دادی اماں

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6212

دادی اماں اتنی خوبصورت تھیں کہ پورے خاندان میں ان کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ اتنی نیک تھیں کہ ان کی نیکی اور پاکیزگی کے چرچے عام تھے اتنی سگھڑ اور سلیقہ شعار تھیں کہ مائیں اپنی بیٹیوں کو ان کی نگرانی میں دینا اپنے لیئے فخر سمجھتی تھیں۔ میں نے انہیں اُس وقت دیکھا کہ جب ان کے مُنّہ میں ایک بھی دانت نہیں تھا۔ پوپلے منہ اور چہرہ پر جھریوں کو دیکھ کر ایک گل دستہ کا گمان ہوتا تھا۔ پن کُٹیا میں کوٹ کر پان کھا تی تھیں۔ باں جب رنگ جماتا چہرے کی تمام جھریاں رنگ رنگ ہو جاتیں۔ میدہ اور شہد جیسے سفید اور سنہرے رنگ پر یہ سرخ رنگ ایسا سماں پیدا کرتا کہ دیکھنے والا محوِ حیرت ہو جاتا اور وہ حسُنِ لم یزل کی تعریف میں گم ہو جاتا ۔
میں نے شعور کے زینے پر پہلا قدم رکھا تو یہ دیکھا کہ دادی امّاں کی گود میں ہوں۔ اور دادی اماں اللہ کے کلام کے وِرد میں مگن ہیں۔ یہ بھی دیکھا کہ رات کو سونے سے پہلے کلمہ شہادت پڑھوایآجا رہا ہے اور صبح بیدار ہونے کے وقت لازم تھا کہ آنکھ کھلتے ہی کلمٔہ طیبہ پڑھآجائے۔ دادی امّاں کہا نایاں بھی سناتی تھیں۔ ہرکہا نی کا ایک ہی مفہوم ہوتا تھا کہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا رسولؐ بادشاہ۔ اللہ نے اپنے رسولؐ بادشاہ کے پاس فرشتہ بھیجا اور فرشتہ سے کہلایا۔ “ ہمارے پیارے محمد ﷺ ! تم پریشان نہ ہو، تمہارے لیئے مکہّ کے سارے پہاڑ سونے کے بنا دیتے ہیں۔”
اللہ کے رسول ہمارے حضور ﷺ نے کہا ۔ “نہیں میں اپنے غریب بھائیوں کے ساتھ خوش ہوں مجھے دنیا نہیں چاہئے۔”
میں نے پوچھا۔ “اماں! یہ فرشتہ کیا ہوتا ہے؟”
“بیٹا !”فرشتہ بھی ہماری طرح اللہ کی بنائی ہوئی مخلو ق ہے لیکن وہ اچھے اچھے کام کر کے فرشتہ بن گیا ہے۔”
اماں ! “آپ نے فرشتہ دیکھا ہے؟”
نہیں ، میں نے ابھی تک دیکھا تو نہیں لیکن سنا ہے کہ وہ جگ مگ کرتی روشنیوں سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ جب وہ اُڑتا ہے تو اس کے پروں میں سے چاند، سورج اور ستاروں کی طرح روشنیاں نکلتی ہیں۔”
“اماں ! آپ نے ہمارے حضورؐ کو دیکھا ہے ؟”
“ہاں بیٹے، دیکھا ہے ایک با ر۔“
“اماں ! ہمارے حضورؐ کیسے ہیں؟”
“بیٹے، چاند کی طرح ہیں۔ اتنےخوبصورت، اتنے خوبصورت کہ بس اللہ ہی جانے۔”
تمام دانش ور اس بات پر متفق ہیں کہ بچّے کی تریت کا پہلا گہوارہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ بچّہ جو سنتا ہے وہی بو لتاہے۔ جو دیکھتا ہے وہی اس کا علم بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں ہم نہیں دیکھتے کہ دادی امّاں نے کبھی یہ کہا ہو کہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا رسولؐ بادشاہ ۔ دن رات گانوں کی آوازیں ہمارے اعصاب پر محیط رہتی ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے کوئی ماں اپنے بچوں کو یہ تلقین نہیں کرتی کہ کلمہ شہادت پڑھ کر سونا چاہئے، نہ کوئی باپ اپنی اولاد کو بیدار ہونے کے بعد کلمۂ طیبہ پڑھنے کو کہتا ہے۔ کوئی نہیں سمجھتا کہ دولت پرستی نوعِ انسانی کی زندگی کے کے لیئے ناسور (CANCER) ہے۔ تاریخ بتا تی ہے کہ جن قوموں میں دولت پرستی عام ہو گئی وہ قومیں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں۔ قومیں گناہوں سے نیست و نابود نہیں ہوتیں کہ گناہ تو معاف کر دیئے جاتے۔ ہیں، شرک ایک ایسا گناہ ہے جو کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اور دولت پرستی سب سے بڑا شرک ہے۔ اس شرک کو مہمیز دینے والے بڑے عوامل میں سے ایک بڑا گھناؤنا عمل سود ہے۔ سود، جو رزق کو حرام کر دیتا ہے۔
دادی امّاں اور نانی امّاں ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتیں کہ حرام رزق کھانے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔ حرام روزی کھانے والے کی نماز ہوتی ہے اور نہ اس کا حج ہوتا ہے۔ ہمارے بزرگ اس بات کا رونا روتے رہتے ہیں کہ نوجوان نسل بگڑ گئی ہے۔ اس کے اندر اخلا قی قدریں باقی نہیں رہیں۔ نوجوان نسل میں بزگوں وہ احترام باقی نہیں رہآجو آج سے چالیس سال پہلے تھا۔ لیکن ہم بحیثیت بزرگ کے اپنے گریبانوں میں مُنہ نہیں ڈالتے کہ ہم نے اسلاف کے خون سے سینچی ہوئی قدروں کو پامال کر دیا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ اولاد والدین کے چشم او َبرو کو دیکھ کر کام کرتی تھی۔ اور آج کازمانہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ اولاد سے والدین ڈرنے لگے ہیں۔
یہ سب اس لیئے ہے کہ والدین اولاد کی تربیت ان خطوط پر نہیں کرتے جن خطوط پر ہماری تریت ہوئی تھی۔آج کی ماں جب دادی بنتی ہے تو اس کے پاس وہ لوری نہیں ہوتی جو بچہ کے شعور کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آشنا کرتی ہے۔ آج کی ماں جب نانی بنتی ہے تو بلا شک و شبہ اس کے اندروہ قدریں پوری طرح کام نہیں کرتیں جو قرآن و سنّت سے ہم آہنگ ہوں۔ جب کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل اسلاف کے نقوشِ قدم پر اپنی زندگی تعمیر کرے۔ یقیناً یہ طرز فکر ایسی دو عملی ہے جس کا نتیجہ خسِرَالدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃ کے علاوہ کچھ اور مرتب نہیں ہوتا۔
یاد رکھئے !
قیامت کے روز
یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ ہم نے اپنی اولاد کو کس قسم کے کھانے کھلائے ہیں اور کیا لباس پہنایا ہے۔ وہاں پوچھآجائے گا کہ تم نے اپنی اولاد کی تربیت کیسے کی تھی؟ اور یہی وہ لوگ ہیں جو انعام یافتہ ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 88 تا 91

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)