محبت کے گیت

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6232

کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بار بار یا زیادہ صیحح اندازوں کے مطابق سولہ (۱۶) مرتبہ تباہ ہو کر دوبارہ آباد ہوئی ہے۔ خوبصورت، رنگین، با غ و بہار سے مزیّن پرکشش برفا نی کہساروں، موتی کی طرح چمکتےمکّتے آبشاروں، آفتاب کی شعاعوں اور چاند کی کرنوں کا مسکن یہ دنیا۔ اب پھر چالیس ہزار ایٹم بموں کی زد میں موت کے دہانے پر کھڑی ہانپ رہی ہے۔ زمین کے اندر بہنے والے چشمے، انسان کو ترقی کا راستہ بتانے والی معدنیات، نظام کشش ثقل با حسرت و یاس اپنے بیٹوں کے ہاتھوں اپنی ہلاکت کی منتظر ہے۔ جس زمین نے ہمیں پروان چڑھایا ہے آج وہ زمین، وہ دنیا ایک مجسّم سوال بن گئی ہے کہ آدم زاد کس قصور، کس جرم اور کس پاداش میں زمین کی تباہی کے درپے ہے۔ آدم زاد کو اس کی جنم بھُومی نے کیا کچھ نہیں دیا ہے۔ انگوٹھا چوستے بچّے کی جوانی اور جوانی کی لذّت اندوز کیفیات اور ان مسروُر کن کیفیات کے نتیجے میں دنیا کی رونق کیا زمین کا احسان نہیں ہے؟ یہ کیسی احسان فراموشی ہے کہ بچّے اپنی ماں کی گود اجاڑ کرنے اور برباد کرنے پر مُصر ہیں۔
خالق کائنات نے اس دنیا کو محبت، خوشی، مسرّت و شادمانی اور ایثار کا گہوارہ بنایا تھا ۔۔۔۔ اور آج بھی دنیا کی ہر شئے دیدۂ بینا کو مسرّت اور خوشی مہیّا کرتی ہے۔ خوبصورت خوبصورت رنگ بہ رنگ چڑیاں، فطرت کے شاہد مناظر، پانی اتار چڑھاؤ، پہاڑوں کی بلندی، آسمان کی رفعت، پھولوں کا حُسن، درختوں کی قطاریں، تاروں بھری رات، روشن روشن دن، ماں کی آنکھوں میں محبت کی چمک، بچّے کا مچلنا اور کلکاری بھرنا، بہن کی پاکیزگی، بھائی کا اخلاص، بیٹی کا تقدّس، باپ کی شفقت یہ سب بلا شبہ نوع انسان کے لیئے خوشی اور شادما نی کا سامان ہیں۔ ایک ماں کی طرح زمین بھی یہی چاہتی ہے کہ اس کی اولاد پُرمسرّت زندگی گزارے، زمین کو دوزخ نہ بنا ڈالے۔ اس کے اوپر پھولوں کے بجائے انگاروں کی کاشت نہ کی جائے۔
ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی ذات، اللہ کیا ہے؟ اللہ محبّت ہے، اللہ خوشی ہے۔ اللہ نے کائنات کو صرف تخلیق ہی نہیں کیا ۔ کائنات کو قائم رکھنے اور مسرّت و شامانی کو دوام بشنے کے لیئے آم کو تخلیق کیا اور ذیلی تخلیق کی ذمّہ داری عورت کے نازک کندھوں پر رکھی۔ عورت کے دل میں، اس کے ہر ہر روئیں میں اپنی وہ محبت انڈیل دی جو اللہ کی اپنی صفت ہے۔ خالقِ کائنات اللہ نے عورت کو تخلیق کا میڈیم بنا کر اس کے اندر تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ستّر میں سے ایک حصہ اپنی محبت منتقل کر دی تا کہ عورت ماں بن کر اللہ کی تخلیق کو قائم رکھے اور اس باغ کی آبیاری کرتی رہے جس کو پُر بہار دیکھنا اللہ کے لیئے سب سے بڑی خوشی ہے۔
میری بہنو، میری ماؤں، میری بیٹیو!
یہ دنیا آپ کے دَم سے پُررونق اور آباد ہے۔ آپ کی عظمت اس سے ظاہر ہے کہ نظام تخلیق آپ کے وجود سے قائم ہے۔ آپ ہر اس ہستی کی تخلیق کا باعث ہیں جس جس نے اللہ کے قانون کو سامنے رکھ کر اس زمین کو غم و آلام سے نجات دلانے کی کوشش کی ہے۔ ان میں عظیم مفکر بھی ہیں، انبیائے کرام اور ان کے دوست اولیاء اللہ بھی ہیں۔
عورت کی فضلیت کا عالم یہ ہے کہ ماں کی آغوشِ راحت میں اللہ کے محبُوب خاتم النبیین ﷺ نے تربیت پائی اور وہ ماں ہی ہے جس کے دودھ سے آپؐ کا شعور پروان چڑھا اور اس شعور سے اللہ کے احکامات کو نوع انسانی تک پہنچایا۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ہر مصلح قوم کی وریدوں میں ماں کا خون دوڑ رہا ہے۔
یہ کیسی المناکی ہے کہ ۔۔۔۔
سائنس کی پُر فریب ترقی کے پردے میں آپ کے نونہالوں کو چھیننے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ سائنس دانوں کا ایک کرتا دھرتا طبقہ چاہتا ہے کہ مسّرت کا قلعہ کھنڈر بن جائے۔ محبّت کے سوتے خشک ہوجائیں۔ اخلاقی، معاشرتی پابندیا ں جو انسان کی بلندی کا باعث ہیں، ان کی تمام دیواریں منہدم ہو جائیں۔
چند مفاد پرست سرمایہ داروں نے انسانی عروج اور فہم و فراست کی تابانیوں کو اپنی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ بلا شبہ دل کی پیوند کاری میڈیکل سائنس کا ایک بڑا کارنامہ ہے لیکن دل کے ایک آپریشن پر تقریباً دو لاکھ خرچ آتا ہے۔ عوام کا وہ کون سا طبقہ ہے جو اتنا زرِ کثیر خرچ کر کے ایک بیمار دل کے لیئے زندگی طلب کر سکتا ہے۔ آپ نے دودھ پلا کراپنے جگر گوشوں میں جو صلاحیت پیدا کی تھی وہ اب کاروبار بن گئی ہے۔ سونے چاندی کے سکّوں کی قیمت بڑھ گئی ہے اور انسان کی قیمت گھٹ گئی ہے۔
اے میری ماؤں، میری بیٹیو، اللہ کی تخلیق میں رنگ بھرنے والی عورتو !
اب آپ کے اوپر دوہری ذمہ داری آگئی ہے۔ قانون قدرت آپ کو اپنی بادشاہی میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ آپ اپنے بچّوں کی گھٹی میں یہ بات ڈال دیں کہ دنیا قائم رہنے کے لیئے بنی ہے۔ دنیا خوشی اور ساز و آواز کا گہوارہ ہے۔ آپ اپنے نونہالوں میں یہ طرزِ فکر مستحکم کر دیں کہ اللہ سراپا محبت ہے۔ اور چاہتا ہے کہ دنیا میں محبت کے گیت گائے جائیں۔ اگر ہماری مائیں، ہماری بہنیں، ہماری بیٹیاں اپنی اولاد میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی بتائی ہوئی خلوص، محبت اور ایثار کی طرزِ فکر منتقل کر دیں تو دنیا پر چھا ئے ہوئے خوف و ہراس کے بادل چھٹ جائیں گے، معاشرہ سُدھر جائے گا۔ دولت کو سب کچھ سمجھنے والے لوگوں کی ذہانت زنگ آلود ہو جائے گی اور نوع انسانی پھر سے منزل کی طرف گامزن ہو کر اُسی دنیا کا سراغ پا ئے گی جو مسرّت ہے، خوشی ہے، انبساط ہے اور،محبت ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 154 تا 157

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)