یہ تحریر العربية (عربی) English (انگریزی) Русский (رشیئن) ไทย (تھائی) 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ

ذہنی سکون کے لئے مراقبہ کیجئے

بے قراری، عدم سکون اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے اسلاف سے جو ہمیں ورثہ ملا ہے اس کانام مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پرلاسکتے ہیں۔ خوف و دہشت میں مبتلا،عدم تحفظ کے احساس میں سسکتی اور مصائب و آلام میں گرفتارنوع انسانی کے لئے مراقبہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر کے زندہ قوموں کی صفوں میں ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

حضرت آدم علیہ السّلام

آدم کے لغوی معنی ہیں، ’’بھورا، مٹیالہ، گندمی، سب آدمیوں کا باپ، پہلا آدمی جس سے انسان کی نسل شروع ہوئی۔‘‘ آدم کی تخلیق سے پہلے کائنات میں موجود لاکھوں مخلوقات میں ممتاز ایک مخلوق ’’جن‘‘ موجود تھی۔ اس مخلوق نے جب زمین پر فساد برپا کر دیا تو اللہ نے ایک

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

ایک قطرہ

ہماری زندگی محض دنیا کے حصول تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہماری عبادتیں بھی دکھاوے اور برکتیں سمیٹنے کے لئے مخصوص ہوگئی ہیں۔ ہم اعمال کے ظاہری پہلو کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں مگر باطن میں بہتے ہوئے علم و آگہی کے سمندر میں سے ایک قطرہ آب بھی نہیں پیتے ۔

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

حضرت مریمٌ

قرآن کا نزول چٹھی صدی عیسوی میں ہوا۔ قرآن پاک میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا بڑا حصہ توریت اور انجیل میں بھی بیان ہو چکا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ مجھ سے پہلی میرے بھائی پیغمبران علیہم الصلوٰۃ والسلام نے جو کچ

⁠⁠⁠حوالہ : قوس و قزح

مسجد نبویﷺ

مدینے پہنچنے کے دوسرے دن حضرت محمدﷺ نے مسجد کی بنیاد رکھی۔مسجد کی تعمیر میں ہر شخص نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔حضرت محمدﷺ نے سب کے ساتھ مل کر کام کیا۔اینٹیں بنائیں، لکڑیاں کاٹیں،  جھاڑیاں صاف کر کے زمین ہموار کی۔سیڑھیاں بنائیں،ان پر چڑھ کر اینٹیں اور گارا،  

⁠⁠⁠حوالہ : بچوں کے محمد ﷺ (جلد دوئم)

طرز فکر

طرز فکر طرز فکر آزاد اور انبیاء علیہ السلام کے مطابق ہے تو آدمی کی ساری زندگی جنت ہے طرز فکر میں ابلیسیت ہے تو زندگی دوزخ ہے۔   تقسیم میں فرق وسائل کی تقسیم میں فرق نظر آتا ہے،مگر زندہ رہنے کے لیئے سب کی ضروریات یکساں ہیں۔   خود شناسائی سکون

⁠⁠⁠حوالہ : بڑے بچوں کے لئے

لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب

مورخہ فروری ۲۰۰۰؁ء میں خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ایوانِ عدل میں کیا گیا تھا۔ جب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب بار روم میں آئے تو لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ شاہد مقبول شیخ، نائب صدر چوہ

⁠⁠⁠حوالہ : خطباتِ لاہور

روشنی اور رنگ سے علاج کا طریقہ

رنگ یاروشنی سے امراض کا علاج اس قدر آسان ہے کہ معمولی سوجھ بوجھ کا آدمی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتاہے۔ اس علاج میں وقت بھی کم صرف ہوتاہے ، خرچ بھی کچھ نہیں ہوتا اور دوائیں ہمیشہ تازہ استعمال کی جاسکتی ہیں۔ طریقۂ اوّل: جس رنگ کی ضرورت ہوا س رنگ کی ایک بوت

⁠⁠⁠حوالہ : رنگ و روشنی سے علاج

اہرام مصر کیا ہیں؟

سوال: اہرام مصر کب اور کیوں تعمیر ہوئے؟ وہ کون سی ٹیکنالوجی تھی جس کے ذریعے لاکھوں پتھروں کو پانچ سو میل سے دور لا کر تراشا گیا۔ انہیں تیس چالیس فٹ کی بلندی پر نصب کیا گیا۔ جواب: خیالات کی لہروں کے علم سے واقف سائنسدان ‘‘رمپا’’ نے آثار قدیمہ کے ماہرین

⁠⁠⁠حوالہ : ذات کا عرفان

امت مسلمہ کے لئے یادگار عمل

تاریخ شاہد ہے کہ تسلیم و رضا، تابعداری اور فرمانبرداری کا یہ عملی نمونہ امت مسلمہ کے لئے یادگار بنا دیا گیا ہے۔ جس وقت قربانی کا حکم ملا اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور کوئی اور اولاد نہیں تھی۔ حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت

⁠⁠⁠حوالہ : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد سوئم

قدریں

سائنسی افادیت کے پیش نظر دنیا جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے۔ عالمگیر انحطاط ہمارے سامنے ہے۔ عالمگیر انحطاط سے مراد یہ ہے کہ انسانی برادری میں موجود قدروں میں انحطاط واقع ہونا…… ہزاروں سال میں انسانی معاشرے کیلئے جو بات شرف کی حیثیت رکھتی ہے اس میں تغیر

⁠⁠⁠حوالہ : وقت؟

مذہب اور نئی نسل

مذہب کا جب تذکرہ آتا ہے تو مسلمان اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ سنت کی پیروی مذہب اسلام ہے اور اتباع سنت ہی اپنے پیغمبر کی محبت کی سب سے بڑی علامت ہے کیونکہ اگر محبوب کا ہر عمل محبوب نہیں ہے تو محبت میں صداقت نہیں ہے۔ اتباع سنت کی غرض و غایت صرف محبت کا ا

⁠⁠⁠حوالہ : تجلیات

کل روز ازل یہی تھی میری تقدیر

کل روز ازل یہی تھی میری تقدیر ممکن ہو تو پڑھ آج جبیں کی تحریر معذور سمجھ و اعظ ناداں مجھ کو ہیں بادہ و جام سب مشیت کی لکیر اے واعظ! میں جس آقا کا غلام ہوں ، ان کا ارشاد ہے ۔۔۔ قلم لکھ کر خشک ہوگیا۔ آج میری پیشانی پر زندگی کی جو فلم رقصاں ہے وہ میری پید

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

حضرت علیؓ کا ارشاد

حضرت علیؓ کا مشہور واقعہ ہے۔ کسی نے سوال کیا تقدیر کیا ہے؟ اور تقدیر پر انسان کا کتنا اختیار ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’ایک ٹانگ پر کھڑا ہو جا۔‘‘ وہ شخص جب ایک ٹانگ پر کھڑا ہو گیا۔ تو حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’دوسری ٹانگ بھی اٹھا۔‘‘ اس شخص نے کہا۔ ’’گر جا

⁠⁠⁠حوالہ : آگہی

ڈیپتھیریا (DYPTHERIA)یا خناق

یہ مرض عام طور پر معصوم بچوں کو ہو تا ہے ۔ اس مرض میں خورد بین سے بھی نظر نہ آنے والے کیڑے سانس کی نالی میں اس تیزی سے پرورش پاتے ہیں کہ چند گھنٹوں میں سانس کی نالی بند ہو جاتی ہے۔ اگر بر وقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ کیڑے جھلی کی شکل میں سانس کی نالی کو

⁠⁠⁠حوالہ : روحانی علاج

خانقاہ عظیمیہ

علم و فضل کے اداروں کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں صوفیاء کے مراکز کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیٔے۔ ان مراکز کو زاویہ یا خانقاہ کہا جاتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں یہ مراکز توقع کے مطابق صوفیوں کے اجتماعات کے مقام تھے جہاں وہ جمع ہوکر مراقبہ اور دیگر روحانی ر

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

گرم لہریں

محبت پرسکون زندگی اور اطمینان قلب کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لئے کوئی انسان جس کے اندر محبت کی لطیف لہریں دور کرتی ہیں وہ مصائب و مشکلات اورپیچیدہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، اس کے چہرے میں ایک خاص کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے برخلاف نصرت کی کثیف، شد ید اور گرم

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

انعام یافتہ

قیامت کے روز یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ ہم نے اپنی اولاد کو کس قسم کے کھانے کھلائے اور کیسا لباس پہنایا تھا۔ وہاں پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی اولاد کی تربیت کیسے کی تھی ؟ صحیحح تربیت کرنے والے والدین سرفراز ہوں گے اور یہی وہ لوگ ہیں جو انعام یافتہ ہیں

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

حاکم ومحکوم

کائنات میں موجود ہر شئے مسلسل حرکت میں ہے ۔ جو بندے اس وصف کو قبول کر کے جدوجہد کرتے ہیں، وہ کائنات کا رکن بن جاتے ہیں۔ کائنات کی رکنیت انہیں اعلیٰ علؔیین کے مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں بندے حاکم اور فرشتے محکوم بن جاتے ہیں ۔

⁠⁠⁠حوالہ : کشکول

چھٹا آسمان

یہ وادیِ جبرائیل ہے۔ جنت بھی اسی وادی میں ہے اور جنت کے سات حصّے یا درجے ہیں۔ پہلے درجے میں سبزہ ہے، ٹھنڈک ہے، میوؤں کے درخت ہیں یا حوروں اور غلمان ہیں جو خدمت پر مامور ہیں یہ جنت کا سب سے کمتر درجہ ہے مگر پھر بھی  اس کی تعریف ناقابلِ بیان ہیں۔  یہاں د

⁠⁠⁠حوالہ : جنت کی سیر

سنگ بنیاد

ابدال حق حسن اخری سید محمد عظیم برخیاؔ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے دست کرم سے آپ کے نام نامی اسم گرامی سے منسوب سلسلۂ عالیہ عظیمیہ کی بنیاد ، سیّدناحضورعلیہ الصّلوٰۃوالسّلام کی بارگا ہ اقدس میں شرف قبولیت کے بعد جولائی ۱۹۶۰ ءمیں رکھی گئی۔ ایک روز خواج

⁠⁠⁠حوالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)