کیمرہ

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6238

خدا وہ ذات اور رب وہ ہستی ہے جو سب کے دل میں موجود ہے۔ جس طرح دل کی حرکت کے بغیر زندگی کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح خدا کے بغیر دل کی حرکت کا تصور بے معنی ہے۔ خدا سب کا دوست ہے اور ایسا دوست جو بار بار ہر ہر جنم میں، پنگوڑے میں، لڑکپن میں، جوانی میں، بوڑھا پے میں ہمارے ساتھ رہتا ہے۔
باپ کے تخلیقی سیّال مادّہ کو جب ماں قبول کرتی ہے اور یہ دو قسم کے لعاب آپس میں تحلیل ہو جاتے ہیں تو جسم وجود میں آتا ہے اور ماں کے جسم کے مطابق وہ جسم ڈھلتا اور بڑھتا رہتا ہے اور ہڈیوں کے پنجرے پر گوشت کی دبیز تہوں کو جب اعصاب کی پٹیوں سے کس کر کھال کے پلاسٹر سے مزیّن کر دیا جاتا ہے تو جسم کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ اس مکمل شدہ جسم کو گرمی کے تھپڑوں اور خنک لہروں سے محفوظ رکھنے کے لیئے ایک بند کوٹھری میں تحفّظ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ جسم کی نشو نما کے لیئے ماں کے اندر دوڑنے والے خون کو ایک پائپ کے ذریعے اس وجود کی رگوں اور شریانوں میں دوڑایآ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس بند کوٹھری سے باہر آنے سے پہلے اس وجود کی نشو و نما کے لیئے ماں کے سینے میں غذا کا ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ نسلی سلسلہ کتّے، بلّی، شیر، بکری، اونٹ، گائے، گھوڑے، ہاتھی دیگر چوپائے اور انسان میں ایک مسلسل، متواتر اور مشترک عمل ہے۔ بے شک سیّال مادّہ کی اس منتقلی میں تخلیق کا راز چھپا ہوا ہے۔
دکھ سُکھ کی زندگی گزارنے کے بعد جسم پر موت وارد ہو جاتی ہے۔ پھر یہی جسم ماں اور باپ کے جسم میں جلوہ گر ہو کر کسی باپ کی پشت اور کسی ماں کے بطن میں داخل ہو جاتا ہے اور اس طرح نئی نئی صورتین عالمِ وجود میں آتی رہتیں ہیں۔
نوعوں کے نسلی سلسلہ پر غور کیا جائے تو یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ باوجود مشترک قدروں کے ہر نوع کی اپنی ایک انفرادیت ہے۔ سننا، دیکھنا، محسوس کرنا، بھوک پیاس کا تقاضا سب میں مشترک ہے مگر پھر بھی ہر نوع اور ہر نوع کا ہر فرد ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
ہمارا دوست خدا، ہمیں اس تسلسل کےساتھ سنبھالے ہوئے ہے کہ ہمارا نسلی تشخص برقرار رہتا ہے۔ پیدائش کا عمل ایک ہونے کے باوجود کائنات کے ہر وجود کی اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ جب ہماری “زمین ماں” ہمارے دکھ سکھ ختم کرنے کے لیئے ہمیں اپنی آغوش میں اس طرح سمیٹ لیتی ہے کہ مادّی وجود معدوم ہو جاتا ہے تو خدا، ہمارا دوست ہمیں دوسری دنیا میں نسلی سلسلہ کے خلاف پیدا کر دیتا ہے۔ مرنے جینے کا یہ سلسلہ ازل سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔
میں، خواجہ شمس الدین عظیمی، ازل میں “کن” کا ظہور بنا، لوحِ محفوظ کے کیمرے نے میری فلم بنائی اور یہ فلم برزخ کی اسکرین پر ڈسپلے (DISPLAY) ہوئی۔ برزخ کے پروجیکٹر نے خواجہ شمس الدین عظیمی کی اس فلم کو ڈسپلے کیا تو نسلی سلسلے کی مشین نے مقررہ پروسیس (PROCESS) کے تحت زمین کی اسکرین پر دکھا دیا ۔ زمینی کیمرہ خواجہ شمس الدین عظیمی کی ایک حرکت اور ایک ایک عمل کی فلم بناتا رہا۔ اور جب یہ فلم مکمل ہو گئی تو عالم اعراف کی اسکرین پر منتقل ہو گئی۔ عالم اعراف سے حشر و نشر اور حشر و نشر سے جنّت اور دوزخ تک یہ فلم نظر آتی رہی۔ اس مربوط نظام کو چلانے والا، تحفّظ دینے والا کون ہے —– ؟
ہمارا دوست خدا ہے !
ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ، متانت اور بردباری کے ساتھ یہ سوچنا ہوگا کہ مرنے جینے اور جسم کی نت نئی تبدیلیوں کے پیچھے کیا عوامل کا م کر رہے ہیں، کیوں یہ سلسلہ قائم ہے، ہم کیوں قائم بالذّات نہیں ہو جاتے، کیا ہم بار بار تبدیلیٔ جسم کے سلسلے کو ختم کر سکتے ہیں اور کیا ہم بقائے دوام پا سکتے ہیں۔ اور کیا ہر آن اور ہر لمحہ جسمانی، ذہنی، شعوری تبدیلی سے نجات ممکن ہے؟ ہمیں یہ تفکر کرنا ہو گا کہ اختلاف لیل و نہار کے ساتھ ہم بھی کیوں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
یہ جاننے کے لیئے ہمیں اپنے دوست خدا کو پہچاننا ہو گا اور جب ہم اپنے سچے پاک اور ایثار کرنے والے دوست خدا سے واقف ہو جائیں گے تو ردّ و بدل کا یہ لامتناہی سلسلہ ایک نقطہ پر ٹھہر جائے گا۔
بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اپنے ماں باپ کو پیار کرتا ہے، اور پھر اپنے بہن بھائی کو اور جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے وہ اپنے کنبے، سماج، فرقے، ملک، قوم اور نوع انسان سے پیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہوتا۔ اس کے اندر محبت اور پیار کی تشنگی باقی رہتی ہے۔ آج کا بچہ کل کا بوڑھا ہونے تک پیاسا ہی رہتا ہے۔ اور یہ تشنگی اس وقت نہیں بجھتی جب تک وہ نہیں جان لیتا کہ سچا، بے غرض اور عظیم الشان محبُوب کون ہے۔ سارے پیار کی پیاس اس وقت بُجھ جاتی ہے جب ہم اپنے دوست خدا کو محبّت کی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ ہماری محبت روشنی یا ہوا کی لہر بن جاتی ہے، ایسی لہر جو سارے جہان میں پھیل کر محبت کی خوشبو بکھیر دیتی ہے۔
قلندر شعور اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے وہ یہ کہ جس طرح ہمارا دوست خدا ہم سے اور کائنات میں موجود ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ ہم بھی اس کی مخلوق سے محبت کریں۔ جس طرح ہمارا دوست خدا مخلوق کے کام آتا ہے اسی طرح ہم بھی اس کی مخلوق کی خدمت کریں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 178 تا 181

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)