تین طبقات

مکمل کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=13765

حضرت ادریسؑ نے نوع انسانی کو تین طبقات میں تقسیم کیا۔

علماء، بادشاہ اور رعیت۔ حسب ترتیب ان کے مراتب مقرر فرمائے۔

علماء کو پہلا اور بلند درجہ دیا گیا، اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے نفس کے علاوہ باددشاہ اور رعیت کے معاملات میں بھی جواب دہ ہیں۔ بادشاہ کو دوسرے درجے پر رکھا گیا کہ وہ صرف اپنے نفس اور امور مملکت کا جواب دہ ہے۔ رعیت چونکہ صرف اپنے نفس کے لئے جواب دہ ہے اس لئے وہ تیسرے طبقے میں شامل کی گئی۔ لیکن یہ طبقات نسل و خاندانی امتیازات کے لحاظ سے نہیں تھے۔

انجیل نیا عہد نامہ(یہودہ کے خط) میں حضرت ادریسؑ کی ایک پیشن گوئی درج ہے جس میں صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی کردار کشی کرتے ہوئے ان کی بیخ کنی اور انہیں راہ راست پر لانے کے لئے ایک راہبر اور نجات دہندہ کی خبر دی گئی ہے۔ پیشن گوئی جس ہستی کے لئے کی گئی وہ رحمت اللعالمین سیدنا حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس ہے۔

’’ان پر افسوس! کہ یہ قائن کی راہ پر چلے اور مزدوری کے لئے بڑی حرص سے بلعام کی سی گمراہی اختیار کی اور قدرح کی طرح مخالفت کر کے ہلاک ہوئے یہ تمہاری محبتوں کی ضیافتوں میں تمہارے ساتھ کھاتے، پیتے وقت گویا دریا کی پوشیدہ چٹانیں ہیں، یہ بے دھڑک پیٹ بھرنے والے چرواہے ہیں، یہ بے پانی کے بادل ہیں جنہیں ہوائیں اڑا کر لے جاتی ہیں، یہ پتھر کے بے پھل درخت ہیں جو دونوں طرح سے مردہ اور جڑ سے اکھڑے ہوئے ہیں یہ سمندر کی پرجوش موجیں ہیں جو اپنی بے شرمی کے جھاگ اچھالتی ہیں۔ یہ وہ آوارہ گرد ستارے ہیں جن کے لئے ابد تک بے حد تاریکی ہے۔‘‘

ان کے بارے میں حنوک نے بھی جو آدمؑ سے ساتویں پشت میں تھا یہ پیشن گوئی کی تھی کہ:

’’دیکھو! خداوند اپنے لاکھوں مقدسوں کے ساتھ آیا تا کہ سب آدمیوں کا انصاف کرے اور سب بے دینوں کو ان کی بے دینی اور ان سب کاموں کے سبب جو انہوں نے بے دینی سے کئے ہیں، ان سب سخت باتوں کے سبب جو بے دین گنہگاروں نے اس کی مخالفت میں کہی ہیں قصور وار ٹھہرائے۔‘‘

(انجیل۔ یہودہ۔۱۴،۱۱)

’’اور ذکر کر کتاب میں ادریسؑ کا، وہ تھا سچا نبی اور ہم نے اٹھا لیا اس کو ایک اونچے مکان پر۔‘‘

(سورۃ مریم۔۵۶،۵۷)

بائبل میں ہے: ’’اور حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اسے اٹھا لیا۔‘‘

(کتاب پیدائش، باب۵: آیت ۲۳،۲۴)

بائبل میں اس قدر بیان ہے کہ وہ غائب ہو گئے کیونکہ خدا نے انہیں اٹھا لیا، مگر تلموذ میں ایک طویل قصہ بیان ہوا ہے جس کے اختتام پر بتایا گیا ہے کہ حنوک ایک بگولے میں شین رتھ اور گھوڑوں سمیت آسمان پر چڑھ گئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 65 تا 67

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم کے مضامین :

ِ پیش لفظ  ِ اظہار تشکّر  ِ 1 - حضرت آدم علیہ السّلام  ِ 1.1 - قرآن كريم ميں حضرت آدمؑ کا نام  ِ 1.2 - آدم و حوا جنت میں  ِ 1.3 - حضرت آدم ؑ کے قصے میں حکمت  ِ 1.4 - ذیلی تخلیقات  ِ 1.5 - مابعد النفسیات  ِ 1.6 - مذاہب عالم  ِ 1.7 - قانون  ِ 1.8 - حضرت حواؑ کی تخلیق  ِ 1.9 - مونث، مذکر کا تخلیقی راز  ِ 1.10 - ہابیل و قابیل  ِ 2 - حضرت ادریس علیہ السلام  ِ 2.1 - ٹاؤن پلاننگ  ِ 2.2 - ناپ تول کا نظام  ِ 2.3 - انبیاء کی خصوصیات  ِ 2.4 - تین طبقات  ِ 2.5 - حنوک کی انگوٹھی  ِ 2.6 - حکمت  ِ 2.7 - زمین ہماری ماں ہے  ِ 2.8 - تسخیر کائنات  ِ 3 - حضرت نوح علیہ السلام  ِ 3.1 - پانچ بت  ِ 3.2 - نادار کمزور لوگ  ِ 3.3 - بے وفا بیوی  ِ 3.4 - ساڑھے نو سو سال  ِ 3.5 - نوح کی کشتی  ِ 3.6 - نوحؑ کا بیٹا  ِ 3.7 - چالیس دن بارش برستی رہی  ِ 3.8 - ابو البشر ثانی  ِ 3.9 - عظیم طوفان  ِ 3.10 - صائبین  ِ 3.11 - صحیفۂ وید  ِ 3.12 - زمین کے طبقات  ِ 3.13 - زرپرستی کا جال  ِ 3.14 - حکمت  ِ 3.15 - برف پگھل رہی ہے  ِ 3.16 - بلیک ہول  ِ 3.17 - زمین کی فریاد  ِ 3.18 - نصیحت  ِ 4 - حضرت ہود علیہ السلام  ِ 4.1 - قوم عاد  ِ 4.2 - مغرور اور سرکش  ِ 4.3 - اللہ کی پکڑ  ِ 4.4 - اولاد، باغ اور چشمے  ِ 4.5 - سخت سرزنش  ِ 4.6 - دلیل  ِ 4.7 - حیات و ممات پر کس طرح یقین کریں؟  ِ 4.8 - ظلم کا پنجہ  ِ 4.9 - شداد کی جنت  ِ 4.10 - شداد کی دعا  ِ 4.11 - حکمت  ِ 4.12 - گرد باد (Twister Tornado)  ِ 4.13 - شہاب ثاقب  ِ 5 - حضرت صالح علیہ السلام  ِ 5.1 - شاہی محل  ِ 5.2 - سرداران قوم  ِ 5.3 - اللہ کی نشانی  ِ 5.4 - خوشحال طبقہ  ِ 5.5 - وعدہ خلاف قوم  ِ 5.6 - قتل کا منصوبہ  ِ 5.7 - بجلی کا عذاب  ِ 5.8 - العلاء اور الحجر  ِ 5.9 - آواز تخلیق کی ابتدا ہے  ِ 5.10 - الٹرا سانک آوازیں  ِ 5.11 - آتش فشانی زلزلے  ِ 5.12 - حکمت  ِ 5.13 - روحانی انسان  ِ 5.14 - ماورائی ذہن  ِ 5.15 - رحم میں بچہ  ِ 5.16 - حادثے کیوں پیش آتے ہیں؟  ِ 6 - حضرت ابراہیم علیہ ا؛لسلام  ِ 6.1 - رات کی تاریکی  ِ 6.2 - باپ بیٹے میں سوال و جواب  ِ 6.3 - ہیکل میں بڑا بٹ  ِ 6.4 - حضرت ہاجرہ ؒ  ِ 6.5 - حضرت لوطؑ  ِ 6.6 - اشموئیل  ِ 6.7 - وادی ام القریٰ  ِ 6.8 - زم زم  ِ 6.9 - امت مسلمہ کے لئے یادگار عمل  ِ 6.10 - بیت اللہ کی تعمیر کا حکم  ِ 6.11 - حضرت اسحٰق کی پیدائش  ِ 6.12 - مکفیلہ  ِ 6.13 - حکمت  ِ 6.14 - انسان کے اندر انسان  ِ 6.15 - کیفیات کا ریکارڈ  ِ 6.16 - تجدید زندگی  ِ 6.17 - نیند آدھی زندگی ہے  ِ 6.18 - علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین  ِ 6.19 - آئینہ کی مثال  ِ 6.20 - چار پرندے  ِ 6.21 - قلب کی نگاہ  ِ 6.22 - اعلیٰ اور اسفل حواس  ِ 7 - حضرت اسمٰعیل علیہ السلام  ِ 7.1 - صفاء مروہ  ِ 7.2 - حضرت ابراہیمؑ کا خواب  ِ 7.3 - خانہ کعبہ کی تعمیر  ِ 7.4 - حضرت اسمٰعیلؑ کی شادیاں  ِ 7.5 - حکمت  ِ 7.6 - خواب کی حقیقت  ِ 7.7 - خواب اور بیداری کے حواس  ِ 8 - حضرت لوط علیہ السلام  ِ 8.1 - وہ عذاب کہاں ہے  ِ 8.2 - آگ کی بارش  ِ 8.3 - ایڈز  ِ 8.4 - حکمت  ِ 8.5 - طرز فکر  ِ 8.6 - ملک الموت سے دوستی  ِ 9 - حضرت اسحٰق علیہ السلام  ِ 9.1 - حکمت  ِ 10 - حضرت یعقوب علیہ السلام  ِ 10.1 - حضرت یعقوبؑ کے بارہ بیٹے  ِ 10.2 - حکمت  ِ 10.3 - استغنا کی تعریف  ِ 11 - حضرت یوسف علیہ السلام  ِ 11.1 - گیارہ ستارے، سورج اور چاند  ِ 11.2 - مصری تہذیب  ِ 11.3 - حواس باختگی  ِ 11.4 - دو قیدیوں کے خواب  ِ 11.5 - بادشاہ کا خواب  ِ 11.6 - قحط سالی سے بچنے کی منصوبہ بندی  ِ 11.7 - تقسیم اجناس  ِ 11.8 - شاہی پیالے کی تلاش  ِ 11.9 - راز کھل گیا  ِ 11.10 - یوسفؑ کا پیراہن  ِ 11.11 - حکمت  ِ 11.12 - زماں و مکاں کی نفی  ِ 11.13 - خواب کی تعبیر کا علم  ِ 11.14 - اہرام  ِ 11.15 - تحقیقاتی ٹیم  ِ 11.16 - مخصوص بناوٹ و زاویہ  ِ 11.17 - نفسیاتی اور روحانی تجربات  ِ 11.18 - خلا لہروں کا مجموعہ ہے  ِ 11.19 - طولانی اور محوری گردش  ِ 11.20 - سابقہ دور میں سائنس زیادہ ترقی یافتہ تھی  ِ 11.21 - علم سیارگان  ِ 12 - اصحاب کہف  ِ 12.1 - تین سوال  ِ 12.2 - مسیحی روایات کا خلاصہ  ِ 12.3 - دقیانوس  ِ 12.4 - کوتوال شہر  ِ 12.5 - اصحاب کہف کے نام  ِ 12.6 - حکمت  ِ 13 - حضرت شعیب علیہ السلام  ِ 13.1 - محدود حواس کا قانون  ِ 13.2 - توحیدی مشن  ِ 13.3 - حکمت  ِ 13.4 - دولت کے پجاری  ِ 13.5 - مفلس کی خصوصیات  ِ 13.6 - ناپ تول میں کمی  ِ 14 - حضرت یونس علیہ السلام  ِ 14.1 - یوناہ  ِ 14.2 - قیدی اسرائیل  ِ 14.3 - ٹاٹ کا لباس  ِ 14.4 - مچھلی کا پیٹ  ِ 14.5 - سایہ دار درخت  ِ 14.6 - دیمک  ِ 14.7 - استغفار  ِ 14.8 - حکمت  ِ 14.9 - بھاگے ہوئے غلام  ِ 15 - حضرت ایوب علیہ السلام  ِ 15.1 - شیطان کا حیلہ  ِ 15.2 - صبر و شکر  ِ 15.3 - زوجہ محترمہ پر اللہ کا انعام  ِ 15.4 - معجزہ  ِ 15.5 - پانی میں جوانی  ِ 15.6 - صبر اللہ کا نور ہے  ِ 15.7 - حکمت  ِ 15.۸ - صبر کے معنی  ِ 15.۹ - اللہ صاحب اقتدار ہے  ِ 16 - حضرت موسیٰ علیہ السلام  ِ 16.1 - آیا کا انتظام  ِ 16.2 - بیگار  ِ 16.3 - بہادری اور شرافت  ِ 16.4 - لاٹھی  ِ 16.5 - مغرور فرعون  ِ 16.6 - جادوگر  ِ 16.7 - ہجرت  ِ 16.8 - بارہ چشمے  ِ 16.9 - سامری  ِ 16.10 - باپ، بیٹے اور بھائی کا قتل  ِ 16.11 - پست حوصلے  ِ 16.12 - گائے کی حرمت  ِ 16.13 - مجمع البحرین  ِ 16.14 - سوال نہ کیا جائے  ِ 16.15 - ملک الموت  ِ 16.16 - حکمت  ِ 16.17 - لہروں کا تانا بانا  ِ 16.18 - رحمانی طرز فکر، شیطانی طرز فکر  ِ 16.19 - حرص و لالچ  ِ 16.20 - قانون  ِ 16.21 - مادہ روشنی ہے  ِ 16.22 - ارتقاء  ِ 16.23 - ایجادات کا ذہن  ِ 16.24 - انرجی کا بہاؤ  ِ 17 - حضرت سموئیل علیہ السلام  ِ 17.1 - اشدود قوم  ِ 17.2 - سموئیلؑ کا قوم سے خطاب  ِ 17.3 - حکمت  ِ 18 - حضرت ہارون علیہ السلام  ِ 18.1 - سرکشی اور عذاب  ِ 18.2 - سامری کی فتنہ انگیزی  ِ 18.3 - حکمت  ِ 19 - حضرت الیاس علیہ السلام  ِ 19.1 - اندوہناک صورتحال  ِ 19.2 - جان کی دشمن ملکہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)