یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

فا رمولا

ہم علم الکتاب حاصل کر کے زمان و مکان یعنی TIME & SPACE کی گرفت کوتوڑسکتے ہیں ۔ قرآن کے علوم جاننے والا بندہ وسائل کے بغیر خلا میں پرواز کرنے اور ایک جگہ سے دور دراز دوسری جگہ کسی چیز کو منتقل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں موجود تمام اشیا

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

بی بی عاطفہؒ

حضرت ذوالنون مصریؒ کی بہن بی بی عاطفہؒ نہایت صابرہ، زاہدہ اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ ایک دن قرآن کریم کی آیت: “اور ہم نے تمہارے اوپر ابر کا سایہ کر دیا اور ہم نے تمہارے اوپر من و سلویٰ اتارا۔ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دے رکھی ہیں۔” پڑھ

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

روح کی آواز

سیدہ خاتون بٹ ،لندن میں نے دیکھا کہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک بہت ہی بڑا قرآن مجید رحل پر رکھا ہے اور ایک بہت بڑا ہاتھ قرآن مجید کا ایک ایک صفحہ الٹتا جا رہا ہےاور غیب سے آواز آ رہی ہےکہ دیکھو کیا ہم نے قرآن مجید میں یہ نہیں لکھا کہ جو قوم تباہی کے راستے

⁠⁠⁠حوالہ : جنت کی سیر

بچانے والا اللہ ہے

ایک غزوہ سے واپسی پر مسلمان لشکر نے راستے میں پڑاؤ کیا۔ اس جگہ درختوں کے کئی جھنڈ تھے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ صحابہؓ ان درختوں کے سائے میں سوگئے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام بھی ایک درخت کے نیچے اکیلے آرام فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت ک

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

ابوالجن طارہ نوس:

’’ جس طرح آج انسان اپنی نسل کا شجرہ حضرت ابوالبشر آدم علیہ السلام سے ملاتے ہیں بالکل یہی کیفیت قوم اجنہّ کی ہے ان کا سلسلہ توالد و تناسل ابوالجن طارہ نوس سے ملتا ہے اور جس طرح عورت و مرد انسانوں میں پیدا ہوتے ہیں اسی طرح قوم اجنہّ میں بھی پیدا ہو تے ہی

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

محبت کے گیت

کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بار بار یا زیادہ صیحح اندازوں کے مطابق سولہ (۱۶) مرتبہ تباہ ہو کر دوبارہ آباد ہوئی ہے۔ خوبصورت، رنگین، با غ و بہار سے مزیّن پرکشش برفا نی کہساروں، موتی کی طرح چمکتےمکّتے آبشاروں، آفتاب کی شعاعوں اور چاند کی کرنوں کا مسکن یہ دنیا۔

⁠⁠⁠حوالہ : آوازِ دوست

طرزِ فکر

سوال: فیض سے کیا مراد ہے؟ مرشد جب اپنے مرید کو فیض منتقل کرتا ہے تو وہ کیا چیز منتقل کرتا ہے؟ کیا اس کا تعلق ماورائی لہروں سے ہے؟  ماورائی لہریں اگر منتقل ہوتی ہیں تو کیا مرید کے اوپر کسی قسم کے تاثرات قائم ہوتے ہیں یا تاثرات قائم نہیں ہوئے؟ جواب: دوسر

⁠⁠⁠حوالہ : موت اور زندگی

مٹی کے ذرات

ہر آدمی جو ذرا بھی شعور رکھتا ہے ہر وقت اسس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ مر رہا ہے۔ ایک لمحہ مرتا ہے تو دوسرا لمحہ پیدا ہوتا ہے ۔دن مرتا ہے تو رات پیدا ہوتی ہے۔ بچپن مرتا ہے تو لڑکپن پیدا ہوتا ہے ، لڑکپن مرتا ہے تو جوانی پیدا ہوتی ہے اور ج

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

توانائی

زندگی اور زندگی سے متعلق جذبات و احساسات، واردات و کیفیات، تصورات و خیالات اور زندگی سے متعلق تمام دلچسپیاں اس وقت تک ہیں جب تک سانس کا سلسلہ قائم ہے۔ سانس اندر جاتی ہے، سانس باہر نکلتی ہے، اندر کے سانس سے باطن کا رشتہ جڑ جاتا ہے اور سانس کے باہر نکلنے

⁠⁠⁠حوالہ : صدائے جرس

حضرت عبداﷲ بن مسعود

حضرت ا بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ہم کئی صحابی کھاناکھارہے تھے ہم نے سنا کہ وہ غذا اﷲ کی تسبیح بیان کررہی ہے وہ کھانا سبحانِاﷲ،سبحان اﷲ پڑھ رہا تھا۔

⁠⁠⁠حوالہ : احسان و تصوف

فلم اور اسکرین

ہمارا ذہن ایک اسکرین ہے۔ جس پر زندگی کی فلم چلتی رہتی ہے۔ اس اسکرین کی دو سطحیں ہیں۔ ایک سطح وہ ہے جس پر مادی حواس کی فلم چلتی ہے۔ جو بھی خواہشات اور تقاضے، خیالات کی صورت میں وارد ہوتے ہیں ان کا عکس شعور کی بیرونی سطح پر پڑتا ہے اور ان تقاضوں کے تحت م

⁠⁠⁠حوالہ : مراقبہ

اللہ میاں

جب سے نوع انسانی نے زمین پر آنکھ کھولی ہے لاکھوں، اربوں آدم زاد اس زمین سے اُبھرے اور جب ان کی رُوحوں نے جسموں سے اپنا رشتہ منقطع کر لیا، اس دھرتی نے ان کے خاکی جسموں کو خاص و عام کی تخصیص کے بغیر اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ کیا بادشاہ، کیا فقیر سب سطح زمی

⁠⁠⁠حوالہ : آوازِ دوست

ہمزاد اور جنات

خواب دراصل لوح محفوظ کا سایہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد کیا ہے ’’ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا ہے۔‘‘ چنانچہ ایک سایہ زمین کے اوپر پڑتا ہے اور دوسرا سایہ اس کے بالمقابل آسمان پر پڑتا ہے۔ آدمی بیداری کی حالت میں زمین کے اوپر سایہ کو دیکھتا ہے

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

آدم و حوا جنت میں

اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو جنت میں بھیجا تو فرمایا: “اے آدم! تو اور تیری زوجہ جنت میں رہو۔” اللہ تعالیٰ نے جنت عطا کرنے میں مرد اور عورت کی روحانی اور جسمانی صلاحیتوں میں امتیاز نہیں رکھا۔ جب آدم اور حوا سے بھول ہوئی تو دونوں کو جنت میں سے دنیا میں اتارا

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

خواب میں مستقبل کا انکشاف ہوتا ہے

سوال: انسان اپنی زندگی کا بہت سا حصہ سو کر گزارتا ہے۔ سونے کے دوران وہ خواب بھی دیکھتا ہے۔ یہ خواب کیا ہیں؟ کیا ان کی انسانی زندگی میں کوئی حقیقت ہے۔ انسان کے لئے یہ کیا معنی رکھتے ہیں؟ جواب: خواب ہماری زندگی کا حصہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کے ا

⁠⁠⁠حوالہ : ذات کا عرفان

لاشعور

لاشعور اگر کوئی کام،کوئی عمل شعور کی سطح سے گزر کر لاشعور میں داخل ہو جاتا ہے تو یہ کام فہم و فراست کیساتھ حافظہ کے اوپر نقش ہو جاتا ہے۔   اصل انسان اصل انسان روح ہے،روح اضطراب،کشاکش،احساس محرومی اور بیماریوں سے مامون و محفوظ ہے۔   ورثہ ابتدا

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

ٹوٹ پھوٹ

نسلی اعتبار سے ہمارے بچؔے جس مذہب کے پیرو کار ہیں انہیں اس مذہب میں سکون نہیں ملتا تو وہ بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ سکون ایک ایسی حقیقت ہے جس کے ساتھ پوری کائنات بندھی ہوئی ہے حقیقت فکش نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بندے کے اندر وہ کون سی طاقت ہے جو

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

ارشادات

مخدوم مکرّم قبلہ حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ اس مادّی دور کی تاریکیوں میں روشنی کا میناراور مضطرب و پریشان دلوں کے لئے سرچشمہ سکون و قرار تھے۔ وہ قت زیادہ دور نہیں جب آپ کی تعلیمات و ہدایت کا بیش بہا خزانہ منظر عام پر آجائے گا اور دنیا کے بڑ

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

لوح محفوظ

زندگی کا ہر عمل اپنی ایک حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ جس چیز کا وجود اس دنیا میں ہے یا آئندہ ہو گا، وہ کہیں پہلے سے موجود ہے۔ یعنی دنیا میں کوئی چیز اس وقت تک موجود نہیں ہو سکتی جب تک وہ پہلے سے موجود نہ ہو کوئی آدمی اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیدا

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

ٹیلی پیتھی

سوال: میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ٹیلی پیتھی سیکھنے کے ضمن میں شمع بینی کی کامیابی کے بعد اگر کشف سمعی کی مشق کی جائے تو صاحب مشق کسی کا ذہن پڑھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ کشف سمعی میں صاحب مشق ذہن میں پھیلی ہوئی ہزاروں آوازوں کو سننے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ان

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

[contact-form-7 id=”5944″ title=”Launch feedback form”]