خاکی پنجرہ

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6245

یہ کون نہیں جانتا کہ زندگی ماضی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دانشور اور مفکرین زمانہ کو تین حصّوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ماضی، حال اور مستقبل۔ ماضی گزرا ہوا زمانہ، حال موجودہ زمانہ اور مستقبل آنے والا زمانہ۔ —– لیکن جب ایک باشعور آدمی زندگی کا تجزیہ کرتا ہے تو اُسے ماضی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ تجزیہ طبعی تقاضوں کا ہو، نفسیاتی پہلو سے ہو یا رُوحانی نقطۂ نظر سے ہو۔ ہم جب بچّے کی پیدائش کا تذکرہ کرتے ہیں تو دراصل یہ کہتے ہیں کہ بچّہ کہیں موجود تھا، وہاں سے اس دنیا میں منتقل ہوا۔ خوبصورت، تنومند اور رعنائیوں سے بھرپور، کسی نوجوان کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو اس کا مفہوم بھی یہی ہوتا ہے کہ کل کا بچّہ آج جوانی کے روپ میں موجود ہے۔ ہم جب عقل و شعور اور تجربہ کی بات کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس بزرگ کا تجربہ ساٹھ (۶۰) سال کے ماہ و سال پر پھیلا ہوا ہے۔ تب بھی ہمارا منشا یہی ہوتا ہے کہ اس بوڑھے کے ساٹھ (۶۰) سال ما ضی میں دفن ہیں۔ نوعِ انسانی جب اپنے اسلاف کے ورثہ کا تذکرہ کرتی ہے تو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ انسانی شعور نے بتدریج ترقی کی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ پتّھر کی تہذیب میں خود ساختہ قید و بند کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ آدم زاد نے آگ کا استعمال سیکھ لیا۔ ایک جست اور لگائی تو لوہے کے زمانے میں داخل ہو گیا۔ لوہے کی اور مختلف دھاتوں کی تہذیب نوعِ انسانی کا ورثہ قرار پا ئی۔ علم و شعور کی وادی میں قدم رکھنے کے بعد انسان کے اندر تفکّر کا پیٹرن (PATTERN) بنا۔ اس کا نام جدید تہذیب یا سائنسی ترقی رکھا گیا۔ ایک کھرب سال کی پرانی تاریخ ہو یا آج کے سائنسی علوم، ان سب کی بنیاد دستاویز (RECORD) پر ہے اور یہ سارا ریکارڈ ماضی ہے۔ ماضی کیا ہے؟ زمانہ ہے۔
سیّدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ والسلام کا ارشاد عالی مقام ہے کہ زمانہ کو نظر انداز نہ کرو۔ زمانہ اللہ ہے۔ انسان جس کو حال اور مستقبل کہتا ہے وہ دراصل زندگی گزارنے کا ایک مسلسل اور متواتر عمل ہے۔ زندگی کے اس عمل میں دو طرزیں متعیّن کی گئی ہیں۔ انسان زندگی کی ایک طرز کا نام سکون رکھتا ہے اور زندگی کی دوسری طرز کو بے سکونی، درماندگی، پریشاں حالی، اضطراب، خوف اور بے چینی کا نام دیتا ہے۔ لیکن جب ہم نفسیاتی طور پران دونوں طرزوں کا تفکّرانہ انداز میں مطالعہ کرتے ہیں تو صرف اور صرف ایک ہی بات مشاہدہ میں آتی ہے کہ ان دونوں طرزوں کا تعلق بھی براہ راست ماضی سے ہے۔ آج کی پریشانی اگر ماضی نہ بن جائے تو انسان اس پریشانی کے ہاتھوں مخبوط الحواس ہو جائے گا۔ اس کے اوپر پا گل پن کے دورے پڑنے لگیں گے۔ آدم اور حوّا کی نسل میں اگر ایک ہی کیفیت مستقل ہو جائے تو زندگی منجمد ہو جائے گی، اس لیئے کہ کائنات کی تخلیق اس فارمولے پر عمل میں آئی ہے کہ ذندگی ایک حرکتِ دوام ہے۔ بہ الفاظِ دیگر حرکت ہی زندگی کا نام ہے۔ حرکت رُک جائے گی تو کائنات تھم جائے گی۔ رات دن کے مشاہدات ذندگی کی ان طرزوں کو ہمارے اوپر آشکار کرتے ہیں۔ گرمی کے ساتھ سردی، سردی کے ساتھ گرمی، صحت کے ساتھ بیماری، بیماری کے بعد صحت، پیدائش اور موت کا سلسلہ بھی اسی فارمولے (EQUATION) پر قائم ہے۔
ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی مر گیا تو دراصل کہنا یہ چاہتے ہیں کہ فلاں آدمی کا کردار، فلاں آدمی کی زندگی یا فلاں آدمی کی آواز ایک دستاویزی ریکارڈ بن گئی۔ مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مر گیا وہ ماضی میں چلا گیا۔ جب ہم اپنے اسلاف کا تذکرہ کرتے ہیں (اسلاف میں آدم سے لے کر اپنے آبا ؤ اجداد سب شامل ہیں) تو دراصل ماضی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جس طرح آج ہم اپنے آبا ؤ اجداد کو ماضی کہہ رہے ہیں، کل اسی طرح ہماری نسل ہمارا تذکرہ بھی ماضی کے نام سے کرے گی۔
ماضی ہماری ابتداء ہے اور ماضی ہی ہماری زندگی کا پورا ریکارڈ ہے۔
کسی سو (۱۰۰) سالہ بزرگ کے دماغ میں سے اگر اس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے ماضی کو حذف کر دیا جائے تو یہ بوڑھا بزرگ کیا رہے گا۔ اے عقل والو ذرا غور کرو —–
جس طرح سو سالہ زندگی ریکارڈ اور ماضی ہے اسی طرح جب اس خاکی پنجرے پر موت واقع ہوتی ہے تو خاکی جسم کی ساری زندگی ماضی بن جاتی ہے۔ فلسفیانہ طرزوں سے ہٹ کر جب ہم حقیقت یعنی رُوحانی علوم میں تفکّر کرتے ہیں تو ہمارے اِنَر میں ایک دروازہ کھلتا ہے۔ اس دروازے میں سے قرآن پاک کے اَنوار لہروں کی شکل میں ہمارے دماغ پر نازل ہوتے ہیں اور یہ لہریں قرآن پاک کے الفاظ ہمیں یہ پیغام سناتی ہیں۔
“اور آپ کیا سمجھے اعلیٰ زندگی کیا ہے اور آپ کیا سمجھے اسفل زندگی کیا ہے۔ یہ ایک ریکارڈ ہے۔”
علمِ حقیقت ہماری رہنمائی کرتا ہے اگر ہم خود سے اور اپنے خالق سے متعارف ہونا چاہتے ہیں تو ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اپنے ماضی میں جھانکیں۔ ماں کے پیٹ میں آنے سے پہلے بچّہ عالمِ برزخ میں تھا۔ عالمِ بزرخ، لوح محفوظ کا ایک عکس ہے۔ لوحِ محفوظ کتاب المبین کا ایک ورق ہے۔ کتاب المبین عالمِ ارواح ہے اور عالمِ ارواح وہ عالم ہے کہ اللہ تعالےٰ نے جب “کن” کہا تھا تو اس کا ظہور ہو گیا تھا۔ مرنے کے بعد کی زندگی دراصل اسی عالمِ ارواح کی طرف پیش قدمی ہے۔ نوعِ انسانی کے جو افراد اس زندگی کودیکھنے، سمجھنے اور تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالےٰ کے قانون کے مطابق ان کو ایسی نظر اور بصیرت مل جاتی ہے جو اس عالم کو دیکھ لیتی ہے، سمجھ لیتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 204 تا 207

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)