یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

وضاحت

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12313

پروگرام مرتب کرتے ہوئے ایک اوسط طالب علم کو ذہن میں رکھا گیا ہے اور پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ ذہن پر بار نہ پڑے اس کے باوجود استاد کی کمی کا جو خلاء پایا جاتا ہے اس کو ادارہ نے پر کرنے کا عزم کیا ہے اس طرح کہ طالب علم اپنی واردات و کیفیات ماہانہ رپورٹ کی صورت میں بھیجتے رہیں تا کہ کسی خاص ہدایت کی ضرورت محسوس ہو تو کر دی جائے۔

پروگرام وضع کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔

  1. ذہن و دماغ کی کارکردگی کو بہتر بنانا۔
  2. ذہن کی خصوصی قوتوں مثلاً قوت حافظہ، قوت متخیلہ، قوت تخلیق اور رفتار میں اضافہ کرنا۔
  3. باطنی صلاحیتوں مثلاً ٹیلی پیتھی، کشف وغیرہ کو بیدار کرنا۔
  4. غور و فکر اور وجدان کی قوتوں کو جلا بخشنا۔
  5. طالب علم کی روحانی بصارت یا تیسری آنکھ کو متحرک کرنا۔

کسی بھی پروگرام پر عمل کرنے سے پہلے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

  1. مراقبہ وقت کی پابندی کے ساتھ (15) پندرہ سے بیس منٹ کیا جائے۔ کامیابی نہ ہو تو حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں۔ نتائج و فوائد کا انحصار طالب علم کی مستقل مزاجی اور دلچسپی پر منحصر ہے ۔بعض طالب علم آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہیں اور پابندی سے مشق کرنے کی بدولت ترقی کی رفتار معتدل رہتی ہے۔ بعض طالب علم ابتداء میں تیزی سے ترقی کرتے ہیں لیکن بعد میں رفتار کم ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ شروع شروع میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کرتے لیکن آگے جا کر رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے۔ غرض طبیعت کے فرق سے ترقی کے مدارج الگ الگ ہوتے ہیں۔ اصولی طور پر جو چیز آہستہ آہستہ طبیعت میں داخل ہو وہ زیادہ مستحکم ہوتی ہے۔
  2. ذوق و شوق یا دلچسپی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی طرف سے پروگرام میں کوئی تبدیلی کر دیں یا پروگرام سے تجاوز کر جائیں۔ دلچسپی سے مراد یہ ہے کہ مراقبہ اور دیگر مشقوں کو پروگرام میں دیئے ہوئے لائحہ عمل کے مطابق پوری توجہ سے کیا جائے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 197 تا 199

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)