بت پرستی

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6248

مذہب کے بارے میں جب ہم گفتگو کرتے ہیں تو ابتدائی طور پر جس احساس سے واسطہ پڑتا ہے وہ خوف اور ڈر کا احساس ہے۔ ہمارے رہنماؤں نے اس بات کی پوری پوری کو شش کی ہے کہ مذہب کے سلسلے میں اس احساس کی امتیازی خصوصیت کو متعین کر دیں۔ —– احساس کی درجہ بندی کی گئی تو کئی طبقے وجود میں آئے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ —–
“ان دیکھی کسی قوّت کے محتاج ہونے اور اس پر اپنی زندگی کا انحصار کرنے کا نام احساس ہے۔”
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ —–
“احساس خوف سے پیدا ہوتا ہے۔”
تیسرا گروہ احساس کا تعلق جنسی زندگی سے جوڑتا ہے۔ چوتھا گروہ کہتا ہے کہ احساس ایک لا محدود اور غیر متغیر ہستی کے احساسات کی انسپائریشن (INSPIRATION) ہے۔
ایک عام آدمی ان اختلافات کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں لامحالہ یہ شک جنم لیتا ہے کہ فی الواقع احساس کوئی چیز ہے بھی یا نہیں اور شک ایسی بھول بھلیّوں میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ آدم زاد مذہب سے انکار کر دیتا ہے۔
مذہب کا مضمون اتنا ہمہ گیر اور وسیع ہے کہ اس کی پوری وسعت کا احاطہ کرنے کا دعویٰ ایک لا یعنی اور فضول بات ہے لیکن اپنی دانست اور کم شعوری کے دائرے میں رہتے ہوئے اگر مذہب کی تعریف کی جائے تو دو (۲) رُخ سامنے آتے ہیں۔ مذہب کا ایک رُخ شرعی ہے اور دوسرا رُخ شخصی یا ذاتی ہے۔ مذہب کی ایک شاخ ایک واحد ہستی کو ماننے کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری شاخ عقلی دلائل اور شخصی توجیہات سے انسانی نفسیات کا ذکر کر کے نظر نہ آنے والی ہستی کا انکار کرتی ہے۔ شخصی مذہب سیاسی مذہب ثابت ہوا ہے اور شرعی مذہب چاہتا ہے کہ عبادت، قربانی اور دیگر شعائر کے تحت ایک ضابطۂ حیات بنا کر ایسی تنظیم قائم کی جائے جہاں پوری نوعِ انسانی ایک پلیٹ فارم پر آجائے۔
شرعی مذہب کے پیروکار خوف کے احساس کے ساتھ ماوراء ہستی کی پرستش کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ماورا ہستی کو آدمی دیکھ نہیں سکتا۔ ایک اور گروہ جسے صوفیا کہا جاتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ماورا ہستی ہر گز کوئی خوفناک ہستی نہیں ہے۔ یہ ماورا ہستی ماں سے ستّر گنا زیادہ محبت کرتی ہے۔ یہ کبھی مشاہدہ میں نہیں آیا کہ ماں نے اپنے بچّے کو آگ کے الاؤ میں جھونک دیا ہو —– اس گردہ کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہر خاص و عام ماورا ہستی کو دیکھ سکتا ہے۔ اور دنیا میں رائج شماریات سے زیادہ ایسی مثالیں، ایسے واقعات اور کیفیات موجود ہیں جو ہزاروں سال پر محیط ہیں۔
کلیہ یہ ہے کہ ڈر اورخوف دو انسانوں کے درمیان، ایک انسان اور درندہ کے درمیان، ایک انسان اور سانپ کے درمیان دُوری اور بُعد کی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔ اس کے متضاد محبّت سے قربت کا احساس وجود میں آتا ہے۔
جب دوری واقع ہوتی ہے تو لا محالہ ذہن میں خوف اور وسوسے در آتے ہیں۔ جیسے جیسے قربت کا احساس کم ہوتا ہے۔ آدم زاد اپنا خوف کم کرنے کے لیئے خود اپنے ہاتھوں سے کئی صورتیں بنا لیتا ہے اور اس نقطہ ارتکاز سے بُت پرستی شروع ہو جاتی ہے۔ بتون کی موجودگی آدم زاد کے اندر سے حقیقت کآجوہر ختم کر دیتی ہے۔ حقیقت کے جوہرسے محرومی کا نام جادو ہے۔ اس مقام سے انسانی نفسیات میں عجیب عجیب شگوفے پھوٹتے ہیں۔ پھر یہ شگوفے اپنی ایک طرزِ فکر اور طرزِ استدلال بنا لیتے ہیں اور برملا اس بات کا اعلان ہو جاتا ہے کہ مذہب اور رُوحانیت محض خیالی چیز ہے۔ صوفیاء کہتے ہیں اگر اس استدلال کو تسلیم بھی کر لیاجائے کہ مذہب اور رُوحانی کیفیات محض خیال ہے تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لامذہیت، کفر اور وسوسوں سے معمور احساسات بھی خیالی باتیں ہیں۔ صوفیاء حضرات یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ رُوحانیت اور مذہب خیالی تانے بانے پر بنا ہوا ہے تو اس حقیقت کو کیسے بھلایآجا سکتا ہے کہ ایک مذہبی رُوحانی آدمی کے اندر سکون ہوتا ہے، قناعت ہوتی ہے، وہ ایسے کا م کرتا ہے جن کاموں سے ان کی نوع اور انسانی برادری کو آرام ملتا ہے۔ اس کے اندر ایسی غیر مرئی قوتیں پیدا ہو جاتی ہیں جن قوّتوں میں عوام النّاس کی فلاح مضمر ہے۔ اس کے برعکس لامذہبب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو باوجودیکہ ان کے پاس دنیاوی وسائل کے انبار ہیں مگر ان کے اندر وہ سکون نہیں ہوتاجو رُوحانی آدمی کے اندر ہوتا ہے۔ یہ بات ہر بالغ اور باشعور آدمی کے سامنے ہے کہ جو شخص کمینی حرکت کرتا ہے، اس کی زندگی میں پستی اور ناہمواری داخل ہو جاتی ہے۔ ناپاک شئے کو دھویآجائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔ انصاف پسند شخص کے اندر خدا کا عدل ہوتا ہے۔ عدل، انصاف، مروّت اور رحم دلی کے نتیجے میں ماوراء ہستی انسان کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔
ریاکار اوردھوکے باز شخص، مطلب پرست اور مصیبت ناآشنا شخصیتیں چونکہ خود کو دھوکہ دیتی ہیں۔ اس لیئے منافقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس کے اندر وسوسوں کا عفریت داخل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں آدم زاد جو فرشتوں کا مسجُود ہے، اپنی ذات سے ناآشنا ہو جاتا ہے۔
اہل نظر اور بصیرت والے بڑے لوگ کہتے ہیں کہ سیرت کے تاثرات کبھی چھپے نہیں رہتے۔ یہ ایک مسلّمہ ہے کہ خیرات کرنے والے لوگ کبھی مفلس نہیں ہوتے۔ زندگی کے اعمال میں جھوٹ کی تھوڑی سی آمیزش بھی قول و فعل میں تضاد پیدا کر دیتی ہے۔ سچ ایک ایسی حقیقت ہے جو زمین کے ایک ایک ذرہ کو منوّر کرہتی رہتی ہے اور زمین کا ایک ایک ذرّہ پکار کر اعلان کرتا ہے کہ یہ انسان سچ کا پیامبر ہے۔ کیا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ غلط کاری سے اس کے وجود میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
آئیے، اس فلسفیانہ بحث کو چھوڑ کرنتیجہ پر غور کریں۔ اللہ بھگوان، نروان، گاڈ، ایل، ایلیا، ماورا ہستی ہر خاص و عام کی سرپرست ہے، نگراں ہے، ابتداء ہے اور انتہا ہے۔ نگراں ذات سے خوف بندہ کو دور عمیق سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ محبت سے قربت کا احساس جنم لیتا ہے۔ ماوراء ہستی اللہ سے جتنی محبت کی جائے وہ ہستی اس مناسبت سے دس گنا بندے کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ دوستی کا وصف قربت ہے نہ کہ دوری۔ دوست کو دوست سے نہ خوف ہوتا ہے اور نہ غم۔
آدم و حوّا کے بیٹوں اور بیٹیوں کو عہد کرنا چاہئے کہ ماوراء ہستی اللہ سے آج کے بعد ڈریں گے نہیں۔ اس سے محبت کریں گے۔ اس لیئے کہ ماورا ہستی خود اعلان کر رہی ہے۔
“اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہوتا ہے اور نہ انہیں غم ہوتا ہے۔”

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 215 تا 218

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)