یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

حضرت موسیٰ ؑ

مکمل کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12169

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے رہائی دلا کر چلے تو راستے میں انہوں نے صحرائے سینا میں قیام کیا۔ یہاں آپ نے قوم کے معاملات حضرت ہارون ؑ کے سپرد فرمائے اور خود حکم ربانی کے مطابق کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ آپ نے چالیس دن اور چالیس راتیں کوہ طور پر گزارے۔ یہیں آپ پر تورات نازل ہوئی۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ

’’اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ ؑ سے تیس رات کا اور بڑھا دیا اس کو دس راتوں سے تب پوری ہوئی مدت تیرے رب کی چالیس رات۔‘‘ (سورۃ اعراف آیت 142)

حضرت موسیٰ ؑ چالیس دن اور چالیس راتیں مسلسل کوہ طور پر مقیم رہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ نے لفظ ’’رات‘‘ استعمال فرمایا ہے، دن کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ روحانی علوم کے مطابق ’’رات‘‘ ان حواس کا نام ہے جو غیبی انکشافات کا ذریعہ ہیں۔ مراقبے میں انسانی ذہن پر رات کے حواس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور انسان زمانیت اور مکانیت سے آزاد ہو کر غیب کی دنیا کا مشاہدہ کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ پر چالیس دن اور چالیس راتیں، رات کے حوا س کا غلبہ رہا اور اس طرح آپ کا ذہن اس قابل ہو گیا کہ وہ غیبی مظاہرہ اور الٰہی تعلیمات کو دیکھ اور سمجھ سکیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 96 تا 97

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

انتساب 1 - انفس و آفاق 2 - ارتکاز توجہ 3 - روحانی دماغ 4 - خیالات کی لہریں 5 - تیسری آنکھ 6 - فلم اور اسکرین 7 - روح کی حرکت 8.1 - برقی نظام 8.2 - تین کرنٹ 9.1 - تین پرت 9.2 - نظر کا قانون 10 - كائنات کا قلب 11 - نظریہ توحید 12.1 - مراقبہ اور مذہب 12.2 - تفکر 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ 12.5 - حضرت مریم ؑ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ 12.7 - غار حرا 12.8 - توجہ الی اللہ 12.9 - نماز اور مراقبہ 12.10 - ذکر و فکر 12.11 - مذاہب عالم 13.1 - مراقبہ کے فوائد 13.2 - شیزو فرینیا 13.3 - مینیا 14.1 - مدارج 14.2 - غنود 14.3 - رنگین خواب 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب 14.5 - مشورے 14.6 - نشاندہی 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب 15.1 - لطیف احساسات 15.2 - ادراک 15.3 - ورود 15.4 - الہام 15.5 - وحی کی حقیقت 15.6 - کشف 16 - سیر 17 - فتح 18.1 - مراقبہ کی اقسام 18.2 - وضاحت 18.3 - عملی پروگرام 18.4 - اندازِ نشست 18.5 - جگہ اور اوقات 18.6 - مادی امداد 18.7 - تصور 18.8 - گریز 18.9 - مراقبہ اور نیند 18.10 - توانائی کا ذخیرہ 19.1 - معاون مشقیں 19.2 - سانس 19.3 - استغراق 20.1 - چار مہینے 20.2 - قوتِ مدافعت 20.3 - دماغی کمزوری 21 - روحانی نظریہ علاج 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ 22.2 - نیلی روشنی 22.3 - زرد روشنی 22.4 - نارنجی روشنی 22.5 - سبز روشنی 22.6 - سرخ روشنی 22.7 - جامنی روشنی 22.8 - گلابی روشنی 23 - مرتبہ احسان 24 - غیب کی دنیا 25.1 - مراقبہ موت 25.2 - اعراف 25.3 - عظیم الشان شہر 25.4 - کاروبار 25.5 - علمائے سوء 25.6 - لگائی بجھائی 25.7 - غیبت 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں 25.9 - ملک الموت 25.10 - مراقبہ نور 26.1 - کشف القبور 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ 27 - روح کا لباس 28.1 - ہاتف غیبی 28.2 - تفہیم 28.3 - روحانی سیر 28.4 - مراقبہ قلب 28.5 - مراقبہ وحدت 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ 28.7 - مراقبہ عدم 28.8 - فنا کا مراقبہ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام 28.10 - اسم ذات 29 - تصورشیخ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)