عقبہ میں عہد و پیماں

مکمل کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=347

نبوت کے دسویں سال حج کے لئے مکہ اۤنے والے قبائل کے سربراہوں سے رابطہ کرکے سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسلام کی دعوت دی۔ لیکن قبائلی سرداروں میں سے کسی نے بھی اۤپؐ کی باتوں پر توجہ نہ دی۔ قریش نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ محمدؐ مجنوں ہوگئے ہیں ان کی باتوں پر توجہ نہ دی جائے۔ لیکن حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا کام جاری رکھا۔ مکہ اور منیٰ کے درمیان عقبہ کے مقام پر اۤپؐ کو چند لوگ ملے۔ اۤپؐ نے ان سے اپنا تعارف کرایا اور وحدہ لاشریک کی صفات بیان کیں۔ ان کی کل تعداد چھہ تھی اور وہ یثرب سے اۤئے تھے۔ ان کے قبیلے کا نام خزرج تھا۔ ان لوگوں نے اۤپس میں صلاح و مشورہ کیا اور ان چھہ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ لوگ جب یثرب پہنچے تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اگلے برس عقبہ کے مقام پر مزید بارہ افراد اۤپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دینِ حنیف میں داخل ہونے کے بعد یہ عہد لیا گیا:

۱۔ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔

۲۔ تخریب اور برے اعمال سے دور رہیں گھے۔

۳۔ جان و مال کے ساتھ سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی حمایت کریں گے۔

۴۔ اسلام کی حمایت اور سربلندی کے لئے مشرکین سے لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔

عقیدۂ توحید سے سرفراز ہوکر یہ لوگ واپس جانے لگے تو اۤپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو ان کے ہمراہ کردیا تاکہ وہ نو مسلم حضرات کو تعلیم دیں۔

اس سے اگلے سال یثرب سے اۤنے والے لوگوں میں سے۷۵ افراد نے اسلام قبول کیا اور اسلام کے لئے جان و مال قربان کرنے کے عہد کو دہرایا۔ یثرب میں اسلام کا غلغلہ بلند ہونے اور شب و روز مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ سے مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ میسّر اۤگئی۔ سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مکہ سے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ یثرب کی طرف ہجرت کرجائیں۔ مسلمان اپنا گھر بار اور سب کچھ چھوڑ کر مکہ سے یثرب ہجرت کر گئے۔ مسلمان اگرچہ چھوٹے چھوٹے قافلوں میں ہجرت کر رہے تھے، مگر مکہ میں یہ بات پھیل گئی۔ مکہ میں مسلمانوں کو ہجرت سے روکنے اور مکہ سے باہر نکلنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ ہوا۔ مسلمانوں میں سے تین افراد حضرت عباسؓ بن ربیعہ اور دوسرے دو بھائی حضرت امیّہ اور حضرت ہاشم بن عاصؓ پر مشتمل گروپ جب مکہ سے روانہ ہونے لگا تو حضرت ہاشمؓ کو کفّار نے گرفتار کر لیا۔ اس زمانے میں رائج سزاؤں میں سے ایک سزا یہ تھی کہ زنجیروں میں جکڑ کر صحرا کی تپتی ہوئی ریت پر چھوڑ دیتے تھے۔ حضرت ہاشمؓ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔

حضرت ابو سلمہؓ نے جب ہجرت کا ارادہ ظاہر فرمایا تو ان کے سسرال والوں نے ان سے ان کی بیوی چھین لی اور ان کے والدین نے بچہ لے لیا۔ ان کی بیوی نے شوہر اور بچے کی جدائی میں پورا سال رو رو کر گزار دیا۔ بالاۤخر ان کے گھر والوں نے انہیں شوہر کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے دادا دادی سے بچے کو لیا اور مدینہ پہنچ گئیں۔

حضرت صہیبؓ کی ہجرت کا کفّارِ مکہ کو جب پتا چلا تو قریش نے کہا کہ تم جب ہمارے پاس اۤئے تھے تو مفلس تھے۔ یہاں تم نے مال و دولت کمایا ہے۔ اب تم یہ چاہتے ہو کہ اپنا مال اور اپنی جان دونوں لے کر چل دو تو یہ ناممکن ہے۔ حضرت صہیبؓ نے اپنا تمام مال و اسباب ان کے حوالے کردیا۔

مشرکین کو بہت قلق اور رنج ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مال، دولت، اولاد، گھربار کی پرواہ کئے بغیر اپنے رہبر کی بات پر بلا چون و چراں عمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے ہر منصوبے میں بری طرح ناکام ہوگئے تھے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 100 تا 103

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)