یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

دربارِ رسالتﷺ کی فضیلت

اللہ کے مقدس گھر خانہ کعبہ کے دیدار سے مشرف ہو کر حج کے مبارک فریضہ سے سکبدوش ہونے کے بعد زندگی کی ایک سب سے بڑی سب سے عظیم الشان سعادت سرور کائناتﷺ کے روضہ اقدسﷺ کے لئے مدینہ منورہ کی جانب روانگی ہے۔ اس مبارک دربار رسالت مآبﷺ کی برکتوں اور فضیلتوں کا

⁠⁠⁠حوالہ : رُوحانی حج و عُمرہ

نشیب وفراز

انسان ایسی زندگی چاہتا ہے جو فنا سے نا آشنا ہو ۔ایسی صحت چاہتا ہے جو بیماریوں سے متا ثر نہ ہو۔ ایسی جوانی چاہتا ہے جو بڑھاپے میں تبدیل نہ ہو۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جوانی بڑھاپے میں تبدیل ہو جاتی ہے صحت اور تندرستی کے اوپر بیماریوں کا غلبہ بہرحال ہوت

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

تصوف کے اسباق

تصوف میں جتنے اسباق اوراد،وظائف،اعمال و اشغال اور مشقیں کرائی جاتی ہیں ان سب کا منشاء یہ ہے کہ آدم کے لئے جنت کا حصول ممکن ہوجائے۔ اﷲتعالیٰ نے آدم کو تین علوم سکھائے ہیں۔ ۱ ) خالق اور کائنات کا تعارف ۲ ) مخلوقات ۳ ) خود آگاہی *اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے۔ In the name of Allah The Most Compessionate, The Most Merciful. آغاز اللہ کے نام سے: لوحِ محفُوظ کا قانوُن یہ ہے کہ جب کوئی فَرد کسی دوسرے فَرد سے

⁠⁠⁠حوالہ : نُورِ ہدایت

معاشیایات

کاروبار میں حسن اخلاق کاروباری ترقی کے لئے ضمانت ہے۔ دکاندار کی حیثیت سے آپ کے اوپر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ 1۔ یہ کہ خریداروں کو اچھے سے اچھا مال فراہم کریں۔ جس مال پر آپ کو خود اعتماد نہ ہو وہ ہرگز کسی کو نہ دیں۔ 2۔ آپ کو اپنے کردار سے یہ ثاب

⁠⁠⁠حوالہ : تجلیات

ہر شئے کی بنیاد پانی ہے

ہرشئے کی بنیاد پانی ہے، پانی کے اوپرہی تخلیق کادارومدار ہے، پانی نہ ہو تو زمین بے آب وگیاہ بنجر بن جاتی ہے ۔ انسان ، جنات ،پودوں ، درختوں اوردوسری تمام مخلوقات کی نشوونما کے لئے نمی ، ہوا اور گرمی کاہونا ضروری ہے۔فاسفورس، پوٹاشیم اور نائٹروجن نہ ہوتب ب

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

فطری عقل

فطری عقل قیامت گزر جانے سے پہلے ہم نے اگر فطری عقل سے کام نہیں لیا تو صفحہ ہستی سے ہمارا وجود حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا۔   عمل کے بغیر دعا عمل کے بغیر دعا ایک ایسا جسم ہے،جس میں روح نہیں ہے۔   بےعملی بے عملی قوم کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے اور ہر

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

مقاماتِ بیت الحرام

کعبہ کا نقشہ ایک بے قاعدہ مستطیل پر بنا ہوا ہے۔ دیواریں جن کا رخ شمال مشرق کی طرف ہے اور سامنے کی دیوار چالیس فٹ لمبی ہے۔ دوسری دو دیواریں ۳۵،۳۵ فٹ کی ہیں اور کعبہ کی اونچائی ۵۵ فٹ ہے۔ کعبہ کی عمارت میں سیاہی مائل بڑے پتھر استعمال کئے گئے ہیں جو مکے کے

⁠⁠⁠حوالہ : رُوحانی حج و عُمرہ

شاہی پیالے کی تلاش

کنعانی جوانوں کا قافلہ ابھی روانہ ہوا تھا کہ چاندی کے شاہی پیالے کی تلاش شروع ہو گئی۔ قافلے والوں پر شبہ ظاہر کیا گیا کیونکہ غلہ صرف اس قافلہ کو تقسیم کیا گیا تھا۔ قافلہ رکوایا گیا۔ برادران یوسف نے اس پر احتجاج کیا کہ الزام بے بنیاد ہے۔ بحث و تمحیص کے

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

توجہ الی اللہ

محمد الرّسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام غار حرا میں مراقبہ سے فارغ ہوئے تو آپ کو ایک اور حکم ربانی ملا۔ سورۃ مزمل میں ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢﴾ نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ﴿٣﴾ أَوْ زِدْ عَلَيْ

⁠⁠⁠حوالہ : مراقبہ

عمل اور عامل حضرات

عامل حضرات کسی عمل کی تکرار کر کے اپنے دماغ کو بار بار حرکت دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ارادہ پر قابو پالیتے ہیں۔ مشق کے ذریعے انکی مہارت جتنی بڑھتی ہے اسی قدر ان کو قوت ارادی کے ذریعہ کام لینے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے آدمی ازروئے جبلّت بھی پیدا ہوت

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

ڈر

ڈر ڈر اور خوف دو انسانوں کے درمیان،ایک انسان اور درندہ کے درمیان،ایک انسان اور سانپ کے درمیان دوری اور بعد کی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں اس کے متضاد محبت سے قربت پیدا ہوتی ہے۔   مذہبی روحانی آدمی ایک مذہبی روحانی آدمی کے اندر سکون ہوتا ہے،قناعت ہوتی ہ

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

دولتِ

دولتِ دولت کی ہوس اور معیار زندگی بلند سے بلند ہونے کے تقاضوں نے اولاد آدم کے لیئے دنیا کو دوزخ بنا دیا ہے۔   اللہ سے دوری جو لوگ صابر و شاکر اور مستغنی نہیں ہیں وہ اللہ سے دور ہو جاتے ہیں اور  اللہ سے دوری سکون و عافیت اور اطمینان قلوب سے محرومی

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

تصرف کی تین قسمیں ہیں

۱) معجزہ ۲) کرامت ۳) استدراج یہاں تینوں کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ استدراج وہ علم ہے جو اعراف کی بری روحوں یا شیطان پرست جنات کے زیر سایہ کسی آدمی میں خاص وجوہ کی بناء پر پرورش پاجاتا ہے۔ صاحب استدراج کواﷲ کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی، علم استدراج اور علم نب

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

وجود

انسان کے وجود میں ایک وجود (مادی جسم ) پر ہر لمحہ او ر ہر آن موت وارد ہوتی رہتی ہے ۔ جس لمحہ موت وارد ہوتی ہے اس ہی لمحہ ایک نیا وجود تشکیل پا جا تا ہے ۔ یہ وجود لمحہ بہ لمحہ حیات ہے ۔ دوسرا وجود (روح)وہ ہے جس پر لمحات ،گھنٹے ،دن اور ماہ و سال اثر اندا

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

حکمت

ایمان کی دو صورتیں ہیں۔  اقرار بالسان  تصدیق بالقلب بنی اسرائیل کے واقعے میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ایمان صرف زبانی کلامی ہو تو آدمی کسی وقت بھی بھٹک سکتا ہے۔ لیکن اگر ایمان قلب میں اتر جائے اور اللہ تعالیٰ کا یقین پوری طرح حاصل ہو جائے تو انسان یق

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

تصور کیا ہے

سوال: مراقبہ کی مشق تلقین کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں تصور کیا جائے مثلاً دل کے اندر جھانکنے کو کہا جاتا ہے یا یہ بتایا جاتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے روشنی اور نور کا تصور کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس تصور سے مراد ہے کہ ہم اپنی بند آنکھوں کے سامنے ذوق

⁠⁠⁠حوالہ : اسم اعظم

آسمان وزمین

قرآن پاک کو محض ثواب و برکت کا ذریعہ سمجھ کر نہ پڑھیں یا طاقوں کی زینت بناکر نہ رکھیں ۔ بلکہ اس میں تفکر کریں، جیساکہ غوروفکر کرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فہم قرآن عطا کرنے کا ذمہ خود لیا ہے ۔’’ہم نے قرآن کا سمجھنا آسان کر دیا ہے، کیا ہے کوئی سمجھنے و

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

سلسلۂ عظیمیہ کی خدمات

سلسلۂ عظیمیہ کی کاوشوں سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ماورائی علوم اور روحانی طرز ِ فکر عام ہورہی ہے۔امامِ سلسلہ عظیمیہ نے عوام و خواص کو بتایا ہے کہ ہر شخص روحانی علوم کو باآسانی سیکھ سکتا ہے اﷲتعالیٰ سے رابطہ قائم ہوجانے کے بعد خواتین وحضرات کی زندگی

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

صوفی اور سائنٹسٹ

موجودہ سائنسدان اورصوفی سائنسدان میں یہ فرق ہے کہ سائنٹسٹ کے پیش ِ نظر پہلے اپنا مفاد ہوتا ہے اور صوفی کا علم مخلوق کے لئے وقف ہوتاہے۔ کائناتی نظام کوسمجھنے کی صلاحیت کو تصوف میں مغیبات ِ اکوان کہتے ہیں۔ مغیبات ِ اکوان کے حامل صوفی خواتین و حضرات کے ان

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

[contact-form-7 id=”5944″ title=”Launch feedback form”]