نماز

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6226

دراز ریش، غزالی آنکھیں، کھلی پیشانی، کتابی چہرہ —– ایک بڑے عالم فاضل تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو حدیث کا تزکرہ نکل آیا۔ صاحب موصوف نے کہا
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اس کو لکھ کر خشک ہو گیا۔ جب قلم لکھ کر خشک ہو گیا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رُوحانیت کیا ہے؟
روزانہ صبح ہوتی ہے۔ صبح کے تاثرات اور ماحول بھی موسم کے لحاظ سے یکساں ہوتا ہے۔ مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر صبح نئی صبح ہے۔ رات آتی ہے۔ ایک بستر، ایک چارپائی، ایک کمرہ اور ایک ہی گھر میں ہم سو تے ہیں مگر سمجھتے یہ ہیں کہ ہر رات نئی رات ہے۔ اور بھوک لگتی ہے تو ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔ روٹی ہماری خوراک ہے لیکن ہر مرتبہ ہم اسے نئی روٹی سمجھ کر کھاتے ہیں۔ کیا ہم فریب کی زندگی نہیں گزار رہے ہیں؟ اور جب ساری زندگی ہی فریب ہے تو رُوحانیت کے بلند بانگ دعووں کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے؟ قوم پہلے ہی کون سی باعمل ہے کہ آپ مزید بےعملی کا درس دے رہے ہیں۔”
اس حدیث کی تشریح بیان کرتے ہوئے ابدال حق قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا تھا:
ایک کتاب ہے جو لکھی جا چکی ہے۔ یعنی یہ کتاب ماضی (RECORD) ہے۔ اب اس کتاب کو پڑھنے کی طرزیں مختلف ہیں۔ اگر کتاب شروع سے ترتیب و تسلسل سے پڑھی جائے یعنی ایک لفظ، پھر دوسرا لفظ، ایک سطر، پھر دوسری سطر، ایک صفحہ، پھر دوسرا صفحہ، پھر تیسرا صفحہ۔ علیٰ ہذ القیاس اس طرح پوری کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو مطالعہ کی یہ طرز وہ طرز ہے جو بیداری (شعور) میں کام کرتی ہے۔
انسان کا شعوری تجربہ یہ ہے کہ ایک دن گزرتا ہے، پھر دوسرا دن گزرتا ہے۔ ایک ہفتہ گزرتا ہے، پھر دوسرا ہفتہ گزرتا ہے۔اسی طرح ماہ سال اور صدیا ں اسی ترتیب اور اسی طرز سے یعنی ایک کے بعد ایک کر کے گزرتی رہتی ہیں۔ منگل کے بعد جمعرات کا دن اس وقت تک نہیں آ سکتآجب تک کہ بُدھ کا دن نہیں گزر جاتا ۔ شوّال کا مہینہ اسی وقت تک نہیں آتآجب تک کہ رمضان اور اس کے پہلے کے مہینے نہیں گزر جاتے۔ یہ طرز انسان کے اندر شعوری طرز (زمان و مکان کی قید و بند ) ہے۔ اس طرز کو بیداری کہا جا تا ہے۔ اور جب یہ شعوری طرز کتاب کے ورق کے دوسرے صفحے پر منتقل ہو جاتی ہے تو ٹائم اسپیس سے آزاد لاشعوری طرز بن جاتی ہے۔ آسان الفاظ میں اس بات کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہی طرز دو خانوں میں رد و بدل ہو رہی ہے اور اس رد و بدل یا خیال کا الٹ پلٹ ہونا ہی ہماری زندگی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہاں جو کچھ ہے وہ کتاب میں لکھآجا چکا ہے۔ کتاب ازل ہے اور ازل ماضی ہے۔ رہا گناہ، ثواب، اچھائی، برائی کا تصّور۔ یہ اطلاع میں معنی پہنانے کا ایک عمل ہے۔ وہی چیز جو اچھی ہے بُری بھی ہے۔ ایک آدمی نماز قائم کرتا ہے لیکن قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق اگر وہ اپنی نماز کی حقیقت (نمازمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور ربط قائم ہونا) سے بے خبر ہے تو نماز اس کے لئے ہلاکت اور بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔
صلوٰۃ (نماز ) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مومن کوغیب کی دنیا میں داخل کر دیتی ہے۔ جب کہ عام مشاہدہ یہ ہے کہ غیب کی دنیا سے با خبری تو کجا نماز میں حضور قلب بھی نصیب نہیں ہوتا۔ نمازی جیسے ہی نیت باندھتا ہے خیالات کی یلغار اس کے اوپر مسلّط ہو جاتی ہے۔
ابدال حق قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ قلم لکھ کر خشک ہوگیا کا رُوحانی مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں ماضی کی حکمرانی ہے اور بندے نے امانت قبول کر کے اپنے اوپر یہ ذمہ داری عائد کر لی ہے کہ وہ ماضی کی حکمرانی کو قبول کر لے۔ ماضی زمانہ ہے، زمانہ اللہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد عالی مقام ہے۔ لا تسبوا الدهر فإن الله هو الدهر “زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ ہے۔”

“ازل میں سب کچھ ہو چکا ہے” سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالےٰ نے انسان کو مجبورِ محض بنا دیا ہے بلکہ ازل میں جو کتاب لکھی گئی ہے اس میں جہاں زحمت اور رحمت کی دو طرزیں متعین ہیں وہاں اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے کہ بندہ اپنا اختیار استعمال کر کے اپنے لئے کسی ایک طرز کا انتخاب کر سکتا ہے۔ کتاب کی تحریر ہے کہ زید کے لیئے دو راستے ہیں —– ایک کا انجام زحمت ہے، دوسرے کا نتیجہ رحمت ہے۔
رُوحانیت کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ رُوحانیت کے علاوہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جو انسان کو ماضی (ازل میں لکھی ہوئی کتاب) سے متعارف کراسکے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 137 تا 139

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)