وقت کی نفی

مکمل کتاب : قلندر شعور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=9393

کسی آدمی کے اندر پرواز کی صلاحیّتوں کا انحصار بجلی کے ذخیرہ کے اوپر ہے۔ جتنا زیادہ ذخیرہ مَوجود ہوتا ہے، اُسی مُناسبت سے آدمی ٹائم اسپیس کی نفی کرنے پر قدرت حاصِل کر لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بےشمار واقعات مَوجود ہیں کہ ایک منٹ کے وقفےمیں آدم زاد نے بغیر کسی مادّی وسائل کے کئی سال کا سفر طے کر لیا۔
غوث علی شاہ قلندر ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص شاہ عبد العزیز کی خدمت میں حاضر ہُوا۔ لباس کے اعتبار سے وہی شاہی عہدے دار معلوم ہوتا تھا۔ شاہ صاحب سےکہنے لگا میری سَرگزشت اتنی عجیب و غریب ہے کہ کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ اس معاملے میں میری عقل بھی کام نہیں کرتی۔ حیران ہوں کہ کیا کہوں، کیا کروں اور کہاں جاؤں! آپ کی خدمت میں حاضر ہُوا ہوں۔ جو حکم فرمائیں، بجا لاؤں گا۔
اس شخص نے سَرگزشت بیان کرتے ہُوئے کہا:
‘‘میں لکھنو میں رہتا تھا۔ برسرِ روزگار تھا اور حالات اچھے گزررہے تھے کہ قسمت نے پلٹا کھایا۔ معاشی حالات خراب ہوتے گئے اور زیادہ وقت بےکاری میں گزرنے لگا۔ میں نے سوچا کہ ہاتھ پر ہاتھ دَھرے رہنے سے بہتر ہے کہ بیرونِ شہر حصولِ معاش کی کوشش کی جائے۔ تھوڑا سا زادِ راہ ساتھ لیا اور اُودئے پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں ریواڑی کے مقام پر قیام کیا۔ اس زمانے میں وہ جگہ ویران پڑی تھی۔ صرف ایک سرائے آباد تھی۔ سرائے میں کچھ کَسبیاں رہتی تھیں۔ میں سرائے میں متفکر بیٹھا تھا کہ کیا کِیا جائے۔ پیسے بھی ختم ہو گئے تھے۔ ایک کَسبی آئے اور کہنے لگی کہ صاحب! کھانا تیار ہے، کھانا لاؤں؟ میں نے کہا، ابھی سفر کی تھکان ہے ذرا سا سُستا لوں۔ تھکن کم ہونے پر کھانا کھاؤں گا۔ یہ سن کر وہ چلی گئی۔ کچھ دیر بعد آئی اور وہی سوال کیا، میں نے پھر وہی جواب دیاور وہ چلی گئی۔ تیسری مرتبہ آکر پوچھا تو میں نے سب کچھ بتا دیا کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ خرچ ہو گیا، اب ہتھیار اور گھوڑا بیچنے کو نوبت آگئی ہے۔ وہ خاموش ہو کر چلی گئی اور پھر دس روپے لا کر مجھے دیئے اور کہا کہ یہ روپے میں نے چرخہ کات کر اپنے کفن و دفن کیلئے جمع کئے ہیں، یہ میں آپ کو بطور قرضِ حَسَنہ دیتی ہوں۔ جب اللہ آپ کو دے تو ادا کر دیجئے گا۔
میں نے روپے لے لئے اور راستے میں خرچ کرتا ہُوا اُودئے پور جا پہنچا۔ وہاں اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ فوراً ایک شاہی نوکری مجھے مل گئی۔ مالی اعتبار سے خوب ترقی ہوئی اور چند سالوں میں دولت کی ریل پیل ہو گئی۔ اُن ہی دنوں گھر سے خط آیا کہ لڑکا جوانی کی حدود میں قدم رکھ چکا ہے اور جہاں اس کی نسبت ٹھہرائی گئی ہے وہ شادی پر اِصرار کر رہے ہیں، اس لئے جلدسے جلد آکر اس فرض سے سُبک دوش ہو جاؤ۔
راجہ سے اِجازت لیکر میں اپنے گھر کیلئے روانہ ہوا۔ راستے میں ریواڑی کا مقام آیا۔ پرانے واقعات ذہن میں تازہ ہو گئے۔ سرائے جا کر کَسبی کے معلّق معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ سخت بیمار ہے اور چند لمحوں کی مہمان ہے۔ جب میں کَسبی کے پاس پہنچا تو وہ آخری سانس لے رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی روح پرواز کر گئی۔ میں نے تجہیز و تکفین کی اور اپنے ہاتھ سے قبر میں اُتارا۔ اس کام سے فارغ ہو کر سرائے میں آکر سوگیا۔ آدھی رات کے وقت پیسوں کا خیال آیا دیکھا تو جیب میں رکھی ہوئی پانچ ہزار کی ہنڈی غائب تھی۔ تلاش کِیا، نہ ملی۔ سوچا کہ دفن کرتے وقت قبر میں گر گئی ہو گی۔ اس خیال سے قبرستان پہنچا اور قبر کھولنے لگا۔ قبر کے اندر اُترا تو ایک عجیب و غریب صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں نہ میت تھی نہ ہنڈی، ایک طرف دروازہ نظر آرہا تھا۔ ہمّت کرکے دروازے کے اندر قدم رکھا تو ایک نئی دنیا سامنے تھی۔ چاروں طرف باغات کا سلسلہ پھیلا ہُوا تھا اور ہرے بھرے درخت سر اُٹھائے کھڑے تھے۔ باغ میں ایک طرف ایک عالیشان عمارت بنی ہوئی تھی۔ عمارت کے اندر قدم رکھا تو ایک حسین و جمیل عورت پر نظر پڑی جو شاہانہ لباس پہنے، بناؤ سِنگھار کئےبیٹھی تھی اور اردگرد خدمت گار ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ عورت نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ…..
تم نے مجھے پہچانا؟ میں وہی ہوں جس نے تمہیں دس روپے دئیے تھے، اللہ کو میرا یہ عمَل پسند آیا اور اس عمَل کی بدَولت مجھے یہ مرتبہ اور عروج عنایت فرمایا ہے۔ اور یہ تمہاری ہنڈی ہے جو قبر میں گر گئی تھی یہ لو اور فوراً چلے جاؤ۔
میں نے اس سے کہا میں یہاں کچھ دیر ٹھہر کر سیر کرنا چاہتا ہوں۔ عورت نے جواب دیا تم قیامت تک یہاں کی سیر نہیں کر سکتے۔ فوراً چلے جاؤ اس عرصے میں دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہو گی۔ عورت کی ہدایت پر میں نے عمَل کیا، باہر نکلا تو عجیب عالَم تھا۔ نہ وہاں سرائے تھی اور نہ ہی وہ لوگ تھے جو اس کی قبر کے اندر جاتے وقت مَوجود تھے۔ بلکہ چاروں طرف شہری آبادی پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں سے سرائے کے بارے میں پوچھا لیکن سب نے اپنی لاعِلمی کا اظہار کیا۔ بعض لوگوں سے اپنی رُوئیداد بیان کی لیکن سب نے مجھے مخبوطُ الحواس قرار دیا۔ آخر کار ایک آدمی نے کہا کہ میں تمہیں ایک بزرگ کے پاس لے چلتا ہوں، وہ عمر رسیدہ ہیں، شاید وہ کچھ بتا سکیں۔ اُس بزرگ نے سارا حال سنا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا کہ مجھے کچھ کچھ یاد پڑتا ہے…. میرے پردادا بتایا کرتے تھے کہ کسی زمانے میں ایک سَرائے مَوجود تھی۔ سَرائے میں ایک امیر آکر ٹھہرا تھا اورایک رات پُراَسرار طریقے سے غائب ہو گیا۔ پھر اس کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا۔ میں نے کہا میں وہی امیر ہوں جو سرائے سے غائب ہوا تھا یہ سن کر وہ بزرگ اور حاضرینِ محفل بہت حیران ہوئے۔
اتنا بتا کر وہ خاموش ہو گیا۔ پھر شاہ عبد العزیز سے کہنے لگا، اب بتا ئیے میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ نہ گھر ہے، نہ ٹھکا نہ ہے، دوسرے یہ کہ اس حیرت انگیز اور نا قابل یقین واقعے نے میرے ذہن کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ شاہ صاحب نے کہا تم نے جو کچھ بتایا وہ صحیح ہے اُس عالَم اور اِس عالَم کے وقت کے پیمانے الگ الگ ہیں۔
شاہ صاحب نے اس شخص کو ہدایت کی کہ اب تم بیتُ اللہ کو چلے جاؤ اور باقی زندگی یادِ الٰہی میں گزار دو۔ چنا نچہ آپ نے اسے زادِ راہ دے کر روانہ فرما دیا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 133 تا 137

قلندر شعور کے مضامین :

ِ 0.01 - رباعی  ِ 0.02 - بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم  ِ 1 - معرفت کی مشعل  ِ 2 - قلندر کا مقام  ِ 3 - جسم اور روح  ِ 4 - جیتی جاگتی تصویر  ِ 5 - ذات کا مطالعہ  ِ 6 - تخلیقی سانچے  ِ 7 - جنسی کشش کا قانون  ِ 8 - ظاہر اور باطن  ِ 9 - نَوعی اِشتراک  ِ 10 - زمین دوز چوہے  ِ 11 - طاقت ور حِسّیات  ِ 12 - سُراغ رساں کتے  ِ 13 - اَنڈوں کی تقسیم  ِ 14 - بجلی کی دریافت سے پہلے  ِ 15 - بارش کی آواز  ِ 16 - منافق لومڑی  ِ 17 - کیلے کے باغات  ِ 18 - ایک ترکیب  ِ 19 - شیر کی عقیدت  ِ 20 - اَنا کی لہریں  ِ 21 - خاموش گفتگو  ِ 22 - ایک لا شعور  ِ 23 - مثالی معاشرہ  ِ 24 - شہد کیسے بنتا ہے؟  ِ 25 - فہم و فراست  ِ 26 - عقل مند چیونٹی  ِ 27 - فرماں رَوا چیونٹی  ِ 28 - شہد بھری چیونٹیاں  ِ 29 - باغبان چیونٹیاں  ِ 30 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31 - انجینئر چیونٹیاں  ِ 32 - درزی چیونٹیاں  ِ 33 - سائنس دان چیونٹیاں  ِ 34 - ٹائم اسپیس سے آزاد چیونٹی  ِ 35 - قاصد پرندہ  ِ 36 - لہروں پر سفر  ِ 37 - ایجادات کا قانون  ِ 38 - اللہ کی سنّت  ِ 39 - لازمانیت (Timelessness)  ِ 40 - جِبِلّی اور فِطری تقاضے  ِ 41 - إستغناء  ِ 42 - کائناتی فلم  ِ 43 - ظرف اور مقدّر  ِ 44 - سات چور  ِ 45 - ٹوکری میں حلوہ  ِ 46 - اسباق کی دستاویز  ِ 47 - قومی اور اِنفرادی زندگی  ِ 48 - انبیاء کی طرزِ فکر  ِ 49 - اللہ کی عادت  ِ 50 - عمل اور نیّت  ِ 51 - زمین کے اندر بیج کی نشوونما  ِ 52 - اللہ کی ذَیلی تخلیق  ِ 53 - صحیح تعریف  ِ 54 - کائنات کی رکنیت  ِ 55 - جنّت دوزخ  ِ 56 - توکّل اور بھروسہ  ِ 57 - قلندر شعور اسکول  ِ 58 - سونا کھاؤ  ِ 59 - آٹومیٹک مشین  ِ 60 - انسان، وقت اور کھلونا  ِ 61 - آسمان سے نوٹ گرا  ِ 62 - ساٹھ روپے  ِ 63 - گاؤں میں مرغ پلاؤ  ِ 64 - مچھلی مل جائے گی؟  ِ 65 - پرندوں کا رزق  ِ 66 - درخت اور گھاس  ِ 67 - مزدور برادری  ِ 68 - آدم و حوّا کی تخلیق  ِ 69 - لہروں کا نظام  ِ 70 - رنگوں کی دنیا  ِ 71 - روشنیوں کے چھ قمقمے  ِ 72 - ترکِ دنیا کیا ہے  ِ 73 - زمان و مکان  ِ 74 - خواب اور مراقبہ  ِ 75 - مراقبہ کی قسمیں  ِ 76 - زندگی ایک اطلاع ہے  ِ 77 - مراقبہ کی چار کلاسیں  ِ 78 - پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی  ِ 79 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 80 - لوحِ محفوظ  ِ 81 - اللہ کی تجلّی  ِ 82 - کائنات پر حکمرانی  ِ 83 - روشنی کی چار نہریں  ِ 84 - نیابت اور خلافت  ِ 85 - آدم اور ملائکہ  ِ 86 - دوربین آنکھ  ِ 87 - گوشت پوست کا وجود  ِ 88 - اللہ میاں کی جیل  ِ 89 - روحانی بغدادی قاعدہ  ِ 90 - روح اور کمپیوٹر  ِ 91 - سائنس اور خرقِ عادات  ِ 92 - قانون  ِ 93 - معاشرہ اور عقیدہ  ِ 94 - دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ  ِ 95 - مذہب  ِ 96 - سائنسی نظریہ  ِ 97 - تخلیقی فارمولے  ِ 98 - رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 99 - آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ  ِ 100 - وقت کی نفی  ِ 101 - آکسیجن اور جسمانی نظام  ِ 102 - دو سَو سال کی نیند  ِ 103 - سانس کے دو رُخ  ِ 104 - توانائی اور روح  ِ 105 - زندگی میں سانس کا عمل دخل  ِ 106 - رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے  ِ 107 - روشنیوں کے گودام  ِ 108 - رنگین شعاعیں  ِ 109 - کرنوں میں حلقے  ِ 110 - برقی رَو کیمرہ  ِ 111 - اَعصابی نظام  ِ 112 - مراقبہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)