روشنی

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6231

دوستو، غیب و شہود کے مسافرو، رُوحانیت کے پرستارو ۔۔۔!
جبب پستی اور بلندی کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو یہ بات زیر غور آتی ہے کہ پستی کیا ہے اور بلندی کیا ہے؟ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں یہ بتاتی ہیں کہ جن قوموں میں تفکّر اور ذہنی کاوشیں بروئے کار آتیں رہیں وہ قومیں بلند ہیں۔ اور جن اقوام کے شعور میں سے تفکر نکل گیا وہ پست اور خوار ہیں۔ پستی اور بلندی کے یہی مناظر دیکھنے کے لیئے قدرت نے کچھ ایسے وسائل پیدا کئے کہ میں اپنے پس ماندہ اور ترقی پذیر ملک سے خلائی وسعتوں میں سے گزر کر لندن پہنچا۔ مجھے یقین ہے کہ قدرت یہ چاہتی ہے کہ پستی اور بلندی کی راہوں میں میرا تجربہ بلند ہو۔
میں بنیادی طور پر ایک ایسے عالم و فاضل گھرانے میں پیدا ہوا ہوں جہاں پستی سے مراد صرف یہ ہے کہ آدمی نماز روزے سے غافل رہے اور عروج یہ ہے کہ آدم زاد ثواب کی گھڑیاں باندھتا رہے۔ جس دنیا کا اب میں تذکرہ کر رہا ہوں وہاں میں نے عذاب و ثواب نام کی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ لیکن انہیں اپنی قوم سے زیادہ خوش حال، زیادہ منظم، زیادہ انسان دوست دیکھا۔ عالم یہ ہے کہ وہاں اگر کوئی آدمی بے کار ہے تو اسے اتنا گزارہ الاؤنس ملتا ہے کہ وہ با آسانی دنیا کی تمام آسائشوں کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا ہے۔ وہاں کے رہنے والے لوگوں کی رہائشی زندگی کا عالم یہ ہے کہ ترقی پذیر ملک کا کوئی بڑے سے بڑا آدمی اس کا تصّور نہیں کر سکتا۔ انہیں دنیا کی ہر وہ چیز دستیاب ہے جو انسانی زندگی میں کسی بھی طرح کام آسکتی ہے۔ علمی ترقی کا حال یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد نئی نئی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں۔ لیکن وہاں جس چیز کی کمی ہے وہ سکونِ قلب ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو بغیر دواؤں کے سوتے ہیں۔
نقطہ فکر یہ ہے کہ ترقی پذیر اور پس ماندہ قوم بھی سکونِ قلب سے نا آشنا ہے۔ با وُجودیکہ اربوں، کھربوں سنکھوں نیکیوں کے انبار اُن کے پاس موجود ہیں۔ لیکن وہ روشنی میسر نہیں ہے جو روشنی مسّرت و شادمانی بن کر لہر کی طرح خون میں دوڑتی ہے۔ جس بندے کے پاس نیکیوں کآجتنا بڑا ذخیرہ موجود ہوتا ہے، دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ سکون سے اتنا ہی دور ہے۔ ایک خشکی ہے جو آکاس بیل کی طرح وجود کو چمٹ گئی ہے۔ قنوطیت ہے کی جس نے ہشت پا کی طرح ہمیں دبوچ رکھا ہے۔ نیکی کے متوالوں کو یہاں بھی دیکھا اور وہاں بھی دیکھا۔ وہاں کی حالت یہاں سے زیادہ دگرگوں ہے۔ فرقہ پرستی کی لعنت اتنی زیادہ ہے کہ شراب میں مدہوش پولیس جوتوں سمیت کتوں کو ساتھ لیکر مسجد میں داخل ہوتی ہے۔ اور مسجد کو سیل بند کر دیتی ہے۔ ہو شخص کا اصرار یہ ہے کہ میں نیک ہوں، دوسرے فرقے کے لوگ قابلِ گردن زدنی ہیں۔ یہ حال پس ماندہ قوم کا ہے۔
ان قوموں کا حال جو ترقی کے بلند با نگ دعوؤں کے ساتھ خود کو سُپیرئر سمجھتی ہیں اس سے کچھ مختلف نہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس نے ذاتی اور ما لی منفعت کے لیئے خوبصورت دنیا کو بد ہبیت بنا دیا ہے۔ جگمگ کرتے ستاروں کی سہانی راتوں کو دُھندلا دیا ہے۔ پر خمار اور سحر انگیز نسیم صبح میں ایٹمی ایندھن کا زہر گھول دیا ہے۔ یہ وہ عروج یا فتہ قوم ہے جس نے پھولوں کی مسکراہٹ چھین لی۔ اب پرندوں کی رُوح پرور چہچہاہٹ ایک نغمۂ دل سوز بن کر رہ گئی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو عدم تحفظ کے عمیق غار میں دھکیل دیا ہے۔ عدم تحفظ کی حالت میں سسکتی ہوئی انسانیت کے لیئے چاندنی کا حسن اور دھوپ کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ایٹمی تجربات، ڈیزل اور پٹرول کے بخارات، جیٹ تاروں کے آتشی فضلات نے فضا کو کچھ اس طرح زہر آلود کر دیا ہے کہ انسان کے اندر جانے والا ہر سانس زہر ناک بن گیا ہے اور اس زہرناکی نے انسان کو زیر و زبر کر دیا ہے۔ اعصاب ٹوٹ گئے ہیں، ذہن بکھر گیا ہے۔ دل ہے کہ ہر لمحہ ڈوب جانے کو بضد ہے۔ ترقی کے پُرفریب پردوں میں سسکتی، تڑپتی اور روتی ہوئی قوم نے عافیت اسی میں سمجھی کہ عدم تحفظ کے خوفناک عفریت سے فرار اختیار کیا جائے لیکن اس فرار میں بھی انہیں لالچی اور خود غرض جینیٔس ذہن نے شکار کی طرح دبوچ لیا۔ اور اس عہد کے ترقی یافتہ انسان نے عدم تحفظ کے احساس سے فرار حاصل کرنے کے لیئے ہیروئن، ایل ایس ڈی، راکٹ، چرس مینڈرکس جیسی چیزیں ایجاد کر لیں اور عام آدمی ایک الجھن سے نکلنے کے لیئے دوسری ہزاروں الجھنوں میں مبتلا ہو گیا۔
اس ساری گفتگو کا لبّ لباب یہ ہے کہ جب تک نوعِ انسانی کے افراد میں کاروباری ذہن کام کرتا رہے گا اُسے کبھی سکون میّسر نہیں آئے گا۔ ترقی یافتہ قوم اس لیئے عذاب میں مبتلا ہے کہ ترقی کے پیچھے اس کا اپنا ذاتی فا ئدہ ہے۔ ہر ترقی سونے کا ڈھیر جمع کرنے کا ذریعہ ہے۔ غیر ترقی یافتہ قومیں اس لیئے پریشان ہیں کہ ان کا کوئی بھی عمل کاروباری تقاضوں سے باہر نہیں ہے۔ وہ اللہ کو بھی اس لیئے یاد کرتے ہیں کہ ان کے پیش نظر اپنی ذات کے لیئے منفعت ہے جب کہ اللہ کے لیئے یہ طرزِ فکر نا پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالےٰ کا ارشاد ہے:
“جو لوگ میری آیتوں کا کاروبار کرتے ہیں اُن کے پیٹ دوزخ کے انگاروں سے بھر دو ں گا۔”
ظاہر ہے پیٹ کے اندر دھکتے ہوئے انگارے ایک کھلا عذاب ہیں اور یہی عذاب روپ دھار کر کبھی اضطراب بن جاتا ہے۔ کبھی بے چینی کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کبھی عدم تحفظ کا احساس بن کر لمحہ بہ لمحہ ہمیں خوف کی دنیا میں لے جاتا ہے اور ہمارے اوپر موت کی میٹھی نیند طاری کر دیتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 150 تا 153

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)