یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

ذکر و فکر

مکمل کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12193

قرآن پاک کے ارشادات اور دین کی تعلیمات میں ذکر کو بہت بڑا مقام حاصل ہے۔ قرآن و حدیث میں تواتر کے ساتھ ذکر کرنے کی تلقین موجود ہے۔ صلوٰۃ کو بھی ذکر کہا گیا ہے اور صلوٰۃ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اسے ذکر الٰہی کے لئے قائم کیا جائے۔

ذکر کے لغوی معنی یاد کرنے کے ہیں۔ تذکرہ کرنے کو بھی ذکر کہتے ہیں۔ اس لیے کہ تذکرہ کرنا کسی کو یاد کرنے کا اظہار ہے۔ آدمی جب کسی کا نام لیتا ہے، اس کی صفت بیان کرتا ہے تو یہ عمل اس کا ذہنی تعلق مذکور کے ساتھ قائم کرتا ہے۔ یاد کرنا اور زبان سے تذکرہ کرنا ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ عام زندگی میں اس کی مثالیں مل سکتی ہیں۔ اگر ایک شخص کسی سے قلبی لگاؤ رکھتا ہے تو اس کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف زبان سے تذکرہ کرتا ہے بلکہ دل پر بھی اسی کا خیال غالب رہتا ہے۔

دین کی تعلیمات کا مدار اللہ کی ذات ہے۔ اور دین کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کا قلبی رشتہ اللہ کی ذات اقدس سے قائم ہو جائے اور یہ رشتہ اتنا مستحکم ہو جائے کہ قلب اللہ کی تجلی کا دیدار کر لے۔ چنانچہ اس بات کے لئے تمام اعمال و افعال چاہے وہ جسمانی ہوں یا فکری ، اللہ کی ذات سے منسلک کیا گیا ہے تا کہ شعوری اور غیر شعوری طور پر اللہ کا خیال ذہن کا احاطہ کر لے۔اس کیفیت کو حاصل کرنے میں ذکر کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ذکر کا مقصد یہی ہے کہ بار بار اللہ کے نام کو دہرانے سے ذہن پر اللہ نقش ہو جائے۔

ذکر کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ اللہ کے کسی اسم یا صفت کو زبان سے بار بار دہرایا جائے۔ جب تک کوئی شخص اس عمل میں مشغول رہتا ہے اس کا ذہن بھی کم و بیش اسی خیال پر قائم رہتا ہے۔ اگرچہ وقتی طور پر ذہن ذکر سے ہٹ بھی جاتا ہے لیکن ذکر کی میکانکی حرکت غیر شعوری ارادے کو ذکر سے ہٹنے نہیں دیتی۔ اس مرتبے کو اہل روحانیت نے ذکر لسانی کہا ہے یعنی اللہ کے کسی اسم کو زبان سے دہراتے ہوئے خیال کو ذکر پر قائم رکھنا۔

کسی اسم کو مسلسل دہرانے سے ایک ہی خیال ذہن پر نقش ہو جاتا ہے۔ شعوری ارتکاز بڑھنے لگتا ہے اور ذہن کو ایک خیال پر قائم رہنے کی مشق ہو جاتی ہے جب ایسا ہوتا ہے تو ذاکر زبان سے الفاظ ادا کرنے میں بار محسوس کرتا ہے اور عالم خیال میں الفاظ ادا کرنے میں اسے سرور حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ذکر لسانی سے ہٹ کر ذکر خفی کرنے لگتا ہے۔ اس درجے کو ذکر قلبی کہا جاتا ہے۔

پھر ایک موقع ایسا آتا ہے کہ آدمی خفی طور پر اسم کو دہرانے میں بھی ثقل محسوس کرتا ہے بلکہ اسم کا خیال اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ عالم تصور میں پوری وجدانی کیفیت کے ساتھ اسم کے خیال میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کیفیت کو ذکر روحی کہتے ہیں اور ذکر روحی کا دوسرا نام مراقبہ ہے۔ مراقبہ یہ ہے کہ اللہ کا خیال اس طرح قائم ہو جائے کہ توجہ اللہ کی طرف سے نہ ہٹے۔

مزید وضاحت کے لئے ایک بار پھر اجمالاً ذکر کو بیان کیا جاتا ہے اگر ایک شخص اسم قدیر کا ذکر کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں زبان سے اسم قدیر کو پڑھتا ہے۔ دوسرے درجے میں اسم قدیر کو عالم خیال میں خفی طور پر ادا کرتا ہے لیکن زبان سے لفظ ادا نہیں کرتا۔ تیسرے مرتبے میں اسے ذہنی طور پر بھی اسم کو دہرانے کی حاجت محسوس نہیں ہوتی بلکہ اسم قدیر بصور ت خیال و تصور اس کے ذہن پر محیط ہو جاتا ہے۔ ذکر کا یہ مرتبہ یا طریقہ جس میں کوئی شخص اسم کے معانی کا تصور قائم رکھتا ہے، مراقبہ کہلاتا ہے۔ ذکر کے تمام طریقوں کا مقصد ذاکر کے اندر اتنی صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ اس کی توجہ کسی اسم کے اندر جذب ہو جائے۔

پہلے پہل ذاکر مراقبہ میں خیال کو قائم کرتا ہے لیکن مسلسل توجہ سے یہ خیال اس کے تمام ذہنی و جسمانی افعال کے ساتھ اس کے شعور پر غالب آ جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ مسلسل ربط حاصل کر لیتا ہے اور کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا جب مراقبہ کی کیفیت اس پر طاری نہ ہو۔ جب مراقبہ کی یہ کیفیت شعور کا حصہ بن جاتی ہے تو ذاکر کی روح عالم ملکوت کی طرف صعود کرتی ہے اور وہ کشف و الہام سے سرفراز ہوتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 104 تا 107

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

انتساب 1 - انفس و آفاق 2 - ارتکاز توجہ 3 - روحانی دماغ 4 - خیالات کی لہریں 5 - تیسری آنکھ 6 - فلم اور اسکرین 7 - روح کی حرکت 8.1 - برقی نظام 8.2 - تین کرنٹ 9.1 - تین پرت 9.2 - نظر کا قانون 10 - كائنات کا قلب 11 - نظریہ توحید 12.1 - مراقبہ اور مذہب 12.2 - تفکر 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ 12.5 - حضرت مریم ؑ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ 12.7 - غار حرا 12.8 - توجہ الی اللہ 12.9 - نماز اور مراقبہ 12.10 - ذکر و فکر 12.11 - مذاہب عالم 13.1 - مراقبہ کے فوائد 13.2 - شیزو فرینیا 13.3 - مینیا 14.1 - مدارج 14.2 - غنود 14.3 - رنگین خواب 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب 14.5 - مشورے 14.6 - نشاندہی 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب 15.1 - لطیف احساسات 15.2 - ادراک 15.3 - ورود 15.4 - الہام 15.5 - وحی کی حقیقت 15.6 - کشف 16 - سیر 17 - فتح 18.1 - مراقبہ کی اقسام 18.2 - وضاحت 18.3 - عملی پروگرام 18.4 - اندازِ نشست 18.5 - جگہ اور اوقات 18.6 - مادی امداد 18.7 - تصور 18.8 - گریز 18.9 - مراقبہ اور نیند 18.10 - توانائی کا ذخیرہ 19.1 - معاون مشقیں 19.2 - سانس 19.3 - استغراق 20.1 - چار مہینے 20.2 - قوتِ مدافعت 20.3 - دماغی کمزوری 21 - روحانی نظریہ علاج 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ 22.2 - نیلی روشنی 22.3 - زرد روشنی 22.4 - نارنجی روشنی 22.5 - سبز روشنی 22.6 - سرخ روشنی 22.7 - جامنی روشنی 22.8 - گلابی روشنی 23 - مرتبہ احسان 24 - غیب کی دنیا 25.1 - مراقبہ موت 25.2 - اعراف 25.3 - عظیم الشان شہر 25.4 - کاروبار 25.5 - علمائے سوء 25.6 - لگائی بجھائی 25.7 - غیبت 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں 25.9 - ملک الموت 25.10 - مراقبہ نور 26.1 - کشف القبور 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ 27 - روح کا لباس 28.1 - ہاتف غیبی 28.2 - تفہیم 28.3 - روحانی سیر 28.4 - مراقبہ قلب 28.5 - مراقبہ وحدت 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ 28.7 - مراقبہ عدم 28.8 - فنا کا مراقبہ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام 28.10 - اسم ذات 29 - تصورشیخ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)