شہد کیسے بنتا ہے؟

مکمل کتاب : قلندر شعور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=8956

تمام مکھیوں کیلئے خوراک کا انتظام کرنا اُن ہی کارکن مکھیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی مکھیاں چھتّوں سے پھولوں کی تلاش کیلئے نکل کھڑی ہوتی ہیں۔ اور پھر اس رس سے شہد تیار کرتی ہیں۔ مکھیاں مختلف پھولوں پر بیٹھ جاتی ہیں اور پھولوں کے اندورنی سطح پر مَوجود ہلکی مٹھاس کو اپنی زبان سے رگڑتی ہیں۔ اس رگڑ کے نتیجے میں مٹھاس زبان پر منتقل ہو جاتی ہے اور یہ مٹھاس مکھی کے معدے نما تھیلی (Honey Stomach) میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ یہ مختصر تھیلی پھولوں کے رس سے بھر جاتی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر یہ مکھی زرِ گل کو اکٹھا کرکے اپنے پچھلے پاؤں میں مَوجود قدرتی ٹوکریوں کو بھر لیتی ہے۔ مکھی اس تمام کاروائی کے بعد اپنے چھتے پر واپس آ جاتی ہے، ۔ چھتے میں پہنچتے ہی مکھی موم کے ایک خانے میں گھس جاتی ہے اور زرِگل کو گوداموں میں منتقل کر دیتی ہے۔ اس اَثناء میں پھولوں کا رس جو معدہ نما تھیلی میں جمع ہوتا ہے کئی کیمیائی تبدیلیوں کے بعد شہد کی شکل اِختیار کر لیتا ہے۔ اس شہد کو گوداموں میں محفوظ کرکے موم سے سیل کر دیا جاتا ہے تاکہ موسمِ سرما میں مکھیاں اس شہد کو اپنے استعمال میں لا سکیں۔ لیکن حضرتِ انسان مکھیوں سے نظر بچا کر لے اڑ تے ہیں اور بچالری مکھیاں شہد کی اس چوری کے بعد پھر اُس ہی مُستعدی اور محنت سے شہد بنانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
نَر مکھیاں نہایت کاہل ہوتی ہیں۔ یہ ملکہ کے شوہر کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جب ملکہ بالغ ہو جاتی ہے تو اپنے چھتے سے اُڑتی ہے۔ نَر مکھیاں فوراً اس کے تعاقب میں اُڑتی ہیں اور ان میں سے ایک نَر مکھی ملکہ کو حاملہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ Sex کے علاوہ نَر مکھیاں کوئی کام نہیں کرتیں۔ ملکہ کے انڈے دینے کے بعد نَر مکھیاں اپنی طبعی موت مر جاتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 32 تا 33

قلندر شعور کے مضامین :

0.01 - رباعی 0.02 - بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم 1 - معرفت کی مشعل 2 - قلندر کا مقام 3 - جسم اور روح 4 - جیتی جاگتی تصویر 5 - ذات کا مطالعہ 6 - تخلیقی سانچے 7 - جنسی کشش کا قانون 8 - ظاہر اور باطن 9 - نَوعی اِشتراک 10 - زمین دوز چوہے 11 - طاقت ور حِسّیات 12 - سُراغ رساں کتے 13 - اَنڈوں کی تقسیم 14 - بجلی کی دریافت سے پہلے 15 - بارش کی آواز 16 - منافق لومڑی 17 - کیلے کے باغات 18 - ایک ترکیب 19 - شیر کی عقیدت 20 - اَنا کی لہریں 21 - خاموش گفتگو 22 - ایک لا شعور 23 - مثالی معاشرہ 24 - شہد کیسے بنتا ہے؟ 25 - فہم و فراست 26 - عقل مند چیونٹی 27 - فرماں رَوا چیونٹی 28 - شہد بھری چیونٹیاں 29 - باغبان چیونٹیاں 30 - مزدور چیونٹیاں 31 - انجینئر چیونٹیاں 32 - درزی چیونٹیاں 33 - سائنس دان چیونٹیاں 34 - ٹائم اسپیس سے آزاد چیونٹی 35 - قاصد پرندہ 36 - لہروں پر سفر 37 - ایجادات کا قانون 38 - اللہ کی سنّت 39 - لازمانیت (Timelessness) 40 - جِبِلّی اور فِطری تقاضے 41 - إستغناء 42 - کائناتی فلم 43 - ظرف اور مقدّر 44 - سات چور 45 - ٹوکری میں حلوہ 46 - اسباق کی دستاویز 47 - قومی اور اِنفرادی زندگی 48 - انبیاء کی طرزِ فکر 49 - اللہ کی عادت 50 - عمل اور نیّت 51 - زمین کے اندر بیج کی نشوونما 52 - اللہ کی ذَیلی تخلیق 53 - صحیح تعریف 54 - کائنات کی رکنیت 55 - جنّت دوزخ 56 - توکّل اور بھروسہ 57 - قلندر شعور اسکول 58 - سونا کھاؤ 59 - آٹومیٹک مشین 60 - انسان، وقت اور کھلونا 61 - آسمان سے نوٹ گرا 62 - ساٹھ روپے 63 - گاؤں میں مرغ پلاؤ 64 - مچھلی مل جائے گی؟ 65 - پرندوں کا رزق 66 - درخت اور گھاس 67 - مزدور برادری 68 - آدم و حوّا کی تخلیق 69 - لہروں کا نظام 70 - رنگوں کی دنیا 71 - روشنیوں کے چھ قمقمے 72 - ترکِ دنیا کیا ہے 73 - زمان و مکان 74 - خواب اور مراقبہ 75 - مراقبہ کی قسمیں 76 - زندگی ایک اطلاع ہے 77 - مراقبہ کی چار کلاسیں 78 - پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی 79 - چھپا ہوا خزانہ 80 - لوحِ محفوظ 81 - اللہ کی تجلّی 82 - کائنات پر حکمرانی 83 - روشنی کی چار نہریں 84 - نیابت اور خلافت 85 - آدم اور ملائکہ 86 - دوربین آنکھ 87 - گوشت پوست کا وجود 88 - اللہ میاں کی جیل 89 - روحانی بغدادی قاعدہ 90 - روح اور کمپیوٹر 91 - سائنس اور خرقِ عادات 92 - قانون 93 - معاشرہ اور عقیدہ 94 - دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ 95 - مذہب 96 - سائنسی نظریہ 97 - تخلیقی فارمولے 98 - رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے 99 - آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ 100 - وقت کی نفی 101 - آکسیجن اور جسمانی نظام 102 - دو سَو سال کی نیند 103 - سانس کے دو رُخ 104 - توانائی اور روح 105 - زندگی میں سانس کا عمل دخل 106 - رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے 107 - روشنیوں کے گودام 108 - رنگین شعاعیں 109 - کرنوں میں حلقے 110 - برقی رَو کیمرہ 111 - اَعصابی نظام 112 - مراقبہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)