یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

امتحان

تمام مذاہب کی یہ تعلیم عام ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے ۔ا متحان میں کامیابی فرد اورقوم کے لئے سکون و راحت کا ذریعہ ہے ۔ جو فر د یا قوم امتحان میں فیل ہو جاتا ہے، نارِ جہنم اس کا ٹھکا نا ہے ۔

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

بی بی عائشہ علیؒ

بی بی عائشہؒ کا تعلق دینی گھرانے سے تھا۔ سخی اور خدا ترس تھیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کر کے خوش ہوتی تھیں۔ معنی و مفہوم پر غور کرنا محبوب مشغلہ تھا۔ کم گوئی نے آپ کو اللہ سے بہت قریب کر دیا تھا۔ بی بی عائشہؒ کو سیدنا حضورﷺ سے عشق تھا۔ ہر نماز کے بعد درود ش

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

حضرت احمد رضا خان بریلوی

*احمد رضا خان بریلوی ؒدوران حج مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے اس وقت دل میں یہ تمنا ابھری کہ کاش مجھے بیداری میں محبوب رب العالمین حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے۔ مواجہ شریف میں کھڑے ہو کر دیر تک درود پڑھتے رہے لیکن مراد بر نہ آئی تو ایک غز

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

ننھی منی مخلوق

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ابھی شعور کی اس منزل پر نہیں پہنچا تھآجہاں عقل کی بھٹی میں تپ کر آدمی انسان بن جا تا ہے۔ لیکن یہ سوچ میرے اعصاب کو ہلکان کر رہی تھی کہ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔ تفکر کے ڈانڈے زندگی، بندگی سے ہم آغوش ہو تے تھے تو یہ حقیقت سامنے

⁠⁠⁠حوالہ : آوازِ دوست

عجیب و غریب سرگزشت

بر صغیر پاک وہند کے معروف صاحب کمال ایک صوفی بزرگ حضرت غوث علی شاہ پانی پتی ؒ نے مندجہ ذیل واقعہ بیان کیا ہے جوٹائم اور اسپیس کے بارے میں نہایت حیرت انگیز معلومات فراہم کرتا ہے۔ *ایک شخص شاہ عبدالعزیزؒ کی خدمت میں حاضر ہوا لباس کے اعتبار سے وہ شاہی عہد

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

یقین کا پیٹرن

بِسْمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ جو لو گ اس عِلم میں پختہ کار ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے ۔یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ And those who are f

⁠⁠⁠حوالہ : نُورِ ہدایت

تر کھانسی

اس مرض میں بلغم گاڑھا ہوکر سینے پر جم جاتاہے اوردقت کے ساتھ نکلتاہے ۔ اس کے لئے نارنجی رنگ میں تیار کیا ہوا پانی دودوتولہ دن میں تین بار پلانا فائدہ مند ہے۔ کھانسی مزمن بھی نارنجی رنگ کے پانی سے پندرہ بیس روز میں جاتی رہتی ہے۔

⁠⁠⁠حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج

مسلمان اور تسخیر کائنات

سوال: آج کا مسلمان دوسری اقوام کے آگے دست دراز ہے، مجبور ہے، لاچار ہے۔ غرض ہر طرح سے اپنے وجود کی سلامتی کے لئے دوسروں کا محتاج ہے۔ آپ کے نزدیک وہ کون سا ایسا عمل ہے جن کو اپنا کر مسلمان شعوری پستی سے نکل سکتے ہیں۔ جواب: آج سائنس نے اس بات کا سراغ لگا

⁠⁠⁠حوالہ : ذات کا عرفان

ثواب پہنچانے کا طریقہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص قبرستان جائے اور وہاں سورہٰ یٰسٓ پڑھے تو اس روز وہاں کے مردوں سے عذاب کم کر دیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص قبرستان میں داخل ہو کر سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص (قل ہو اللہ) اور سورۂ تکاثر (الہٰکم ا

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی نماز

امراض کا روحانی علاج

معالج کو یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ اس کے اندر لہروں کا ذخیرہ اس قدر ہو جاتا ہے کہ زندگی میں کام کرنے والی لہر معالج کے اندر متحرک ہو جاتی ہیں۔ معالج مشق کے بعد جب اس قدر (Magnetized) ہو جاتا ہے تو وہ صحت مند لہریں مریض کے اندر ذخیرہ کر دیتا ہے اور مریض م

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

توانائی اور روح

کائنات اور اس کے اندر مَظاہرات ہر لمحہ اور ہر آن ایک سَرکل (Circle) میں سفر کر رہے ہیں اور کائنات میں ہر مظہر ایک دوسرے سے آشنا اور متعارف ہے۔ تعارف کا یہ سلسلہ خیالات پر مبنی ہے۔ سائنس نے آپس میں اس تبادلۂِ خیال اور رشتہ کو توانائی کا نام دیا ہے۔ سائ

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

اعمال و اشغال

۱) ذکر اذکار حمد و تسبیح کرنا۔ ۲) CONCENTRATION، تلاش، جدو جہد،تفکر ۳) صلوٰۃ میں اﷲ سے تعلق قائم کرنا۔ ۴) اﷲ سے قریب ہونے کے لئے روزے رکھنا۔ ۵) تزکیۂ نفس کے بعد تقویٰ اختیار کرنا۔ ۶) مسلمان ہونے کے بعد۔غیب کی دنیا کا مشاہدہ کرنا۔ ۷) ہر طرف سے ذہن ہٹاکر

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

مثانہ کی پتھری

ایک بچہ جس کی پیشاب کی نالی میں شدید درد ہورہا تھا ۔ بینگنی رنگ کی ایک ہی خوراک سے درد آدھے گھنٹہ میں بند ہوگیا۔ پیشاب جل کر آنے اورجلدی جلدی حاجت ہونے اور مثانہ و پیشاب کی نالی میں شدید درد میں اور بھی بہت سے مریض تھے جن کو بینگنی رنگ کی خوراکوں سے فا

⁠⁠⁠حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج

عطر بیز

اگر انسان کے اندر خود سکون ہے تو وہ دوسروں کے لئے بھی طمانیت قلب کا ذریعہ ہے۔ اس کا عکس ٹھنڈا اور عطر بیز ہے تو اس کی روحانی کیفیت حقیقی ہیں اور اگر انسان خود سکون سے دور ہے اور اس کے اوپر غم کے بادل چھائے رہتے ہیں تو وہ خوف اور ڈر کے خشک اور بے آب و گ

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

کبوتر زندہ ہوگیا

مجھے کبوتر پالنے کا شوق تھا ۔ ایک مرتبہ ایک فاختہ آکر کبوتروں کے ساتھ دانہ چگنے لگی۔ ایک کبوتر کے ساتھ اس کا جوڑا ملادیا گیا۔ اس کے انڈوں سے جو دوبچے نکلے وہ اپنی خوبصورتی میں یکتا اور منفرد تھے۔ پروں کا رنگ گہرا سیاہ اور باقی جسم سفید تھا۔ ان کے اندر

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

کریمہ بنت محمد مروزیہؒ

  کریمہ بنت محمد مروزیہؒ بڑی فہم اور سمجھدار بی بی تھیں۔ شادی نہیں کی۔ احادیث لکھنے میں خاص شغف تھا۔ اشعار نہایت خوش الحانی سے پڑھتی تھیں۔ ایک مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے نہایت ذوق و شوق سے اشعار پڑھ رہی تھیں۔ ایک بزرگ نے ان سے پوچھا: “تو ال

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے

ھدایہ۔جلداول۔”کتاب الزکوٰۃ المال” میں لکھا ہے کہ دور نبویﷺ میں دینار دس درہم کے برابر تھا۔ حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت میمونہؓ کا مہر پانچ سو درہم یعنی پچاس دینار تھا۔ پچاس دینار، پانچ سو پچھتر(۵۷۵) گرام سونے کے برابر ہیں۔ پانچ سو درہم کا مطلب آد

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

بی بی مریم بصریہؒ

آپ حضرت رابعہ بصریؒ کی ہم وطن اور ہم عصر تھیں۔ نہایت عبادت گزار اور اللہ تعالیٰ کی مقرب تھیں۔ عرفان حق کی باتیں ہوتی تو آپ اللہ کے خیال میں گم ہو جاتی تھیں۔ فرمایا! “جب سے میں نے “وفی السماء رزقکم و ماتوعدونo” کی آیت پڑھی ہے روزی کی فکر سے بے نیاز ہو گ

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

روحانی تربیت

علی گڑھ میں قیام کے دوران آپ کی طبیعت میں درویشی کی طرف میلان بہت زیادہ بڑھ گیا۔ اور وہاں مولانا کابلی ؒ کے پاس قبرستان کے حجرے میں زیادہ وقت گزارنے لگے۔ صبح تشریف لے جاتے اور رات گئے واپس آتے۔ اسی اثناء میں قلندر بابا ؒ اپنے نانا، بابا تاج الدّین ناگپ

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

اللہ کی بادشاہی کا رُکن

حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر ؑ کے واقعہ میں یہ انکشاف ہے کہ اﷲ کے نظام میں ایسے لوگ بھی کام کرتے ہیں جو نبی نہیں ہیں لیکن یہ سب لوگ توحید پرست ہوتے ہیں اﷲ وحدہ لاشریک کی پرستش کرتے ہیں اور ان کی روحوں کو اﷲ کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔یہی صاحب ِ عرفان

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

[contact-form-7 id=”5944″ title=”Launch feedback form”]