یہ تحریر میں بھی دستیاب ہے۔
مراقبہ
ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے
ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عمر مبارک چھیاسی برس(86) ہو چکی تھی لیکن اولاد کی نعمت تا حال انہیں عطا نہ ہوئی تھی۔ انہوں نے ربّ العزت کی بارگاہ میں اِستدعا کی: ’’اے رب! مجھے نیک صالح لڑکا عطا کر۔‘‘ (سورۃ الصافات – آیت نمبر 100) یہ دعاا للہ
حوالہ : محبوب بغل میں
مرشد کریم الشیخ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب مدظلہ تعالیٰ کے کتابچوں پر مبنی کتابیں ’’اسم اعظم‘‘ اور’’ قوس قزح ‘‘آپ نے پڑھی ہو گی اور اپنے استاد کی نگرانی میں پڑھتے وقت تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل یعنی مراقبہ پر بھی توجہ دی ہو گی۔اس کتاب میں مرشد ک
حوالہ : محبوب بغل میں
مسافر شعور اور راستہ لاشعور ہے
تمام مخلوق ظہور میں آنے سے پہلے اللہ کے ارادے میں جس طرح محفوظ تھی اب بھی اسی طرح محفوظ ہے۔ جہاں یہ محفوظ ہے اس کو ’’لوح محفوظ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اب ہم یوں کہیں گے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب دراصل لوح محفوظ کا عکس ہے۔ یعنی لوح محفوظ اصل ہے اور اس ا
حوالہ : نظریٗہ رنگ و نُور
بی بی رابعہ شامیہؒ شیخ احمد بن الحواریؒ کی بیوی اور بی بی حکیمہؒ کی شاگرد تھیں۔ بی بی حکیمہؒ کی طرح ان کو بھی اولیاء اللہ خواتین میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک دن ان کے سامنے کھانے کا طشت رکھا گیا۔ انہوں نے خادمہ سے کہا کہ طشت کو میرے سامنے سے ہٹا دو۔ ایسا
حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین
سوال: عام طور پر جب ہم خواب دیکھتے ہیں تو ٹکڑوں میں دیکھتے ہیں، کبھی کوئی سِین چل رہا ہوتا ہے تو کبھی کوئی۔ انسان خواب میں کیے ہوئے اعمال یا دیکھے گئے واقعات میں ترتیب کیوں قائم نہیں کر سکتا؟ جواب: جب حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کیا گیا، اس وقت حضرت ی
حوالہ : ذات کا عرفان
کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا سترہ بار ختم ہو کر دوبارہ آباد ہوئی ہے۔ تاریخی شواہد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک معین وقت کے بعد وہ معین وقت دس ہزار سال بھی ہو سکتا ہے۔ خشک زمین پر آباد دنیا تہہ آب آ جاتی ہے۔ شعور زمین کے اندر غاروں سے شروع ہوتا ہے اور بتدریج
حوالہ : صدائے جرس
ایک غزوہ سے واپسی پر مسلمان لشکر نے راستے میں پڑاؤ کیا۔ اس جگہ درختوں کے کئی جھنڈ تھے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ صحابہؓ ان درختوں کے سائے میں سوگئے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام بھی ایک درخت کے نیچے اکیلے آرام فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت ک
اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے
اسماءِ الٰہیہ تین تنزّلات پر منقسم ہیں۔ اوّل ۔۔۔۔۔۔ اسماءِ اِطّلاقیہ دوئم ۔۔۔۔۔۔ اسماءِ عَینیہ سوئم ۔۔۔۔۔۔ اسماءِ کَونیہ اسماءِ اِطّلاقیہ اللہ تعالیٰ کے وہ نام ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے تعارف میں ہیں۔ انسان کا یا مَوجودات کا ان سے براہِ راست کوئی ربط ن
حوالہ : لوح و قلم
قرآن حکیم میں جہاں انسان کی تخلیق کا تذکرہ ہوا ہے وہاں یہ بات وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ انسان کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مٹی کو بجنی اور کھنکھناتی فرمایا ہے یعنی خلاء مٹی کے ہر ذرے کی فطرت (Nature) ہے۔ سوال: انسان کیا ہے؟ جواب: عا
حوالہ : آگہی
مجھے کبوتر پالنے کا شوق تھا ۔ ایک مرتبہ ایک فاختہ آکر کبوتروں کے ساتھ دانہ چگنے لگی۔ ایک کبوتر کے ساتھ اس کا جوڑا ملادیا گیا۔ اس کے انڈوں سے جو دوبچے نکلے وہ اپنی خوبصورتی میں یکتا اور منفرد تھے۔ پروں کا رنگ گہرا سیاہ اور باقی جسم سفید تھا۔ ان کے اندر
حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ
ابولہب اور اس کی بیوی امِ جمیل اور اس کا بیٹا عقبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ایک بار عقبہ گستاخی کا مرتکب ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ’’اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے ک
آدم کا شرف انسان کی دنیا طول و عرض میں روشنیوں کے تاروں یا روشنیوں کی لہروں سے بنی ہوئی ہے اور زندگی کی تمام حرکات و سکنات انہی تاروں کے اوپر قائم ہیں۔ بہت زیادہ فکر طلب یہ بات ہے کہ: ان لہروں کی طوالت جس طرح معیّن ہے اسی طرح ہر تار کی صفات بھی معیّن ا
حوالہ : شرحِ لوح و قلم
حضرت ربیع بن حراش ؓ کہتے ہیں کہ ہم چار بھائی تھے۔ہمارے بڑے بھائی حضرت ربیع ؓ پکے نمازی اور روزے دار تھے۔سردیوں گرمیوں میں بھی وہ نفلیں پڑھتے اور روزے رکھتے تھے۔جب ان کا انتقال ہوا تو ہم سب ان کے پاس جمع تھے اور ہم ایک آدمی کو ان کے لئے کفن کا کپڑا لینے
حوالہ : احسان و تصوف
اللہ رب العزت سارے جہانوں کا پرورش کرنے والا ، سب کی ضروریات کا کفیل اور سب کا نگہبان ہے۔ چنانچہ جب ہم انسانوں سے بھلائی سے پیش آتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ قرآن پاک نے ہم پر حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ی
حوالہ : تجلیات
سوال: میں حافظ قرآن ہوں۔ کبھی کبھی رات کو ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چیز دبا لیتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ میں جاگ رہا ہوں مگر اس چیز کے دفاع کی قوت بالکل سلب ہو جاتی ہے اور اس دوران یوں ہوتا ہے کہ میں اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر انگلی کو دانتوں سے چباتا ہوں تو یوں
حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)
رمضان المبارک کی ۲۷ تاریخ اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کا قیام اللہ کی عطا کردہ ایک بڑی نعمت ہے۔برصغیر کے مسلمانوں نے رنگ،نسل،زبان اور عقائد کے تمام نظریہ کلمہ توحید کو بنیاد بنا کر ایک آزاد ملک کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے
حوالہ : بچوں کے قلندر بابا اولیاؒ
شیخ ابوالخیر اقطع ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ طیبہ حاضر ہوا اور پانچ دن ایسے گزر گئے کے کھانے کو کچھ نہ ملا۔ کوئی چیز چکھنے کی بھی نوبت نہ آئی۔ قبرِ اطہر پر حاضر ہوا اور حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرات شیخین پر سلام عرض کرکے منبر شریف کے
حوالہ : احسان و تصوف
دعا ایک ایسی عبادت ہے جس کا بدل دوسری عبادت نہیں ہے۔ دعا ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان فی الواقع اپنی نفی کر دیتا ہے اور اپنے پروردگار کے سامنے وہ کچھ بیان کر دیتا ہے جو کسی قریب ترین عزیز سے نہیں کہہ سکتا۔ بے شک حاجت روائی اور کارسازی کے سارے اختیارات
حوالہ : تجلیات
اللہ کی طرز فکر یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور اس خدمت کا کوئی صلہ نہیں چاہتا۔ بندہ جب اختیاری طور پر اس طرز فکر کو اختیار کر لیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کی مخلوق کے کام آئے تو اسے قلندر شعور منتقل ہو جاتا ہے اس کے مشاہدات میں بے شمار ایس
حوالہ : کشکول
سبزی مائل یا نیلا ہوتاہے۔ اکثر نیشاپوری فیروزہ سستے داموں میں عوام کے لئے مل جاتاہے۔ فیروزہ یا فیروزہ کے رنگ کا نگینہ نظر کو تیز کرتاہے۔ اگر کوئی شخص بہت زیادہ غصیل ہواور فیروزہ پہننے والا شخص اس کے سامنے چلا جائے تو وہ مہربان ہوجاتاہے۔ فیروزہ کی انگوٹ
حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔
