یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

فہم و فراست

گرمیوں کے دنوں میں گرمی کی شدّت سے موم نرم پڑجا نے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن یہ ننھا کیڑا اپنی عقل مندی کی وجہ سے اپنے گھر کو برباد ہونے سے بچا لیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ گرمیوں کے دنوں میں تمام کارکن مکھیاں چھتے کے تمام خانوں کے کنارے پر اس طرح بیٹھ جاتی ہیں

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

آوازیں آتی ہیں

سوال: سات سال پہلے میری بہن کے کانوں میں آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ پہلے پہل تو ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اصل بات کیا ہے ۔ وہ کہتی تھیں کہ کوئی ٹیلی پیتھی کے ذریعے مجھ سے بات کرتا ہے۔ ایک دو روز تک یونہی عام ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے۔ مگر ان کی سمجھ میں

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

لیل و نہار

ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ، متانت اور بردبادی کے ساتھ یہ سو چنا ہوگا کہ مرنے جینے اور جسم کی نت نئی تبدیلیوں کے پیچھے کیا عوامل کام کر رہے ہیں ۔ ہم کیوں قائم با لذؔات نہیں ہو جاتے، کیا ہم بار بار تبدیلیؑ جسم کے سلسلے کو ختم نہیں کر سکتے اور کیا ہم بقائے

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

علم کی تشریح

علم کا مطلب ہے جاننا۔یاکسی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا، زمین وآسمان میں آباد مخلوق میں سے کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں ہے جو علم کے دائرے سے باہر ہو․․․․ ہر مخلوق۔ وائرس ہو،چیونٹی ہو، شہد کی مکھی ہو، ہرن ہو، نقش ونگار سے مزین خوبصورت پروں والا پرن

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

فرشتوں سے ہم کلامی

عید کی نماز کے بعد دعا کے وقت یہ خیال آیا کہ اربوں کی تعداد میں تمام عالم اسلام کے مسلمان ہر تہوار اور ہر مبارک دن دعا مانگتے ہیں کہ فلسطین آزاد ہو جائے۔ کشمیر آزا د ہو جائے؛تمام عالم مسلمان حکمراں، مسلمانوں کی عزّت و تکریم ہو، ہر طرف دین کے چراغ روشن

⁠⁠⁠حوالہ : جنت کی سیر

علمِ حضوری

علم ِ حضوری وہ علم ہے جو ہمیں غیب کی دنیا میں داخل کرکے غیب سے متعارف کراتا ہے۔ علمِ حضوری سیکھنے والے بندے کے اندر لاشعوری تحریکات عمل میں آجاتی ہیں۔لاشعوری تحریکات عمل میں آجانے سے مراد یہ ہے کہ حافظہ کے اوپر ان باتوں کا جو بیان کی جارہی ہیں ایک نقش

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

محرومی یا ناکامی کا افسوس

محرومی یا ناکامی کا افسوس کسی محرومی یا ناکامی کا افسوس لاحاصل اور خلاف عقل ہے محروم تمناوں ناکام خواہشات اور اس قسم کے تصورات سے اس طرح گزر جانا چاہئے کہ طبعیت اسکا اثر قبول نہ کرے۔   کامل استغنا جو نور پوری کائنات میں پھیلتا ہے اس میں  ہر قسم کی

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

مساجد

سن ایک ہجری تک اسلامی حکومت مدینہ منورہ کے چند محلوں تک محدود تھی۔ فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ کی زندگی میں دس سال کے قلیل عرصے میں اسلامی فتوحات میں روزانہ ۲۷۶ میل کا اضافہ ہوتا رہا۔ سن گیارہ ہجری میں جب فخر موجودات رسالت مآبﷺ کا وصال ہوا ت

⁠⁠⁠حوالہ : قوس و قزح

جادوگر

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دی وہ اژدھا بن گئی پھر آپ نے ستارے کی طرح چمکتا ہوا ید بیضا دکھایا یہ معجزات دیکھ کر درباری کہنے لگے۔ ’’یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے، پوری سلطنت سے جادوگروں کو جمع کر کے اس سے مقابلہ کرایا جائے پھر ضرور یہ

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

مراقبۂ نور

تصوف کے مطابق کائنات کی تخلیق کا بنیا دی عنصر’’ نور‘‘ ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ: ’’ اﷲ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ‘‘ (سورۂ نور آیت نمبر ۳۵) نور اس خاص روشنی کو کہتے ہیں جو خود بھی نظر آتی ہے اور دوسری روشنیوں کو بھی دکھاتی ہے۔روشنی، لہریں، رن

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

بی بی فاطمہ خاتونؒ

لاہور میں مقیم فاطمہ خاتونؒ سلسلہ قادریہ سے منسلک تھیں، عصر کا وقت تھا، بیری کے درخت کی چوٹی پر دھوپ تھی۔ بی بی صاحبہ نے اپنی چادر دھوپ میں ڈال دی اور درخت سے مخاطب ہو کر فرمایا:”اے درخت ذرا اپنی ٹہنیاں تو جھکا دے تا کہ میں اپنی چادر سکھا لوں۔” ٹہنیاں

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

بدن پر کالے داغ

رات کو جب مریض سو جائے اور اس کے جاگنے کا اندیشہ باقی نہ رہے تو گھر کا کوئی فرد مریض کے قریب بیٹھ کر ایک بالشت کے فاصلہ سے الم(1)ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ(2)الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ پڑھکر سنا ئیے۔ اس علاج کو کئی ہف

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

فتح

اعلیٰ ترین شہود کو فتح کہتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو شہود کا کمال میسر آ جائے تو وہ عالم غیب کا مظاہرہ کرتے وقت آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا بلکہ از خود اس کی آنکھوں پر ایسا وزن پڑتا ہے جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتیں اور کھلی رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ آنکھوں کے

⁠⁠⁠حوالہ : مراقبہ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ

شاہ عبدالعزیز دہلوی کے حالات وواقعات ہماری راہنمائی کرتے ہیں کہ نادیدہ مخلوق جنات کوہم دیکھ سکتے ہیں ۔ان سے دوستی کرسکتے ہیں ۔اوران کی خدمات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

حضرت قادر محی الدین

آپ کی عرفیت بمبئی والے بابا تھی اور باباتاج الدینؒ آپ کومستان بابا کہتے تھے۔ بمبئی والے بابا شکردرہ باباتاج الدینؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ خواجہ علی امیرالدین کے ہم صفت تھے اور توتلی زبان میں بات کرتے تھے۔ عالمِ جذب میں اپنے کپڑے پھاڑکر پھینک دیتے ت

⁠⁠⁠حوالہ : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

باغبان چیونٹیاں

ایک قسم باغبان چیونٹیوں کی ہوتی ہے جو باغ لگاتی ہیں۔ یہ باغ پھپھوند کے ہوتے ہیں۔ یہ کمال مہارت سے باغوں کی اَفزائش اور پَرداخت کرتی ہیں۔ یہ باغ مکان کی گیلریوں اور خانوں میں لگائے جاتے ہیں ۔ چیونٹیوں کیلئے یہ باغ پھولوں کے باغ کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے ک

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

ننھی منی مخلوق

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ابھی شعور کی اس منزل پر نہیں پہنچا تھآجہاں عقل کی بھٹی میں تپ کر آدمی انسان بن جا تا ہے۔ لیکن یہ سوچ میرے اعصاب کو ہلکان کر رہی تھی کہ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔ تفکر کے ڈانڈے زندگی، بندگی سے ہم آغوش ہو تے تھے تو یہ حقیقت سامنے

⁠⁠⁠حوالہ : آوازِ دوست

ڈولفن

انسان ایک چکر فی سیکنڈ کی آواز کی لہروں کو محسوس کر سکتا ہے لیکن ایک ہزار چکر فی سیکنڈ سے زیادہ چکر کی آواز کی لہروں کو انسانی کان سن نہیں سکتے۔ اس کے بر عکس کتؔے، بلؔیاں اور لومڑیاں ساٹھ ہزار چکر فی سیکنڈ کی آوازیں سن سکتی ہیں چوہے ،چمگادڑ ،وھیل اور ڈ

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

ٹرانس پیرنٹ

سوال: فی زمانہ سائنس اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ پتہ لگایا جائے کہ ہمارے سیارے کے علاوہ کسی دوسرے سیارے پر آبادی ہے یا نہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ روحانیت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ میں نے ایسے سادھوؤں، جوگیوں اور سنیاسیوں کے متعلق پڑھا ہے جو اپنی روح کو جسم

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ

انسان کے اختیارات اور اس کے اشرف المخلوقات ہونے کے بارے میں خواجہ صاحب نے حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ کے قصے سے مثال دے کر سمجھایا کہ کس طرح فرشتے انسان کے لئے مسخر ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ اپنے گھر میں موجود تھے کہ باہر درواز

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

[contact-form-7 id=”5944″ title=”Launch feedback form”]