یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔
مراقبہ
ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے
زندگی اور زندگی سے متعلق جذبات و احساسات،واردات و کیفیات، تصورات و خیالات اور زندگی سے متعلق تمام دلچسپیاں اس وقت تک ہیں جب تک سانس کا سلسلہ قائم ہے،سانس اندر جاتا ہے، سانس باہر آتاہے،اندر کے سانس سے باطن کا رشتہ جڑ جاتاہے، سانس باہر نکلنے سے حواس میں
حوالہ : احسان و تصوف
مُغَیَّباتِ اَکوان اللہ تعالیٰ جب اپنی صفات بیان کرتے ہیں۔ ان صفات میں وحدت اور کثرت کا تذکرہ شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ مخلوق کثرت ہے۔ مخلوق کے اندر احتیاج ہے۔ مخلوق کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی کی اولاد ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ
حوالہ : شرحِ لوح و قلم
سوال: بچپن سے ہی میری عادت ہے کہ میں بہت زیادہ سوچتا ہوں یعنی بہت زیادہ بلکہ حد سے زیادہ سوچنے کا عادی ہوں۔ کوئی بھی واقعہ یا کوئی بھی معمولی بات ہو یا کوئی بھی چھوٹا سا مسئلہ ایک دفعہ میرے ذہن میں آ جائے تو بس اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پر
حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)
حضرت میراں ماںؒ کی آخری آرام گاہ کراچی میں ہے۔ آپ کا آبائی وطن لاڑکانہ ہے۔ آپ نے سلسلہ قادریہ سے فیض پایا۔ بی بی میراں ماںؒ جب حج کے ارادے سے کراچی تشریف لائیں تو آپ کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: “دیکھو! میرے چلے جانے کے بعد تم لوگ الگ الگ نہ ہو
حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین
آدمی جب مر جا تا ہے تو جو کچھ اِس نے دنیا میں کیا ہے وہ ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ چاہے وہ ذرہ برابر نیکی ہو۔ چاہے ذرہ برابر برائی ہو۔ ہر عمل اور ہرقول کی کراماً کاتبین ویڈیو فلم بناتے رہتے ہیں۔ انسان مرنے کے بعد یہی فلم دیکھتا رہتا ہے۔ مثلا ایک آدمی نے چوری کا
حوالہ : احسان و تصوف
دماغ کے اوپر مستقل دباؤ رہنے سے ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے، اس کی وجہ پیچیدہ حالات ہوں، کوئی الجھن ہو یا شکر کا مرض ہو، دماغی توازن خراب ہونے کی کوئی بھی وجہ ہو، علاج ایک ہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی پانی پئیں ایک گھونٹ پانی پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِ
حوالہ : روحانی علاج
جذباتی اتار چڑھاؤ اور اعصابی نظام میں سانس بہت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ مختلف جذباتی کیفیات میں سانس کی حرکات الگ الگ ہوتی ہیں۔ صدمے کی حالت میں سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔ غصہ میں سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ ذہنی سکون میں سانس کا انداز بالکل مخ
حوالہ : مراقبہ
مشاہدات و کیفیات – حضرت امام باقرؒ
حضرت امام زین العابدینؒ کے صاحبزادے حضرت امام باقر محمد بن علیؒ جب حج کو تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف پر نگاہ پڑی تو اتنے زور سے روئے کہ چیخیں نکل گئیں۔لوگوں نے دلاسہ دیا اور کہا کہ روئیں نہیں۔ فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ رونے کی وجہ سے نظر فرما دے۔ ا
حوالہ : رُوحانی حج و عُمرہ
سوال: مجھے حسد کرنے کی عادت ہے۔ بہت کوشش کے باوجود عادت نہیں چھوٹتی۔ آپ کوئی عمل بتایئے جس سے یہ عادت چھوٹ جائے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت یا امتحان سر پر آتے ہیں تو مجھے نماز پڑھنے کا خیال آتا ہے اور میں نماز پڑھنا شروع کر دیتا ہوں اور جب مصی
حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)
حضرت حسنؓ نے فرمایا کہ نمازی کے لئے تین خصوصی عزتیں ہیں: پہلی یہ کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے سر سے آسمان تک رحمت الٰہی گھٹا بن جاتی ہے اور اس کے اوپر انوار بارش کی طرح برستے ہیں۔ دوسری یہ کہ فرشتے اس کے چاروں طرف جمع ہو جاتے ہیں اور اس ک
حوالہ : روحانی نماز
بحیثیت مجموعی کائنات میں جو رنگ قلندر شعور سے نظر آتے ہیں ان کی تعداد تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ہے جب کہ سائنسدان اب تک تقریباً ساٹھ سے زیادہ رنگ دریافت کر سکےہیں اور عا م حالات میں جب رنگوں کا تذکرہ آتا ہے تو ان کی تعداد سات بتائی جاتی ہے۔ فی الواقع کت
حوالہ : قلندر شعور
سوال: آج سے کوئی چار سال پہلے پڑوس کی ایک لڑکی میں دلچسپی لینا شروع کی تو میرے خیر خواہوں نے مجھے باز رکھنے کی کوشش کی اور کہا کہ لڑکی کا خاندانی بیک گراؤنڈ ٹھیک نہیں ہے اور لڑکی خود بھی اچھے چال چلن کی مالک نہیں ہے۔ پھر میں نے صرف اس سے تعلقات رکھنے ک
حوالہ : روحانی ڈاک (جلد دوئم)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین شادیاں کیں، پہلی بیوی حضرت سارہؓ سے حضرت اسحٰق پیدا ہوئے۔ حضرت اسحٰق بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ ہیں۔ انبیائے بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت اسحٰق سے قائم ہوا۔ دوسری بیوی حضرت ہاجرہؓ تھیں۔ ان کے بطن سے حضرت اسمٰعیل پیدا ہوئے۔ خات
اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اہلِ ایمان (یعنی صاحبِ مشاہدہ خواتین و حضرات)کے اخلاقی اوصاف اس طرح بیان کرتے ہیں : ’’اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں، او ر بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جو غصے ک
حوالہ : احسان و تصوف
اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تے ہیں۔ ’’یہ کتاب ان لو گوں کو رو شنی دکھا تی ہے جو اپنے اندر اللہ کے با رے میں ذوق رکھتے ہیں‘‘۔ دو سری جگہ ارشاد ہے ’’میں نے انسان کو بجنی مٹی سے بنا یا ہے ۔‘‘ یہاں مٹی کی فطرت ( NATURE)بیان کی گئی ہے جو خلا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہ
حوالہ : کشکول
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تین مرتبہ پڑھکر ایک چمچہ پانی یا دودھ پر دم کر کے پلائیں۔
حوالہ : روحانی علاج
آسمانی صَحائِف کے نقطۂِ نظر سے تخلیقِ کائنات پر تفکر کرتے ہیں تو ہمیں اس بات علم ہو جاتا ہے کہ ہم مخلوق ہیں، اللہ ہمارا خالق ہے۔ خالق نے جب چاہا ’’کُن‘‘ فرما کر کائنات کو بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ خالق نے کیوں چاہا؟ اور خالق نے جو چاہا وہ پہلے سے مَوجود
حوالہ : قلندر شعور
قانون یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیّت کے ساتھ تن من دھن سے کسی چیز کی تلاش میں لگ جائے اور تلاش کو زندگی کا مقصد قرار دے لے تو وہ چیز اُسے حاصِل ہو جاتی ہے۔ یہ اللہ کی سنّت ہے… پہلے بھی جاری تھی… اب بھی جاری ہے… اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ اسی بات کو
حوالہ : قلندر شعور
لازوال، ہستی اپنی قدرت کا فیضان جاری وساری رکھنے کے لئے ایسے بندے تخلیق کرتی رہتی ہے جو دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے ہیں ۔ خالقِ حقیقی سےتعلق قائم کرنا اور آدم زاد کو اس سے متعارف کرانا ان کا مشن ہوتا ہے۔ سیّدنا حضور علیہ الصّلوٰۃوالسّلام کے وارث ابدال
حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ
بلیک ہول پھیل رہا ہے…… برف پگھل رہی ہے…… بادل گرج رہے ہیں…… بجلی چمک رہی ہے…… آندھیاں چل رہی ہیں…… موسلا دھار بارش برس رہی ہے…… سمندر خوفناک طوفان بن گئے ہیں…… دنیا کے اس کونے سے اس کونے تک ہر آدمی پریشان اور لرزہ ہے…… م
حوالہ : وقت؟
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔