یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

فرشتوں کے گروہ

گروہ جبرائیلؑ گروہ میکائیلؑ گروہ عزرائیلؑ گروہ اسرافیلؑ ہر گروہ کی الگ الگ صلا حیتیں ہیں اور ان صلاحیتوں کا الگ الگ استعمال ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلا م اﷲ کے قا صد ہیں۔وحی پہنچا نا اور الہا م کر نا ان کاوصف ہے۔ حضرت میکا ئیل ؑ کے فرائض میں با رش کے س

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

جبلِ عرفات

میرے ایک معتمد اورمتقی دوست عبدالرحمٰن ساکن ایڈیٹر ذکر کرتے ہیں کہ ایک بزرگ شخص حجِ بیتاللہ کے لئے گئے۔ انہوں نے باباحضور کو جبلِ عرفات پر دیکھا اور اپنی فراست سے اندازہ لگایا کہ یہ کوئی صاحبِ اختیار بزرگ ہیں۔ انہوں نے باباصاحب سے ملاقات کی اور ان کا ن

⁠⁠⁠حوالہ : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ

مخلوق کی ساخت میں روح کے تین حصّے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی۔ روحِ اعظم علم واجب کے اَجزاء سے مرکّب ہے۔ روحِ انسانی علمِ وَحدت کے اَجزاء سے بنتی ہے۔ اور روحِ حیوانی ‘‘جُو’’ کے اَجزاء ترکیبی پر مشتمل ہے۔ روحِ اعظم کی إبتداء لطیفۂِ

⁠⁠⁠حوالہ : لوح و قلم

امتحان

تمام مذاہب کی یہ تعلیم عام ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے ۔ا متحان میں کامیابی فرد اورقوم کے لئے سکون و راحت کا ذریعہ ہے ۔ جو فر د یا قوم امتحان میں فیل ہو جاتا ہے، نارِ جہنم اس کا ٹھکا نا ہے ۔

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

دوپیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور

جانور دو ہیں ۔ ایک جانور چارپیروں سے چلنے والا ہے اور دوسرا دو پیروں سے چلنے والاہے۔ اڑنے والا جانور اور تیرنے والا جانور بھی چار پیروں سے چلنے والے جانوروں میں شامل ہے اس لئے کہ وہ پربھی استعمال کرتاہے اور پیربھی۔ نیز اس کے اڑنے کی صورت بھی وہی ہوتی ہ

⁠⁠⁠حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج

حضرت فرید الدین کریم بابا

آپ کاٹھیاوار کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بچپن ہی میں باباتاج الدین ؒ کے پاس حاضر ہوگئے تھے۔ باباتاج الدینؒ سے مستفیض ہونے کے علاوہ آپ نے باباصاحبؒ کے دیگر فیض یافتگان سے بھی کسبِ فیض کیا۔ باباصاحبؒ کے حکم سے حکیم نعیم الدین کے خدمت میں رہ کر تصوف کے عل

⁠⁠⁠حوالہ : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

بی بی سعیدہؒ

بی بی سعیدہؒ اپنے دور کی رابعہ بصریؒ تھیں۔ ریاضت اور مجاہدے میں ان کو کمال حاصل تھا۔ آپ فرماتی تھیں:”دل کی آنکھ کھل جانے سے بندہ مومن کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ دل کی آنکھ سے دیکھنا حقیقت ہے اور ظاہری آنکھ سے دیکھنا فریب نظر ہے۔” ایک سکھ عورت نے آپ سے

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

گدی اور کمر میں درد

ایسا درد جو کولھوں کے درمیان ریڑھ کی ہڈی  کے جوڑ میں ہو یا  ریڑھ کی ہڈی کے اوپر گردن کے جوڑ میں ہو یا ریڑھ کی ہڈی میں کسی جگہ ہو اور درد کی لہریں  دما غ تک جاتی ہوں تو ایسی صورت میں اوپر نیچے دو۲ مثلث بنا کر مندرجہ ذیل نقش بیری کی لکڑی یا عود صلیب پر ل

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

پیش لفظ

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔ آسمان پر چاند، ستارے سورج، زمین پر برف پوش پہاڑ، دریا ندی نالے، تالاب، زمین سے گل گل کرتے ہوئے نکلتے چشمے، پوشیدہ معدنیات، اناج پھل سبزیاں، ہرے بھرے درخت، رنگ رنگ پھول، موتیا، چنبیلی، گلاب، چمپا، پھولوں پ

⁠⁠⁠حوالہ : بچوں کے قلندر بابا اولیاؒ

آنتیں

سوال: آپ اپنے کالموں میں بار بار یہ لکھتے ہیں کہ انسان اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔ نیابت کا مطلب ہے کہ جس کی نیابت حاصل ہے اس کے اختیارات بھی حاصل ہوں۔ آدم زاد کو اگر اللہ تعالیٰ کی نیابت کے اختیارات حاصل نہیں ہیں تو وہ صر ف اور صرف حیوان ہے، انسان کہلا

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

خلاء

کائنات کے کسی فرد کی تخلیق پر غور کیا جائے اور تخلیقی فارمولے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کائنات اور افراد کائنات کی چار سطحیں متعین ہوتی ہیں کائنات کی پہلی سطح ورائے لا شعور ہے۔ یہ سطح کائنات یا افراد کائنات کے اندر بہت گہرائی میں واقع ہے۔ اس سطح میں ات

⁠⁠⁠حوالہ : نظریٗہ رنگ و نُور

کان سے پیپ آنا

رات کو سوتے وقت نئی اور صاف روئی کے پھوئے پر الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى ایک بار پڑھکر کر پھو یا دم کریں اور متاثرہ کان میں رات کو سونے سے پہلے رکھدیں ۔ صبح نئی روئی کے پھوئے پر دم کر کے کان میں رکھ دیں ۔ ۲۴ گھنٹے میں دو مرتبہ یہ

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

ملک الموت اورایک عورت کا مکالمہ

میں نے مراقبہ موت میں دیکھا کہ کھیت کے کنارے ایک کچا کوٹھا بنا ہوا ہے۔ کوٹھے کے باہر چہار دیواری ہے۔ چہار دیواری کے اندر صحن ہے۔ صحن میں ایک گھنا درخت ہے۔ غالباً یہ درخت نیم کا ہے۔ اس درخت کے نیچے بہت سے لوگ جمع ہیں۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

صدقہ و خیرات

مال و دولت سے محبت انسان کے اندر رچی بسی ہوئی ہے اور وہ مال و دولت کی محبت میں اس قدر مبتلا ہے کہ خود قرآن کو کہنا پڑا کہ۔ ’’بے شک انسان مال و دولت کی محبت میں بڑا شدید ہے۔‘‘ انسان سمجھتا ہے کہ مال و دولت کے انبار اس کی ضروریات کی کفالت کرتے ہیں۔ چنانچ

⁠⁠⁠حوالہ : تجلیات

وجدان

کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو زندہ رہنے کے لیئے کسی نہ کسی عقیدے کا پابند رہنا ضروری ہے۔ گرد و پیش کے حالات اور ماں باپ کی تربیت سے جس قسم کے عقائد بچّے کے ذہن میں پرورش پا جاتے ہیں وہی بچّے کا مذہب بن جاتا ہے۔ تمام نظریات کی بنیاد اسی اصول پر کار فرما ہے۔

⁠⁠⁠حوالہ : آوازِ دوست

خواب اور زندگی

*زندگی کی دوسری حالت ( جس کو نیند کہا جاتا ہے) میں ہم دیکھتے ہیں،سنتے ہیں،محسوس کرتے ہیں،خود کو چلتا پھرتا دیکھتے ہیں لیکن جسم حرکت نہیں کرتا۔اس (PROCESS)سے یہ ثابت ہوا کہ روح اس بات کی پابند نہیں ہے کہ گوشت پوست کے ساتھ ہی حرکت کرے۔روح گوشت پوست کے بغ

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

انسان کے اندر انسان

نفس و دماغ سے متعلق روز افزوں انکشاف سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ انسان کا وجود دو حصوں میں تقسیم ہے ایک حصہ اس کی خارجی دنیا ہے اور دوسرا حصہ اس کے داخل میں واقع ہونے والی تحریکات ہیں۔ انسانی نفس کے یہ دونوں حصے ایک دوسرے سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں، یہ بات

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

نماز مومن کی معراج

نماز اس مخصوص عبادت کا نام ہے جس میں بندے کا اپنے خالق کے ساتھ براہ راست ایک ربط اور تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ نماز ارکان اسلام میں وہ رکن ہے جسے کوئی باہوش و حواس مسلمان کسی حالت میں نہیں چھوڑ سکتا۔ قرآن پاک میں تقریباً سو جگہ نماز کے قیام کی تاکید کی گئی

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی نماز

تصرف

سوال: کیا انسان اللہ کی کسی تخلیق میں کوئی تبدیلی لانے کا اختیار رکھتا ہے؟ مہربانی فرما کر اس کی وضاحت فرمائیں۔ جواب: اللہ تعالیٰ نے جہاں کائنات کی تخلیق کا تذکرہ کیا ہے وہاں یہ بات ارشاد کی ہے کہ میں تخلیق کرنے والوں میں سب سے بہتر خالق ہوں۔ اللہ تعال

⁠⁠⁠حوالہ : توجیہات

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

[contact-form-7 id=”5944″ title=”Launch feedback form”]