مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب

مکمل کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=15852

مرشدِ کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے ۱۹۸۱ء کو لاہور شہر کے مرکز ، مزنگ میں مراقبہ ہال کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔ ۱۵۸۔مین بازار مزنگ لاہور میں نگران مراقبہ ہال کے فرائض میاں مشتاق احمد عظیمی صاحب کو تفویض کئے گئے ۔ مراقبہ ہال کے افتتاح پر مرشدِ کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے مراقبہ اور اس کی اہمیت پر بصیرت افروز خطاب کیا۔
آخر میں پروگرام کی انتظامیہ جن میں جناب مقصود اختر عظیمی صاحب، رشید شاہین عظیمی صاحب و دیگر سلسلے کے اراکین شامل تھے ان کی خدمات کو مرشدِ کریم نے بہت سراہا اور اپنے تاثرات بھی نوٹ فرمائے۔ پروگرام کے اختتام پر میاں مشتاق احمد عظیمی صاحب نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔ مرشدِ کریم کی دعا کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ آخر میں مہمانوں کی اچھے انداز میں تواضع کی گئی ۔
مرشدِ کریم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا!
’’میرےعزیزدوستو!…..ساتھیو…..جیساکہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں گزشتہ کئی سالوں سےمخلوقِ خداکی خدمت میں مصروف ہوں۔ میرے پیش نظریہ مقصدتھاکہ لوگوں کو روحانی علوم سے آشنا کیا جائے۔ اِس سلسلے کو جب عوام میں پزیرائی حاصل ہوئی تو میں نے روحانی علوم کے فروغ کو اپنا مشن بنا لیا۔ میرامشن یہ ہےکہ انسان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔ آپ سب ماشاء اللہ کھلے ذہن کے لوگ ہیں، یہ بات تو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہیں، بڑے ہوتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں…..کیا انسان کی زندگی کا مقصد اس دنیا میں بس اتنا ہی ہے کہ وہ پیدا ہو، کھائے پئے ، شادی کرے، اس کے بچے ہوں، وہ بچوں کی پرورش کرے اور بالآخر اس دنیا سے چلا جائے…..یہ سارے اعمال تو دنیا میں حیوانات بھی پورے کرتے ہیں!
انسان کی دنیا میں پیدائش کامقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کو پہچانے اسے یہ ادراک حاصل ہو کہ میرا اللہ کے ساتھ رشتہ کیا ہے؟…..اور اس رشتے کو میں کس طرح اتنا مستحکم اور مظبوط کرسکتا ہوں کہ وہ مجھ سے قریب ہوجائے اور میں اللہ تعالیٰ سے قریب تر ہوجاؤں؟…..
اس مقصد کو تمام پیغمبران کرام علیہم السّلام اور ان کے وارث اولیاء اللہ نے انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
ہمارا یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ جسم اور روح میں جو رشتہ ہے وہ لازمی ہے۔ اگر انسان میں روح مَوجود ہے تو وہ زندہ ہے اور اگر روح نکل جائے تو اسے مردہ کہا جاتا ہے۔ سائنسدان اس زمین کی عمر ساڑھے تین ارب سال بتاتے ہیں۔ اگر آپ اس طویل عرصے کو کھنگالیں تو آپ کو ساڑھے تین ارب سالوں کے دوران تلاش کے باوجود بھی کوئی ایسی بات نہیں مل سکے گی کہ کبھی کسی مردہ آدمی یا عورت نے حرکت کی ہو…..کسی ماں سے پیدائش اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے اندر روح مَوجود ہو…..آپ نے دیکھا ہوگا کہ کسی مردہ انسان کے حلق میں پانی انڈیلا جائے تو پانی کبھی بھی حلق سے نیچے نہیں اترے گا…..اگر زندہ انسان کو سوئی چبھ جائے تو وہ اس کو فوراً محسوس کرلے گا…..لیکن ایک مردہ انسان جس کے اندر سے روح نکل چکی ہو ، اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں تو اس کے اندر کوئی مدافعت پیدا نہیں ہوتی…..
آپ سب حضرات غور فرمائیں!…..کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کبھی کسی مردہ انسان نے صحافت کی ہو، خبریں بنائی ہوں، سرخی لگائی ہو…..کسی مردے سے آپ ایسی کوئی توقع قائم کرسکتے ہیں؟…..
اس مختصر تمہید سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری اصل روح ہے…..اور ہمارا گوشت پوست کا جسم روح کا میڈیم ہے…..دراصل ہم سے غلطی یہ ہوئی ہے کہ ہم نے جسم کو اصل سمجھ لیا ہے اور روح کو نظر انداز کر دیا ہے…..جتنی بھی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوتا ہے وہ سب روح کی مرہونِ منّت ہے اور روح سے ہی یہ صلاحیتیں جسم کو منتقل ہوتی ہیں…..روح کی یہ صلاحیتیں اگر جسم کو پوری طرح منتقل نہ ہوں تو ہم ایسے بندے کو پاگل، بد حواس یا بے شعور کہتے ہیں…..اگر اس کے اندر روح سے منتقل ہونے والی صلاحیتیں صحیح طریقے سے کام کر رہی ہیں تو ہم ایسے فرد کو سائنٹسٹ یا جینئس کہتے ہیں۔
آپ کسی بھی طریقے سے جانچ پڑتال کر لیں…..آپ کو اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں ملے گا کہ اگر روح ہے تو جہان ہے اور روح نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے ۔ یہی انبیاء علیہم السّلام اور اولیاء اللہ کی تعلیمات ہیں۔
ہم انبیاء اور اولیاء کی تعلیمات سے رُو گِردانی کے اس طرح مرتکب ہوئے ہیں کہ ہم نے اصل جسم یعنی روح کو نظر انداز کر کے مفروضہ جسم یعنی گوشت پوست کے مادی جسم کو اصل سمجھ لیا ہے۔
جب تک آپ روح سے واقفیت حاصل نہیں کریں گے آپ کو کبھی سکون نہیں ملے گا…..آج کے دور کا یہ المیہ ہے کہ آج کے انسان نے مادی جسم کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے…..آج کے ترقی یافتہ انسان نے ایجادات تو کرلی ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ اسے یہ خیال ہی نہ آتا تو اس سے یہ ایجاد کس طرح ہوتی…..مثلاً اگر یہ خیال ہی نہ آتا کہ آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جائے تو گراہم بیل اس سلسلے میں کبھی کوئی کوشش ہی نہیں کرتا اور ٹیلی فون ہر گز ایجاد نہ ہوتا…..اسی طرح ایٹم بم ہے!…..کمپیوٹر ہے!…..یہ سب چیزیں صرف اس لئے ایجاد ہوئیں کہ موجد کو اس کے ایجاد کرنے کا خیال آیا…..
میرے مشن کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ لوگوں کو باور کرایا جائے کہ جس طرح مرد کے اندر روح کام کر رہی ہے اسی طرح عورت کے اندر بھی روح کام کر رہی ہے۔روحانی صلاحیتوں کے حوالے سے عورت مرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں ، قرآن پڑھنے والے اور قرآن پڑھنے والیاں، اور سچ بولنے والے اورسچ بولنے والیاں، عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات دینے والے اور خیرات دینے والیاں اور روزہ رکھنے والے اور روزہ رکھنے والیاں اور نگہبانی کرنے والے اپنی عصمت کے اور نگہبانی کرنے والیاں، اور یاد کرنے والے اللہ کو بہت اور یاد کرنے والیاں، تیار کیا ہے اللہ نے واسطے ان کے بخشش اور اجر بڑا۔’’ (حوالہ: سورۃ الأحزاب – آیت نمبر 35)
ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ایک مرد اگر روزہ رکھے گا تو اسے ثواب زیادہ ملے گا اور ایک عورت اگر روزہ رکھے گی تو اسے ثواب کم ملے گا …..کیا ایک مردPh.Dکرتا ہے تو وہ Ph.Dہے اور اگر عورتPh.Dکرے کیا وہ آدھی Ph.Dہوگی؟……….
ظاہر ہے ایسا نہیں ہوگا!……….اللہ کے نزدیک ایک عورت اور مرد برابر ہیں ، بس ان کی ڈیوٹیاں الگ الگ ہیں۔
اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے جو قوانین ہمیں عطا کئے تھے، ہم نے ان کو نظر انداز کردیا…..اور عورت کی صلاحیتوں کو دبا دیا…..اس طرح معاشرے میں ابتری پھیل گئی…..اور یوں معاشرے کا ایک بڑا اہم طبقہ جو معاشرے میں نہایت اہم اور بنیادی کردار ادا کرسکتا تھا اس کے کردار کو محدود کردیا گیا، چناچہ معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی گئیں…..معاشرے کی خرابیوں کو دور کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ خصوصاً ہم مرد حضرات اللہ اور اللہ کے رسول ﷺکے عطا کردہ حقوق کے تحت خواتین کو معاشرے میں عملی کردار ادا کرنے کے لئے آگے لائیں تاکہ ان میں حوصلہ پیدا ہو اور اس حوصلے کے ساتھ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کو سمجھ کر وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ خدمت کریں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا بڑا ادارہ نہیں جہاں خواتین اپنا کردار اچھے طریقے سے ادا نہ کر رہی ہوں…..اگر ہم اسی طرح اپنی بچیوں کو تعلیم دلاتے رہے اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے رہے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی طاقت پیدا ہوجائے گی۔ اس طاقت سے ہمارے معاشرے کی بھی اصلاح ہوگی اور ملک بھی ترقی کرے گا۔
میں آپ سب حضرات سے ایک دوست کی حیثیت سے ، برادری کے ایک فرد کی حیثیت سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ حضرات کو جب بھی موقع ملے آپ یہ کوشش کریں کہ انسان کو اس کی اصل یعنی روح سے متعارف کرایا جائے…..
اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو صلاحیتیں عطا کی ہیں ان کے تحت جب بھی موقع ملے تو آپ یہ ضرور اجاگر کریں کہ انسان کا مادی وجود فانی اور عارضی ہے، اسے چلانے والی اس کی اصل روح ہے۔ جب تک ہم اپنی اصل یعنی روح سے واقف نہیں ہوں گے سکون حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اس کیلئے ہمارا مادی وجود مفروضہ (FICTION) ہے اور FICTIONکا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ جو چیز گھٹنے، بڑھنے اور فنا ہوجانے والی ہو وہ کسی کام نہیں آسکتی…..
دوستو!……….میں نے عمر کا اتنا بڑا حصہ گزارا۔ میری سمجھ میں تو یہی آیا کہ یہاں جو بھی چیز ہے وہ موت کے انتظار میں ہے۔ ہر انسان یہاں جو بھی کچھ جمع کر رہا ہے وہ یہیں چھوڑ کر جانے کیلئے جمع کر رہا ہے۔ آپ یہاں کتنے ہی وسائل اکھٹا کرلیں لیکن ایک مقررہ وقت پر جب ملک الموت آجائے گا تو انسان اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جا سکے گا۔ اس مشاہدے سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اگر کسی شخص کی عمر ساٹھ سال کی ہے تو اس سے مراد ہر گز یہ نہیں لی جاتی کہ وہ شخص مزید ساٹھ سال زندہ رہے گا…..اس کی تو زندگی کے چند سال ہی باقی رہ گئے ہیں…..جس روز بچہ اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، اگر اس کی عمر سَو (۱۰۰) سال متعیّن کردی جائے تو اس کا مطلب کیا ہُوا؟…..کیا اس کی عمر بڑھ رہی ہے…..یا گھٹ رہی ہے؟…..در حقیقت جب بچہ ایک سال کا ہوگیا تو اس کی عمر کے ۹۹ سال باقی رہ گئے…..جب بچہ بارہ سال کا ہوا تو اس کی عمر کے ۸۸ سال باقی رہ گئے…..اور آج کل یہ حال ہے کہ اوسط عمر کم ہوتے ہوتے پچپن ساٹھ ہی رہ گئی …..اس سے زیادہ کوئی جیتا ہی نہیں…..ہمیں اس مختصر سے عرصے میں جتنے بھی معاملات ہیں وہ پورے کرنے ہیں، ان میں ہمیں دلچسپی بھی لینی ہے، اسلئے کہ اگر ہم دلچسپی نہیں لیں گے تو معاشرے میں ہمارا کوئی مقام نہیں بن سکے گا…..ایک آدمی اچھے گھر میں رہتا ہے…..اس کے پاس بہترین گاڑی ہے…..اس کی اچھے خاندان میں شادی ہو جاتی ہے…..پھر وہ اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت بھی کرتا ہے اور اس کے بچوں کو معاشرے میں اعلیٰ مقام بھی حاصل ہو جاتا ہے…..ایک آدمی وہ ہے جو یہ سب کچھ نہیں کرتا…..دونوں کے درمیان فرق ظاہر ہے…..
لیکن کیا انسان دنیا میں جو کچھ کر رہا ہے وہی زندگی کا مقصد ہے؟…..
اگر غیر جانبدار ہو کر تفکر کیا جائے تو اس کا ایک ہی جواب ملے گا کہ یہ زندگی کا مقصد نہیں ہے…..اس لئے کہ دنیا مسافر خانہ ہے…..اس مسافر خانے میں آدمی بے وقوفی بھی کرتا ہے اور اسی مسافر خانے میں آدمی تین مرلے کے گھر میں بھی رہتا ہے…..اور جب مسافت ختم ہوجاتی ہے تو آدمی بے وقوف ہوں یا عقل مند!…..سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں…..
آپ بھرپور جدوجہد کے ساتھ بھرپور زندگی گزارئیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجئے کہ ہم یہاں مسافر کی حیثیت سے آئے ہیں۔ یہ ہمارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نہیں فرمایا کہ اس مسافر خانے میں بھوک و افلاس کے ساتھ زندگی گزارو…..اگر کوئی یہ کہتا ہے تو سراسر غلط کہتا ہے…..اس لئے کہ اگر افلاس اور فقر کی زندگی گزارنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتا تو کیا دنیا میں اتنی ترقی ہوتی…..؟
اگر ہم اچھے لباس زیب تن نہیں کریں اور درخت کے پتوں سے تن کو ڈھانپ لیں یا کھدّر پہن لیں تو کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح تو بڑی بڑی فیکٹریاں بند ہوجائیں گی…..ہزاروں لوگ بے روزگا ر ہوجائیں گے…..
آپ اچھے کپڑے اسلئے پہنیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس لباس کو آپ کیلئے بنایا ہے…..اچھے اور خوبصورت لباس کو پہن کر آپ خوش ہوں اور اللہ کا شکر ادا کریں…..اچھا اور بہترین لباس اسلئے زیب تن کریں کہ اس طرح آپ کے بھائیوں کو روزی ملے گی۔
حضور پاک ﷺ کا ارشاد عالی ہے: ’’ إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات‘‘…. ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔
اگر ہم اپنی طرزِ فکر اس بات پر مستحکم کرلیں کہ یہ دنیا مسافر خانہ ہے…..پھر اگر اللہ فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرائے تو ہم وہاں خوش ہو کر ٹھہریں اور اگر اللہ میاں چارپائی ہوٹل میں ٹھہرائیں تو وہاں بھی ہم خوشی خوشی ٹھہریں…..لیکن ہماری بھرپور کوشش اور جدوجہد یہی ہونی چاہئے کہ فائیو اسٹار ہوٹل میں ہمارا قیام زیادہ سے زیادہ رہے۔
لیکن یہ بات ہمیشہ ذہن میں مَوجود رہے کہ بندہ فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھراے یا جھونپڑی ہوٹل میں!…..دونوں ہی مسافر خانہ ہیں…..مستقل جائے قیام نہیں…..اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْت ‘‘….
جو اس دنیا میں پیدا ہوگیا اسے اس دنیا سے جانا بھی ہے…..
موت یعنی انتقال سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے…..یہ اسی طرح ہے جس طرح آپ روزانہ دفتر جاتے ہیں اور شام کو دفتر واپس آتے ہیں…..یہ آنا جانا تو زندگی کا معمول ہے…..جس طرح گھر، دفتر، اسکول، کالج ، یونیورسٹی آنا جانا لگا رہتا ہے…..اسی طرح آپ دیکھئے کہ آپ کی جوانی آتی اور چلی جاتی ہے…..بڑھاپا آتا ہے اور چلا جاتا ہے …..یہ آنا جانا تو زندگی کا ایسا معمول ہے کہ اس کے بغیر زندگی کی تکمیل ہی نہیں ہو سکتی …..ہمیں صرف اتنا سوچنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں کیوں بھیجا ہے؟…..اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دیا کہ ہم انسانوں اور جنات کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ ہمیں پہچانیں، ہمارا عرفان حاصل کریں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اقدس ہے: “اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، تو میں نے محبت کے ساتھ مخلوق کو پیدا کیا۔”
قرآن پاک میں بھی اسی طرف نشاندہی کی گئی ہے کہ اللہ تمہاری رگِ جاں سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ جب ہم سے اس قدر قریب ہے تو پھر وہ نظر کیوں نہیں آتا؟….قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے۔ ’’وَ فیِ اَنفُسِکُم اَفَلاَ تُبصِرُون‘‘ …… ’’میں تمھارےاندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں‘‘۔ ہم اللہ کو اس لئے نہیں دیکھتے کہ ہم اپنی اصل روح اور مفروضہ جسم کی حقیقت سے واقف ہی نہیں ہیں …..ہمارا جسم روح کے تابع ہے ، روح جسم کے تابع نہیں ہے…..جب ہم روح کو پہچان لیں گے تو روح کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روح … امرِ ربّی ہے…..یعنی روح کا رابطہ اللہ سے قائم ہے چناچہ روح کی پہچاننے کے بعد ہمارا رابطہ بھی اللہ سے قائم ہوجائے گا اور ہم اللہ کو دیکھ بھی لیں گے۔
بندہ اگر اللہ کو دیکھنےکے قاعدے اور ضابطے پورے کردے تو وہ اللہ کو دیکھ سکتاہے۔ اب سوال یہ ہےکہ ایک بشر اللہ کو کیسے دیکھ سکتا ہے؟ ازل میں اللہ تعالیٰ نے کُن کہا اور ساری کائنات بن گئی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے مخاطب ہو کر فرمایا”اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ“کہ میں تمہارا رب ہوں ۔ روحوں نے یہ آواز سنی ، روحیں آواز کی طرف متوجہ ہوئیں تو اللہ کو دیکھا اور روحوں نے کہا “قَالُو بَلیٰ“جی ہاں آپ ہمارے رب ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانوں کی ارواح ازل میں اللہ کو دیکھ چکی ہیں اور اللہ کو دیکھنے کے بعد اللہ کی ربوبیت کا اقرار کر چکی ہیں۔ اب اگر ہم اپنی اصل روح سے واقف حاصل کرلیں تو بڑی آسانی سے اللہ کو دیکھ سکتے ہیں۔
اللہ کو دیکھنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے ہم اس بات سے واقف ہوں کہ ہمارا یہ جسمانی وجود اِنڈیپینڈینٹINDEPENDENTنہیں ہے۔ یہ جسمانی وجود ایک روحانی وجود کا محتاج ہے۔ اس روحانی وجود کو روح کہتے ہیں ۔ روح ازل میں اللہ کو دیکھ چکی ہے ۔ اگر بندہ چاہے تو اللہ کیلےح کو شش کرکے، اللہ کے بتائے ہوئے ضابطوں اور قواعد پر عمل کرکے ،رسول اللہ ﷺ کی طرزِ فکر اپناکر اللہ کو دیکھ سکتا ہے ، اللہ سے باتیں کرسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے اور بات کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے روحانی اسکول کو تلاش کریں جہاں اللہ کو دیکھنے کیلئے اسباق پڑھائے جاتے ہیں، ایسے روحانی استاد کو تلاش کریں جن پر اللہ کا فضل اور رسول اللہ ﷺ کی رحمت ہو اور وہ یہ بات بتاسکتے ہوں کہ اللہ کو دیکھنے کا راستہ یہ ہے۔
یہ وہ تعلیمات ہیں جو اولیاء اللہ اور صوفیاء حضرات اپنے شاگردوں کو دیتے ہیں۔ اب آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ ان تعلیمات کا فائدہ کیا ہے؟ روحانیت سیکھ کر کسی کو ملازمت نہیں ملتی!…..نہ پیسے ملتے ہیں ، نہ کاروبار ملتا ہے…..تو اس عمل کو ہم کیوں سیکھیں؟…..آج کل وہ عمل سیکھے جاتے ہیں جن سے کوئی فائدہ ہو۔ لیکن یہاں ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ ہم ملازمت کیوں کرتے ہیں؟…..
آپ کو جواب یہی ہوگا کہ ملازمت اسلئے کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کو آرام ملے ۔ مستقبل کے جو خوف اور اندیشے ہیں ان سے حفاظت ہوجائے ۔ اگر ملازمت کے بعد زندگی میں سکون نہ ملے تو اس ملازمت کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اچھی ملازمت کے حصول سے آدمی ڈپریشن سے بچ جاتا ہے۔ بیمار بہت کم ہوتا ہے اس کی عمر بڑھ جاتی ہے۔ اس کے دوست بہت ہوتے ہیں….
آپ سب میرے دوست ہیں۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں …..میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ روحانیت سیکھنے کیلئے یعنی اللہ سے اور اپنی روح سے واقف ہونے کیلئے بہترین اور آسان عمل مراقبہ ہے۔ مراقبہ میں آدمی اس دنیا سے اپنا دماغ ہٹا کر غیب کی طرف توجہ کرتا ہے۔ جب آدمی مراقبہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ خوش رہتا ہے۔ اس کے اندر سے نفرت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ہر آدمی کو خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو اسے اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ ہم سب ایک آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ ہم سب بہن بھائی ہیں، بڑے ہمارے ماں باپ ہیں۔ چھوٹے ہمارے بچے ہیں۔ جو ہمارا دکھ ہے وہ اُن کا دکھ ہے ، جو ہمارا پیار ہے وہ اُن کا پیار ہے۔ جس طرح دوسرے علوم سیکھنے کیلئے استاد کی ضرورت ہے، اسی طرح مراقبہ سیکھنے کیلئے بھی استاد کی ضرورت ہے۔ ہم نے یہ مراقبہ ہال قائم کیا ہے، آپ سب یہاں مراقبہ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ سینٹر ہم نے اسلئے کھولا ہے کہ ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ خوشی کیا ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی خوشی حاصل کریں۔ جس طرح ایک باپ اپنے بچوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہے اسی طرح میں بھی آپ لوگوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ اصل خوشی اس وقت حاصل ہوگی جب آپ اللہ کو دیکھ لیں گے۔ بندہ اللہ کو مراقبہ کے ذریعے جلد دیکھ سکتا ہے۔
مراقبہ در حقیقت ایسے عمل کا نام ہے جس میں بندہ بیداری کی حالت میں رہ کر بھی اس عالَم میں سفر کرتا ہے جس کو روحانی دنیا کہتے ہیں۔ روحانی دنیا میں داخل ہونے کے بعد بندہ اس خصوصی تعلق سے واقف ہوجاتا ہے جو اللہ اور بندہ کے درمیان بحیثیت خالق اور مخلوق ہر لمحہ اور ہر آن مَوجود ہے۔
مراقبہ حضور علیہ الصّلوٰۃ السّلام کی وہ پہلی سنت ہے جس کے نتیجے میں حضرت جبرائیل ؑ سے رسول اللہ ﷺ کی گفتگو ہوئی اور فخرِ مَوجودات سرکارِ دو عالَم سیدنا حضور ﷺ پر قرآن نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے رابطے کے لئے یہ ضروری ہے کہ فرد ذہنی مرکزیت کے قانون سے اچھی طرح واقف ہو اور جب کوئی بندہ اپنا ذہن تمام طرف سے ہٹا کر کسی ایک نکتہ پر مرکوز کرتا ہے تو یہی ذہنی مرکزیت بندے اور اللہ کے درمیان رابطہ کاذریعہ بن جاتی ہے۔ اپنی روح سے متعارف ہونے کیلئے ضروری ہے کہ بندہ دنیاوی دلچسپیاں کم کر کے زیادہ سے زیادہ وقت ذہن کو اللہ کی طرف متوجہ رکھے ۔ روحانیت میں کسی ایک نکتے پر ذہنی ارتکاز کو مراقبہ کا نام دیا گیا ہے اور مراقبہ خود آگاہی اور روح کے عرفان کیلئے ازحد ضروری ہے۔ جب بندہ روح کا عرفان حاصل کرتا ہے تو اس کا ربط اللہ سے قائم ہوجاتا ہے اور اس کے اوپر سے مفروضہ حواس کی گرفت عارضی طور پر ٹوٹ جاتی ہے۔
حضور اکرمﷺ کا ہر امتی یہ جانتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے غارِ حرا میں طویل عرصے تک عبادت و ریاضت کی ہے۔ دنیاوی معاملات سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کر کے یکسوئی کے ساتھ کسی گوشے میں بیٹھ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا مراقبہ ہے…..
مراقبہ ایک ایسا عمل ہے جس میں روحانی استاد کے حکم کی تعمیل ضروری ہے۔ سالک یا روحانی شاگرد کے اندر اگر تعمیل کا جذبہ نہیں ہے تو مراقبہ کا عمل پورا نہیں ہوتا۔ مراقبہ میں کامیابی اور مراقبہ کا صحیح نتیجہ حاصل کرنے کے لئے خود سپردگی ضروری ہے ۔ مراقبے کے ذریعے انسان عالَمِ ظاہری کی طرح عالَمِ باطن کی دنیا سے روشناس ہوتا ہے۔ جب سالک غیب کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ عالَمِ ناسوت کی زندگی اور زندگی کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر غیب کی دنیا میں نظامِ شمسی اور بے شمار افلاک کو دیکھتا ہے ۔ صاحبِ مراقبہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے کونے میں بیٹھ جائے جہاں شوروغل نہ ہو، اندھیرا ہو، اور یہ تصور کیا جائے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے ۔ آہستہ آہستہ یہ تصور اتنا گہرا ہوجاتا ہے کہ بندہ زندگی کے ہر عمل اور ہر حرکت میں یہ دیکھنے لگتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے ۔ مراقبہ کی یہی کیفیت، مرتبۂ احسان کا ایک درجہ ہے….. جب کوئی بندہ اس کیفیت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
چناچہ آپ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کو جاننے کیلئے ، اللہ تعالیٰ کی پہچان کرنے کیلئے، اللہ تعالیٰ کی صفات کو کائنات میں جاری و ساری دیکھنے کیلئے اور سرورِ کائنات فخرِ مَوجودات حضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کا قلبی و باطنی تعارف حاصل کرنے کیلئے ، اپنی روح سے واقف ہوں ، روح سے واقف ہونا مشکل نہیں ہے مگر اس کیلئے تھوڑی سی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ کچھ خرچ کریں گے تو کچھ حاصل ہوگا کے اصول کے مطابق روح سے واقفیت کے لئے تھوڑا سے وقت دیں۔ اور جتنا بھی وقت دیں پورے خلوصِ محنت اور یکسوئی سے دیں۔ انشاء اللہ آپ اپنی روح سے واقف ہوجائیں گے۔ روح سے واقفیت کا آسان طریقہ میں بتاچکا ہوں…. مراقبہ ہے۔ مراقبہ کیجئے۔ جب بھی وقت ملے مراقبہ میں بیٹھ جائیں۔ سب سے پہلے آپ کو سکون حاصل ہوگا جو کہ سیڑھی بہ سیڑھی ذاتِ الٰہیہ پر ختم ہوجائے گا۔ یہی سلسلۂِ عظیمیہ کا پیغام ہے۔
میری آپ سب بہن بھائیوں ، بزرگوں اور بچوں سے درخواست ہے کہ آپ سب لوگ مراقبہ ہال مزنگ تشریف لائیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے بیوی بچوں کو بھی لے کر آئیں ۔ انشاء اللہ رسول اللہﷺ کی طرزِ فکر اور اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کیلئے یہ جگہ آپ سب کیلئے بہترین معاون ثابت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے ۔ میری دعا ہے کہ آپ اپنی روح سے واقف ہو کر اللہ تعالیٰ سے واقف ہوں اور دوسروں کو بھی ان تعلیمات سے آگاہ کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ السّلام علیکم!

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 21 تا 30

خطباتِ لاہور کے مضامین :

ِ 0.01 - اِنتساب  ِ 0.02 - ترتیب و پیشکش  ِ 1 - شہرِِ لاہور  ِ 2 - لاہور کے اولیاء اللہ  ِ 3 - مرشدِ کریم کی لاہور میں پہلی آمد  ِ 4 - مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب  ِ 5 - محمد حسین میموریل ہال مزنگ میں عظیمی صاحب کا خطاب  ِ 6 - جامعہ عظیمیہؔ کاہنہ نَو کے افتتاح سے خطاب  ِ 7 - دوسری بین الاقوامی رُوحانی کانفرنس سے خطاب  ِ 8 - جامعہ مسجد عظیمیہؔ کے افتتاح سے خطاب  ِ 9 - سہہ ماہی میٹنگ سے خطاب  ِ 10 - قلندر شعور  ِ 11 - شعور اور لاشعور  ِ 12 - کُن فیکُون  ِ 13 - تقریبِ رُونمائی کتاب”مراقبہ”سے خطاب  ِ 14 - مراقبہ ہال برائے خواتین کے افتتاح پر خطاب  ِ 15 - کتاب “محمدؐ رسول اللّٰہ ﷺ”کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 16 - روحانی سیمینار سے خطاب  ِ 17 - حضرت ابو الفیض قلندر علی سہر وردیؒ کے مزار پر حاضری  ِ 18 - لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب  ِ 19 - کتاب “ہمارے بچے “کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 20 - لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب  ِ 21 - اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خطاب  ِ 22 - محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور  ِ 23 - ایوانِ اقبال میں پہلی سیرت کانفرنس سے خطاب  ِ 24 - سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب  ِ 25 - اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب  ِ 26 - سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)