مراقبہ

مکمل کتاب : قلندر شعور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=15413

مرا قبہ کی تشریح کرتے ہُوئے قلندر بابا اولیاء ؒ فرماتے ہیں کہ:
مراقبہ ایک ایسا عمَل ہے جس میں انسان دنیاوی حالات و واقعات اور دنیاوی دلچسپیوں اور زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔ غَیب کی دنیا میں داخل ہونا اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک انسان زمان و مکان سے آزاد نہ ہو یعنی جسمانی گوشت پوست اور جسمانی تقاضوں سے جب تک کوئی آدمی ذہنی طور پر یکسو نہیں ہوتا، غَیب کی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتا۔ جسمانی تقاضوں سے آزاد ہونے کا مطلب یہ نہیں انسان کے اوپر موت وارِد ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جسمانی تقاضوں کو ثانویت دے دے اور جہاں سے جسمانی تقاضے رَوشنی کی شکل میں نُزول کر رہے ہیں ان کی طرف متوجّہ ہو جائے۔
مراقبہ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آدمی کسی تاریک گو شے میں جہاں گرمی سردی معمول سے زیادہ نہ ہو، آرام دہ نشست کے ساتھ بیٹھ جائے۔ ہاتھ پیروں اور جسم کے تمام اَعصاب کو ڈھیلا چھوڑ دے۔ اور اپنے اوپر ایسی کیفیت طاری کر لے جس کیفیت میں جسم کی مَوجودگی کی طرف سے ذہن ہٹ جائے۔ سانس گہرائی میں لیا جائے۔ گہرائی میں سانس لینے سے سانس کی رفتار میں ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ آنکھیں بند کر لی جائیں اور بند آنکھوں سے اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کی جائے۔ خیالات اور عمَل پاکیزہ ہوں۔
خیالات اور عمَل کی پا کیزگی یہ ہے کہ کسی کو برا نہ سمجھے۔ کسی کی طرف سے بغض و عناد نہ رکھے۔ اگر کسی سے تکلیف پہنچی ہے تو انتقام نہ لےاورمعاف کر دے۔ ضروریات زندگی اور معاش کے حصول میں اعضاء کا وظیفہ پورا کرے۔ جدّوجہد میں کوتاہی نہ کرے لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ کسی عمَل سے یہ محسوس ہو جائے کہ مجھ سے کسی کی دل آزاری ہو گئی یا کسی کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہے تو بِلا تخصیص وہ کمزور ہو، ناتواں ہو، غریب ہو، چھوٹا ہو یا بڑا ہو اس سے معافی مانگ لی جائے۔ آدمی جو کچھ اپنے لئے پسند کرتا ہے وہ دوسروں کیلئے بھی پسند کرے۔ ذہن کے اندر مال و متا ع اور اسباب کی اہمیت نہ ہو۔ اللہ کے پھیلا ئے ہُوئے اور دئیے ہُوئے وسائل کو خوش ہوکر استعمال کرے لیکن دنیاوی وسائل کو مقصدِ زندگی نہ بنائے۔ جس طرح ممکن ہو دامے، درمے، قدمے، سخنے، اللہ کی مخلوق کی خدمت کی جائے۔
جس شخص کے اندر پاکیزہ خیالات، پاکیزہ اوصاف مَوجود ہوتے ہیں مراقبے کے عمَل سے اس کا لطیفۂِ نفسی (لطائف کا ذکر اس کتاب کے پچھلے اسباق میں تفصیل سے آچکا ہے) جلد رنگین ہو جاتا ہے۔ لطیفۂِ نفسی کے رنگین ہو جانے سے شعور کے اندر جِلا پیدا ہو جاتی ہے۔ شعور کا آئینہ شفّاف ہو جاتا ہے۔
مرا قبہ ایک ایسا عمَل ہے جس عمَل میں روحانی استاد یا اپنے مرشد کے حکم کی تکمیل ضروری ہے۔ سالک یا روحانی شاگرد کے اندر اگر چُوں چرا ہے اور تعمیل نہیں ہے تو مراقبہ کا عمَل پورا نہیں ہوتا۔ مراقبے میں کامیابی کے لئےاور مراقبے کاصحیح نتیجہ مرتب ہونے کیلئے خود سُپردگی ضروری ہے۔
مرا قبے کے ذریعے انسان عالمِ ظاہر کی طرح عالمِ باطن کی دنیا سے رُوشناس ہوتا ہے۔ جب سالک غَیب کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے توجس طرح وہ عالمِ ناسوت یا اس دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور زندگی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اسی طرح وہ غَیب کی دنیا میں نظامِ شمسی اور بےشمار افلاک کو دیکھتا ہے۔ فرشتوں سے متعارف ہوتا ہے۔ ان سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس کے سامنے وہ تمام حقائق آ جاتے ہیں جن حقائق پر یہ کائنات تخلیق ہوئی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ لیتا ہے کہ کائنات کی ساخت میں کسی قسم کی رَوشنیاں برسرِعمل ہیں؟ ان رَوشنوoں کا منبع (Source) کیا ہے؟ یہ رَوشنااں کس طرح تخلیق ہو رہی ہیں؟ افراد کائنات میں کس طرح تقسیم ہو رہی ہیں؟ اور رَوشنوoں کے مقداروں کے ردّوبدل سے کائنات کے نقوش کس طرح بن رہے ہیں؟ سالک کی آنکھ یہ بھی دیکھ لیتی ہے کہ رَوشنیوں کا منبع اَنوار ہیں ۔ پھر اس پر وہ تجلّی بھی منکشف ہو جاتی ہے جو رَوشنوئں کو سنبھالنے والے اَنوار کی اصل ہے۔
با نیِٔ قلندر شعور، قلندر بابا اولیاء ؒ نے مراقبہ کا ایک مَربوط نظام قائم کیا ہے۔ جس طرح کسی بھی علم کو سیکھنے کیلئے شاگرد استاد کی سرپرستی میں الف، ب، پ، ت، پڑھتا ہے پھر جملے بنانا سیکھتا ہے اور اس کے بعد بڑی بڑی کتابیں پڑھنا اس کیلئے معمول بن جاتا ہے، اُسی طرح ماورائی علوم سیکھنے کیلئے روحانی استاد کی سرپرستی ضروری ہے۔

بین الاقوامی تنظیم ’’قلندر شعور‘‘ نے درس و تدریس کیلئے اوپن یونیورسٹی کی بنیاد پر اسباق اور مراقبوں کا ایک نصاب تیار کیا ہے۔ دنیا میں کسی بھی مقام پر مَوجود ماورائی علوم سیکھنے کے خواہشمند حضرات مندرجہ ذیل پتوں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
مرکزی مراقبہ ہال
سرجانی ٹاؤن، کراچی، پاکستان
فون: 36912786
Muraqaba Hall
414, Lower Broughton Road,
Salford, M 7-9 FU,
Phone: 061-792-5995

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 152 تا 154

قلندر شعور کے مضامین :

ِ 0.01 - رباعی  ِ 0.02 - بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم  ِ 1 - معرفت کی مشعل  ِ 2 - قلندر کا مقام  ِ 3 - جسم اور روح  ِ 4 - جیتی جاگتی تصویر  ِ 5 - ذات کا مطالعہ  ِ 6 - تخلیقی سانچے  ِ 7 - جنسی کشش کا قانون  ِ 8 - ظاہر اور باطن  ِ 9 - نَوعی اِشتراک  ِ 10 - زمین دوز چوہے  ِ 11 - طاقت ور حِسّیات  ِ 12 - سُراغ رساں کتے  ِ 13 - اَنڈوں کی تقسیم  ِ 14 - بجلی کی دریافت سے پہلے  ِ 15 - بارش کی آواز  ِ 16 - منافق لومڑی  ِ 17 - کیلے کے باغات  ِ 18 - ایک ترکیب  ِ 19 - شیر کی عقیدت  ِ 20 - اَنا کی لہریں  ِ 21 - خاموش گفتگو  ِ 22 - ایک لا شعور  ِ 23 - مثالی معاشرہ  ِ 24 - شہد کیسے بنتا ہے؟  ِ 25 - فہم و فراست  ِ 26 - عقل مند چیونٹی  ِ 27 - فرماں رَوا چیونٹی  ِ 28 - شہد بھری چیونٹیاں  ِ 29 - باغبان چیونٹیاں  ِ 30 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31 - انجینئر چیونٹیاں  ِ 32 - درزی چیونٹیاں  ِ 33 - سائنس دان چیونٹیاں  ِ 34 - ٹائم اسپیس سے آزاد چیونٹی  ِ 35 - قاصد پرندہ  ِ 36 - لہروں پر سفر  ِ 37 - ایجادات کا قانون  ِ 38 - اللہ کی سنّت  ِ 39 - لازمانیت (Timelessness)  ِ 40 - جِبِلّی اور فِطری تقاضے  ِ 41 - إستغناء  ِ 42 - کائناتی فلم  ِ 43 - ظرف اور مقدّر  ِ 44 - سات چور  ِ 45 - ٹوکری میں حلوہ  ِ 46 - اسباق کی دستاویز  ِ 47 - قومی اور اِنفرادی زندگی  ِ 48 - انبیاء کی طرزِ فکر  ِ 49 - اللہ کی عادت  ِ 50 - عمل اور نیّت  ِ 51 - زمین کے اندر بیج کی نشوونما  ِ 52 - اللہ کی ذَیلی تخلیق  ِ 53 - صحیح تعریف  ِ 54 - کائنات کی رکنیت  ِ 55 - جنّت دوزخ  ِ 56 - توکّل اور بھروسہ  ِ 57 - قلندر شعور اسکول  ِ 58 - سونا کھاؤ  ِ 59 - آٹومیٹک مشین  ِ 60 - انسان، وقت اور کھلونا  ِ 61 - آسمان سے نوٹ گرا  ِ 62 - ساٹھ روپے  ِ 63 - گاؤں میں مرغ پلاؤ  ِ 64 - مچھلی مل جائے گی؟  ِ 65 - پرندوں کا رزق  ِ 66 - درخت اور گھاس  ِ 67 - مزدور برادری  ِ 68 - آدم و حوّا کی تخلیق  ِ 69 - لہروں کا نظام  ِ 70 - رنگوں کی دنیا  ِ 71 - روشنیوں کے چھ قمقمے  ِ 72 - ترکِ دنیا کیا ہے  ِ 73 - زمان و مکان  ِ 74 - خواب اور مراقبہ  ِ 75 - مراقبہ کی قسمیں  ِ 76 - زندگی ایک اطلاع ہے  ِ 77 - مراقبہ کی چار کلاسیں  ِ 78 - پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی  ِ 79 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 80 - لوحِ محفوظ  ِ 81 - اللہ کی تجلّی  ِ 82 - کائنات پر حکمرانی  ِ 83 - روشنی کی چار نہریں  ِ 84 - نیابت اور خلافت  ِ 85 - آدم اور ملائکہ  ِ 86 - دوربین آنکھ  ِ 87 - گوشت پوست کا وجود  ِ 88 - اللہ میاں کی جیل  ِ 89 - روحانی بغدادی قاعدہ  ِ 90 - روح اور کمپیوٹر  ِ 91 - سائنس اور خرقِ عادات  ِ 92 - قانون  ِ 93 - معاشرہ اور عقیدہ  ِ 94 - دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ  ِ 95 - مذہب  ِ 96 - سائنسی نظریہ  ِ 97 - تخلیقی فارمولے  ِ 98 - رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 99 - آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ  ِ 100 - وقت کی نفی  ِ 101 - آکسیجن اور جسمانی نظام  ِ 102 - دو سَو سال کی نیند  ِ 103 - سانس کے دو رُخ  ِ 104 - توانائی اور روح  ِ 105 - زندگی میں سانس کا عمل دخل  ِ 106 - رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے  ِ 107 - روشنیوں کے گودام  ِ 108 - رنگین شعاعیں  ِ 109 - کرنوں میں حلقے  ِ 110 - برقی رَو کیمرہ  ِ 111 - اَعصابی نظام  ِ 112 - مراقبہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)