رُوحانی آنکھ

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6240

اللہ تعالےٰ ایک وجود ہے ایک ہستی ہے—– جزو لا تجزیٰ وجود، ماوراء ہستی۔ اس جزو لا تجزیٰ وجود اور ماوراء ہستی کو خیال آیا کہ میں پہچا نآجاؤں پہچاننے کے لیئے ضروری ہے کہ جزو لا تجزیٰ وجود کے علاوہ اور بے شمار وجود موجود ہوں۔ جزو لاتجزیٰ وجود، ماورا ہستی نے اپنے ذہن میں موجود پروگرام کو جب وجود بخشا تو کہا “کن” اور موجودات ایک کنبے کی شکل میں تخلیق ہو گئیں۔
مشاہدے میں فتح کی آنکھ یہ دیکھتی ہے کہ اللہ کا یہ سارا کنبہ ایک نقطے میں بند ہے۔ جس طرح ٹھہرے ہوئے پانی میں جھانکنے سے پانی کے اندر اپنی شکل نظر آتی ہے، اسی طرح اس نقطے کے اندر دیکھنے سے یہ نظر آتا ہے کہ کائنات کے سارے افراد باہم دگر جڑے ہوئے، ملے ہوئے اور ایک دوسرے کت ساتھ پیوست ہیں۔ اس نقطے میں انسان بھی ہے، فرشتے اور جنّات بھی ہیں۔ جمادات، نباتات اور حیوانات بھی ہیں۔ ان سب کی ہیئت کذائی اس طرح واقع ہے کہ ہر نوع کے ہر فرد میں ایک روشن نقطہ ہے اور اس روشن نقطے میں پوری کائنات منعکس ہے یعنی آدمی کے اندر بکری، بکری کے اندر نباتات و جمادات، نباتات و جمادات کے اندر فرشتے، جنّات، ارض و سماوات سب یکجا طور پر موجود ہیں۔
فتح کے بعد شہود کی دوسری نظر سیر ہے۔ سیر کی آنکھ یہ دیکھتی ہے کہ یہ سارا یکجائی پروگرام لوح محفوظ پر منقوش ہے اور لوحِ محفوظ کا منقوش پروگرام خالقِ کائنات کی تجلّی سے بے شمارزمینوں (SCREENS) پر ڈسپلے (DISPLAY) ہو رہا ہے۔ تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار نوعیں اور انسانی شماریات سے سے ماوراء ان نوعوں کے افراد کائنات کے کَل پرزے ہیں۔ یہ کائناتی مشین ایک دائرے (CIRCLE) میں چل رہی ہے۔ جزولاتجزیٰ وجود سے اس کی حرکت شروع ہوتی ہے اور ماوراء ہستی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ آپ چاہیں تو اس کی مثال دنیا کی کسی بھی مشین میں تلاش کر سکتے ہیں۔
اب آپ اپنے ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی دیکھیئے۔ یہ چند پُرزوں سے مل کر وجود میں آنے والی ایک مشین ہے لیکن اس میں قدرت کے راز سربستہ ہیں۔ گھڑی میں ایک لیور، اسپرنگ اور گراری واضح نظر آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے باہمی عمل اور اشتراک سے حرکت کا ایک نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ کوئی آگے پیچھے حرکت کر رہا ہے، کوئی دائرے میں گھوم رہا ہے، کوئی لحظہ بہ لحظہ اپنے حجم کو زیادہ کر رہا ہے۔ بیک وقت کئی حرکتوں پرگھڑی کی زندگی قائم ہے۔ بظاہر سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ الٹی سیدھی حرکت کیوں ہو رہی ہے۔ کچھ دیر کے لیئے حرکت کے اس عمل پر غور کرنے سے آنکھ پس پَردہ چھپے ہوئے راز کو دیکھ لیتی ہے۔ کل پُرزوں کا بار بار ایک CYCLE میں چلنا اور پلٹنا ایک ہی حرکت ہے۔
گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ کی سوئیاں ڈائل پر موجود ہیں۔ سیکنڈ کی سوئی تیزی سے حرکت کر رہی ہے۔ اس تیزی سے کہ ہماری آنکھیں اس حرکت کو محسوس کر رہی ہیں۔ منٹ اور گھنٹے کی سوئیاں بھی حرکت میں ہیں لیکن ہماری نگاہوں کی کمزوری اس رفتار یا حرکت کو محسوس نہیں کرتی۔ ایک وقفے کے بعد جب ہم ان سوئیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ حرکت کا عمل جاری ہے۔—– اس سسٹم میں اگر ایک پُرزے کی کارگزاری بھی متاثر ہو جائے یا کسی وجہ سے اس کی حرکت معطّل ہو جائے تو حرکت کا سلسلہ رُک جائے گا۔
قدرت کا کارخانہ بھی کل پرزوں سے مرکب ہے۔ آسمان، زمین، درخت، پہاڑ، چرندے، پرندے، حشراتُ لارض فرشتے، جنّات اور انسان سب اس عظیم الشان نظام کے اجزاء ہیں جن کے اشتراک سے حرکت کا منظم سلسلہ جاری و ساری ہے۔ فطرت کا اصول ہر نوع، ہر فرد، ہر ذرّہ کے لیئے یکساں ہے۔ البتہ انسان کائنات کی مشین کا ایک ایسا پُرزہ ہے جو اس مشین کے میکانزم سے واقف ہے۔ باقی مخلوق کل پُرزے کی حیثیت میں حرکت کرنے پر مجبور ہے۔ میکانزم کے اس علم کو اللہ تعلےٰ نے امانت قرار دیا ہے۔
—————————————————-
یہ مضمون قرآن پاک کی چار آیتوں اور ایک حدیثِ قدسی کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے:
۱) اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے “ہو” اور وہ ہو جاتی ہے۔ (قرآن)
۲) وہ اعلیٰ و ارفع ذات اللہ ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا ۔ (قرآن)
۳) ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف لوٹ جائے گی۔ (قرآن)
۴) میں نے اپنی امانت سماوات اور زمین اور پہا ڑوں کوپیش کی۔ سب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم اس امانت کے متحمّل نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم نے اس امانت کو اُٹھا لیا تو ہم ریزہ ریزہ ہو جائیں گے (ہمارا شعور بکھر جائے گا)۔ اور اس امانت کو انسان نے اٹھا لیا۔ (قرآن)
۵) میں چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے محبت کے ساتھ مخلوق کو تخلیق کیا تا کہ میں پہچانا جاؤں۔(حدیثِ قدسی)

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 187 تا 189

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)