لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب

مکمل کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=23186

۲۰ مارچ ۲۰۰۲ء کو لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر کی دعوت پر الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ہائیکورٹ تشریف لائے جہاں بار کے صدر ایڈووکیٹ مزمل خان، نائب صدر خاور اکرام بھٹی، فنانس سیکرٹری چوہدری تنویر احمد اور دوسرے وکلاء صاحبان نے آپ کا پر تپاک استقبال کیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں منعقدہ تقریب کی صدارت جسٹس نذیر اختر صاحب نے کی۔ ایڈوو کیٹ محمد اسلم خالد نے تلاوت اور راناشوکت علی خان نے نعتِ رسولِ مقبولؐ پیش کی۔ ایڈووکیٹ سید عابد حسین جعفری نے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا مکمل تعارف کرایا اور آپ کی رُوحانیت کے سلسلے میں کی گئی خدمات اور لکھی گئی کتب کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا۔ نظامت کے فرائض بار کے سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ شاہد محمود بھٹی نے ادا کئے۔ بعد از اختتام خصوصی دعا ہوئی اور ریفریشمنٹ پیش کی گئی۔ اس تقریب میں عظیمی صاحب کے ہمراہ لاہور مراقبہ ہال کے نگران میاں مشتاق احمد عظیمی صاحب اور عابد حسین جعفری نے بھی شرکت کی۔

مرشدِ کریم نے بعد از تلاوتِ کلام پاک خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:

سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی نسبت سے ہمیں یہ سعادت اور شرف نصیب ہوا ہے جس کی بناء پر ہم توحید پرست کہلاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات گرامی ایسی مبارک اور مسعود ہستی ہیں جن کہ وجہ سے نوعِ انسانی کو اس بات کا دراک ہوا کہ انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے اور انسان کس بنیاد پر اشرف المخلوقات ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی آمد اور اس دنیا سے تشریف لے جانا اس مسلسل عمل کی آخری کڑی ہے جو حضرت آدم ؑ سے شروع ہوا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدمؑ کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو ایک مجلس منعقد فرمائی اس مجلس میں فرشتے اور جنّات مَوجود تھے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اللہ کے اس ارشاد پرغور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے۔ کہ زمین، فرشتے اور جنّات پہلے سے مَوجود تھے اور نیابت و خلافت کے منصب پر کوئی فائز نہ تھا۔ نائب سے مراد یہ ہے کہ میں ایسی ہستی تخلیق کر رہا ہوں جو میری قائم مقام بن کر اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔ جیسے نائب وزیر اعظم یا نائب گورنر ہوتا ہے۔

فرشتوں نے یہ بات سن کر کہا کہ آپ نے جس ہستی کو اپنا نائب یا خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا اور جن عناصر سے اس کی تخلیق ہوئی ہے ان عناصر میں فساد اور خون خرابہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اس بات کو ردّ نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ جو ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں وہ تو کوئی بھی نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ جس بندہ کو جتنا علم عطا کردیں وہ اتنا ہی جانتا ہے۔ اس پر فرشتے خاموش ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو نیابت و خلافت کے لئے اپنی ذات میں مَوجود صفات کا عمل عطا کیا اور آدمؑ کو خلیفۃ الارض کی حیثیت سے وہ علوم سکھادیئے جن کو جان کر حضرت آدمؑ اللہ تعالیٰ کے نائب کے فرائض انجام دے سکیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور جنّات کو سمجھانے اور ان سے آدم کی حاکمیت کا اقرار کرانے کیلئے آدم سے کہا کہ ہم نے اپنی نیابت اور خلافت کے اختیارات استعمال کرنے کیلئے قاعدوں اور ضابطوں پر مشتمل جو عمل تمہیں سکھایا ہے، وہ بیان کردو۔ آدمؑ نے ان اسماء کی تفصیل بیان کردی جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھائے تھے۔ فرشتوں نے یہ سن کر کہا کہ جو کچھ آدم نے بیان کیا ہے اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور آپ حکیم و علیم اور دانا و بینا ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب چونکہ آدمؑ کو نیابت و خلافت سونپ دی گئی ہے اس لئے تم آدمؑ کی حاکمیت کا اقرار کرو۔ فرشتوں نے آدمؑ کو سجدہ کیا۔ سجدے سے مراد یہ نہیں کہ نعوذ باللہ فرشتوں یا جنّات نے آدمؑ کو اللہ کا درجہ دے دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے آدمؑ کی حاکمیت کو قبول کرنے کیلئے اپنے سر جھکا دیئے اور یہ اقرار کر لیا کہ آدمؑ ان علوم کی بنیاد پر ہمارے حاکم ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے نیابت و خلافت کیلئے آدم ؑ کو سکھائے ہیں۔

اس موقع پر جنّات میں دو گروہ بن گئے:

1. ایک گروہ نے آدم کی حاکمیت کو قبول کر لیا اور
2. دوسرے گروہ نے آدم کی حاکمیت قبول نہیں کی۔

جس گروہ نے آدم کی حاکمیت کو قبول کر لیا وہ اللہ کا پسندیدہ گروہ کہلایا اور
جس گروہ نے آدمؑ کی حاکمیت قبول نہیں کی اللہ تعالیٰ نے اسے موروب قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو اختیارات تفویض کر کے جنّت میں بھیج دیا اور جنّت میں ان علوم کی پریکٹس کرائی جو اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو سکھائے تھے۔

جنّت کا ماحول یہ ہے کہ جب آپ “سیب”کہیں تو سیب مَوجود ہوجاتا ہے۔ دنیا کی طرح سیب حاصل کرنے کیلئے ضروری نہیں ہے کہ آپ زمین کھودیں اس میں سیب کا پودا لگائیں پھر اس پودے کو پانی دیں اور کھاد ڈالیں، اسے کیڑے مکوڑوں سے بچائیں۔ بارش اور دھوپ سے اس کی حفاظت کریں اور پھر سات آٹھ سال تک پھل کا انتظار کریں۔

• اللہ تعالیٰ نے جب کُن کہا تو کائنات بن گئی۔
• جنّت میں آدم نے سیب کہا تو سیب مَوجود ہوگیا۔

یہ امر سمجھنے کیلئے تخلیقی قوانین کا علم جاننا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ فرشتے، جنّات، آسمان، زمین، چاند، سورج تخلیق ہوں تو سب ایک لفظ کُن سے وُجود میں آگئے۔ اس تخلیقی عمل میں یہ بات غور طلب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کُن کہا تو پہلے سے کوئی چیز مَوجود نہیں تھی۔ جن کے بعد ان کی تخلیق ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے کُن کہنے اور آدم کے اختیار میں یہ فرق ہے کہ جب آدمؑ نے’سیب‘ کہا تو وہ سیب سامنے آیا جو پہلے سے مَوجود تھا۔ آدم نے جب ’پانی‘ کہا تو وہ پانی مَوجود ہُوا جو پہلے سے تخلیق ہوچکا ہے۔ آدمؑ نے حور کہا توحور مَوجود ہوگئی اس کا مطلب یہ ہے کہ حور پہلے سے مَوجود تھی۔
جب آدمؑ نے حور کہا تو وہ سامنے آگئی۔ ایسانہیں ہے کہ حور پہلے سے مَوجود نہ تھی اور آدم ؑ کے کہنے سے تخلیق ہوئی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہی!
میں احسن الخالقین ہوں یعنی میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین ہوں۔

• بہترین خالقیت کا وصف یہ ہے کہ ایک چیز عدم سے وُجود میں آجاتی ہے…. اور
• آدمؑ کی تخلیق کا وصف یہ ہے کہ پہلے سے مَوجود وُجود کا مظاہرہ ہوتا ہے

جتنا عرصہ آدمؑ جنّت میں رہے آدمؑ کو کُن کہنے کی پریکٹس ہوتی رہی اور آدمؑ کے اَندر اللہ تعالیٰ کے علم الأسماء کا یقین راسخ ہوگیا۔ آدم ؑ کے مشاہدہ میں یہ بات آگئی کہ میں جو ارادہ کرتا ہوں اس پر لازماً عمل در آمد ہوجاتا ہے۔
یاد رکھئے!
کہ یہ عمل در آمد اللہ کی تخلیق کردہ اشیاء میں ہوگا کوئی نئی اور غیر مَوجود شے تخلیق نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے آدمؑ سے کہا:

٭ تم اور تمہاری بیوی جنّت میں خوش ہو کر رہو۔
٭ جہاں سے جو چیز چاہو، خوشی خوشی کھاؤ پیو۔

جنّت میں رہنے کیلئے دو شرائط عائد ہوئیں۔ تخلیق کے تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ خالق پر کوئی شرط عائد نہیں ہوتی۔ شرائط مخلوق کیلئے عائد ہوتی ہیں۔

دو شرائط یہ ہیں کہ:

1) جنّت میں خوش ہو کر رہنا اور خوش ہو کر کھانا پینا۔ یعنی خوشی کے ساتھ جنّت کی ساری زمین پر تصرف کا حق دیا گیا۔
انسان جب خوش ہوتا ہے تو وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ شادی بیاہ کے مواقع پر کئی کئی دن شادی کے معمولات میں گزر جاتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ اتنے دن گزر گئے لیکن وقت کا پتہ نہیں چلا۔ خدانخواستہ کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو دس منٹ بھی دس گھنٹے کے برابر ہوجاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب انسان خوش ہو تا ہے تو وہ اسپیس کی گرفت سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اور جب غمگین اور پریشان ہوتا ہے تو وقت کی گرفت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ ایک دن ایک سال کے برابر لگتا ہے۔ جنّت کا ماحول چونکہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہاں خوش ہو کر رہا جائے اس لئے وہاں وقت کا دباؤ محسوس نہیں ہوتا۔ آپ قرآن پاک پڑھ کر جس قدر غور و فکر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ جتنا خوش رہا جائے شعور اسی قدر آزاد ہوگا۔

2) آدم پر دوسری شرط یہ عائد کی گئی کہ شجر ممنوعہ کے نزدیک نہیں جانا۔ اگر تم اس درخت کے قریب گئے تو تمہارا شمار ظالمین میں ہوگا۔ اس درخت کے قریب جانا․․․․․ حکم عدولی یا ٹائم اسپیس کی گرفت ہے۔ ظالمین کا مطلب ہے․․․․․ تم ناخوش ہوجاؤ گے۔
بہرحال شیطان کے بہکاوے میں آکر آدمؑ سے جنّت میں سہو ہو گیا اور اس بھول پر آدمؑ کے ذہن میں یہ بات آگئی کہ مجھ سے حکم عدولی ہوگئی ہے۔ جب جنّت کی فضاء “خوشی”سے نکل کر آدمؑ کے ذہن میں ظالمین کا تاثر قائم ہو گیا تو آدم ؑ اسپیس کی گرفت میں آگئے یعنی آدم ؑ کو جنّت سے زمین پر اتار دیا گیا۔ آدمؑ نے زمین پر عاجزی و انکساری کی․․․․․ روتے رہے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو معاف فرمادیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس شرط کی یاد دہانی کرادی کہ اگر تم خوش رہو گے تو جنّت میں دوبارہ داخل ہوجاؤ گے اور اگر خوش نہ ہوئے تو جنّت تمہیں قبول نہیں کرے گی۔

• خوشی کیا ہے؟ اللہ کے پسندیدہ راستے پر چلنا․․․․․ خوشی ہے۔ اور
• اللہ کے پسندیدہ راستے پر نہ چلنا پریشانی اور ناخوشی ہے۔

خوش رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی حکم عدولی نہ ہو…. یعنی تم شجر ممنوعہ کے پاس نہ جاؤ۔ مثلاً جو ا ایک شجر ممنوعہ ہے، اس میں شاخ در شاخ برائی پھلتی پھولتی ہے اور آدمی تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ اس طرح جھوٹ کی بے شمار شاخیں ہیں، آدمی کو ایک جھوٹ کیلئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور جھوٹ کے درخت کی سو شاخیں انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے جتنی بھی ممنوعہ باتیں بتائیں ہیں وہ سب شجر ممنوعہ ہیں۔ جھوٹ بولنا، حقوق العباد کا خیال نہ رکھاغ یا قتل کرنا برائی کا درخت ہے۔ جو شاخ در شاخ بڑھتا رہتا ہے۔ اسی صورت خوشی کا درخت ہے۔ اس میں سے بھی شاخیں نکلتی ہیں۔ مثلاً آپ نے ایک کنواں بنوادیا اور اس سے ہزاروں آدمی سیراب ہوتے ہیں۔ تو وہ کنواں ایک درخت ہے۔ اور پانی پینے والے ہزاروں آدمی اس کی شاخیں اور پھول ہیں۔ اس طرح نیکی اور برائی ایک درخت کی طرح پھیلتی ہے۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا نیکی ایک درخت ہے۔ جس سے تمہیں بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اور تمہاری اولاد کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

أایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ:
 اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ بندے آپس میں پیار و محبت سے رہیں۔ ایک دوسرے کی دل آزاری کا سبب نہ بنیں اور ایک دوسرے کی حق تلفی نہ ہو۔
 اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے جن آداب کا تَعیّن کردیا ہے ان کی پیروی کر کے اللہ کو راضی رکھیں اس طرح آپ راضی اور خوش و خرم رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر صدق دل سے عمل کریں۔
یہ ہماری سعادت مندی ہے کہ ہم حضور پاک ﷺ کے امّتی ہیں اس کے ثمرات تب حاصل ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ کے اوصاف ہمارے اَندر پیدا ہوں گے۔ اگر ہم با عمل ہوں گے تو سچی و حقیقی خوشی اور اطمینان قلب نصیب ہوگا اگر خوش نہیں رہیں گے تو سکون نہیں ملے گا اور یقین کے درجے میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
 یہ قانون ہے۔ ناخوش آدمی جنّت میں نہیں جا سکتا۔

ہر امتی پر فرض ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے کہ کیا میں اپنے عمل میں سچا ہوں․․․․․؟
کیا میں حضور ﷺ کا امتی کہلا سکتا ہوں․․․․․؟
جب آپ اس سوال پر غور و فکر کریں گے تو یہی جواب ملے گا کہ یقیناً میں اس کا اہل نہیں ہوں کہ میں آپ ﷺ کا امتی کہلا سکوں۔ تب یہ خیال آئے گا کہ میں کس طرح آپ ﷺ کا امتی بنوں؟
• آج اپنی حالت اور اعمال سے ہم فرشتوں کی اس بات کی تصدیق تو کر رہے ہیں کہ یہ فساد کرے گا…. لیکن
• اللہ کی اس بات کا مان کہاں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں نے آدمؑ کو عمل الأسماء سکھائے ہیں؟ آج وہ علم کہا ں ہے؟
علم الأسماء میں تو فساد نہیں بلکہ رحمت ہی رحمت اور اللہ ہی اللہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

یہ ایک آیت ہے:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (سورۃ العنکبوت – 69)

“جو بندے میرے لئے جدو جہد کرتے ہیں میں نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ ان پر اپنے راستے کھول دوں!”

• علم الأسماء ہی وہ علم ہے جو آدمؑ کی فضیلت اور برتری کا سبب ٹھہرا۔
• یہی وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو براہ راست عطا کیا۔
• اسی علم کی بدولت مسجودِ ملائکہ ٹھہرا۔

علم کی اگر ہم درجہ بندی کریں تو اس کی دو طرزیں متعیّن ہوتی ہیں۔ ان میں ایک علمِ رُوحانی ہے اور دوسرا مادّی علم ہے یہی علوم شاخ در شاخ پھیلتے رہتے ہیں۔ مثلاً فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، طب، جراحت اور آپ کا یہ وکالت کا علم یہ سب مادّی علوم ہیں۔ ان علوم کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن ان علوم کے ساتھ ساتھ علم الأسماء کے علوم سیکھنا بھی ضروری ہیں۔
یاد رکھیں! تمام علوم کی بنیاد خیال پر ہے یعنی جب تک کسی چیز کے بارے میں خیال نہیں آئے گا اس کا مظہر نہیں ہوگا یعنی ہم اس کو معنی اور مفہوم کے خدوخال نہ پہنا سکیں گے۔
اس قانون کے تحت کائنات بھی دراصل اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔

آپ لوگ بتائیں ہماری زندگی میں کوئی ایسا عمل ہے جو خیال آئے بغیر ممکن ہو․․․․․ ہے کوئی عمل ․․․․․ جتنا بھی آپ سوچیں گے آپ کو ایک ہی بات نظر آئے گی کہ زندگی کا ہر عمل خیال کے بغیر ممکن نہیں اور زندگی تب تک ہے جب تک آپ کے اَندر رُوح کام کر رہی ہے۔ یعنی رُوح ہے توخیال آئے گا اور جب خیال آئے گا تو آپ اس خیال کے نتیجے میں عمل کریں گے۔ رُوحانی علوم یا علم الأسماء کے حصول کے دوران پہلی کلاس میں یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ گوشت پوست سے مرکب اور رگوں پٹھوں سے بنا ہوا جسم اصل انسان نہیں ہے بلکہ گوشت پوست کا جسم اصل انسان کا لباس ہے۔
دوسرے علوم کی طرح اگر کوئی بندہ رُوحانی علوم سیکھنا چاہتا ہے تو اس کے اَندر یہ یقین ہونا ضروری ہے کہ:

• گوشت پوست کا جسم مفروضہ ہے اس کی اصل رُوح ہے۔
• رُوح کی مَوجودگی میں ہی زندگی گزارنے کے تمام تقاضے انسان کے اَندر پیدا ہوتے ہیں اور وہ ان تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے۔
• جس طرح انسان کے اَندر رُوح ہے اس طرح دوسری مخلوق کے اَندر بھی رُوح کام کر رہی ہے۔
• جس طرح انسان کے اَندر تقاضے پیدا ہورہے ہیں بالکل اسی طرح دوسری مخلوق میں بھی نسل کَشی، بھوک، پیاس، خوشی، غمی، غصہ اور دوسرے تقاضے مَوجود ہیں۔
• لیکن انسان اور دوسری مخلوق میں فرق ہے…. اور وہ فرق یہ ہے کہ انسان کا شعور ارتقاء پذیر ہے اور دوسری مخلوق اس ارتقائی شعور کے بغیر ہے۔
• انسان کا ارتقائی شعور، تقاضوں اور حواس کی حیثیت کو علم الأسماء کی بدولت جانتا ہے اور اسی صفت یعنی علم الأسماء جیسے ورثہ کی بدولت ممتاز ہے۔
• یہ ورثہ نعمت ہے اور اس خصوصی نعمت سے مستفیض ہونے کیلئے ضروری ہے کہ ہمیں اپنی ذات کا یعنی اپنی رُوح کا عرفان حاصل ہو۔
• انسان کی رُوح اس کے سامنے آ جائے…. اس کے بعد انسان کے اوپر علوم کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ربّ کریم سے رشتہ مستحکم ہو جاتا ہے…. اور
• جب کوئی بندہ اس مستحکم رشتے کے دائرے میں قدم رکھ دیتا ہے تو وہ اس امانت سے وقوف حاصل کر لیتا ہے جو اللہ نے اسے ودیعت فرمائی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رُوح سے اور اپنی امانت سے واقف ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

(آمین) السّلام علیکم!

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 222 تا 229

خطباتِ لاہور کے مضامین :

ِ 0.01 - اِنتساب  ِ 0.02 - ترتیب و پیشکش  ِ 1 - شہرِِ لاہور  ِ 2 - لاہور کے اولیاء اللہ  ِ 3 - مرشدِ کریم کی لاہور میں پہلی آمد  ِ 4 - مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب  ِ 5 - محمد حسین میموریل ہال مزنگ میں عظیمی صاحب کا خطاب  ِ 6 - جامعہ عظیمیہؔ کاہنہ نَو کے افتتاح سے خطاب  ِ 7 - دوسری بین الاقوامی رُوحانی کانفرنس سے خطاب  ِ 8 - جامعہ مسجد عظیمیہؔ کے افتتاح سے خطاب  ِ 9 - سہہ ماہی میٹنگ سے خطاب  ِ 10 - قلندر شعور  ِ 11 - شعور اور لاشعور  ِ 12 - کُن فیکُون  ِ 13 - تقریبِ رُونمائی کتاب”مراقبہ”سے خطاب  ِ 14 - مراقبہ ہال برائے خواتین کے افتتاح پر خطاب  ِ 15 - کتاب “محمدؐ رسول اللّٰہ ﷺ”کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 16 - روحانی سیمینار سے خطاب  ِ 17 - حضرت ابو الفیض قلندر علی سہر وردیؒ کے مزار پر حاضری  ِ 18 - لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب  ِ 19 - کتاب “ہمارے بچے “کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 20 - لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب  ِ 21 - اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خطاب  ِ 22 - محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور  ِ 23 - ایوانِ اقبال میں پہلی سیرت کانفرنس سے خطاب  ِ 24 - سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب  ِ 25 - اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب  ِ 26 - سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)