خود فراموشی

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=2418

ہم کیا تھے، کیا ہیں اور کیوں ہیں؟

یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر ذی فہم اور با شعور آدمی کے ذہن میں گشت کرتے رہتے ہیں۔  اور جب ان کا شافی اور کافی جواب نہیں ملتا تو بہت سے لوگ گم کردہ راہ ہو جا تے ہیں۔ کچھ نہ سمجھنے کی پاداش میں نہ صرف یہ کہ خود فراموشی ان کے اوپر مسلط ہو جاتی ہے، وہ اس ہستی کی بھی نفی کر دیتے ہیں جو اس سارے کارخانوں کی مشینوں کےایک ایک پرزے کو حیات (Energy) بخش رہی ہے۔  وہ لازوال ہستی جوایک قطرہ خون کو اتنا طاقتور اور عقل و شعور سے آراستہ و پیراستہ کر دیتی ہے کہ خلا اس کی گرفت میں آ جاتا ہے، ستاروں پر کمند ڈالنا اس کے لیئے کھیل بن جاتا ہے۔ یہی قطرہ خون جب چاہتا ہے توایک نا قابل تذکرہ ذرہ کو اتنی اہمیت دے دیتا ہے کہ ایک ذرے کی قیمت لاکھوں جیتے جاگتے آدمیوں سے زیادہ ہو جا تی ہے۔  اور جب تعمیری شعور بروئے کار آتا ہے تو یہی ایک قطرہ پھیل کر آسمانوں کی رفعت سے بھی اونچا اور سر بلند بن جاتا ہے، کائنات اس کے لیئے مسخر ہو جاتی ہے اور یہ فرشتوں کا مسجود قرار پاتا ہے۔

تعمیر و تخریب کے اس دو رُخ پہلو میں بھی ذرہ بے مقدار اسفل میں گرتا ہے تو اخلاقیات کی تمام حد بندیاں ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔  حرص و حوس اور معیار زندگی کا عفریت اس کی کمزوری بن جاتا ہے۔  ہراس کام میں اس کا ذہن مرکوز ہو جاتا  ہے جو اخلا قی دائرے سے باہر ہے۔  ایسی ایسی اختراعات و ایجادات ذہن میں آتی ہیں جوابلیسیت کا شاہکار ہوتی ہیں اور دماغ کی تمام تعمیری صلاحیتیں تخریب کا لباس پہن کر اللہ کی زمین پر فساد برپا کر دیتی ہیں۔

بلاشبہ آج کا دور اس کا بیّن ثبوت ہے۔  کس قدر المناک ہے یہ بات کہ رمضان المبارک کے مہینے میں روزانہ ایسی خبریں سامنے آتی رہیں کہ لگتا ہےکہ ہم معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اور کچلے ہوئے افراد ہیں۔  اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ معاشرے کی زبوں حالی میں ہمارے نونہال ملوث ہیں تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے اور یہ آواز ابھرتی ہے کہ یہ سب اس لیئے ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنی تعلیمات سے منہ موڑ لیا ہے۔  ہم نہیں سوچتے کہ وہ کون سی تعلیم ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد انسان کو سکون ملتا ہے، راحت ملتی ہے اور سرشاری اس کے اَنگ اَنگ میں جذب ہو جاتی ہے۔

وہ کون سی زندگی ہے جس کے حامل کو عدم تحفظ کا احساس نہیں ہوتا اور وہ احساس کمتری کے بھیانک تاثرات سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔  اس کے اوپر کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور نہ وہ خود کو غم و آلام کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔

پریشانی یہ ہے، موجودہ نسل اتنی با شعور ہو چکی ہے کہ اس کے لیئے کوئی بات اُس وقت تک قابل قبول ہے جب اسے فطرت کے مطابق پیش کیا جائے۔  سائنس کی ترقی نے انسانی شعور کو بڑی حد تک بالغ کر دیا ہے۔  ہماری نسل کے بالغ اور باشعور افراد جب اپنے اسلاف کے ورثہ کو فطری قوانین اور سائنسی توجیہات کے مطابق سمجھنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے کہ مذہب چوں چرا نہیں چاہتا حالانکہ قرآن کریم ہر ہر قدم پر تفکر کی کھلی دعوت دے رہا ہے۔  دوسری طرف جب وہ اپنے ان بزرگوں کی زندگی کا مشاہدہ اور تجزیہ کرتے ہیں جن کے کندھوں پر تربیت کی ذمہ داری ہے تو وہ یہ دیکھ کر شدید احساس محرومی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ قال اور حال میں ایک حد قائم ہے۔  اس طرح وہ کبیدہ خاطر ہو کر وہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں جو ہمارے حق آشنا بزرگوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ ہم بحیثیت بزرگ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ نوجوان نسل کے ذہنوں سے بزرگوں کے لیئے ادب و احترام اٹھ گیا ہے۔ ان کے اندر وہ اخوت و محبت نہیں رہی جس کے اوپرایک مثالی معاشرہ تعمیر کیا جاتا  ہے۔

خدارا! اپنے گریبان میں منہ ڈالیئے۔ یہ بھی تو دیکھئے کہ ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد واقع ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود کہ ہم اپنا اختیار استعمال کر کے اس منافقانہ زندگی کو بدل سکتے ہیں، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔  ہم جو کچھ خود نہیں کر سکتے اس کی توقع اپنی اولاد سے کیوں کرتے ہیں۔  آج اگرایک باپ جھوٹ کی ملمع شدہ زندگی میں قید ہے تو وہ اولاد سے کیوں کر توقع کر سکتا ہے کہ وہ سچی اور حق آشنا زندگی گزارے گی۔

ہمارا حوصلہ کم ہے ہم ہیرا پھیری کر کے چوری کرتے ہیں۔  نوجوان خون اس منافقانہ طرز عمل کو مہمیز دیتا ہے اور مساجد میں تراویح پڑھنے والوں کی گاڑیاں چرا لیتا ہے اور کسی قتل میں ملوث ہو جاتا ہے تو ہم شور کرتے ہیں نوجوان نسل بے راہ ہو گئی ہے۔  ہمارے بچّے ماں کے پیٹ سے قاتل، چور، ذخیرہ اندوز، منافق اسمگلر پیدا نہیں ہوتے انہوں نے اپنے بزرگوں کو جو کچھ کرتے دیکھا ہے، ترقی دے کر اسے فن بنا دیا ہے۔  اخبارات کے پورے پورے کالم اور کئی کئی سو صفحات کی کتابیں لکھی جا رہی ہیں کہ اس سے نوجوان نسل کی اصلاح مقصود ہے۔  ہم کہتے ہیں کہ رشد و ہدایت کے ان طوفان خیز دعووں کے ساتھ اگر نوجوان نسل کے بڑوں نے اپنی اصلاح نہیں کی تو حالات نہیں سدھریں گے۔  ہم یہ بات کیوں بھول رہے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا ذہن سادہ ورق کی طرح ہوتا ہے۔  وہ وہی عادات و اطوار اختیار کرتا ہے جو ماحول میں رائج ہیں۔  ایک فرد واحد بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ بچہ وہی زبان بولتا ہے جو اس کے ماں باپ بولتے ہیں۔

ماحول کو سنوارنے اور سدھارنے کے لیئے یہ امر لازم ہے کہ ہم پہلے اپنی اصلاح کریں۔  اپنے قول و فعل اور کردار سے یہ ثابت کر دیں کہ ہم معاشرے کے ان افراد میں سے ہیں جو ہدایت یافتہ اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔  دراصل ہمارے نونہال من حیث القوم ہمارے کردار کی منہ بولتی تصویر ہیں۔

پاک و بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے ہمیں معین مقداروں کے ساتھ تخلیق کیا اور ان مقداروں کو ان اوصاف حمیدہ سے زینت بخشی جو بحیثیت خالق کُل اسے پسند ہیں۔  وہی ہے جس نے ہمیں برگزیدہ گروہ میں شامل کیا جس سے وہ خوش ہوا اور ہمیں توفیق دی کہ ہم اپنے رب کو پکاریں اور روزہ رکھیں، وہ روزہ جس کی جزا خود اللہ ہے۔

سعید ہیں وہ لوگ جنہوں نے رمضان المبارک کی سعادتوں کو حاصل کیا۔  دن میں اور رات میں حضورِ قلب سے اللہ کی طرف متوجہ رہے، اپنے بھائیوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے اور ان کی خدمت انجام دی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 30 تا 33

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)