یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

امتحان میں کامیابی کے لئے

عشاء کی نماز کے بعد اوّل آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ تین سو مرتبہ اَلْمَلِکُ الْقُدُّ وْسُ اَلْمَلِکُ الْقُدُّ وْسُ اَلْمَلِکُ الْقُدُّ وْسُ پڑھکر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں ۔ یہ عمل امتحان کا نتیجہ آنے تک جاری رکھنا چاہیئ

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

رضائے الٰہی

اولیاےؑ کرام اور عارف باللہ کشف اور الہام سے وابستہ ہوتے ہیں۔ مراقبے کے ذریعے کشف اور الہام کی طرزیں ان کے ذہنوں میں اتنی مستحکم ہو جاتی ہیں کہ وہ مظاہر کے پس پردہ کام کرنے والے حقائق سمجھنے لگتے ہیں اور ان کا ذہن مشیت الٰہیہ کے اسرار و رموز کو براہ را

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

ہجرت کی رات

ہجرت کی رات جبکہ ایک تہائی رات گزری تھی۔ قریش کے مسلح نوجوانوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور اس انتظار میں رہے کہ حضورؐ سوجائیں تو ان کا کام تمام کردیں۔ اس وقت حضورؐ کے پاس حضرت علیؓ موجود تھے۔ حضورؐ کے پاس کچھ امانتیں تھیں

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

زمین ہماری ہے

جب ہم اپنی زمین، چاند، سورج، کہکشانی نظام اور کائنات کی ساخت پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ سارا نظام ایک قاعدے، ضابطے اور قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ قانون اور ضابطہ ایسا مضبوط اور مستحکم ہے کہ کائنات میں موجود کوئی شئے اس ضابطہ او

⁠⁠⁠حوالہ : نظریٗہ رنگ و نُور

کہکشانی نظام

موجودہ سائنس کی دنیا کہکشانی اور شمسی نظاموں سے اچھی طرح واقف ہے۔ کہکشانی اور شمسی نظاموں سے ہماری زمین کا کیا تعلق ہے اور یہ روشنی انسان، حیوانات، نباتات، جمادات پر کیا اثر کرتی ہے یہ مرحلہ بھی سائنس کے سامنے آ چکا ہے لیکن ابھی تک سائنس اس بات سے پوری

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

زلزلے اور آفات کی وجوہات

روحانیت ایک علم ہے!…… جو مادی آنکھ سے نظر نہیں آتا…… روحانیت پڑھائی جاتی ہے…… لیکن کاغذ اور قلم سے نہیں…… روحانیت تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی ہے…… لیکن پریکٹیکل کیلئے بظاہر کوئی لیب نہیں ہے…… روحانیت ایک مکمل تجرباتی علم ہے

⁠⁠⁠حوالہ : وقت؟

عام معافی

ہندہ نے رسول اللہﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبایا۔ جب ہندہ نے اسلام قبول کر لیا تو اسے حضورﷺ نے معاف کر دیا۔ مکہ میں حضورﷺ کو اذیتیں دی گئیں۔ راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی رکھی گئی۔ بائیکاٹ کیا گیا لیکن جب مکہ میں فاتح ک

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

موت کا خوف

دشمنوں کی فتنہ انگیزی اور ظلم و ستم سے گبھرا کر، بے ہمت، بزدل اور پریشان ہو کر، بے رحموں کے سامنے سرنگوں ہو کر اپنے قومی وقار کو داغدار کرنا، دراصل احساس کمتری اور خود کو ذلیل کرنے کی علامت ہے۔ اس کمزوری کا کھوج لگایئے کہ آپ کے دشمن میں آپ پر ستم ڈھانے

⁠⁠⁠حوالہ : تجلیات

ایام کی زیادتی

زرد روشنائی سے تعویذ لکھکر گلے میں ڈالیں ۔ زور ہو تو صر ف تین روز تک ایک ایک تعویذ یومیہ صبح نہار منہ دھو کر پی لیں۔

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

قلندر کا مقام

ان بندوں میں سے جو بندے قلندر ہوتے ہیں وہ زمان و مکان (Time & Space) کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں اور سارے ذی روح اس کے ماتحت کر دیےے جاتے ہیں۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ ان کے تابع فرمان ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کے یہ نیک بندے غرض، طمع، حرص اور لالچ سے بےنیاز ہو

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

دنیا فہم دانشور، دین فہم دانشور

دو دانشور ایک جگہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے سوال کیا۔ ہم وہی زبان کیوں بولتے ہیں جو ہماری ماں بولتی تھی، ہم کھانا اس طرح کیوں کھاتے ہیں جس طرح ہمارے ماں باپ کھاتے تھے۔ ہمیں ہماری ماں جائی بہن اور مادرزاد بھائی زیادہ محبوب ہوتا ہے جبکہ ہما

⁠⁠⁠حوالہ : وقت؟

دانت پیسنا

سوال: عرض ہے کہ کافی عرصہ سے مجھ کو خواب کی حالت میں دانت چبانے کی یعنی دانت پیسنے کی عادت ہے۔ میں اس عادت کو چھوڑنے کی کئی شعوری اور لاشعوری ترکیبیں آزما چکا ہوں۔ لیکن کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ لوگ کہتے ہیں کہ جس کے دشمن زیادہ ہوں وہی لوگ دانت پیستے ہیں

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

بی بی سعیدہؒ

بی بی سعیدہؒ اپنے دور کی رابعہ بصریؒ تھیں۔ ریاضت اور مجاہدے میں ان کو کمال حاصل تھا۔ آپ فرماتی تھیں:”دل کی آنکھ کھل جانے سے بندہ مومن کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ دل کی آنکھ سے دیکھنا حقیقت ہے اور ظاہری آنکھ سے دیکھنا فریب نظر ہے۔” ایک سکھ عورت نے آپ سے

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

دل کی باتیں

اک جرعہ مئے ناب سے کیا پائے گا اتنی سی کمی سے فرق کیا آئے گا ساقی مجھے اب مفت پلا دے کیا معلوم یہ سانس جو آیا ہے پھر آئے گا دنیا کی محبت انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ وہ موت جیسی حقیقی زندگی سے خوف زدہ رہتا ہے۔ نفس پرستی پراگندگی، فتنہ انگیزی اور ظلم ستم

⁠⁠⁠حوالہ : صدائے جرس

بی بی حفضہؒ

بی بی حفضہؒ کے چہرے کو عبادت و ریاضت نے پرکشش اور پرنور بنا دیا تھا۔ درویشوں اور ولیوں کی بڑی عقیدت مند تھیں۔ مرشد کامل کی تلاش میں برسوں سرگرداں پھریں، مطالعہ کی شوقین تھیں، تصوف اور مذہب پر کتابوں کا مطالعہ کرتی تھیں۔ اولیاء اللہ کے تذکرے اور قدسی نف

⁠⁠⁠حوالہ : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

معجزہ

لفظ معجزہ کا ماخذ ’’عجز‘‘ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی کام کرنے سے عاجز ہونا، نبوت کے وقت کے لئے خرق عادت کا ظاہر ہونا معجزہ ہے، خرق عادات انبیاء کرام کے علاوہ نوع انسانی کے دیگر افراد سے بھی صادر ہوئی ہیں۔ انبیاء اور روحانی طاقت رکھنے والے انسانوں کے کتنے

⁠⁠⁠حوالہ : صدائے جرس

خبرِ متواتر

علم یہ ہے کہ آدمی کے اندر جاننے یا کسی چیز سے واقف ہونے کا عمل جاری ہو جائے۔ جب تک ہمیں کسی چیز کے بارے میں علم حاصل نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ چیز ہمارے لئے معدوم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جاننے کی تین طرزیں ہیں۔ ① ایک جاننا یہ ہے کہ ہمیں کسی چیز کی اطلاع فرا

⁠⁠⁠حوالہ : پیرا سائیکالوجی

آسمان سے نوٹ گرا

یہ بات ہم جانتے ہیں کہ کسی چیز کے اوپر یقین کا کامل ہو جانا اُس وقت ممکن ہے جب وہ چیز یا عمَل جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ کس طرح واقع ہو گی، بغیر کسی اِرادے اِختیار اور وسائل کے پوری ہوتی رہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں کمرے میں بیٹھا ہوا قلندر باباا

⁠⁠⁠حوالہ : قلندر شعور

نظریہ توحید

ضمیر نور باطن ہے۔ نور باطن سے استفادہ کرنے کے لئے اللہ نے انبیاء کے ذریعے شریعتیں نافذ کی ہیں ہم جب شریعت پر غور کرتے ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات پر فکر کر کے کوئی نتیجہ اخذکرتے ہیں تو ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ نوع انسانی کی تخلیق ک

⁠⁠⁠حوالہ : مراقبہ

موت کی حقیقت

ایک بادشاہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنے سپہ سالاروں اور غلاموں کے جلوس میں نہایت قیمتی کپڑے اور بہترین گھوڑے پر سوار ہو کر محل سے باہر نکلا تو یکایک اس کے سامنے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک بوڑھا آ گیا اور آداب بجا لایا مگر مغرور بادشاہ نے اس کی طرف توجہ نہ

⁠⁠⁠حوالہ : وقت؟

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)