قلندر بابا اولیا ء ؒ

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6239

جمعہ کی نماز کے بعد نمازی مسجد سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایک صاحب مذہبی لٹیریچر تقسیم کر رہے تھے۔ لوگ اس لٹریچر کو حاصل کرنے میں کچھ ایسی بے صبری کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ لگتا تھا کہ شیرینی تقسیم ہو رہی ہے۔ میرے ہاتھ میں بھی ایک کتاب لگی۔ جب میں وہاں سے چلا تو پیچھے سے ایک دوست نے آواز دی اور کہا آئیے کہیں چل کر بیٹھتے ہیں، اس مذہبی کتابچّے پر بحث کریں گے۔ میں نے کہا بھائی، میں فقیر آدمی ہوں۔ مجھے بحث سے کیا کام، میرا مسلک انسانیت اور مخلوقِ خدا کی خدمت ہے۔ خدمت کرنے والا بندہ اختلافی مسائل میں نہیں الجھتا۔ لیکن دوست کے اصرار و زور زبر دستی سے ہم دونوں ایک ہوٹل میں جا بیٹھے۔ دوست بولا کہ مذہب محض پابندی کا نام ہے، یہ نہ کرو، وہ نہ کرو اور یہ پابندی بھی ایسی ہستی سے منسوب کی جاتی ہے جو نظر نہیں آتی اس نظر نہ آنے کو آپ لوگ غیب کہتے ہیں۔ میں نے جان چھڑانے کے لیئے ان سے بہت معذرت کی اور کہا میرے بھائی، مذہب اور غیب یہ دونوں عنوان ایسے ہیں جو یقین سے تعلق رکھتے ہیں اور یقین اس وقت تک مکمل نہیں ہوتاجب تک کہ مشاہدہ نہ بن جائے۔ جہان تک اس ہستی کا تعلق ہے جس ہستی سے مذہب اور غیب کو منصوب کیا جاتا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ جب چاہے اپنا مشاہدہ کرا دے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بحث کا آغاز ہو گیا اور مجھے قلندر بابا اولیاءؒ کی ٹیپ شدہ ایک بات یاد آگئی۔
ابدال حق، حسن اخریٰ محمد عظیم برخیا قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:
“رُوحانیت میں لاتناہیت کی انا خصوصیت رکھتی ہے۔ اور لازمانیت کی انا بھی تذکرے میں آتی ہے۔ رُوحانی اقدار سے متعلق جتنے علوم اب تک زیرِ بحث آئے ہیں، ان سب علوم میں کائنات جو مظاہر میں اہمیت رکھتی ہے وہ بعد کی چیز ہے۔ پہلے مخفی اور غیب ہی کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر مخفی اور غیب سمجھنے میں آسانی ہونے لگے تو مظاہر کس طرح بنتے ہیں، مظاہرکے بننے اور تخلیق ہونے کے قوانین کیا ہیں۔ یہ ساری با تیں آہستہ آہستہ ذہن میں آنے لگتی ہیں اور فکر ان کو اسی طرح محسوس کرتی ہے جس طرح بہت سی باتیں جو انسان کے تجربے میں نوعمری سے ہوش کے زمانے تک آتی رہتی ہیں۔ ان میں ایک خاص قسم کا ارتباط رہتا ہے۔ ان تمام چیزوں کو جو غیب سے متعلق ہیں اللہ تعالےٰ نے قرآن پاک میں بہت سے نام دئیے ہیں۔ اور انبیاءؑ نے ان ناموں کا تذکرہ کر کے ان کے اوصاف کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ قرآن پاک سے پہلی کتابیں بھی ان چیزوں پر روشنی ڈالتی ہیں لیکن ان کتابوں میں جستہ جستہ تذکرے ہیں۔ زیادہ تفصیلات قرآن پاک میں ملتی ہیں۔ قرآن پاک کی تفصیلات پر جب غور کیا جاتا ہے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ غیب مظاہر سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ غیب کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مذہب یا دین جس چیز کو کہتے ہیں وہ غیب ہی کے بیس (BASE) پر منحصر ہے۔ مظاہر کا تذکرہ مذہب میں ضرور آتا ہے لیکن ثانویت رکھتا ہے۔ اس کو کسی دور میں بھی اوّلیت حاصل نہیں تھی۔ مادّی دنیا اسے کتنی ہی اوّلیت دے لیکن آہستہ آہستہ وہ بھی اس طرز پر سوچنے لگی ہے مثلاً موجودہ دَور کے سائنسداں بھی غیب کو اوّلیت دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ وہ کسی چیز کو فرض کرتے ہیں۔ فرض کرنے کے بعد پھر نتائج اخذ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ اور جب نتائج اخذ کرتے ہیں تو وہ ان تمام چیزوں کو حقیقی، لازمی اور یقینی قرار دیتے ہیں جیسا کہ بیسویں صدی میں الیکٹران کا کردار زیرِبحث ہے۔ الیکٹراں کے بارے میں سائنسداںوں کی ایک ہی رائے ہے۔ کہ وہ بیک وقت AS A PARTCLE اور AS A WAVE BEHAVE کرتا ہے۔ اب یہ غور طلب ہے کہ جو چیز محض مفروضہ ہے وہ بیک وقت دو طرزوں پر عمل کرے اور اس کے عمل کو یقینی تسلیم کیا جائے۔ وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ الیکٹران کو نہ آج تک دیکھا گیا ہے اور نہ آئندہ اس کے دیکھنے کی امید ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ الیکٹران کو اتنی ٹھوس حقیقت تسلیم کرتے ہیں جتنی ٹھوس کوئی حقیقت اب تک نوعِ انسانی کے ذہن میں آسکی ہے یا نوعِ انسانی جس حقیقت سے اب تک روشناس ہو سکا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ صرف مفروضہ ان کے ذہن میں ہے اور مفروضہ سے چل کر وہ اس نتیجے پر ایسی منزل تک پہنچ جاتے ہیں جس منزل کو اپنے لیئے ایجادات اور بہت زیادہ اہمیت کی اور کامیابی کی منزل قرار دیتے ہیں۔ اس اہم منزل کو وہ نوعِ انسانی کے عوام سے روشناس کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جن حقائق کو وہ حقائق کہہ کر ایک مرتبہ پیش کر چکے ہیں، چند سال کے بعد یا زیادہ مدت کے بعد وہ ان حقائق کو رد کر دیتے ہیں اور رد کر کے نئے طور اطوار کے نئے فارمولے لے آتے ہیں اور ان نئے فارمولوں کو پھر انہی حقائق کا مرتبہ دیتے ہیں جن حقائق کا مرتبہ پہلے وہ ایک حد تک برسہا برس کسی کسی بھی ایک رد شدہ چیز کو دے چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ غیب کی دنیا ان کے لیئے اوّلیت رکھتی ہے حالانکہ وہ محض مادّہ پرست ہیں اور خود کو مادّیت کی دنیا کا پرستار کہتے ہیں۔ وہ ایک لمحے کے لیئے یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا غیب کی دنیا کوئی چیز ہے یا کوئی اہمیت رکھتی ہے یا اس کے کوئی معنی ہیں یا قابل تسلیم ہے یا اس کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس قسم کے تصوّرات جن کو مادّیت کہنا چاہئے ان کے ارد گرد ہمیشہ جمع رہتے ہیں اور جب کبھی کسی غیب کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ ہمیشہ ایک ہی مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک DEMONSTRATION نہ کیا جائے اس وقت تک ہم کسی غیب سے متعارف ہو سکتے ہیں اور نہ کسی غیب سے متعلق یقین کرنے کو اور یہ سمجھنے کو کہ غیب کوئی خبر ہو سکتا ہے ہم تیار ہیں یا یہ کہ ہم سائنس کی دنیا میں نظریئہ غیب کو یا غیب کے تزکرے کو کوئی جگھہ دینے کے لیئے آمادہ ہے۔ بہر کیف وہ جس طرح بھی کہتے ہیں یہ تو صرف طرزِ فکر ہے اور طرزِ گفتگو ہے۔ لیکن عملی دنیا میں اور تفکر کی عملی منزل میں وہ اسی مقام پر ہیں جس مقام پر ایک آدمی غیب پر یقین کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ذات کو پیش کرتا ہے۔ اور ان تمام ایجنسیوں کو تسلیم کرتا ہے جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے اور وہ ایجنسیاں جو شرط ایمان ہیں اور کسی ایسے شخص پر جو اللہ کو مانتا ہے اپنا تسلط رکھتی ہیں۔ اور ان تمام ایجنسیوں اور ان تمام ہستیوں کو وہ ایسی زندہ حقیقت اور ایسی ٹھوس معنویت تسلیم کرتا ہے جیسے کہ مادہ پرست کسی پتھر کی یا معدنی یا کسی ایسے مظاہر کے متعلق چیز کو تسلیم کرتے ہیں جو ان کے سامنے بطور مشاہدے کے ہمہ وقت رہتی ہے۔ اور جس کو یہ چھوتے، چکھتے، دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ جس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ اس میں تغیر ہے، اس میں توازن ہے، اس میں ایک امتزاج ہے، اس میں تاثر ہے، اس میں قوت ہے اور جس قسم کی چیزیں وہ مادّیت کی دنیا میں دیکھتے ہیں ان تمام چیزوں کا وہ اسی طرح تذکرہ کرتے ہیں اور ان پر ایک خاص طرز سے ایمان رکھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں ایک خدا کا پرستار جس طرح غیب پر ایمان رکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح مادّے کا پرستار مادّیت کی دنیا پر یقین رکھتا ہے۔ نہ خدا پرست کو غیب کی دنیا پر ایمان رکھے بغیر چارہ ہے اور نہ مادّیت پرست کو مادّے پر ایمان لائے بغیر مفر ہے۔ دونوں ایک نہ ایک طرز رکھتے ہیں اور ان میں یہ چیز مشترک ہے کہ اس طرز پر ان کا ایمان اور ایقان ہوتا ہے۔ اسی ایمان اور ایقان کو یہ زندگی کہتے ہیں۔ اصل میں کہنے کی بات یہ ہے کہ کوئی زندگی بغیر ایمان و ایقان کے ناممکن ہے خواہ کسی خدا پرست کی زندگی ہو یا مادّہ پرست کی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 182 تا 186

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)