی زندگی کا آخری جام پیا تھا۔ شراب خانے سے وہ آئینی بیں لڑکی چل پڑی۔ اس کے ہمراہ ” ویسٹرن میل ” کے نما ئندے بھی تھے۔ وہ خاموشی سے چلتی رہی حتی کہ ایک جگہ وہ خود بول اٹھی ” میں اپنی نگاہوں کے سامنے ایک پستول دیکھ رہی ہوں۔ اس کا رُخ میری جانب ہے۔ پستول نیا اور چمک دار ہے۔ اس پستول کا دہانہ کشادہ نظر آرہا ہے۔ اور نال میری جانب اٹھی ہوئی ہے۔”
چالیس گز مزید آگے بڑھنے کے بعد لڑکی نے دوبارہ کہا۔ ” میں کسی کے قدموں کی چاپ سُن رہی ہوں۔ مجھے ایک آدمی دکھائی دے رہا ہے۔”
” کہاں ؟” نمائندوں نے سوال کیا۔
” بالکل ہمارے سامنے، وہ سڑک کے کنارے لگی ہوئی باڑھ کے ساتھ رینگ رہا ہے۔ غالباً اس کی کوشش ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔”
“اس کا حلیہ کیا ہے اور اس نے کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں ؟”
آئینہ بین لڑکی جس پر اس وقت جذب کی سی کیفیت طاری تھی تیزی سے بولنے لگی اور اچانک اس کت قدموں میں بھی تیزی آگئی۔ اس کے ہمراہ چلنے والے نمائندوں نے اسے بانہوں سے پکڑ کر سہارا دے رکھا تھا۔ اچانک لڑکی نے ایک جھٹکے سے ایک ساتھی کو آگے دکھیل دیا۔ اس نے جس خیالی شبیہ کو دیکھا تھا اب وہ اس کے تعاقب میں تھی کہ لڑکی کے حلق سے ایک دردناک چیخ نکلی۔ایک اخباری نمائندے نے لپک کے اسے سہارا دیا ورنہ وہ منہ کے بل زمین پر گر جاتی۔ یہ واقعہ عین اس جگہ پیش آیا جہاں ڈیوڈ تھامس کو پہلی گولی لگی تھی۔
لڑکی کے حلق سے کراہنے کی آواز یں نکلنے لگی تھیں۔وہ اپنے بازوؤں کو بڑے کرب کے عالم میں موڑ کر پشت کی جانب لے جانے کی کاشش کر رہی تھی۔ اخباری نمائندے نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ کندھوں کے نیچے کسے مقام تک پہنچنے کے لئے بے تاب ہیں۔ انہوں نے اس کو مضبوطی سے سہارا دیا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی آگے بڑھتی چلی گئی۔
لڑکی کی حالت لمحہ بہ لمحہ نازک ہوتی جاری تھی۔ اس کی آنکھیں چڑھ گ۴ی تھیں اور صرف پتلیاں نظر آ رہی تھیں۔ انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ جیسے قریبُ المرگ ہو۔” اسے چھوڑ دو۔” ایک اخباری نمائندے نے کہا اور لڑکی کا ہاتھ چھوڑ دیا گیا وہ کراہتی ہوئی زمین پر آ رہی۔ اس کے کراہنے سے انتہائی کرب ظاہر ہو رہا تھا ۔ اور وہ مرتے ہوئے کسی جاندار کے سے انداز میں کراہتی ہوئی یوں ساکت ہو گئی جیسے مر چکی ہو۔
” بولو دوست، تم کون ہو؟’ ایک نمائندے نے بہ آواز ِ بلند کہا۔
لڑکی نے بہت دھیمی آواز میں اٹک اٹک کر جواب دیا۔ ” ڈیوڈ۔۔۔۔۔ تھ۔۔۔۔تھ۔۔۔۔تھامس۔”
“تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟”
” مجھے گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔” لڑکی نے جواب دیا۔ لیکن اس کا لہجہ مردانہ تھا۔
“تمہیں کس نے گولی مای تھی؟”
لڑکی نے ایک نام بتایا جسے اخباری نمائندوں نے نوٹ کر لیا۔
” اب تم ہم سے کیا چاہتے ہو دوست! ہم کیا کریں؟” سوال کیا گیا۔
آہستہہ آہستہ لڑکی کے لب حرکت کر رہے تھے ۔ جیسے وہ انتہائی کرب کے عالم میں بولنے سے قاصر ہونے کے باوجود بولے بغیر نہ رہ سکتی ہو۔
“میں اپنا انتقام لوں گا۔”
” کس سے؟”
” جس نے مجھے گولی مار کر ہلاک کیاہے۔”
اس گفتگو کے بعد لڑکی نے انہیں آلہ قتل کے بارے میں بتایا۔ اس پستول کو بر آمد کر لیا گیا جس سے ایک سال قبل ڈیوڈ تھامس کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس دوران لڑکی مردہ حالت میں ( بظاہر) ٹیلی فون کے ایک کھمبے کے قریب لیٹی رہی۔ رفتہ رفتہ اس کی حالت معمول پر آتی چلی گئی اور یکایک وہ چلانے لگی۔” دیکھو، دیکھو۔” اس کا لہجہ انتہائی خوف زدہ تھا۔ ” خون دیکھو۔”
” کہاں۔”
” یہاں دیکھو!” لڑکی چلائی ” خون ، خون کے قطرے۔”
اخباری نمائندوں نے بغور دیکھا لیکن غیر مرئی خون کے قطرے انہیں نظر نہیں آئے۔
” مجھے یہاں سے دور لے چلو۔” لڑکی نے اپنے پورے وجود سے کانپتے ہوئے کہا۔اور پھر یکایک اس کا جسم اکڑ گیا۔ اس نے کہا۔ ” وہ ادھر ہے۔” ایک مرتبہ پھر لڑکی کے لہجے پر شدید خوف کا غلبہ ہوا۔ اور اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ آنکھوں سے ابھی تک مردنی جھلک رہی تھی۔
” تم کیا دیکھ رہی ہو؟’
” بھوت۔” لڑکی نے جواب دیا۔
بظاہر یہ واقعہ بہت پیچیدہ اور عقل کی حدود سے باہر ہے لیکن ایسا نہین ہے۔ آپ ٹیلی پیتھی کے اس مضمون مین پڑھ چکے ہیں کہ انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں ۔ دماغ نمبر دو جب متحرک ہو کر سامنے آ جاتا ہے تو ایسی باتیں سامنے آنے لگتی ہیں جن کی عقل اس لئے تشریح نہیں کت پاتی کہ وہ ٹائم اسپیس کی حد بندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ آئینہ بینی ہو یا اور کسی قسم کی مشق جو دماغ کو خیالات کے ہجوم سے نکال کر کسی ایک نقطہ پر مرکوز کر دے اس کے نتائج یہی مرتب ہوتے ہیں کہ نظروں کے سامنے ایسے حالات و واقعات دَور کرنے لگتے ہیں جو عام نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اس کو مختصراً اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جب خیالات کا ہجوم ٹوٹ کر صرف اور صرف ایک خیال پر مرکوز ہو جائے تو انسان کے اندر چھٹی حس اپنی نوری توانائیوں کے ساتھ متحرک ہو جاتی ہے۔
یہ ہم سب کا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہماری زندگی کا تاروپوددراصل مختلف النوع خیالات پر قائم ہے اور نوعِ انسانی خیالات کے ان ہی چھوٹے بڑے ٹکڑوں پر زندگی گزارتی ہے۔
مثال:
ہمیں بھوک لگتی ہے۔ بھوک کیا ہے؟ جسمانی نشوونما قائم رکھنے کے لئے بھوک طبیعت کا ایک تقاضہ ہے۔ یہ تقاضہ خیال بن کر ہمارے دماغ پر وارد ہوتا ہے اور ہم اس خیال کی طاقت کے زیرِ اثر کچھ نہ کچھ کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔علی ہذالقیاس زندگی ہر تقاضہ اسی قانون کا پابند ہے۔ زندگی میں کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو خیال سے شروع ہو کر خیال پر ختم نہ ہوتا ہو۔ اعصاب جب تھکان محسوس کرتے ہیں تو طبیعت ہمیں خیال کے ذریعے اس بات سے مطلع کرتی ہے کہ ہمیں آرام کرنا چاہئیے اور ہم سو جاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 51 تا 57

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)