کفران نعمت

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6215

برگد کے دو (۲) پتے میز پر میرے سامنے پڑے ہیں۔ ظاہری آنکھ کو ایک رنگ، ایک جسامت اور ایک ہی طرح کے نقش و نگار نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح چار ارب آدمیوں کے ہاتھ ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن جب ہم ہاتھ کے اوپر ماضی و حال کی تحریر پڑھتے ہیں تو ہر ہاتھ ایک نئی دنیا کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ آبادی کے انگوٹھوں کی لکیریں ہمارے اوپر چار اَرب انفرادی ذہن کا انکشاف کرتی ہیں۔ اور ہر انکشاف ایک دوسرے سے مختلف ہوتاہے۔
جس طرح ایک باپ کی اولاد مختلف رنگ و روپ اور مختلف خد و خال کی حامل ہوتی ہیں، اسی طرح ایک درخت کے لاکھوں پتے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہر پتّے کے اندر نقش و نگار ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ کسی درخت کے دو (۲) پتے سامنے رکھ کر تجربہ تو کیجئے۔
درخت بھی آپس میں با تیں کر تے ہیں۔ اچھے یا بُرے کردار کے لوگوں سے متا ثر بھی ہوتے ہیں۔ درختوں کے اوپر مدہّم یا تیز موسیقی بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اب یہ بات بھی پردہ نہیں رہی کہ انسان کے اندر ہمہ وقت دو (۲) حواس کام کرتے ہیں۔ حواس کی ایک طرز ہمیں زمان و مکان میں قید رکھتی ہے اور دوسری طرز میں ہمارے اوپر سے زمان و مکان (TIME & SPACE) کی حد بندیا ں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور انسان خلا کے اُس پار آباد دنیاؤں کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔ کائنات کی ہر مخلوق میں حواس کی یہ دونوں طرزیں سرگرم عمل ہیں۔ یعنی ہر مخلوق میں چھٹی حس موجود ہے۔
پتّے کے اندر چھٹی حس یا باطنی نگاہ نے مجھے جب اپنے اندر تفکر کرتے دیکھا تو پتّہ یوں گویا ہوا “اے آدم زاد ! میں نے اپنے اسلاف (درختوں) سے سنا ہے کہ آدم اشرف المخلوقا ت ہے۔ اُسے قدرت کا ایک مخصوص انعام حاصل ہے، ایسا انعام جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔ اور یہ محرومی اُس کی خود ساختہ ہے۔”
کائنات کی تخلیق کے بعد خالق اکبر نے زمین و آسمان میں تمام مخلوقات کو اپنا امین بنانا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے سماوی مخلوق اور ارضی مخلوق کو مخاطب کر کے فرمایا۔ “ہے کوئی جو ہماری امانت کو اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے۔”
سماوی و ارضی مخلوق نے یک زبان ہو کرعرض کیا ۔ “بارالٰہا ! ہم بہت کمزور اور نا تواں ہیں۔ ہم اس کے اہل نہیں ہیں۔” لیکن آدم نے بغیر سوچے سمجھے اس امانت کو اپنے کاندھے پر اٹھا لیا۔ آج وہی آدم جو آسمانوں اور زمین میں تمام مخلوق سے معزز قرار دیا گیا ہے مصائب اورآلام میں ِسسک رہا ہے اور خود اپنا دشمن بن گیا ہے۔”
درخت جب آپس میں اس اعزاز کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو آدم زاد کی اس جہالت پر خوب ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ آدم جو خود کو ہم سب سے بہت زیادہ باشعور سمجھتا ہے۔ احمق ترین مخلوق ہے۔ ہمارے اسلاف آدم کے اسلاف سے زیادہ ہوشیار اور عقل مند تھے کہ انہوں نے یہ جان لیا تھا کہ اللہ کی امانت قبول کر کے اس کی حفاظت نہ کرنا اوراس سے فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے۔ جب کہ کفرانِ نعمت نا شکری ہے اور ایسی قومیں جو شکر گزار نہیں ہوتیں، صفحہ ہستی پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ آسمانی بلائیں ان کی زندگی کو زہریلا کر دیتی ہیں۔ ایسی قوموں کی عزّتِ نفس داغ دار ہو جاتی ہے، ایسی قومیں ذلت و رُسوائی اور شکست کی علامت بن جاتی ہیں۔
برگد کے پتے کی زبانی عقل و شعور کی با تیں سن کر میں استغراق کے دریا میں ڈوب گیا۔ زبان کو یارا نہ رہا کہ کچھ عرضِ حال کرے ۔ دماغی کمپیوٹر میں کام کرنے والے بارہ کھرب کل پرزے (CELLS) ساکت و جامد ہو گئے۔ آنکھوں میں روشنی دُھندلا گئی کہ فہم و فراست کا مشاہدہ کر سکے۔
بالآخر میں احمقانہ سوال کر بیٹھا۔ “کیا درختوں میں بھی اسی طرح عقل کام کرتی ہے جس طرح آدم زاد عقل سے آراستہ ہے؟”
دونوں پتے کُھد بُد ہنسے اور ایک طنزیہ قہقہہ لگا کر بولے۔ “کسی چیز کا انکار یا اقرار ہی عقل و شعور کا ثبوت ہے۔ اگر ہمارے اسلاف میں عقل نہ ہوتی تو وہ کہتے کہ ہم اس امانت کے متحمل نہیں ہیں۔
درندگی، خون ریزی، قتل و غارت گری، تعصّب، بددیا نتی، خود غرضی اور حق تلفی پر مشتمل زمین کی کوکھ سے جنم لینے والی لاکھوں سال کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہم انسان کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار اور باشعور ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آدم زاد سے زیادہ پست عقل کوئی دوسری مخلوق نہیں۔ کیا یہ اپنے اوپر نادانی اور ظلم نہیں ہے کہ گھر میں غذا کا انبار لگا ہوا ہے اور آدمی فاقے کر رہا ہے؟ کیا یہ جہالت نہیں ہے کہ ساری کائنات آدم کے لیئے مسخّر کر دی گئی ہے اور آدم زاد قید و بند کی زندگی میں ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ آدم زاد اپنے اندر کی روشنی سے دنیا میں روشنی پھیلانے کے بجائے ساری دنیا کو اندھیر کر دینا چاہتا ہے۔
برگد کے درخت کے پتوں کی زبانی یہ مکالمہ سُن کر آنکھیں نم ہو گئیں، جگر خون اور دل اور پاش پاش ہوگیا۔ ایک آہ نکلی اور کانوں میں یہ آواز گو نجی:
“کاش میں درخت کا ایک پتّہ ہوتاجس پر شبنم موتی بن کر استراحت کرتی اور پرندے شاخوں پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے۔ صبح دَم پرندوں کے یہ ترانے میری رُوح میں ایسی سرشاری پیدا کر دیتے کہ میں آسمان کی وسعتوں میں گم ہو کر اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز واپس لے آتا ! ”

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 102 تا 105

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)