اسٹیم

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6246

مطالعہ کائنات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایآجا سکتا ہے کہ قرآن میں وضو، نماز، صوم و زکوٰۃ، حج، طلاق، قرض وغیرہ پر ڈیڑھ سو آیات ہیں۔ تسخیری فارمولوں اور مطالعہ کائنات کے متعلق سات سو چھپن آیتیں ہیں۔ قرآنِ پاک ہمیں زمین کے اندر معدنیات اور پہاڑوں کے اندر خزانوں سے مستفید ہونے کا درس دیتا ہے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ہر بات وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے۔ لیکن مسلمان نے جب سے اس کتاب کو محض حصولِ مقصد کا واسطہ اور آفات و بلیات سے نجات کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اس کتاب کے اندر تسخیری فارمولوں اور کائناتی اسرو رموز سے محروم ہو گیا ہے۔ قرآنِ پاک کا دعویٰ ہے کہ دین مکمل کر دیا گیا ہے یعنی نوعِ انسانی کی معاشرتی،علمی، اخلاقی اور رُوحانی ترقیوں کے اصول و قواعد کھول کھول کر قرآنِ حکیم میں لکھ دیئے گئے ہیں۔ قرآنِ پاک نوعِ انسانی کا ورثہ ہے۔ نوعِ انسانی میں جو قوم اس ورثہ سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے “ہم نے لوہا نازل کیا اور اس میں نوعِ انسانی کے لیئے بے شمار فائدے محفوظ کردئیے ہیں۔”
جس قوم نے قرآنی اعلان پر تفکّر کر کے کوشش اور جد و جہد شروع کی وہ کامیاب ہوتی رہی اور آج بھی کامیاب ہے۔ اہلِ یورپ لوہے، تانبے اور زمین کے اندر خزانوں کی تلاش میں جب سرگرداں ہوئے تو قانونِ قدرت کے مطابق ان کے اوپر زمین کے خزانوں نے خود اپنی افادیت ظاہر کرنا شروع کر دی۔ اور انہوں نے لوہے، تانبے اور دیگر دھاتوں کے مرکب سے ایسی ایجادات میں کامیابی حاصل کر لی کہ وہ اقوامِ عالم میں ممتاز ہو گئے۔ ہواؤں میں اڑنا زندگی کا معمول بن گیا۔ سمندروں اور دریا کی سطح پر تیرنا اور ہزاروں لاکھوں ٹن سامان اِدھر سے اُدھر پہنچانا ایک عام بات بن گئی۔ ان کی ذہنی کاوشوں سے زمین کے فاصلے سمٹ گئے۔ دنیا کی خبریں اس کونے سے اُس کونے تک پہنچنے لگیں۔ اسٹیم اور بھاپ کی دریافت سے ریل گاڑیوں کا نظام قائم ہوا۔ زمین کے اندر سے گیس اور پٹرول نکلا تو موٹر کاریں زمین ہر دوڑنے لگیں۔ لاسلکی نظام کے تحت دور دراز رہنے والوں، رشتہ داروں، پیارے دوست ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ انہوں نے باد و باراں کے نظام سے با خبر ہو کر ایسے انکشافات کئے کہ جن سے اللہ کی مخلوق حوادثِ سماوی سے محفوظ رہ سکے۔
یہ سب اس لیے ہوا کہ مفکّرین اور دانشواروں نے صحیفۂ کائنات کے مطالعہ کے بعد اس کے قوانین اور آیات کو اپنی اور نوعِ انسانی کی بہتری کے لیئے استعمال کیا ۔
قرآن بہ آوازِ بلند فرماتا ہے —– ” قرآن تسخیری فارمولوں کی کتاب ہے۔ اقوامِ عالم میں ممتاز ہونے کے لیئے اس میں غور کرو، تفکر کرو، اس کو جانو، اس کو پہچانو، آخر تم لوگ اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔”
اللہ تعالےٰ کی عظمت، بزرگی اور صنّاعی کو سمجھنے کے لیئے اس کی تخلیق اور نظامِ ربوبیت میں غور اور تدبر کرو۔
ایجادات و ترقی اور علم و ہنر کآجو سورج آج مغرب میں روشن ہے، کبھی مشرق میں چمکتا تھا۔ اور جب مشرقی اقوام باالعموم اور مسلمانوں نے بالخصوص علم و ہنر کے اس سورج سے اپنا رشتہ منقطع کر لیا تو علم و ہنر نے بھی مسلمانوں سے اپنا رشتہ توڑ لیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“جو قومیں اپنی تقدیربدلنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ اللہ بھی ان میں تغیر پیدا نہیں کرتا۔”
اللہ کے پھیلائے ہوئے نظام پر غور کرنے سے نظر آتا ہے کہ اس عالمِ رنگ و بو میں دو (۲) دنیائیں ہیں۔ اور ان دنیاؤں میں جو مخلوق آباد ہے اس مخلوق کے ہر فرد میں چار آنکھیں ہیں، دو دماغ ہیں، دو ناک ہیں، چار کان ہیں، چار ہاتھ ہیں، چار پیر ہیں۔ مخلوق کا ہر فرد چھے سمتوں میں قید ہے۔ ہر فرد کے دو (۲) رُخ ہیں۔ ایک ٹھوس، دوسرا لطیف۔ زندگی گزارنے کے لیئے مکان (SPACE) ایک ہے اور زمان (TIME) کا کوئی حد و شمار نہیں ہے۔ مکان فرد کو اس کے ہونے کا احساس دلاتا ہے اور زمان (TIME) یہ بتاتا ہے کہ انسان ساٹھ ہزار حواس سے مر کب ہے۔ اور جب کوئی قوم اپنے ان حواس سے با خبر ہونے کی جدوجہد کرتی ہے تو اللہ تعالےٰ اس کے اوپر ترقی و تعمیر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس کے ذہن پر ترقی و ایجادات کے روشن پہلو اور سائنسی علوم نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اور پھر یہ قوم خلاؤں میں اور زمین پر تصّرف کر کے اقوامِ عالم کے سر کا تاج بن جاتی ہے اور جو قوم تلاش و جستجو، فکر و دانش اور غور و تدبّر سے عاری ہوتی ہے وہ زمین پر غلام بن کر اور ذلیل و خوار ہو کر زندگی بسر کرتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 208 تا 210

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)