وجدان

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6252

کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو زندہ رہنے کے لیئے کسی نہ کسی عقیدے کا پابند رہنا ضروری ہے۔ گرد و پیش کے حالات اور ماں باپ کی تربیت سے جس قسم کے عقائد بچّے کے ذہن میں پرورش پا جاتے ہیں وہی بچّے کا مذہب بن جاتا ہے۔ تمام نظریات کی بنیاد اسی اصول پر کار فرما ہے۔ اس کے بغیر تاثرات، واردات اور کیفیات کو عقیدے کے سلسلے میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ہمارے تمام فلسفے اور تمام طبعی سائنس اسی کلیہ پر قائم ہے لیکن جب ہم انسان کی ذہنی اور اندونی زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ذاتی اور باطنی واردات و کیفیات میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ اور ہم یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ زندگی کا بہت تھوڑا سا حصّہ عقیلت کی گرفت میں آتا ہے۔ جو کچھ ہے وہ بچپن میں سُنی ہوئی، دیکھی ہوئی اور والدین سے ورثہ میں ملی ہوئی کیفیات کا ثمر ہے۔ ہم جب اس مسئلہ کو منطقی انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ عقل کا رعب اور وقار تو بہت ہے لیکن فی الواقع عقل بے بس ہے کیوں کہ جہاں دلائل زیرِ بحث آتے ہیں وہاں محض الفاظ کے گورگھ دھندے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہم جب عقلی بنیادوں پر یا منطقی استدلال سے عقیدے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں مایوسی اور ناکامی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایک زمانہ تھا کہ خدا کی ہستی کے ثبوت میں بہت کچھ لکھا گیا۔ بے شمار دلائل نظم و نثر میں جمع کئے گئے اور ایک پورا گروہ ان دلائل اور طرزِ فکر کو پھیلانے کی کوشش کرتا رہا لیکن جب انسانی شعور نے کروٹ بدلی اور صدیوں پُرانے منطقی استدلال کو رد کیا تو وہ ساری تقریریں اور ساری تحریریں اور موٹی موٹی کتابیں طاقِ نسیاں ہو گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنے والی نسل کو مذہب کے بارے میں جو ثبوت چاہئے تھا وہ اُسے نہیں ملا۔ نتیجہ میں مذہب پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا اور نوجوان نسل نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مذہب جس خدا کر تذکرہ کرتا ہے، اگر خدا ہے تو ہمارا خدا ایسا نہیں ہے جس طرح ہمارے آبا و اجداد سمجھتے تھے۔ مفکر جب فکر گہرائیوں میں غوطہ زن ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ کوئی بندہ اپنے عقیدے کی وجہ بیان نہیں کر سکتا۔ اس لیئے کہ وجہ بیان کرنے میں عقلی دلائل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
ان سب کے باوجود رواں دواں زندگی میں ہم سب یہ یقین رکھتے ہیں کہ عقیدے کے بغیر کوئی فرد زندگی کو صیحح خد و خال پر قائم نہیں رکھ سکتا۔ عقیدے سے مراد عام طور سے یہ لی جاتی ہے کہ بندہ یہ کہتا ہو کہ کوئی ایسی ماورائی ہستی موجود ہے جس کے ہاتھ میں پوری کائنات کا نظام ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، جس طرح چاہتا ہے ہوتا رہتا ہے۔ بدعقیدگی یا عقیدہ کا نہ ہونا انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ سب اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے لیکن بہرحال عقیدہ ہو یا بے عقیدگی انسان اپنی ذات سے ہٹ کر اندر کی دنیا کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں بے عقیدہ ہونا بھی ایک عقیدہ ہے۔ کوئی شخص اگر خدا کی ہستی اور خدا کے وجود سے انکار کرتا ہے تو ہم اس کو دہریہ کے عقیدہ کا حامل کہتے ہیں۔ جب تک مذہب اور خدا کے بارے میں ہمارے اندر فلسفی انداز اور منطقی استدلال موجود رہتا ہے ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے اس لیئے کہ ماورا ہستی کو سمجھنے کے لیئے ماورائی شعور کا ہونا بھی ضروری ہے۔ پس ثابت یہ ہوا کہ مذہب ماورائی ہستی اور صداقت کی اصل اساس ہمارا غیر شعوری عقیدہ اور وجدان ہے۔ جب ہم وجدان میں قدم بڑھا دیتے ہیں تو فطرت ہماری رہ نمائی کرتی ہے اور عقل اس کی پیروی کرتی ہے۔ یہ بات مشاہدہ میں ہے کہ جن لوگوں کے اوپر وجدان کی دنیا روشن ہو گئی ان لوگوں کے اندر خدا کے عدم وجود کے بارے میں خوا کیسے بھی بلند دلائل پیش کئے گئے ان کے عقیدے میں اور ان کی طرزِ فکر میں کوئی تبدیلی پید انہیں ہوئی۔
یہ حقیقت اس طرف رہ نمائی کرتی ہے کہ وجدان ایک ایسا عالم ہے جس عالم میں ہر لمحہ، ہر آن حقیقتیں عکس ریز ہوتی رہتی ہیں۔ عالمِ وجدان میں سفر کرنے والا مسافر وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جو عقل کی پہنائیوں میں گم ہونے والا بندہ نہیں دیکھتا۔ انسانی جبلّت اور فطرت کا موازنہ کیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جبلّت بے قرار اور بے سکون رکھتی ہے اور فطرت میں انسان کے اوپر سکون اور راحت کی بارش برستی رہتی ہے۔ اس لیئے کہ فطرت براہ راست خالقِ کائنات سے ہم رشتہ ہے اور تخلیق کرنے والی ہستی سراپا سکون اور رحمت ہے۔
نسلی اعتبار سے ہمارے بچّے جس مذہب کے پیروکار ہیں انہیں جب اس مذہب میں سکون نہیں ملتا تو وہ بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ سکون ایک حقیقت ہے، ایسی حقیقت جس حقیقت کے ساتھ پوری کائنات بندھی ہوئی ہے۔ حقیقت فکشن نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بندے کے اندر وہ کون سی طاقت ہے جو ٹوٹ پھوٹ، گھٹنے بڑھنے اور فنا ہونے سے محفوظ ہے۔ وہ طاقت، وہ ہستی ہر بندے کی اس کی اپنی رُوح ہے۔ نسلی اعتبار سے اگر ہم اپنے بچوں کو ان کے اندر موجود رُوح سے آشنا کر دیں تو وہ خدا کے دوست بن جائیں گے۔ خدا کا فرمان ہے کہ اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا۔ زندگی کی ذہنی جسمانی اور رُوحانی تمام مسرّتیں ان کے شاملِ حال ہوتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 231 تا 233

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)